مدارس اور زکوٰۃ: مرض کی صحیح تشخیص کی جائے! ڈاکٹرابراراحمداعظمی

 

شفق صاحب کاکالم ”زکوٰۃ اورمدارس“کابغورمطالعہ کرنے کے بعدجوچیزسب سے پہلے ذہن میں آئی ،وہ یہ ہے کہ کوئی بات چاہے وہ کتنی ہی اہم کیوں نہ ہو،اگرموقع ومحل کودھیان میں رکھ کرنہ کہی جائے ،تووہ اپنی تاثیرکھودیتی ہے۔مثال کے طورپر اگرمیں کسی تعزیتی نشست میں شریک ہوں اورقہقہہ لگانے لگوں توشرکاے مجلس مجھے مجنوں قرار دینے میں دیرنہیں لگائیں گے۔میرے نزدیک یہ مناسب وقت نہیں ہے کہ جب مدارس کومالی تعاون کی اشدضرورت ہے،ہم اس کے بنیادی ذریعہ کوہی بندکرنے پربحث کریں۔یہ کالم سہارنپورکی مسلم وکیل فرح فیض کی پٹیشن سے کم نہیں ہے۔محترمہ نے۱۲جون بروزجمعہ۲۰۲۰ء کودارالعلوم دیوبند کے خلاف سپریم کورٹ میں ایک پٹیشن داخل کی ہے، جس میں انھوں نے عدالت عظمیٰ سے یہ درخواست کی ہے کہ دارالعلوم دیوبندمیں بیرون ملک سے آنے والے فنڈکے لیے ایک تفتیشی کمیٹی تشکیل دی جائے ،جویہ جانچ کرےکہ فنڈجائزکاموں کے لیے استعمال ہورہاہے یاتبلیغی جماعت کے ذریعے ملک میں دیوبندی تحریک کوفروغ دینے کے لیے کیاجارہاہے۔ قوم کاکوئی خیرخواہ(بزعم خود) اس پٹیشن کی حمایت شفافیت کے نقطۂ نظرسے کرسکتاہےکہ مدارس اپناحساب کتاب صاف ستھرارکھیں ؛تاکہ حکومت کے سامنے حساب کالیکھاجوکھاپیش کیاجاسکے۔شفافیت اسلام کاایک اہم جزوہے ؛اس لیے مدارس کے ذمے داران کواس میں کسی قسم کی قباحت نہیں محسوس کرنی چاہیئے؛ لیکن مجھے ابھی تک کوئی ایک بھی مسلم دانشورنہیں ملا،جس نے محترمہ کی پٹیشن کومستحسن قدم قراردیاہو۔

 آئیے اب ان دعووں اورتجاویزکاجائزہ لیتے ہیں کہ وہ زمینی حقائق سے کتنامیل کھاتے ہیں۔کالم نگارکاکہناہے کہ ”اب حالات بدل چکے ہیں،سماج میں مالی بہتری آئی ہے۔“کالم نگارکایہ دعویٰ کس بنیادپرہے مجھے نہیں معلوم ،اگرموصوف کے پاس ہندستانی مسلمانوں کی مالی حالت سے متعلق کوئی سروے رپورٹ ہوتوبرائے مہربانی ارسال کرنے کی زحمت کریں۔ہندستانی مسلمانوں کی مالی حالت سے متعلق ماہرین معاشیات کاکہناہے کہ آزادی کے بعدسے اب تک مسلمانوں کی معاشی حالت مسلسل گرتی جارہی ہے؛ بلکہ بدسے بدترہوتی جارہی ہے۔تعلیمی اورمعاشی میدان میں ہندستانی مسلمان دلتوں سے بھی پیچھے ہیں۔تفصیل کے لیے سچرکمیٹی کی مشہورزمانہ رپورٹ کامطالعہ کرسکتے ہیں۔دوسرا نکتہ جس کاکالم نگارنے ذکر کیاہے”صاحب ثروت اورصاحب استطاعت افرادکے بچوں کوزکوٰۃ کی مدسے تعلیم دیناغیرمناسب عمل ہے؛لیکن اگرکوئی صاحبِ استطاعت یہ کہتاہے کہ میں فیس دے کربچے کونہیں پڑھاؤ ں گا،آپ اگرمفت میں پڑھاسکتے ہیں توٹھیک ہے ،توپھرایسے بچوں کے لیے ہرحال میں مدارس کادروازہ کھلاہوناچاہیئے کہ اگرباپ اپنی ذمے داری نہیں نبھاتا،توسماج نبھائے اوروہ بچہ دینی تعلیم کے بنیادی حقوق سے محروم نہ رہے۔“شفق صاحب سے درخواست ہے کہ مدارس میں صاحبِ استطاعت افرادکے بچوں کااگر کوئی ریکارڈ ہے ،توپیش کریں تاکہ اس کی روشنی میں یہ فیصلہ کیاجاسکے کہ مدارس کے اخراجات کابوجھ صاحب ثروت افرادکب تک اٹھاسکتے ہیں اورانھیں مستطیع سے غیرمستطیع بننے میں کتنی دیرلگے گی۔صاحب ثروت افرادکا خودآگے بڑھ کرمدارس کی مددنہ کرنااس بات کابین ثبوت ہے کہ وہ خطیررقم خرچ کرکے اپنے بچوں کومدارس میں پڑھانانہیں چاہتے ہیں ،یعنی وہ بزبان حال یہ کہہ رہے ہیں کہ ہم فیس ادانہیں کریں گے، مدرسہ اگرمفت میں پڑھاسکتاہے، توپڑھائے۔ اس سے مدارس کامالی بوجھ مزید بڑھ سکتاہے۔

اب تجاویز پربھی ایک نظرڈالتے ہیں کہ وہ مدارس کے لیے کتنی مفیداورکارآمدہیں۔کالم نگارنے مدارس کوخودکفیل بنانے کے لیے دوتجاویز پیش کی ہیں۔مدارس میں بیت المال کانظام اورطلبہ کی فیس سے اساتذہ کی تنخواہوں کاانتظام۔ہندستان کے کچھ صوبوں میں مدارس اورمسلم اداروں نے خودکفیل بننے کے لیے ان دونوں طریقوں کواختیارکیاہے،فیس وہ ہزارمیں نہیں؛ بلکہ لاکھ میں لیتے ہیں اورانھوں نے ساری احتیاطی تدابیر،شورائی نظام، ہرتین سال میں عہدہ داران کاانتخاب وغیرہ اپنایا؛ لیکن ان تمام احتیاطی تدابیرکے باوجود ان اداروں کی حالت ناگفتہ بہ ہے۔ذمے داران ان اداروں کواپنی ملکیت سمجھتے ہیں اورایک ڈکٹیٹرکی طرح حکم صادرکرتے ہیں۔اپنی جھوٹی شان وشوکت کے لیے بے تحاشہ قوم کے پیسے کوخرچ کرتے ہیں۔کالم نگارنے اگران اداروں کاہی جائزہ لے لیاہوتا،تووہ کبھی بھی یہ مشورہ نہ دیتے کہ مدارس میں اسے نافذکیاجائے۔

مجھے لگتاہے کہ کالم نگارسے مرض کی تشخیص میں غلطی ہوئی ہے ،یہی وجہ ہے کہ وہ اصل مرض کاعلاج کرنے کے بجائے ظاہری علامات کے لیے نسخہ تجویز کررہے، جیسے پوری دنیامیں کوروناکے مریضوں کے ساتھ ہورہاہے ،جس کے نتائج موت کی شکل میں ہمارے سامنے آرہے ہیں۔مدارس کااصل مرض اس کامالی نظام نہیں بلکہ اس کے منتظمین اورذمے داران ہیں اس لیے ان کی اصلاح کی فکرکرنی چاہیئے۔یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے کوئی غیرمسلم مسلمانوں میں پائی جانے والی برائیوں اورخرابیوں کواسلام سے جوڑکردیکھے تواس کا صراط مستقیم تک پہنچنامشکل ہوجائیگا۔دراصل مدارس کے منتظمین کے دلوں سے اللہ کاخوف نکل گیااورجس کے دل میں خوفِ خدانہ ہو تودنیاکاکوئی بھی نظام اس کے لیے کارِعبث ہے۔مثال کے طورپربادشاہت عوام کے لیے مفیدنظامِ حکومت نہیں ماناجاتاہے ؛لیکن اللہ والوں نے اس نظام حکومت کوبھی اس طرح چلایاکہ خلفاے راشدین کی یادتازہ ہوگئی اورخلافت دنیاکاسب سے بہترین نظام حکومت ہے ؛لیکن ابن الوقتوں نے اسے اس طرح استعمال کیاکہ ڈکٹیٹربھی اسے دیکھ کردنگ رہ گئے۔ مدارس کواگربہتربناناہے تواسے ابن الوقتوں،موقع پرستوں،عیاروں،مکاروں اورظاہری وضع وقطع والے ڈھونگیوں وچالبازوں سے پاک کرناہوگا۔سماجی،سیاسی،معاشی،خاندانی اورطبقاتی سطح سے اوپراٹھ کرمخلص،ہمدرد،ماہرین تعلیم اوراللہ والوں کاانتخاب کرناہوگا،جوقوم وملت کے لیے کچھ کرگزرنے کاجذبہ رکھتے ہو ں ،ورنہ ساری کوششیں اورتجاویزسعیِ لاحاصل کے سواکچھ بھی نہیں۔

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*