یوپی:لو جہاد آرڈیننس کو سپریم کورٹ میں چیلنج،غیر قانونی اور غیر آئینی قرار دینے کامطالبہ

لکھنؤ:یوپی میں لوجہاد کو روکنے کے لئے بنائے گئے نئے قانون کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا ہے۔ درخواست میں آرڈیننس کو غیر قانونی اور غیر آئینی قرار دینے کی کوشش کی گئی ہے۔یہ درخواست قانون کے طلباء کے ایک گروپ نے دائر کی ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ یہ آرڈیننس آئین کے تحت بنیادی حقوق کے خلاف ہے۔ کسی کو پھنسانے اور انتشار پیدا کرنے کے لئے اس آرڈیننس کا غلط استعمال کیا جائے گا۔ یہ قانون آزادی اظہار رائے اور مذہبی آزادی کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ واضح رہے کہ اتر پردیش کی کابینہ نے 24 نومبر کولو جہاد کے خلاف آرڈیننس کی منظوری دی تھی۔حالانکہ اس میں کہیں بھی لوجہاد کا لفظ استعمال نہیں ہوا ہے، لیکن کہا گیا ہے کہ غیرقانونی طریقے سے مذہب کی تبدیلی پر کارروائی کی جائے گی۔ فی الحال گورنر آنندی بین پٹیل کی اس آرڈیننس کی منظوری کے بعد اس نے قانونی شکل اختیار کرلی ہے۔ اسے ریاستی حکومت کو 6 ماہ کے اندر اسمبلی سے منظور کرانا ہو گا۔لوجہاد کے الزام میں نئے قانون کے تحت بریلی میں پہلی ایف آئی آر بھی درج کی گئی ہے۔