لکھنؤ میں متنازع پوسٹر،سی ایم اور وزیرکے ساتھ لگی ملزمین کی تصویر

لکھنو:اترپردیش کی دارالحکومت لکھنؤ میں وی وی آئی پی گیسٹ ہاؤس کی دیوار پر متنازعہ پوسٹر لگائے گئے ہیں۔ یہ پوسٹر 69 ہزار اسسٹنٹ اساتذہ تقرتری اور محکمہ لائیواسٹاک میں ٹینڈر گھوٹالہ سے متعلق لگائے گئے ہیں۔ ان 10 متنازعہ پوسٹروں میں پوسٹر کا نام نہیں لکھا گیا ہے۔ فی الحال پولیس نے پوسٹر کوہٹا دیا ہے۔ان متنازعہ پوسٹروں میں سی ایم یوگی آدتیہ ناتھ اور کابینہ کے وزیر سدھارتھ ناتھ سنگھ کے ساتھ ملزمین کی تصاویر دکھائی گئیں۔ معاملہ پولیس کے دائرے میں آنے کے فورا بعد ہی پوسٹرز ہٹائے گئے تھے۔ اس کے ساتھ ہی پوسٹر لگانے والے کی تلاش بھی شروع کردی گئی ہے۔ پوسٹر میں کسی جماعت یا رہنما کا نام نہیں ہے۔قابل ذکر ہے کہ محکمہ لائیو اسٹاک میں اسسٹنٹ ٹیچر بھرتی اور ٹینڈر کے معاملے میں پولیس نے متعدد ملزمین کو گرفتار کیا ہے۔ اسپیشل ٹاسک فورس (ایس ٹی ایف) پورے معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے۔ پریاگراج میں اساتذہ تقرری معاملے میں ٹاپر سمیت کئی ملزمین کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔اساتذہ تقرری پر کانگریس کے جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی وڈرا نے کہا کہ یوپی کی بی جے پی حکومت میں ریاستی سکریٹریٹ کا سب سے بڑا دفتر بدعنوانی کا اڈہ بن گیا ہے۔ محکمہ جانوروں کے پالنے والے اسکینڈل نے حکومت کے پورے کرپٹ نظام کو بے نقاب کردیا۔