لوجہاد قانون خدشات سے بھرا ہے،حکومت کو اس پر نظر ثانی کرنی چاہیے:مایاوتی

لکھنؤ:اتر پردیش میں لوجہاد کے خلاف ریاستی حکومت کے منظور کردہ آرڈیننس پر سیاست شروع ہوگئی ہے۔ بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کی قومی صدر مایاوتی نے کہا کہ زبردستی اور دھوکہ دہی کے ذریعہ تبدیلی مذہب کو روکنے کے لیے بہت سے قوانین پہلے ہی بنائے گئے ہیں۔ ایسی صورتحال میں ریاستی حکومت کو اس نئے قانون پر دوبارہ غور کرنا چاہیے۔بی ایس پی کی صدر مایاوتی نے کہاکہ لوجہاد کو لے کریو پی حکومت کے ذریعہ لایا گیا آرڈیننس کئی خدشات سے بھرا ہوا ہے جب کہ ملک میں کہیں بھی زبردستی اور دھوکہ دہی سے مذہب کی تبدیلی کی نہ تو کوئی خاص پہچان ہے اور نہ ہی قبولیت۔ اس سلسلے میں بہت سے قوانین پہلے سے نافذ ہیں۔ حکومت کو اس پر نظر ثانی کرنی چاہیے۔واضح رہے کہ 24 نومبر کو اتر پردیش کی کابینہ نے لوجہاد سے متعلق آرڈیننس کی منظوری دے دی ہے۔ اس کے بعد اسے پاس کرنے کے لیے گورنر کو بھیجا گیا تھا۔ اس آرڈیننس کو گورنر آنندین پٹیل نے بھی منظور کردیا ہے۔ اب 6 ماہ کے اندر اس آرڈیننس کو ریاستی حکومت کو اسمبلی سے منظور کرانا ہو گا۔یوپی حکومت کے آرڈیننس کے مطابق زبردستی یا دھوکہ دہی سے تبدیلی مذہب کے لیے15000 روپے جرمانے کے ساتھ 1-5 سال قید کی سزا ہے۔ اگر ایس سی-ایس ٹی برادری کی نابالغ لڑکیوں اور خواتین کے ساتھ ایسا ہوتا ہے تو پھر اس پر25000 روپئے جرما نے کے ساتھ 3-10 سال قید کی سزا ہوگی۔