میاں یہ عشق ہے اور آگ کی قبیل سے ہے!( شاعرِ انقلاب محمود درویش کی داستانِ محبت )- اسلام احمد

ترجمہ:نایاب حسن

(چیف ایڈیٹر قندیل آنلائن)

 

معروف عربی ادیب،ماہر لسانیات اور شاعر اصمعی(740ء-828ء) کا بیان  ہے:

میں عراق کے صحراؤں میں پھر رہا تھا کہ ایک پتھر کے پاس سے گزرہوا، جس پریہ شعر لکھا ہوا تھا:

أيا مَعشرَ العُشَّاق باللهِ خَبِّروا

إذا حَلَّ عِشقٌ بالفتى كَيف يَصنعُ

(اے قبیلۂ عشاق!  خدا کے واسطے بتاؤ  کہ اگر کسی نوجوان کو محبت ہوجائے تو وہ کیا کرے؟)

تو میں نے اس کے نیچے یہ شعر لکھ دیا:

يُداري هواه ثُمَّ يَكتمُ سِرَّه

ويَخشع في كُلِّ الأمور ويَخضعُ

( وہ اپنی خواہشات پر قابو رکھے، اپنے راز کو چھپائے  اور تمام معاملات میں عجز و انکساری اختیار کرتا رہے)

جب اگلے دن وہاں سے گزرا تو ایک تیسرا شعر لکھا ہوا پایا :

وكَيف يُدارى والهوى قاتل الفتى

وفي كُل يومٍ قَلبه يَتقطَّعُ

(جب سوزشِ عشق اس نوجوان کو مارے ڈال رہی ہے اور اس کا دل ٹکڑے ٹکڑے ہورہا ہے تو وہ اپنے آپ پر کیسے قابو رکھ سکتا ہے؟)

تو میں نے اس کے نیچے  لکھ دیا:

إذا لَمْ يَجد الفتى صَبرًا لكتمان سِرّه

فليس له شيء سوى المَوت يَنفع

( اگر وہ نوجوان اپنے راز کی حفاظت نہیں کر سکتا، تو پھر اس کے لیے مرجانا ہی بہتر ہے)

آگے اصمعی اپنی کہانی مکمل کرتے ہوئے کہتا ہے: میں تیسرے دن لوٹا، تو دیکھا کہ  ایک نوجوان اس  پتھر کے نیچے مرا پڑا ہوا تھا اور اس پر دو اشعار لکھے ہوئے تھے:

سَمعنا وأطعنا ثُمَّ متنا فبلغوا

سلامي إلى مَن كان بالوَصلِ يَمنعُ

هنيئًا لأرباب النَعيم نَعيمهم

وللعاشق المسكين ما يتجرَّعُ

(ہم نے سنا، مان لیا اور مر گئے۔ انھیں میرا سلام پہنچادینا،جو وصال سے منع کر رہے تھے،جو ناز و نعم میں  ہیں انھیں ان کی خوشیاں  مبارک ہوں  اور غریب عاشق کو وہ گھونٹ، جواسے نگلنا پڑ رہا ہے)

جب اصمعی نے اپنی کہانی ختم کی، تو لوگوں نے تالی پیٹتے ہوئے کہا:

محبت واقعی جان لیوا ہوتی ہے۔

مشہور انقلاب پسند فلسطینی شاعر محمود درویش (1941ء-2008ء)اپنی ایک لافانی نظم  میں کہتا ہے:

يا حُبّ! ما أنتّ؟

كَم أنت أنت ولا أنت!

يا حُبّ هُبَّ عَلينا عواصف رَعدية

كي نَصيرَ إلى ما تُحِب لنا مِن حلول السماويّ في الجَسد

و ذُبْ في مَصبٍّ يَفيض مِن الجانبين

فأنت –إن كُنت تَظهر أو تَتَّبطَّن- لا شَكل لَك!

(اے عشق! تم کیا ہو؟

تم کتنے ہو اور کتنے نہیں ہو؟

اے محبت! ہم پر کڑک دار آندھیوں کی طرح نازل ہوجاؤ

تاکہ ہم اس آسمانی  جسم  میں منتقل ہوجائیں ، جو تم  ہمارے لیے چاہتی  ہو

اور ایسے چشمے میں بہہ جاؤ جو دونوں اطراف سے بہتا ہو

تمھاری – چاہے ظاہری ہو یا  باطنی – کوئی شکل نہیں ہے!)

میں نے درویش کا تعارف خود اس کے لفظوں میں کروایا؛کیوں کہ یہ ایسا شاعر ہے، جس کی تعریف لفظوں یا اوصاف سے ممکن نہیں، وہ ہماری تعریف و توصیف سے بالاتر ہے؛ اس لیے ہم براہِ راست اس کے جذبات پر بات کرتے ہیں۔ درویش کی نظمیں محبت، انقلاب، جنگ اور فلسطینی کاز سے متعلق عناصر سے بھری پڑی ہیں، انھی وجہوں سے اسے ہمیشہ قتل کی دھمکیاں دی جاتی رہیں، جیسا کہ اس کی نسل کے بیشتر فلسطینی مصنفین،ادبا اور شعرا و تخلیق کاروں کے ساتھ ہوا، مگر اس سب  کے باوجود درویش کو  ایک یہودی لڑکی سے عشق ہوگیا ؛ کیوں کہ کہا جاتا ہے کہ محبت کا پہلا اصول یہ ہے کہ اس کا کوئی اصول نہیں ہے۔

ایک تصویر ہے ،جس میں ایک نوعمر جوان، قدرے دبلا پتلا، ہڈیوں سے ابھرے   ہوئے  چہرے والا ، خوب صورت مشرقی مرد،جس کے سر کے  بائیں جانب نرم و دراز زلفیں  جھکی ہوئی ہیں ،کھلے بازو والی سفید براق قمیص پہنے ہوئے ، اس کی رگیں ابھری ہوئی ہیں اور  نیم متبسم  چہرے کے ساتھ اس یہودن کی  بغل میں کھڑا ہے۔ اور وہ سولہ برس کی ، پولش باپ اورفرانسیسی ماں کی ایک خوبصورت لڑکی، اس کے چمکتے سفید دانتوں سے روشن، معصوم سی مسکراہٹ  اٹھ رہی ہے، سرخ لباس پہنے ہوئے ہے، جو اس کی نرم گردن سے ہوتے ہوئے لچک دار ٹانگوں تک پہنچ رہی ہے۔

یہ تصویرمحمود درویش کی زندگی کے ایک خوشگوار لمحے میں اس کی یہودی گرل فرینڈ ریٹا کے ساتھ لی گئی تھی۔

محمود درویش جانتا تھا  کہ وہ دوسرے مذہب سے تعلق رکھتی ہے؛ لیکن اس  نے اس سے محبت کی ،کہ  محبت کی کوئی حد نہیں ہوتی، دو محبت کرنے والوں کے درمیان مذہبی تنازعات و تناقضات کی کوئی جگہ نہیں ہوتی۔

درویش ریٹا سے محبت کرتا تھا ، اس کے لیے اس نے 1967 ء تک  بہت سی نظمیں اور غزلیں لکھیں،عرب ،خصوصاً مصر کی شکست کے بعد ادبا و دانش وران نے محسوس کیا کہ احساسِ شکست سے بہتر موت ہے،صرف درویش نے اس شکست کی تلخی نہیں محسوس کی؛بلکہ سارے عرب کو اس سے گزرنا پڑا ،حتی کہ عظیم عربی شاعر نزار قبانی نے جب سینا اور گولان میں اسرائیل کے داخلے کی خبر سنی ،تو بسترِ مرض پرکئی راتیں آنکھوں میں کاٹ کر ایک پورا دیوان  ‘‘ھوامش علی دفتر النکسۃ‘‘ کے عنوان سے لکھ دیا تھا۔

انھی  دنوں محمود درویش اور ریٹا کے تعلقات کشیدہ ہونے لگے، اس نے یہودیت کی خدمت کے لیے اسرائیلی فوج میں شمولیت کا فیصلہ کرلیا… تو اب درویش کے لیے اس رشتے کو برقرار رکھنا ناممکن تھا،سو اسے ’نا‘ کہنا پڑا۔

درویش  نے اپنے وطن کی محبت میں  اس محبت کو ٹھکرانے کا فیصلہ کرلیا۔ ایک ٹیلی ویژن انٹرویو میں درویش سے اسے چھوڑنے کی وجہ پوچھی گئی، تو اس  نے کہا:

میں اس لڑکی سے کیسے محبت کر سکتا ہوں، جو نابلس اور القدس میں میرے ملک کی لڑکیوں کو گرفتار کرتی ہے؟!

پھر کہا:

"ریٹا” اور میری آنکھوں کے درمیان رائفل حائل ہوگئی ہے!

جب پہلی بار محمود درویش کو معلوم ہوا کہ اس کی محبوبہ تو دراصل دشمنوں کے فوجی دستے سے تعلق رکھتی ہے،تو اس نے کہا:

‏”شَعرتُ بأن وطني احتلَّ مرة أخرى”

(مجھے ایسا محسوس ہوا کہ میرا ملک دوبارہ غیروں کے قبضے میں آگیا ہے۔)

اور محبت میں ناکامی کا  احساس جب شدید ہوا ،تو کہا :

"رُبما لم يكن شيئاً مهماً بالنسبة لك يا ريتا ، لكنهُ كان قلبي”

(اے ریٹا! وہ بھلے ہی تمھارے لیے کچھ نہیں تھا،مگر میرا تو دل تھا)

 

اس پہلی ناکامی کے بعد محمود درویش نے مصر کا سفر کیا اور وہاں ان کے شاعرانہ جوہر کھل کر سامنے آئے۔وہاں قیام کے دوران ہی انھوں نے اپنی بہت اہم نظمیں لکھیں۔ مصر میں ان کے ایک وفادار دوست عبدالرحمٰن الابنودی تھے۔ ان کا ذکر آیا ہے تو درویش کی ان سے پہلی ملاقات کا ذکر بھی ضروری ہے۔ رات کا وقت تھا، عبدالرحمن الابنودی بیٹھے چائے پی رہے اور حاضرین کو اپنی شاعری سنا رہے تھے کہ ان کے گھر کا فون بج اٹھا،انھوں نے  فون اٹھایا اور کہا:

کون؟

دوسری طرف سے ایک گہری پرسکون آواز آئی:

ہیلو، میرے دوست!

انھوں نےسوالیہ انداز میں کہا:

آپ کون ہیں؟

میں محمود درویش ہوں۔

تنگ آکرانھوں نے کہا:

میرے بھائی، میں ایک ہی محمود درویش کو جانتا ہوں اور وہ مصری نہیں ہے۔

درویش ہنسنے لگا:

میں وہی درویش ہوں، جسے تم جانتے ہو۔

الابنودی کو حیرت ہوئی  اور اس کی حیرت ایک گہری دوستی کی شروعات تھی جو برسوں تک جاری رہی۔

کچھ عرصے  بعد درویش کے مصر میں قیام کے دوران اسے اپنے ایک دوست کے گھر ایک پارٹی میں مدعو کیا گیا اور وہاں اس نے ایک دوسری خاتون  کو  پہلی بار دیکھا، قدرے چھوٹے قد،چھوٹے بال، سیاہ اور بڑی مصری آنکھیں،بلند و باریک پلکیں، مختصراً یہ کہ ایک ایک فرشتہ صفت چہرے نے درویش کے دل کو مسحور کر دیا اور ان کی زندگی کا رخ موڑ دیا۔

وہ محمود درویش کے حواس پر چھائی رہی، حتی کہ پارٹی ختم ہوگئی اور درویش ریٹا کے عشق کا تیر نکلنے کے بعد اس نئی تیر انداز کو ایک لفظ  کہے بغیر وہاں سے نکل گیا۔ کچھ  دنوں بعد درویش نے اپنے اس دوست کو اپنے گھر دعوت دینے کا فیصلہ کیا اور اس دعوت میں پچھلی دعوت کے سبھی شرکا کو بلانے کی ہدایت دی’، ’سبھی‘ کو؛ لیکن اتفاق سے وہی نہیں آئی،جس کے لیے اس نے اس  گرانڈ  پارٹی کا صرفہ برداشت کیا تھا،کچھ دنوں بعد انھوں نے پھر ایسی ہی محفل برپا کرنے کا فیصلہ کیا، مگر اس بار بھی وہ نہیں آئی.. تو درویش نے اس کے لیے ایک مشہور شعر لکھا:

"انتظار کرتے ہوئے … میں اندیشوں میں گھر جاتا ہوں!”۔

اسے دیکھے ایک سال کا عرصہ گزر گیا ،اتفاق سے ان کی ملاقات پھر اسی دوست سے ہوئی، اس کے ساتھ وہ خاتون بھی تھی، وہی فرشتہ صفت چہرہ، زندگی سے بھرپور.. اس کا نام "حیات” تھا۔

اب کی باراس سے تعارف ہوا اور اب درویش کی زندگی کا ایک نیا صفحہ مصری مترجمہ  حیات الہینی سے اس کی شادی سے شروع ہوا، وہ صفحہ  جو انھوں نے سچی محبت کی سیاہی سے مل کر لکھا ۔

"حیات” بتاتی ہے کہ درویش کے بہت سے مداحوں کی وجہ سے بوریت اور پریشانی کے دنوں کے علاوہ  درویش  ان کے لیے بستر پر ہر روز ایک سرخ گلاب چھوڑا کرتا تھا۔

ایک دن رات کے کھانے کے بعد درویش نے حیات کو بتایا کہ اس نے اس کے لیے ایک نظم لکھی ہے اور اسے ایک والہانہ جذبے اور محبت سے سنانے لگا :

أعدِّي لي الأرض كَي استريح

فإنّي أُحبُّكِ حَتَّى التَّعب ..

صباحك فاكهة للأغاني .. وهَذا المساءُ ذَهب ..

و أنتِ الهواء الذي يَتعرَّى أمامي كدمعِ العنب

إنِّي أُحبُّكِ ..

فأنتِ بداية روحي وأنتِ الختام ..

(میری استراحت  کے لیے زمین کو تیار کرو

میں تم سے تب تک محبت کرتا رہوں گا، جب تک تھک نہ جاؤں..

تمھاری صبح گیتوں کا پھل ہے اور یہ شام سونے جیسی ہے

اور تم وہ ہوا ہو، جو انگور کے آنسوؤں کی طرح میرے سامنے عیاں ہوتی ہے

میں تم سے پیار کرتا ہوں ..

کیوں کہ تمھی میری روح کی ابتدا ہو اور تمھی میری انتہا ہو!)

موسیقار مارسل خلیفہ نے جب درویش کی نظم سنی، تو اس نے اصرار کیا کہ وہ اسے کمپوز کرنا چاہتا ہے ؛ لیکن درویش نے صاف صاف منع کردیا اور کہا کہ یہ ایک ذاتی نوعیت کی  نظم ہے، جس کا تعلق حیات کے علاوہ کسی سے نہیں ہے۔

مگر آخری رخصت سے قبل، ایک اہم سرجری کے لیے امریکہ جانے سے پہلے، درویش نے مارسل سے رابطہ کرکے  اس سے وہ نظم گانے کی درخواست کی  اور  اس طرح درویش نے اپنی سچی محبت اور ’حیات‘ کو الوداع کہا۔

 

(اوریجنل عربی مضمون برقی مجلہ ’’المحطۃ‘‘ پر شائع ہوا ہے)

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*