معاصر تنقیدی افق کا ستارہ :پروفیسر ابوالکلام قاسمی-ڈاکٹر مشتاق احمد

اردو زبان و ادب کی تاریخ میں جن چند شخصیات کو بین العلومی مطالعہ کا مینارہ سمجھا جاتا ہے اور جن کی تنقیدی بصیرت و بصارت مشعل راہ کی حیثیت رکھتی ہے ان میں پروفیسر ابوالکلام قاسمی کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے ۔وہ اردو کے پروفیسر تھے لیکن دیگر زبانوں کے ادبا اور شعرا کے درمیان بھی ان کی حیثیت با اعتبار سمجھی جاتی تھی ۔اور اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ انہوں نے خود کو اردو کےدیگر ناقدوں کی طرح محض نصابی کتابوں کی تنقید تک محدود نہیں رکھا بلکہ ان کے فکر و نظر کی دنیا ستاروں سے آگے کی متمنی تھی ۔یہی وجہ ہے کہ پروفیسر قاسمی کو اردو تنقید سے بے اطمینانی تھی جس کا اظہار انہوں نے اپنی تنقیدی کتاب معاصر تنقیدی رویے میں کچھ اس طرح کیا ہے :
’’اردو تنقید کی عام فضا ہنوز تا ثراتی اور عمومی نوعیت کی تحریروں کو ادبی تنقید کا نام دینے پر مضر نظر آتی ہے ۔اس ماحول میں ادبی تنقید کی منطقی زبان اور معروضی طرز بیان پر کوئی مفاہمت نہ کرنا ہماری سب سے بڑی ناقدانہ ذمہ داری بن گئی ہے ۔ناچیز نے شاعری اور نثر دونوں طرح کے ادب پاروں پر تنقیدی مضامین لکھے ہیں لیکن بالعموم کوشش رہی ہے کہ شاعروں اور ادیبوں کو مرکز میں رکھنے کے بجائے ان کی تخلیقات کو بنیادی محور بنایا جائے اورمتن پر سارا ارتکاز رکھنے کے نتیجے میں تحریک پانے والے ناقدانہ عمل کو استدلال کی مدد سے سامنے لایا جائے‘‘۔
اسی کتاب میں آگے لکھتے ہیں:
’’میں نے تخلیقی ادب کو ہمیشہ لطف اندوزی اورحصول بصیرت کے عوامل کے تحت پڑھا ضرور ہے مگر کبھی بھی محاسن و معائب کا سیاق و سباق میری نگاہوں سے اوجھل نہیں رہا اس لیے میری تنقید کو تنقید سے کہیں زیادہ ایک با ذوق اور حساس قاری کے ردعمل کا نام دیا جانا چاہیے ۔ مجھے اس بات سے قدرے اطمینان کا احساس ہوتا ہے کہ میری تحریروں نے اکثر فن پارے کے افہام و تفہیم کا تاثر دینے کے ساتھ قاری کے تجسس کو بھی پیدا کیا ہے شاید اسی باعث مجھے کسی بھی مرحلے پرنہ اپنے طرز اظہار سے نارسائی کا گلہ رہا اور نہ اپنے قاری سے ۔”
پروفیسر قاسمی نظریاتی طور پرایک سخت رویے کے ناقد تھے اور اس کی واحد وجہ یہ تھی کہ وہ مصلحت پسند نہیں تھے ۔یہی وجہ کہ ان کے ہم نواؤں کا دائرہ بہت محدود ہے۔اور ان کوایک اکھڑ پن شخص کے طور پر زیادہ مشہور کیا گیا ۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ بھی کلیم الدین احمد کی طرح اپنی تنقید کے معیار کو بلند دیکھنا چاہتے تھے یہ اور بات ہے کہ وہ پروفیسر کلیم الدین احمد کی طرح انتہا پسندی کو اپنی ترجیحات میں شامل نہیں رکھتے تھے بلکہ اپنے عالمانہ دلائل کے ذریعے اپنی دانشوری کا مہر ثبت کرتے تھے ۔جیسا کہ انہوں نے اپنی ایک مشہور تنقیدی تصنیف”کثرت تعبیر "میں اس کی وضاحت کی ہے:
’’مجھے اس بات کے اظہار میں کوئی تکلف نہیں کہ معاصر تنقیدی منظرنامے میں سنجیدہ اور قابل اﻉتنا کاوشیں بہت کم دکھائی دیتی ہیں اس لیے اردو میں تنقید کے نام پر لکھی جانے والی عام تحریروں سے بے اطمینانی کا اظہار کیے بغیر کوئی چارہ نظر نہیں آتا میں اگرتنقید لکھتا ہوں تو اس کا سبب اس بے اطمینانی کے ازالہ کی بساط بھر کوشش کے علاوہ اور کچھ نہیں "۔
حقیقت بھی یہی ہے کہ ان کی تمام تحریروں میں پستیِ معیار سے بے اطمینانی نظر آتی ہے اور بااعتبار تنقید کی جستجو ۔دراصل پروفیسر ابوالکلام قاسمی کی ذہنی نشوونما عربی اور فارسی کے ماحول میں ہوئی تھی ۔ہم سب اس حقیقت سے واقف ہیں کہ وہ دارالعلوم دیوبند کے فاضل تھے اور بعد میں عصری تعلیم کو انہوں نے اپنی فکر و نظر کا محور و مرکز بنایا ۔انگریزی زبان و ادب پر عبور حاصل کیا اور دیگر ہندوستانی زبان و ادب کے مطالعہ کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیا ۔یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے ہم عصروں میں بہت جلد نمایاں ہوئے اور زمانہ ان کی تحریر و تقریر کا قائل ہوگیا ۔علی گڑھ مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کے شعبہ اردو سے وابستہ ہونا اور وہاں کی علمی و ادبی فضا سے فیضیاب ہونا ان کی شخصیت کو چار چاند لگانے میں معاون ثابت ہوا ۔
پروفیسر ابوالکلام قاسمی بین العلومی مطالعہ کو اولیت سمجھتے تھے اسی لئے عربی اور فارسی کے علاوہ انگریزی ادب کے ساتھ ساتھ دیگر ہندوستانی ادب پر بھی ان کی نگاہ رہی ۔دنیا ے اردو ادب میں ان کی کتاب ناول کا فن غیر معمولی اہمیت کی حامل ہے جو ای ایم فاسٹرکی انگریزی کتاب کا ترجمہ ہے ۔لیکن اس ترجمہ کو ان کی تصنیف سے کہیں زیادہ شہرت نصیب ہوئی ۔کیونکہ انہوں نے انگریزی کی کتاب کا محض لفظی ترجمہ نہیں کیا بلکہ انگریزی کتاب کو اردو کے مزاج کے مطابق ڈھال دیا ۔لہذا اس کتاب کو ناول کی تنقید کے مطالعے کے لئے ناگزیر سمجھا جانے لگا۔
پروفیسر ابوالکلام قاسمی ایک محتاط نقاد تھے، جس طرح وہ ادبی موضوعات و مسائل پر اپنی نپی تلی رائے رکھتے تھے ٹھیک اسی طرح تحریر میں بھی بہت سنجیدہ نظر آتے ہیں ۔ان کی تصنیفات میں تخلیقی تجربہ ،مشرقی شعریات ،شاعری کی تنقید ،معاصر تنقیدی رویے ،کثرت تعبیر اردو فکشن کے مضمرات وغیرہ کے مطالعے سے یہ حقیقت واضح ہوجاتی ہے کہ پروفیسر قاسمی کا نظریہ نقد مشرقی شعریات کی بازیافت ہے ۔وہ مغربی تنقید سے استفادہ کے قائل تو ہیں لیکن وہ پروفیسر کلیم الدین احمد کی طرح ہر چیز کو مغربی آئینے سے نہیں دیکھتے ۔اس لیے اپنے ایک مضمون جس کا عنوان ہے میرا ادبی موقف اس میں اس حقیقت کا اعتراف کرتے ہیں کہ :
’’اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ اردو تنقید میں موجود تمام نقائص اورغیر تنقیدی طریق کار کی تلافی میری تحریر کردی گی ۔عرض کرنا محض یہ مقصود ہے کہ تنقیدی اصول و نظریات کو جس شدت اور غیر جانبداری کے ساتھ استعمال کرنے اور اطلاقی تنقید میں فن پارے کی تعیین قدر کو کارآمد بنانے کی خاطر جس نوع کے معروضی فاصلہ کو اختیار کرنے کی ضرورت ہے اردو کےعام نقادوں میں اس کا احساس نہ ہونے کے برابر ہے ۔کسی خاص تنقیدی مکتب فکر یا مخصوص نظریہ ادب میں الجھ کر باقی دوسرے نظریات یا مکتب فکر کو یکسر نظر انداز کرنے کا رویہ عام ہے یوں تو یہ بات غلط نہیں کہ نفسیات، سماجیات، لسانیات اسلوبیات یا ساختیات پر مبنی تمام تصورات فن پارے کے کسی نہ کسی پہلو کی اہمیت کا احساس ضرور دلاتے ہیں اور اس وسیلے سے بسا اوقات مفید نتائج بھی نکالے جا سکتے ہیں مگر کیا تشکیل متن میں شامل دوسرے عناصر اور محرکات اس اکہر ے طریقے کے سبب معرض التوا میں نہیں جاپڑتے ۔”

پروفیسر قاسمی نے اپنی مرتبہ کتابوں میں جو مقدمے لکھے ہیں ان کے مطالعہ سے بھی یہ حقیقت عیاں ہوجاتی ہے کہ ان کا موقف اور نظریہ کیا ہے ۔ان کتابوں میں مشرق کی بازیافت، انتخاب انعام اللہ خان یقین ،رشید احمد صدیقی قدروقیمت انتخاب، فراق گورکھپوری، اردو افسانہ آزادی کے بعد اور نظریاتی تنقید کے مقدما ت میں اردو تنقید و تحقیق کی روایتی گہرائی و گیرائی تک ان کی رسائی اور مغربی تنقید کی پرکھ صاف نظر آتی ہے ۔پروفیسر قاسمی نے شخصیاتی تنقید کے ساتھ ساتھ ادبی مباحث کو اپنی فکر و نظر کا محور و مرکز بنایا اور خاص کر فکشن کی تنقید کو فوقیت دی ۔اصناف سخن پر بھی پر مقالے لکھے اور غزلیہ شاعری کی اہمیت و افادیت کو اجاگر کیا ۔
پروفیسر قاسمی شعبہ اردو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے سبکدوشی کے بعد اپنے ادبی رسالہ امروز کے ذریعے اپنے ادبی نظریے کو فروغ دیتے رہے ۔اگرچہ کینسر جیسے موذی مرض میں مبتلا ہوگئے مگر امروز کو جاری رکھنے کی ہر ممکن کوشش کی ۔اور ہندو پاک میں امروز کے حلقے کو بڑھانے کی کوشش کرتے رہے ۔امروز کے اداریوں کے مطالعے سے بھی ان کے تصورات ادب اور نظریہ زیست کو سمجھا جاسکتا ہے ۔
کسی ادیب و شاعر کو کسی جغرافیائی حدود میں نہیں دیکھا جانا چاہیے مگر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ کسی بھی ادیب و شاعر کو اس کی مٹی سے الگ کرکے نہیں دیکھا جا سکتا ۔پروفیسر قاسمی کا تعلق شمالی بہار کے ضلع دربھنگہ سے تھا ۔وہ دوگھڑا گاؤں میں 20 دسمبر 1950 کو پیدا ہوئے تھے اور آخر وقت تک اپنے گاؤں کو نہیں بھولے ۔اگرچہ طالب علمی کے بعد پوری زندگی علی گڑھ میں گزری لیکن بہار کے ادبا اور شعرا سے ہمیشہ رشتہ استوار رکھا ۔اپنے گاؤں اور آس پاس کے ذہین طلبہ کو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی راہ دکھانا اور اس کی ہرممکن رہنمائی و حوصلہ افزائی کرنا ان کا وطیرہ رہا ۔راقم الحروف سے بھی ان کے دیرینہ تعلقات رہے اور چار دہائیوں میں ہمیشہ ان کو بحر ادب میں غوطہ زن دیکھا ۔زندگی جینے کا بھی ایک انوکھا نسخہ ان کے پاس تھا کہ وقت کے بہت پابند تھے ۔اور اپنی شرطوں پر جینے والے شخص تھے۔افسوس صد افسوس 8 جولائی 2021کواس دنیائے فانی کو الوداع کہہ کر 9 جولائی کو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کے سہرے خموشاں میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے سپرد خاک ہو گئے۔
یوں تو یہ زمین کبھی اہل فکر و نظر سے خالی نہیں رہتی کہ اللہ تعالی ہر شعبہ حیات کے لیے ہمیشہ نابغہ روزگار شخصیت کو پیدا کرتا ہے اور کبھی یہ دنیا مثالی شخصیت سے خالی نہیں رہتی لیکن یہ بھی سچ ہے کہ پروفیسر ابوالکلام قاسمی جیسی ہمہ جہت شخصیت کا مالک اردو زبان و ادب کو عنقریب ملنے والا نہیں ہے ۔اردو زبان و ادب میں دانشوری کی جو روایت رہی ہے وه آہستہ آہستہ کم ہوتی جا رہی ہے ۔حال کے دنوں میں شمس الرحمن فاروقی اور پروفیسر شمیم حنفی کے بعد پروفیسر قاسمی کا رخصت ہونا جہان اردو کے لیے ایک خسارۂ عظیم ہے ۔ اردو کے عظیم شاعر مرزا غالب نے شاید ایسی ہی شخصیت کے لئے کہا تھا :
مقدور ہو تو خاک سے پوچھوں کہ اے لئیم
تو نے وہ گنج ہائے گراں مایہ کیا کیے !