مدارسِ اسلامیہ اور عصری تقاضے: ڈاکٹر محمد حفظ الرحمن کی ایک قابلِ قدر کاوش ـ کامران غنی صبا

اسسٹنٹ پروفیسر نتیشور کالج، مظفرپور

کل الیکشن ڈیوٹی میں مظفرپور کے کٹرہ بلاک کے انتہائی دور افتادہ گاؤں "کٹائی” جانے کا اتفاق ہواـ گاؤں تک جانے کا راستہ انتہائی ناہموار، تکلیف دہ اور پریشان کن تھا لیکن الیکشن ڈیوٹی کا معاملہ ایسا ہے کہ آپ چاہ کر بھی جان نہیں چھڑا سکتےـ البتہ گاؤں کے ماحول نے متاثر کیاـ ایسے دور افتادہ اور وسائل سے محروم گاؤں میں کئی ایسے نوجوان ملے جو ملک کے بڑے تعلیمی اداروں سے تعلیم حاصل کر رہے ہیں ـ
یہاں برادرم سیف الرحمن سے اتفاقی طور پر ملاقات ہو گئی ـ سیف الرحمن ملت ٹائمز سے وابستہ ہیں اور واٹس ایپ کے توسط سے رابطے میں رہتے ہیں ـ انہوں نے اپنے بھائی ڈاکٹر محمد حفظ الرحمن (جواہر لال نہرو یونیورسٹی) کی کتاب "مدارس اسلامیہ اور عصری تقاضے” پیش کی،موضوع میری دلچسپی کا تھا چنانچہ کتاب کا بیشتر حصہ وہیں پڑھ گیا،باقی گھر پہنچ کر مکمل کیاـ
کتاب اپنے موضوع کے لحاظ سے گرچہ کوئی نئی نہیں ہےـ اس موضوع پر بہت کچھ لکھا اور بولا جا رہا ہے لیکن اس کتاب کی خاص بات یہ ہے کہ مصنف نے بہت ہی معروضیت کے ساتھ حقائق کا جائزہ لیا ہے اور صرف مسائل ہی نہیں رکھے ہیں، قابل عمل تجاویز بھی پیش کی ہیں ـ اس موضوع پر لکھنے اور بولنے والے زیادہ تر لوگ اعتدال و توازن برقرار نہیں رکھ پاتے ہیں. چنانچہ کچھ لوگ تنقید کا سہارا لے کر مدارس اسلامیہ اور ان کے اساتذہ کو تنقیص کا نشانہ بناتے ہیں وہیں مدارس سے وابستہ اہل علم حضرات پرانی کھینچی ہوئی لکیر سے ایک قدم بھی آگے بڑھنے کو تیار نہیں ہوتےـ
ڈاکٹر محمد حفظ الرحمن نے انتہائی خلوص اور درد کے ساتھ مسائل کا جائزہ لیتے ہوئے بہت ہی مفید اور کارآمد مشورے پیش کیے ہیں.آج ہمارے یہاں ایسے افراد کی بہت کمی ہے جن کے اندر دینی غیر و حمیت کے ساتھ عصری آگہی بھی ہوـ
مصنف نے کتاب کو دو حصوں میں تقسیم کیا ہےـ پہلے باب میں "نصاب تعلیم” عنوان کے تحت درج ذیل عناوین قائم کیے گئے ہیں:
موجودہ علمی تحدی اور مدارس اسلامیہ
مشترکہ تعلیمی لائحہ عمل
تخصص فی السیاسہ
تخصص فی الاقتصاد
تخصص فی الاجتماع
دوسرے باب میں "مشورے اور گزارشیں” عنوان کے تحت درج ذیل عناوین پر بہت ہی معروضیت کے ساتھ گفتگو کی گئی ہے:
انگریزی کے اساتذہ کی قلت کا مسئلہ
فارسی کتب سے استفادہ میں مشکلات
انگریزی داں علما اور مدارس و مساجد
نصاب میں تبدیلی کے مثبت اثرات
اتحاد ملت اور مدارس اسلامیہ
ہماری ترجیحات میں تبدیلی ضروری
مدارس اسلامیہ اور عصری تعلیم
اسلامی اقامت خانہ کا قیام
دینی و اخلاقی تربیت
مدرسہ اور مسجد کی نام گزاری

اس کتاب کو پڑھنے کے بعد اتنی بات تو باطمینان کہی جا سکتی ہے کہ مصنف کے دل میں قوم کا درد ہےـ پوری کتاب میں کہیں کوئی جذباتی جملہ نہیں ہےـ کسی پر کوئی طعن و تشنیع نہیں ہےـ اپنی بات کو منوانے کی کوئی ضد نہیں ہے بلکہ یہ اعتراف ہے:
آج ہم تاریخ کے اس موڑ پر کھڑے ہیں جہاں ہمیں کثیر جہتی نظریاتی اور علمی چیلنجز کا سامنا ہےـ اس لیے مدارس اسلامیہ کے لیے ایسی تعلیمی پالیسی وضع کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے جو ان چیلنجز کا مقابلہ کرنے والے افراد پیدا کر سکےـ اسی ضرورت کے احساس نے راقم الحروف کو خامہ فرسائی پر مجبور کیا،لہٰذا یہ کتاب اہل نظر کی خدمت میں پیش کی جا رہی ہےـ راقم کو اس کا اصرار نہیں کہ اہل نظر اس کتاب کے ہر جز سے پوری طرح متفق ہوں، بلکہ اعتراف ہے کہ غور و خوض کا جب مرحلہ آئے گا تو تجربہ کار آنکھیں ان گوشوں کو دیکھ سکیں گی جو راقم کی نظر سے اوجھل رہ گئی ہیں ـ”
تیزی سے بدلتے ہوئے سماجی و سیاسی پس منظر میں مدارس اسلامیہ کا کردار بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے. دانشوران مدارس اگر وقت کی آواز کو وقت رہتے سمجھ کر مستقبل کا لائحہ عمل تیار کرنے میں کامیاب ہو پائیں تو ان شاء اللہ تاریکی کے بطن سے خوشگوار صبح نمودار ہوگی ـ
اللہ تعالی ڈاکٹر محمد حفظ الرحمن کی اس کاوش کو قبول فرمائے. میں سمجھتا ہوں کہ یہ کتاب مدارس سے وابستہ ہر فرد اور قومی و ملی جذبہ رکھنے والے ہر شخص کو ضرور پڑھنی چاہیے. مصنف کا رابطہ نمبر ٩٩٩٠٤٥٧١٠٤