مدارس كے فارغين سے خطاب ـ ڈاكٹر محمد اكرم ندوى

مدرسوں سے جو طلبہ فارغ ہوتے ہيں ان ميں ايک بڑى تعداد با صلاحيت اور حوصلہ مند نوجوانوں كى ہوتى ہے، ان كے اندر كچھ كرنے كا جذبہ شديد ہوتا ہے، اہل علم وفكر كى ذمے دارى ہے كہ اس قسم كے فارغين پر خصوصى توجه كريں اور ان كو امت كا قيمتى سرمايہ سمجھ كر انہيں مستقبل كے لئے تيار كريں۔
بسا اوقات صحيح رہنمائى نہ ملنے كى وجہ سے يہ فارغين ایک قسم كى مايوسى كا شكار ہوجاتے ہيں اور ايسے مضامين لكھتے ہيں جو غيظ وغضب سے پر ہوتے ہيں، اور آہستہ آہستہ ان كے اندر منفى ذہنيت پروان چڑهنے لگتى ہے، پھر مستقبل ميں وه كردار ادا كرنے سے محروم ہو جاتے ہيں جس كى ان سے توقع ہوتى ہے۔
ان حوصلہ مند اصحاب قلم سے گزارش ہے كہ عمر كے اس مرحلے ميں اپنى فكرى وعملى تربيت اس طرح كريں کہ آپ كى شخصيت كى تكميل ہو، اس سلسے ميں آپ كى خيرخواہى كے نقطۂ نظر سے يہ مضمون لكها جا رہا ہے، يہ مضمون كوئى مكمل رہنمائى نہيں ہے، بلكہ اس كى حيثيت ايك تنبيہ كى ہے كہ ايسے مضامين سے اجتناب كريں جو آپ كى شخصيت كى مثبت تشكيل كے لئے نقصان ده ہيں، اس كے دو حصے ہيں: 1- كون سے اصلاحى وتنقيدى مضامين نہ لكهيں 2- كون سے اصلاحى وتنقيدى مضامين لكھيں۔

كون سے اصلاحى وتنقيدى مضامين نہ لكھیں:
1- قوموں اور افراد كى اجتماعى واخلاقى اصلاحات كے موضوعات پر آپ ہرگز كچھ نہ لكھيں، كيونكہ يہ موضوعات ان تجربہ كار مصلحين كو زيب ديتے ہيں جن كا يہ فرض منصبى ہے اور خاص طور سے عمر كے اس مرحلے ميں جب انسان مقتدا بن جائے، ابھی آپ كو خود اپنى دينى واخلاقى تربيت واصلاح كى ضرورت ہے، آپ كسى نيک انسان كى صحبت اختيار كريں اور حسد، كينہ، جھوٹ، غيبت، چغل خورى، نفرت ، ايذا رسانى وغيره امراض سے خود كو پاک صاف كرنے كى كوشش كريں۔
2- آپ سياسى موضوعات سے اجتناب كريں، كيونكه عہد حاضر كى سياست پارٹيوں كے گرد گھومتى ہے، جب بهى آپ كسى سياسى موضوع پر لكھيں گے آپ كو كسى نہ كسى پارٹى سے جوڑ ديا جائے گا اور لوگ آسانى سے آپ پر كسى مفاد كے حصول كى كوشش كا الزام لگاديں گے اور اس طرح آپ كى شخصيت فرقہ وارانہ بن جائے گى۔
3- آپ علوم (مثلا تفسير، حديث، فقه، طب، وغيره) كے كسى موضوع پر تنقيد نه كريں، بلكہ عمر كا ايک مرحله ان چيزوں كو اچھى طرح سمجهنے ميں گزاريں، آپ كے مضاميں ان موضوعات كا تعارف كرنے والے ہوں، اس طرح آپ علمى ترقى كى راه پر گامزں ہوں گے، ياد ركهيں كہ جب بهى آپ علمى تنقيد پر كچه لكهيں گے بہت جلد آپ كے عيوب كهل كر سامنے آجائيں گے اور وه وقت دور نہيں جب آپ پر جہالت وحماقت كا الزام چسپاں كرديا جائے گا۔
4- آپ كسى پر كوئى شخصى تنقيد ہرگز نہ كريں، اگر كسى شخص كا فتنہ بہت بڑھ جائے اور اس سے ملک وملت كو نقصان ہو رہا ہو تو اپنے بڑوں كو اس كى طرف متوجہ كريں، خود اس ميں نہ لگيں، كيونكہ آپ عمر كے جس مرحلے ميں ہيں اس ميں شيطان آپ كو آسانى سے ورغلا سكتا ہے اور آپ بہت جلد حدود سے تجاوز كر جائيں گے۔

كون سے اصلاحى وتنقيدى مضامين لكهيں:
عمر كے اس مرحلے ميں صرف دو طرح كے تنقيدى مضامين آپ کےلیے  مفيد ہو سكتے ہيں:
1- ادبى تنقيد: آپ ادبى تنقيد كا ہنر سيكھیں اور اس پر كثرت سے لكھيں، اس سے آپ كے اندر كلام كے محاسن ونقائص كے ادراک كا ملكہ پروان چڑهے گا، ادبى موضوعات بے شمار ہيں، آپ ان كا انتخاب كريں، اور پهر اچھى طرح ان پر لكھيں، ادبى تنقيد كى تربيت ضرور حاصل كريں۔
2- كتابوں پر ريويو: كوئى نئى كتاب جو آپ كى دلچسپى كی ہو اسے پڑهيں اور اس كا جامع تعارف كرائيں اور اگر كوئى نقص نظر آئے تو مہذب انداز ميں اور مدلل طريقے سے اس كى نشان دہى كرديں، ريويو لكھنے سے آپ اچھى طرح مطالعہ كرنا سيكھيں گے، ياد ركھيں كہ ريويو پڑهنے اور سمجھنے كے بعد لكھيں، اللہ تعالى نے ترقى ديانت دارى ميں ركهى ہے نہ كہ بد ديانتى ميں۔