مدارس اسلامیہ نے ملک وملت کوکیادیا؟

اخترامام عادل قاسمی
مہتمم جامعہ ربانی منوروا شریف
آج بعض شوریدہ سر وں کی جانب سے یہ سوال اٹھایاجارہاہے کہ مدارس اسلامیہ نے ملک کو کیا دیا ؟
یہ سوال اسی طرح احمقانہ ہے جیسے کہ کوئی نالائق فرزنداپنے خون جگر سے پالنے والی ماں سے سوال کرے کہ تم نے ہمیں کیا دیا ؟ یازندگی کی ساری توانائیاں نچھاور کردینے والے شوہر سے اس کی بے وفا بیوی دریافت کرے کہ میں تمہاراکیاجانتی ہوں؟اور جسم وجان کے تمام لہونچوڑ کر پروان چڑھانے والے مالی سے چمن کاکوئی پھول یہ پوچھےکہ اس چمن کی تعمیر میں تمہاراکیاحصہ ہے؟۔۔۔۔اناللہ واناالیہ راجعون
یہ ملک اگر آج بچاہواہے تو یہ مدرسوں ہی کی دین ہے ،ورنہ برطانوی قزاق کب کااس کو ہڑپ کرچکے تھے ،اور اس کے خلاف کسی کو دم مارنے کی مجال نہیں تھی ،اس ملک کے اکثر لاچار باشندے اس کے سامنے سر تسلیم خم کرچکے تھے ،۔۔۔یہ مدرسہ والوں اور علماء زمانہ ہی کا دل گردہ تھا کہ انگریزی استعمار کے سامنے آئے اور برطانوی سامراج کے خلاف تحریک آزادی شروع کی ،۔۔۔۔آزادی ہندکی دوسوسالہ طویل جد وجہد میں سب سے لمبے عرصے تک جس قوم نے اپنی جرأت واستقامت کامظاہرہ کیا، وہ انہی مدرسوں کے طلبہ اورفضلاء تھے ،۔۔۔انگریزی رپورٹ کے مطابق دہلی کے چاندنی چوک سے لاہور تک کی طویل شاہراہ کے ہردرخت پر آزادی کے جن متوالوں کی لاشیں لٹک رہی تھیں ان میں مدرسہ والوں کے علاوہ کوئی دوسراشریک نہیں تھا ،۔۔۔جنگ آزادی کے طویل دورانیہ میں سب سے زیادہ جس سخت جان قوم نے اپنی قربانیوں سے اس ملک کو لالہ زار کیاوہ علماء دین کی جماعت تھی ،حضرت شاہ ولی اللہ ،شاہ عبدالعزیز ،سید احمدشہید ،مولانااسماعیل شہید ،حافظ ضامن شہید مولاناقاسم نانوتوی ،مولانارشیداحمد گنگوہی ،اورعلماء دیوبند علماء تھانہ بھون ،علماء صادق پور پٹنہ سے لےکرحضرت شیخ الہند مولانامحمود حسن دیوبندی ،مولاناحسین احمد مدنی ،مولانامحمد علی جوہر مولاناظفرعلی خان ، مولاناحسرت موہانی ،مولانامظہرالحق اور مولاناابوالکلام آزادتک ایک پوری خون آلود زنجیر ہے جس پر علماء کے لہوکے نشانات چمک رہے ہیں ۔۔۔۔۔ملک کی آزادی میں جن اہل وطن نے حصہ لیا ان کے ہراول دستہ میں آپ کو یہ علماء نظر آئیں گے ،۔۔۔خود بابائے قوم گاندھی جی کو اس جنگ میں شریک کرنے والے یہ علماء ہی تھے ،اور مہاتماکاخطاب بھی ان کو مدرسہ والوں سے ملاتھا ،بمبئی کے ساحل پر ان کے استقبالیہ جلوس کی قیادت بھی اہل مدرسہ نے کی تھی ۔۔۔۔۔جب کانگریس اورمسلم لیگ جیسی سیاسی جماعتیں وجود میں آئیں توان دونوں کی سرپرستی مسلم امت کی طرف سےعلماء ہی نے کی ،بہار میں گاندھی جی کے قدم جم نہیں سکتے تھے اگر مولانامظہرالحق نے ان کاساتھ نہ دیا ہوتا۔۔۔۔۔۔۔
ملک کے طول وعرض میں سب سے زیادہ ملک کوبچانے کی جس طبقہ نے کوششیں کیں اسی سے آج کی نسل یہ سوال کررہی ہے کہ تم نے اس ملک کے لئے کیا کیا ؟آج اسی جماعت کو اس ملک کے لئے بوجھ تصور کیاجارہاہے ،اور انسانیت کے جن کارخانوں نے ملک کی حفاظت کے لئے سرفروش مجاہدین کی پوری کھیپ تیار کی ان کو آج کے ناقدرشناش بند کردینے کی سازشیں کررہے ہیں ؟
علماء نے اس ملک کی خدمت عبادت سمجھ کر کی اس لئے کہ ان کادین ان کویہ سکھاتا ہے کہ وطن کی محبت ان کے ایمان کاحصہ ہے ،انہوں نے ملک کی آزادی کی تحریک کو بھی عبادت کادرجہ دیا ،اس ملک کے اکثرلوگ تحریک آزادی کے آخری ادوار میں شامل ہوئے ابتدائی اور وسطی دور میں ان کاکوئی سراغ نہیں ملتابلکہ بہت سےتو وقت کے سامراج کے ساتھ اپنی وفاداریاں نبھانےمیں مصروف تھے ۔۔۔جب کہ ان پیچھے آنے والوں میں بھی بہت سے تخت وتاج کی امیدیں لئے اس کارواں میں شریک ہوئے تھے،چنانچہ علماء نے اپناکام مکمل کرکے آزادی کے بعد پھر اپنی اسی پرانی چٹائیوں پر لوٹ گئے ،اور درس وتدریس کے اپنے قدیمی مشغلے میں لگ گئے ،اورملک وملت کے لئے ایک نسل نوکی تیاری میں منہمک ہوگئے ، کیوں کہ انہوں نے ملک کو بچانے اور آزاد کرانے کا کام ایک عبادت سمجھ کر کیاتھا ،عہدہ ودولت کی طمع لے کرنہیں ۔
٭ملک کی آزادی کے علاوہ اس ملک کی تعمیر میں بھی مدرسہ کے فضلاء نے بنیادی کردار اداکیاہے ،انہوں نے نہ صرف مدرسے قائم کئے بلکہ اس ملک کی کئی اہم یونیورسیٹیاں علماء کی قائم کردہ ہیں ،مشہور زمانہ علی گڑھ مسلم یونیورسیٹی مولانا مملوک علی نانوتوی کے شاگرد اور مولاقاسم نانوتوی ؒ کے رفیق درس مولاناسرسیداحمد​خان نےقائم کی ،جامعہ ملیہ اسلامیہ کی بنیاد مولانامحمدعلی جوہر اور حضرت شیخ الہند نےڈالی ،جامعہ عثمانیہ (یونیورسیٹی )حیدرآباداور مولانامظہرالحق عربی فارسی یونیورسیٹی پٹنہ کی ساخت وپرداخت میں علماء کاخون جگر شامل ہے ،یونیورسیٹیوں کی تاریخ میں مولانایعقوب نانوتوی (ابتدائی دور)،علامہ مناظراحسن گیلانی ،مولاناعبدالباری ندوی اور ڈاکٹرحمیداللہ حیدرآبادی کے روشن ناموں کو کبھی مٹایانہیں جاسکتا ،علماء کی ان کوششوں سے اور ان کی تیارکردہ یونیورسیٹیوں سے نہ معلوم اس ملک کو کتنے ہزاروں آئی ایس افسر ،ڈاکٹرز ،انجینیرس اور ملک وملت کے معمار ملے ،جنہوں نے اس ملک کو دنیاکےترقی پذیر ملکوں کی صف میں لاکھڑا کیا،۔۔۔۔۔
٭جمعیہ علماء ہند ،امارت شرعیہ ،مسلم پرسنل لاء بورڈ اور آل انڈیاملی کونسل وغیرہ کئی اہم ملی تنظیمیں علماء کی محنتوں کے شاندار نمونے ہیں ،جن کے بغیر ہندوستان میں ملت کاتصور نہیں کیاجاسکتا،۔۔۔۔۔اس سے قبل حضرت مولاناابوالمحاس​ن سجاد نے بہار میں ایک سیاسی پارٹی قائم کی اور بہار میں اس پارٹی نے اپنی حکومت بنائی ،۔۔۔۔ابھی بھی مسلم علماء کی ایک تعداد پارلیامنٹ اور اسمبلیوں میں موجود ہے ،
٭اردو جواس ملک کی بلکہ پوری دنیاکی دوسری سب سے زیادہ بولی جانے والی زبان ہے اسی طرح عربی زبان ان کازیادہ ترانحصار انہی مدارس اسلامیہ پر ہے ،انہی مدرسوں سے اردواورعربی کے لٹریچر بھی تیارہوتے ہیں ،اور بولنے اور لکھنے والی ٹیم بھی ،آج اکثر سرکاری یاغیرسرکاری دفاتر یایونیورسیٹیوں ، اداروں یاسفارت خانوں میں اردویاعربی کے پوسٹ پر اسی(۸۰) فی صد لوگ مدارس ہی کے تیار کردہ ہیں ،اور اہم بات یہ ہے کہ ان میں اکثریت ان مدارس کی ہے جنہوں نے اپنی بیش بہا خدمات کا حکومت سے کوئی صلہ طلب نہیں کیا ،اور جن کے بجٹ میں حکومت کاایک پیسہ شامل نہیں ہے ،ایسے بے لوث خادموں کی ایسی فضیحت کی جائے گی پچھلے زمانوں میں کبھی سوچانہیں جاسکتاتھا!۔۔۔
٭علماء کی چونکہ منصبی ذمہ داریاں بھی ہیں ،وہ اس ملک کی دوسری سب سے بڑی اکثریت کے دینی اور ملی ڈھانچہ کے محافظ ہیں ،دنیاکے سب سے معقول اور طاقتور مذہب کی نمائندگی کی ذمہ داریاں بھی ان کے کاندھے پر ہے ،اس لئے وہ اپناوقت عزیز اس متاع گرانمایہ کے تحفظ وتعمیر پرزیادہ خرچ کرتے ہیں ،اس لئے کہ اس کی تعمیر وپرداخت کے لئےحکومت یاعام لوگوں کے پاس نہ وقت ہے اور نہ کوئی دلچسپی ،جب کہ بحیثیت امت یہی سب سے زیادہ قیمتی چیز ہے ،علاوہ مذہبی علوم کاتحفظ مسلمانوں کامذہبی فریضہ بھی ہے اور آئینی حق بھی ،اور اس فریضہ کو سب سے بہترانداز میں صبروبرداشت کی پوری قوت کے ساتھ علماء کے علاوہ کون انجام دے رہاہے ؟اور اگر علماء یہ کام نہ کریں اور مدرسےخدانخواستہ بندکردئیے جائیں ،تومسجدوں میں نماز پڑھانے والےائمہ کہاں سے آئیں گے؟ ،جنازے کون پڑھائے گا؟نمازروزہ وغیرہ کے شرعی مسائل کون بتائے گاوغیرہ ؟پھر کیاہوگا؟ اس ملک کا اور امت مسلمہ کا؟ ۔۔۔۔۔آپ خود اندازہ کرسکتے ہیں ،۔۔۔
اس طرح کی بے موقعہ بولیاں بولنے والے کتنے احمق ہیں کہ جب ملک کی دوسری جماعتیں مذہبی احیاپرستی کے فروغ میں آگے بڑھ رہی ہیں ،اور دوسرے مذاہب والے اپنے آئینی حقوق کااستعمال کرنے کے لئے حدود سے آگےتک جانے پر بضد ہیں ،ایسے موقعہ پر مسلمانوں کواپنے مذہبی ادارے اور مدرسے بند کرنے کی دعوت دی جائے ؟اس کو فکر ونظر کادیوالیہ پن کے علاوہ کیاکہاجاسکتاہے ، ۔۔۔۔ہوناتویہ چاہیئے تھاکہ :
اٹھ کہ اب بزم جہاں کااور ہی انداز ہے
مشرق ومغرب میں تیرے دور کاآغاز ہے

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*