ماہ محرم الحرام اور مروجہ بدعات وخرافات-عبدالرشیدطلحہ نعمانیؔ

 

تیسری صدی ہجری کے جلیل القدر محدث،باکمال مفسر اور عظیم فقیہ امام ابومحمد عبداللہ دارمی (م255ھ)نے اپنی سنن میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے منقول ایک روایت نقل فرمائی ہے کہ حضرت ابن مسعودؓنے ایک موقع پراپنے تلامذہ کے روبرو فرمایا : اس وقت تمہارا کیاحال ہوگا، جب کہ فتنہ تم میں سرایت کرجائے گا،ادھیڑ عمر کے لوگ اسی میں بوڑھے ہوجائیں گے اور بچے جوان ہوجائیں گے، لوگ اسی فتنے کو سنت قراردے لیں گے کہ اگر اسے چھوڑدیاجائے، تو کہا جائے گاکہ سنت چھوڑدی گئی، عرض کیاگیا: ایسا کب ہوگا؟ فرمایا: جب تمہارے علما جاتے رہیں گے اور (پڑھے لکھے)جاہلوں کی کثرت ہوگی، تم میں حرف خواں زیادہ اورفقیہ کم ہوں گے، امیر زیادہ اوردیانت دار کم ہوں گے، آخرت والے اعمال سے دنیا سمیٹی جائے گی اوربے دینی کے لیے اسلامی قانون پڑھا جائے گا۔

روایت کی شرح کرتے ہوئے حضرت مولانا مفتی شعیب اللہ خان صاحب مفتاحی مدظلہ ارقام فرماتے ہیں:اس میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ایک خوف ناک فتنے کا ذکر کیاہے،جو طویل زمانے تک لوگوں میں رہے گا اورلوگوں پر حاوی ہوجائے گا، جس میں ادھیڑ عمر کے لوگ بوڑھے اوربچے جوان ہوجائیں گے؛ یہ کیافتنہ ہوگا؟یہ فتنہ جہالت اوردین سے دوری و بعد کا فتنہ ہوگا، لوگ اس وقت جہالت و بے دینی میں پڑے ہوں گے،حتی کہ ان کو اسلام کا حقیقی چہرہ کیاہے، معلوم نہ ہوگاجہالت کی باتوں کو دین سمجھ کر عمل کرتے رہیں گے،ان جہالت کے کاموں میں سے کوئی کام چھوٹ جائے، تو لوگ کہیں گے کہ سنت چھوٹ گئی یاچھوڑدی گئی؛یعنی بدعات و رسومات ہی کو دین و شریعت اور سنت سمجھ کر عمل کرتے ہوں گے اورکوئی بات کسی نے ترک کردی، تو سمجھیں گے کہ دین کی بات ترک کردی گئی؛ حالاں کہ وہ دین نہیں،دین کے خلاف بات ہوگی۔

آج بہت سے علاقوں میں یہ صورت حال دیکھی جاسکتی ہے،جہاں من گھڑت باتوں اور جاہلانہ رسموں کانام دین ہے، اگر کوئی امام ان کی اصلاح کے لیے یہ کہہ دے کہ یہ رسم ترک کرو کہ اس کا دین سے تعلق نہیں، تو وہ لوگ مارنے مرنے کو تیار ہوجائیں اورمن گھڑت رسموں کو سنت و شریعت سے بڑھ کر دل سے لگائیں گے؛ کیوں کہ ان کے نزدیک انہی بدعات و رسومات کا نام دین ہے۔(حدیث نبوی اور دور حاضر کے فتنے)

محرم جیسے قابل قدر اور لائق احترام مہینے کے حوالے سے جو بات ہمارے سادہ لوح مسلمانوں کے ذہنوں میں بٹھادی گئی ہے وہ یہ ہے کہ محرم الحرام نالہ و شیون، ماتم اور تعزیہ داری کا مہینہ ہے اور بہت سے لوگ تو اسے منحوس مہینہ سمجھتے ہیں؛اسی لیے اس مہینے میں شادی بیاہ اور دیگر تقاریب کو جائز نہیں جانتے اورجب ان سے اس کی وجہ پوچھی جاتی ہے تو کہتے ہیں کہ اس ماہ کی دس تاریخ کو حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت کا واقعہ پیش آیا؛لہذا یہ مہینہ غم کی یاد گار ہے۔

زیر نظر تحریر کا مقصد ماہ محرم الحرام میں رائج مختلف بدعات و رسومات کا جائزہ ہے جنہیں عوام کی اکثریت دین ہی کا ایک حصہ سمجھ کر پورے اہتمام کے ساتھ عمل کرتی آرہی ہے۔

کیا ماہِ محرم صرف غم کی یادگار ہے؟

شہادت سیدنا حسینؓ اگرچہ اسلامی تاریخ کا بہت بڑا سانحہ ہے؛ لیکن یہ صرف ایک واقعہ نہیں جس کی یاد محرم سے وابستہ ہے؛بل کہ محرم میں کئی دیگر تاریخی واقعات بھی رونما ہوئے ہیں جن میں سے اگر چند ایک افسوس ناک ہیں تو کئی مواقع ایسے بھی ہیں جن پربارگاہ ایزدی میں شکر بجالانے کی ضرورت ہے۔جیسا کہ نبی اکرمﷺنے حضرت موسیٰؑ کی پیروی میں عاشورے کے دن شکرانے کا روزہ رکھا کہ اللہ تعالیٰ نے اس دن موسیٰؑ کو فرعون سے نجات دی تھی۔ اگر اتفاق سے شہادتِ حسینؓ کاالم ناک واقعہ بھی اسی ماہ میں واقع ہو گیا تو بعض دیگر جلیل القدر صحابہؓ کی شہادت بھی تو اسی ماہ میں ہوئی ہے۔ مثلاً خلیفہ ثانی حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ اسی ماہ کی یکم تاریخ کو حالت نماز میں ابولؤلؤ فیروز نامی ایک غلام کے ہاتھوں شہید ہوئے۔لہذا شہادتِ حسینؓ کا دن منانے والوں کو ان کا بھی دن منانا چاہیے؛ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اگر اسلام اسی طرح دن منانے کی اجازت دے دے تو سال کا ہر مہینہ اور مہینے کا ہر دن ماتم و سوگ کا بن جائے؛کیوں کہ تاریخی اعتبار سے ہر دن کسی نہ کسی کی شہادت و وفات کا ہونا یقینی ہے۔

محرم الحرام کو منحوس سمجھنا:

ماہ محرم کی رسومات میں سوگ منانا، اسے منحوس سمجھنا اور کوئی خوشی کی تقریب انجام نہ دینا سرفہرست ہے۔بہ نظر غائر دیکھا جائے تو دین اسلام سے ان کا کوئی تعلق نہیں۔ایک روایت میں حضو راکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :(اسلام میں)نہ بیماری کا متعدی ہونا ہے (زمانہ جاہلیت میں لوگوں کااعتقاد تھا کہ جو شخص بیمار کے ساتھ کھاتا پیتا ہے تو اس کی بیماری اس کو بھی لگ جاتی ہے) اور نہ بدفالی ہے (عرب کی عادت بدشگونی کی تھی، جب کوئی کام کرنے کا ارادہ کرتے تو پرندے کو اڑاتے،اگر وہ دائیں جانب جاتا تو نیک شگون لیتے اگر وہ بائیں جانب جاتا تو بدشگونی لیتے) اور نہ ہامہ ہے (یہ پرندے کا نام ہے، جاہلیت میں لوگوں کا زعم باطل تھا کہ یہ مقتول کی ہڈیوں سے پیدا ہوتا ہے اور فریاد کرتا ہے میری پیاس بجھا دو، یہاں تک کہ اس کا قاتل مارا جائے) نہ صفر ہے(ماہ صفر کے بارے میں عرب کا یہ اعتقاد تھا کہ اس میں حوادث وآفات کا نزول ہوتا ہے۔)(مسلم شریف)جس طرح جاہلی دور میں لوگ صفر کے مہینہ کو منحوس سمجھتے تھے اور طرح طرح کے توہمات کا شکار تھے،آج کے زمانے میں کچھ ناسمجھ لوگ بالخصوص بڑی بوڑھی خواتین صفر کے ساتھ محرم کو بھی جوڑ لیتی ہیں اور ا س محترم مہینہ کو بھی منحوس سمجھنے لگتی ہیں؛حالانکہ دین اسلام کی رو سے ماہ و سال میں کوئی نحوست نہیں ہیاور نبی کریم ﷺنے اس طرح کسی مخصوص مہینے کو منحوس سمجھنے سے منع فرمایا ہے۔

نوحہ کرنا:

محرم کے مہینہ میں عاشورا کے دن حضرت حسین اور دیگر اہل بیت رضی اللہ عنہم کی شہادت کے غم میں نوحہ اور ماتم کرنے کا واج عام ہوچکا ہے،جب کہ دین اسلام میں اس کی کوئی گنجائش نہیں ہے؛بلکہ علماء کرام نے بہ چند وجوہ اسے ناجائز قرار دیاہے:

1: شریعت مطہرہ میں رنج لاحق ہونے یا عزیزو اقارب کے فوت ہونے پر صبر کی تلقین کی گئی ہے، اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بہت سے مقامات پر صبر وتحمل کا حکم دیا ہے اور اس کے فضائل وانعامات بیان فرمائے ہیں۔ارشاد باری ہے: جو صبر کرنے والے ہیں ان کو بے شمار ثواب ملے گا۔(سورہء زمر)نیز صبر کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ کی معیت نصیب ہوتی ہے، اورصابرین کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی ہدایت، نصرت اور فتح ہوتی ہے، ارشاد باری تعالیٰ ہے:بیشک اللہ تعالیٰ صبرکرنے والوں کے ساتھ ہے۔ (سورہء بقرہ)احادیث میں بھی حضور اقدس ﷺ نے مصائب بالخصوص اموات پر صبر کرنے کی تلقین فرمائی ہے، یہ ساری صورتحال کسی مسلمان سے مخفی نہیں۔اس لیے نوحہ اور ماتم کرنا صبر کے خلاف ہے۔

2: شریعت نے اپنے عزیز کی وفات پر اعتدال کے ساتھ غم زدہ رہنے کی اجازت دی ہے، اس میں آنسو بہانا صبر وتحمل کے خلاف نہیں بلکہ غم کا تقاضا ہے،اور حضور ﷺنے اپنے فرزند کے انتقال پر اسی طرح اظہار غم فرمایا ہے؛ البتہ بلند آواز سے رونا چیخنا، چلانا، جسم یا چہرے کو پیٹنا، گریبان چاک کرنا؛ یہ تمام ایسے امور ہیں جن سے شریعت منع کرتی ہے، حضور اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ دو چیزیں ایسی ہیں جو کفر ہیں: ایک تو نسب میں طعنہ دینا، اور دوسری چیز میت پر نوحہ کرنا۔(مسلم شریف)ایک اور روایت میں حضور ﷺ نے فرمایا کہ میں نے دو احمق اور فاجر آوازوں سے منع کیا ہے: ایک تو مصیبت کے وقت چیخنا، چہرہ نوچنا اور گریبان پھاڑنا، اور دوسری شیطانی مرثیہ خوانی۔(ترمذی شریف)معلوم ہوا کہ نوحہ کرنا اسلام میں ناجائز اور حرام ہے۔

دس محرم کو شربت تقسیم کرنا:

شربت پینا یا پلانا اپنی ذات میں ایک مباح امر ہے؛مگر خاص طور پردسویں محرم کو شربت تقسیم کرنا کتاب و سنت اور اسلاف امت سے ثابت نہیں ہے، یہ صرف روافض اور دشمنان اسلام کا طریقہ ہے، اس کو کارخیر اور ضروری سمجھنا ناجائز اور مداہنت فی الدین ہے۔اگر اہل بیت کے غم میں اور ایصال ثواب کے لئے کیا جاتا ہے، تو شربت پلاکر غم منانا یا ایصال ثواب کر نے کا کوئی معنی نہیں، کیونکہ اس دن اہل بیت پیاس سے پریشان تھے، لہذا خاص طور پر دسویں محرم کو شربت پلانے سے اہل بیت کے ساتھ دشمنی اور مخالفت واضح ہو جاتی ہے۔(مستفاد: کفایت المفتی قدیم، کتاب العقائد۱/۶۲۲)مزید یہ کہ نبی پاک ﷺنے اس دن کھانے پینے کے بجائے روزہ رکھنے کو مستحب قرار دیا ہے؛اس لیے شربت پینے پلانے کے بجائے روزہ رکھ کر ثواب کمانے کا اہتمام کرنا چاہیے۔

تعزیہ بنانا:

تعزیہ داری و تعزیہ سازی وفات نبوی کے سیکڑو ں سال بعد روافض کی ایجاد ہے، جس کی تقلید بعض سنی کہلانے والے بدعت پسندحلقوں نے بھی کی ہے، اور اس میں ان اہل بدعت نے بہت سارے اضافے بھی کر لیے ہیں جو صرف بدعت ہی نہیں، بلکہ اس سے بڑھ کربعض امورشرک و بت پرستی کے ضمن میں آجاتے ہیں:

1: تعزیہ میں روح حسین کے موجود ہونے کا عقیدۃ رکھا جاتا ہے اور انہیں عالم الغیب سمجھا جاتا ہے، تب ہی تو لوگ ان کوقابل تعظیم سمجھتے اور ان سے مدد مانگتے ہیں، حالانکہ کسی بزرگ کی روح کو حاضروناظر جاننا اور عالم الغیب سمجھنا شرک کے مرادف ہے،قرآن مجید میں صاف طور پر کہاگیا ہے کہ حاضر وغائب کو جاننے والا صرف رب کائنات ہے،اس کے علاوہ دنیا میں کسی کو تمام مغیبات کا علم نہیں۔

2: تعزیہ پرست تعزیہ کے سامنے سرجھکاتے ہیں جو سجدے ہی کے ذیل میں آتا ہے اور کتنے لوگ تو ایسے ہیں جو کھلم کھلا سجد ہ ہی بجالاتے ہیں، اور غیراللہ کو سجدہ کرنا چاہے وہ تعبدی ہویا تعظیمی شرک ہی کی ایک شکل ہے۔

3:تعزیہ پرست تعزیوں سے اپنی مرادیں اور حاجات طلب کرتے ہیں جو ناجائز ہے؛اس لیے کہ اللہ تعالی کے علاوہ کوئی قاضیٔ حاجات نہیں،وہی مدد طلب کرنے کے لائق ہے۔ان کے علاوہ اور بھی دیگر برائیوں اور خرافات و بدعات کے پیش نظر تمام علماء سلف نے تعزیہ داری کو حرام و ناجائز قرار دیاہے۔

کچھ لوگ محرم کی دس تاریخ کو میلہ بھی لگاتے ہیں اور جنگی کھیل تماشہ بھی دکھلاتے ہیں جو بدعات و خرافات کی قبیل سے ہے، اس قسم کی بدعات کا حضرت حسین بن علیؓ یعنی رسول اللہ ﷺ کے نواسے کے واقعۂ کربلا سے دور کا بھی تعلق نہیں ہے واقعہ کربلا کے سیکڑوں سال بعد یہ بدعات کے مجموعے والا تہوار و تماشہ ایجاد کیا گیا ہے۔

خلاصۂ کلام:

آج ضرورت ہے اِس بات کی کہ محرم الحرام کی آمد پر ہم اِس کی عظمت و فضیلت سے فائدہ اُٹھا کر زیادہ سے زیادہ اللہ جل شانہ کی عبادت اور حضورﷺ کی سچی اطاعت میں اپنا وقت گزاریں اور اِس میں رونما ہونے والے عظیم الشان واقعات سے نصیحت و عبرت حاصل کریں کہ اسلامی سال کا یہ پہلا مہینہ محرم الحرام عبادت، عبرت اور قربانیوں کا مہینہ ہے، اِس کی عظمت کا تقاضاہے کہ ہم اس میں اعمال صالحہ بالخصوص روزہ رکھنے کا اہتمام کریں نیز ہر قسم کے محرمات و منکرات، خرافات و رسومات اور بدعات و معاصی سے مکمل اجتناب کریں۔حق تعالی توفیق عمل نصیب فرمائے ۔آمین

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*