نوجوان صحافیوں کے لیے ”لکھنؤ بوائے“ کے مشورے- محمد عامر خاکوانی

کتابیں پڑھنا ہمیشہ سے پسند رہا ہے، مگر اب دلچسپی مزیدبڑھ گئی ہے کہ تقریباً ہر روز یہ احساس ہوتاہے کہ بہت سا وقت فضول، غیر اہم، بے کار چیزوں پر ضائع ہوگیا ۔ کتاب واحد چیز ہے، جس پر صرف کیا وقت ضیاع کا احساس نہیں دلاتا۔ غیر دلچسپ اور کمزور کتاب بھی کچھ نہ کچھ سکھا ہی جاتی ہے۔ کچھ نہیں تو اتنا سبق مل جاتا ہے کہ ایسی کتابوں سے آئندہ کس طرح محفوظ رہا جائے؟
آج کل مشہور بھارتی صحافی اور ایڈیٹر ونود مہتا کی کتاب” لکھنؤ بوائے“ پڑھ رہا ہوں۔ونود مہتا جدید بھارتی صحافتی تاریخ کے بڑے معماروں میں سے ایک ہے۔ ونود نے بھارت میں سنڈے ابزرور، انڈین پوسٹ، دی انڈیپنڈنٹ اور پائنیر جیسے اہم اخبارات شروع کئے، وہ اہم بھارتی میگزین آﺅٹ لک کے بانی ایڈیٹر تھے ۔ آﺅٹ لک میں ونود مہتا کی ادارت کے دوران ہی منوج پربھارکر کے میچ فکسنگ سکینڈل اور بھارت میں تہلکہ مچا دینے والے نیرا رادیا سکینڈل شائع ہوئے۔ نیرا رادیا سکینڈل میں معروف ٹی وی اینکر برکھا دت اور ویرسنگھوی بھی ملوث تھے۔ ونود مہتا کی شہرت ایک بے باک ، دلیر اور اپنے موقف پر ڈٹ جانے والے ایڈیٹر کی تھی۔ اس کے سیاسی تجزیے بھی اہم سمجھے جاتے تھے، نریندر مودی کا سخت مخالف ہونے کے باوجود ونود مہتا نے پیش گوئی کی کہ ایک دن یہ بھارت کا وزیراعظم بنے گا۔ تب بی جے پی میں مودی کا عروج شروع نہیں ہوا تھا اورگجرات فسادات کے تناظر میں اس کے ٹاپ پر آنے کے امکانات کم تھے۔ اس رائے کا ہر ایک نے مذاق اڑایا، آج ہم سب جانتے ہیں کہ کیا ہوا۔ پانچ سال قبل یہ مشہور اوربعض اعتبار سے متنازع بھارتی ایڈیٹردنیا سے رخصت ہوگیا، مگر جانے سے پہلے کئی دلچسپ، اہم کتابیں لکھ گیا۔ان میں بالی وڈ کی سحرانگیز اداکارہ مینا کماری پر کتاب بھی شامل ہے، اندراگاندھی کے متنازع سیاستدان بیٹے سنجے گاندھی پر بھی کتاب لکھی۔ لکھنو بوائے( Lucknow Boy)ونود مہتا کی خودنوشت ہے۔ ان کا تعلق راولپنڈی سے تھا، مگر تقسیم کے بعد لڑکپن، جوانی لکھنو میں گزری ، اسی مناسبت سے خود کو لکھنو بوائے کہا۔ ونود مہتا کی خودنوشت لکھنو بوائے کو بھارت میں خاصی پزیرائی حاصل ہوئی اور کئی ایڈیشن فروخت ہوئے۔ ارنب گوسوامی جیسا جوشیلا اور تندوتیز گفتگو کرنے والا صحافی بھی ونود کی اس کتاب کا مداح ہے۔ لکھنو بوائے کے بعد ونود نے اپنی خودنوشت کا دوسرا حصہ ایڈیٹر ان پلگڈ(Editor Unplugged)لکھا،یہ کتاب موت سے ایک سال پہلے شائع ہوئی۔
“لکھنو بوائے “کے آخری حصے میں ونود مہتا نے نوجوان صحافیوں اور لکھنے والوں کے لئے اپنی چالیس سالہ صحافتی زندگی کا نچوڑ بیان کیا۔ سوئپرز ایڈوائس (Sweeper’s Advice)کے عنوان سے شروع ہونے والے اس باب میں کئی مفید مشورے شامل ہیں۔ ہمارے ہاں صحافی کی ایک خاص کتابی سی تعریف موجود ہے، اکثر سینئر صحافی اس پر سختی سے عمل کرانے کے خواہش مند ہیں۔صحافتی تنظیموں کے منشور میں یہ تمام تعریفیں موجود ہیں۔ پریس کلب بھی ہر ایک کو اپنا رکن نہیں بنا لیتے۔ کسی بحث میں الجھنے سے گریز کرتے ہوئے میری رائے یہ ہے کہ ملک کے طول وعرض میں پھیلے ہزاروں لکھاری جو سوشل میڈیا اور مختلف ویب سائٹس پر لکھتے ہیں،اپنا وی لاگ بنا کر یوٹیوب پر ڈالتے یا کرنٹ ایشوز پر فیس بک لائیو کرتے ہیں، یہ سب بھی کسی نہ کسی سطح پر صحافت کا حصہ ہیں۔ان میں سے بیشتر کو ایڈیٹر یا کنٹرولر نیوزکی رہنمائی میسر نہیں، اسی وجہ سے بہت کچھ غلط اور خام بھی شائع یا نشر ہوجاتا ہے۔باقاعدہ نہ سہی، مگر ایک خاص سطح پر یہ سب صحافی ہی ہیں۔ صحافت اپنے حالیہ بحران سے نکل آئے اور پھر سے عروج کی طرف گامزن ہو یا زوال اس کا مقدر بنے، اس میں ان لاتعداد گمنام، کم معروف ،ناتجربہ کار لوگوں کا کنٹری بیوشن بھی شامل ہو گا۔ اس لئے کسی نہ کسی انداز میں ان سب کی تربیت کا کچھ انتظام ہونا چاہیے۔ ونود مہتا کی کتاب” لکھنو بوائے“ میں دیے گئے مشورے ان غیر رسمی صحافیوں کے لئے بھی کارآمد ثابت ہوسکتے ہیں۔ ونود چونکہ خودبنیادی طور پر پرنٹ میڈیا سے منسلک تھے، اس لئے انہوں نے تحریر پر زیادہ فوکس کیا، مگر اسے نشریاتی صحافت پر بھی منطبق کیا جا سکتا ہے۔
ونود مہتا ابتدامیں سوال اٹھاتے ہیں ، کیا صحافی معاشرے پر فرق ڈال سکتے ہیں؟ونود مہتا کے خیال میں ایسا ہے، مگر ضروری ہے کہ حقیقت پسندبنا جائے۔ توقعات بہت بلند کرنے کی ضرورت نہیں، اگر بطور رپورٹر آپ سمجھتے ہیں کہ جو کرپشن سکینڈل آپ بے نقاب کر رہے ہیں یہ تہلکہ مچا دے گا، اس کے باوجود اس بھول میں مت رہیے کہ اس سے حکومت گر جائے گی یا وہ وزیراعظم جس کے خلاف سکینڈل فائل کیا، وہ اپنا منصب کھو بیٹھے گا۔ زیادہ سے زیادہ یہ ہوتا ہے کہ آپ کا کام ایک پراسیس کا حصہ بن جائے گا۔اس لئے اپنی کوشش اور فوکس چھوٹی تبدیلی لانے پر رکھیں۔ اساتذہ جنہیں مہینوں سے تنخواہیں نہیں ملیں، گوداموں میں پڑا اناج خراب ہوگیا اور غریب بھوکے مر رہے ہیں، خانہ بدوشوں تک کو نہیں چھوڑا گیا، بھکاریوں کو ہراسمنٹ کا نشانہ بنایا گیا، وغیرہ وغیرہ۔ یہ خبریں ایسی ہیں جن سے عام آدمیوں پر مشتمل ان گروہوں کی مشکل آسان ہوجائے گی۔ صحافی کو بنیادی طور پر غریبوں، مظلوموں کا ساتھی بننا چاہیے۔
صحافی کو شکی بننا چاہیے یا منفی اور قنوطیت پسند؟ ونود مہتا کے خیال میں شکی بننا بہتر ہے کہ اس طرح آپ پہلے سے حتمی رائے قائم نہیں کر لیتے اور ایشوز کی تحقیق کرنے، انہیں جانچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ قنوطیت پسندی سے صحافی غیر منصفانہ اور تباہ کن رائے بنالیتے ہیں۔ وہ پہلے سے فیصلہ کر چکے ہوتے ہیں کہ فلاں فلاں طبقات مثلاً سیاست دان، وزیر، مشیر کرپٹ اور بے ایمان ہیں۔ کسی بھی شکایت پر قنوطیت پسند منفی سوچ رکھنے والے صحافی فوراً بغیر سوچے سمجھے اس پر یقین کر لیتے ہیں جبکہ ایک اچھا صحافی شکی ذہن سے اس ایشو کو دیکھے ، کھنگالے گا اور اگر اسے ثبوت ملیں تب وہ رپورٹ فائل کرے گا، ورنہ نہیں۔
کیا ہر خبر کے دو رخ ہوتے ہیں؟ ونود مہتا اس سوال کا جواب دینے سے پہلے ایک پرانے گورے صحافی ایلسٹر کک کا حوالہ دیتا ہے جس نے پنڈت نہرو سے شکایت کی تھی کہ بعض سٹوریز جن پر میں کام کرتا ہوں، ان کے نہ صرف دو بلکہ کبھی پانچ چھ رخ ہوتے ہیں۔ونود مہتا کے مطابق ایک اچھے رپورٹر کو کبھی عجلت سے سادہ اور ناپختہ رائے نہیں بنا لینی چاہیے، اگرآپ کی تحقیق کے نتیجے میں کسی ایشو کے پانچ چھ مختلف پہلو نکل رہے ہیں تو سب کو ٹچ کرنے کی کوشش کریں اور ہوسکے تو اپنی سٹوری میں قاری (یا ناظرین) کو صاف بتا دیں کہ صورتِ حال پیچیدہ اور کنفیوژنگ ہے اور ابھی واضح نہیں۔ ونود مہتا نے ایک استثنائی معاملے کا ذکر کیا جہاں رپورٹر کو ایک واضح پوزیشن لینے کی ضرورت ہے کیونکہ وہ ایک رخ اس قدر دردناک ، مظلومانہ اور دل کو چھونے والا ہوتا ہے کہ اسے چھوڑنا ممکن نہیں۔ مہتا نے اس حوالے سے بھارت کے چند بڑے سانحات کا ذکر کیا، جیسے گجرات میں مسلمانوں کا قتل عام، اندرا گاندھی دور میں امرتسر آپریشن کے بعد سکھوں کے خلاف فسادات ، بابری مسجد کی شہادت وغیرہ۔بچوں اور خواتین کے گینگ ریپ مرڈر اور پنچایت کے ہاتھوں غریب عورتوں کی توہین وغیرہ …. ایسے معاملات میں قوانین کی کتاب دور پھینک کرجرات مندانہ رپورٹنگ کریں۔ تحریر یا گفتگو کی ٹون تیز اور جارحانہ ہو اور تب کھل کر مظلوم کے ساتھ کھڑے ہوں ۔
ونود مہتاکہتاہے کہ غیر جانبداری ویسے بھی ایک خیالی سا تصور ہے،صرف مِتھ، آج تک کبھی کوئی ایسا رپورٹر یا ایڈیٹر نہیں ملا جس کی واضح اور مضبوط آرا نہیں ۔ میڈیا کے لوگ ویسے بھی اپنی صاف اور واضح رائے رکھنے کی وجہ سے بدنام ہیں۔ ایسے میں آپ کسی صحافی سے یہ کیسے توقع کر سکتے ہیں کہ جب وہ ٹی وی پر بیٹھا ہو تو اپنی آرا سے دستبردار ہو گیا ہے؟کچھ بنیادی گائیڈلائنز کی ضرور پیروی کرنی چاہیے، مگر اپنی کامن سینس استعمال کرتے رہیں۔ آپ کوئی نامرد نہیں(Eunuch)۔ جب آگ بھڑکے ، تب تمام سلنڈر اس پر چھڑک دیں۔پوزیشن لیں(Take Sides)۔معصوم بچوں کے قتل جیسے معاملات میں بیلنس نہیں رکھا جا سکتا۔