لوجہاد کا شور کیوں؟ -شکیل رشید

آئین اور قانون کو ٹھوکر پر رکھنا معمول بن گیا ہے ۔یہی دیکھ لیں کہ جس روز آلہ آباد ہائی کورٹ نے سلامت انصاری اور پرینکا کھروار کی شادی پر مہر لگا کر یوپی کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے لو جہاد کے غبارے کی ہوا نکالی تھی اسی روز یوگی کابینہ نے لو جہاد آرڈیننس منظور کر کے، ایک طرح سے عدالتی فیصلے کی کھلّی اڑائی، اور سارے ملک کو یہ پیغام دیا کہ عدالت چاہے جو فیصلہ کرے، ہوگا تو وہی جو مرکزی اور ریاستی بھگوا سرکاریں چاہیں گی ۔ آلہ آباد ہائی کورٹ کے جسٹس پنکج نقوی اور جسٹس دیپک اگروال نے اپنا فیصلہ عین آئین کی روشنی میں سنایا تھا، بھلے وہ فیصلہ ملک میں رہنے والے مختلف مذاہب کے لوگوں کی بڑی تعداد نے پسند کیا ہو یا پسند نہ کیا ہو ۔ جج صاحبان نے بہت ہی صاف لفظوں میں کہا کہ ملک کے آئین کے مطابق کسی بھی شخص کو اپنی پسند کی شادی کرنے اور مذہب اختیار کرنے کا حق حاصل ہے، اور ریاست کو کسی بھی فرد کی ذاتی زندگی میں مداخلت کا کوئی حق حاصل نہیں ہے ۔ یہ فیصلہ، دراصل مذکورہ جوڑے کی شادی کو اسی عدالت سے، شادی کے لیے تبدیلی مذہب کی بنیاد پر نامناسب قرار دیے جانے والے سابقہ فیصلے کو، رد کرنے والا ہے ۔ عدالت عظمیٰ نے یہ مان کر کہ سابقہ فیصلہ قانونی طور سے مناسب نہیں تھا ، اپنے فیصلے کو درست کیا ہے ۔ جب عدالت عظمیٰ کا تبدیلی مذہب کی بنیاد پر شادی کو نامناسب قرار دینے کا فیصلہ آیا تھا تب یوگی نے صاف لفظوں میں کہا تھا کہ اب تو الہ آباد ہائی کورٹ نے بھی مان لیا ہے کہ شادی کے لیے مذہب کی تبدیلی غیر قانونی ہے لہٰذا اب یو پی میں کسی بھی حد تک جا کر اسے روکا جائے گا ۔ ان کے مطابق لو جہاد ایک ایسی سازش ہے جس کا مقصد ہندو لڑکیوں کو محبت کے جال میں پھانس کر انہیں مسلمان بنانا ہے، اور ایسی سازش کرنے والوں سے سختی کے ساتھ نمٹا جائے گا ۔ یوگی نے نمٹنے کے لیے رام نام ستیہ یاترا کرئے کا جملہ استعمال کیا تھا، جس کا مطلب جلوس جنازہ نکالنا ہوتا ہے ۔ اس موقع پر انہوں نے قانون سازی کی بات بھی کی تھی ۔ یوگی کا سارا زور اس پر تھا، اور ہے، کہ ہماری بہنوں کے ساتھ کھلواڑ کیا جاتا ہے ۔ یوگی کی بات سے صاف پتہ چلتا ہے کہ وہ مسلم نوجوانوں کو دھمکا رہے ہیں کہ وہ ہندو لڑکیوں سے شادی نہ کریں ورنہ انجام برا ہوگا ۔ کہیں کسی مسلم لڑکی کی ہندو لڑکے سے شادی کی جانب اشارہ تک نہیں ہے، اور نہ ہی ایسی کسی شادی کو لو دھرم یدھ کہا گیا ہے . عدالت عظمیٰ کا سابقہ فیصلہ یوگی کی پسند کا تھا لہٰذا قبول تھا لیکن جب عدالت کو یہ احساس ہوا کہ فیصلہ نامناسب اور آئین کی روح کے منافی ہے، اور اسے بدل دیا تو غالباً یوگی کو پسند نہیں آیا ہوگا ۔ لیکن اس پر یہی کہا جا سکتا ہے کہ بھگوا عناصر، اپنی بھگوا سیاست کے لیے کچن میں جھانکتے جھانکتے اب بیڈروم میں جھانکنے لگے ہیں کہ اندر ہندو اور مسلمان تو نہیں ہیں ۔ کھانے ، پینے اور پہننے پر تو نظر تھی بلکہ فرمان تھے کہ یہ یہ چیزیں کھانا اور پہننا نہیں ہے ، لیکن اب لوگوں کی شادی، بیاہ کے معاملے بھی زد میں آگیے ہیں ۔ بھلے آئین لوگوں کو اپنی مرضی سے شادی کرنے اور مذہب تبدیل کرنے کا حق دے، یہ سنگھی عناصر، زعفرانی ٹولہ لوگوں کو یہ حق دینے کو تیار نہیں ہے ۔ ویسے یہ جان لیں کہ انہیں نہ ہندو لڑکیوں کی فکر ہے اور نہ دھرم کی، ان کا حقیقی مقصد تو سیاست ہے ۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ اب سنگھ پریوار نے، بی جے پی جس کا سیاسی دھڑا ہے، لوجہاد کو ملک میں فرقہ پرستی کو بڑھاوا دے کر سیاسی مفادات کے حصول کا آلہ بنانے کا فیصلہ کر لیا ہے ۔ ظاہر ہے کہ بابری مسجد معاملہ کے سپریم کورٹ کے فیصلہ کے بعد ایک ایسے ہتھیار کی ضرورت اسے محسوس ہو رہی تھی جسے بنیاد بنا کر مستقبل میں ملک پر اپنی حکمرانی کو یقینی بنایا جا سکے، اور اس کے لیے اس پروپیگنڈہ سے بہتر اور کیا ہو سکتا ہے کہ مسلم نوجوان بھولی بھالی ہندو لڑکیوں کو پیار کے جھوٹے جال میں پھنسا کر ان کا دھرم پریورتن کرواتے ہیں، اور اس کے لیے خلیجی ملکوں سے باقاعدہ فنڈنگ کی جاتی ہے ۔ کانپور کی مثال دے کر مذکورہ الزام کو سچ ثابت کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ، اور کہا جارہا ہے کہ لو جہاد آرڈیننس لانے کا سبب کانپور کا واقعہ بنا ہے ۔ دراصل ہوا یہ تھا کہ ایک مخصوص علاقہ کے چند افراد نے سینئر پولیس افسروں سے ملاقات کرکے یہ شکایت کی تھی کہ مسلمان لڑکوں نے ان کی بیٹیوں کو دامِ محبت میں پھنسا لیا ہے لہٰذا ان کی مدد ان لڑکیوں کی واپسی کے لیے درکار ہے ۔ ایک اسپیشل انویسٹی گیشن ٹیم (ایس آئی ٹی) کا قیام کرکے مذکورہ الزام کی چھان بین کی گئی اور یو پی کی یا بالفاظ دیگر یوگی کی پولیس نے آئی جی کو جو رپورٹ سونپی اس میں دو باتیں بہت واضح تھیں کہ جو شادیاں ہوئی ہیں وہ نہ تو کسی سازش کا نتیجہ ہیں، اور نہ ہی ان شادیوں کے لیے کہیں سے کسی طرح کی فنڈنگ کی گئی ہے ۔ یہی نہیں رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ جن لڑکیوں نے شادیاں کی ہیں ان کے ساتھ مذہب کی جبراٍ تبدیلی کا واقعہ بھی نہیں پیش آیا ہے ۔ دراصل کٹّر ہندو تنظیموں کی جانب سے کانپور میں لو جہاد کے نام پر حالات بگاڑے جا رہے تھے، اس لیے آئی جی موہیت اگروال نے چھان بین کروائی تھی ۔ کانپور کے 22 پولیس تھانوں میں صرف 14 معاملے سامنے آئے ان میں آٹھ معاملات میں لڑکیوں نے کہا کہ انہوں نے اپنی رضامندی سے محبت کی شادی کی ہے، دو معاملے ایسے تھے جن میں شادی نہیں ہوئی تھی، پولیس نے انہیں محبت کے رشتے قرار دے کر ان کی فائل بند کردی ۔ آئی جی کا کہنا ہے کہ گیارہ معاملات میں شادیوں میں دھوکہ دھڑی کی گئی تھی، آٹھ معاملاتِ میں لڑکیاں نابالغ تھیں مگر ان تمام میں کسی طرح کی سازش نہیں تلاش کی جا سکی، نہ ہی بیرون ملکوں سے کسی طرح کی فنڈنگ سامنے آئی اور نہ ہی ان میں کسی مسلم تنظیم یا جماعتوں کا ہاتھ ہی نظر آیا ۔ مطلب صاف ہے کہ یہ رشتے لو جہاد کے معاملے نہیں تھے ۔ کرناٹک میں بھی پولیس نے ایسی ہی چھان بین کی تھی، اور لو جہاد کی بات غلط پائی تھی ، وہاں باقاعدہ عدالت نے جانچ کا حکم دیا تھا ۔ قومی تفتیشی ایجنسی (این آئی اے) پہلے ہی کرناٹک میں چھان بین کے بعد لو جہاد کا انکار کر چکی ہے ۔ گزشتہ فروری میں لوک سبھا میں مرکزی وزیر مملکت برائے امور داخلہ کشن ریڈی یہ اعتراف کر چکے ہیں کہ کسی بھی مرکزی ایجنسی نے لو جہاد کے کسی ایک معاملے کی رپورٹ نہیں دی ہے ۔ خواتین کے قومی کمیشن کے پاس بھی لو جہاد کی شادیوں کا کوئی ڈاٹا نہیں ہے ۔ لیکن اب بی جے پی کی ریاستوں میں زور و شور سے لو جہاد کی بات کی جا رہی ہے ۔ یوپی ہی کی طرح کرناٹک میں بھی لو جہاد کے نام پر قانون سازی کی بات کی جانے لگی ہے ۔ کرناٹک ہی کیوں آج بی جے پی کی حکومت والی اکثر ریاستوں میں لو جہاد کے نام پر طوفان کھڑا کرنے کی پوری تیاری ہے ۔ کرناٹک کے علاوہ آسام، مدھیہ پردیش اور ہریانہ کی بھگوا سرکاروں نے بھی لو جہاد کے خلاف بِل لانے کی تیاریاں شروع کر دی ہیں ۔ کرناٹک میں وزیراعلٰی یدی یورپّا کا کہنا ہے کہ کہ لو جہاد کے نام پر مذہب کی تبدیلی کے خلاف سخت اقدامات کیے جائیں گے ۔ یدی یورپّا نے بھی یوگی ہی کی طرح یہ الزام لگایا ہے کہ نوجوان لڑکیوں کو محبت کے جال میں پھنسا کر، اور روپیے پیسے کا لالچ دے کر تبدیلی مذہب کے لیے مجبور کیا جاتا ہے، یہ بڑا ہی سنگین معاملہ ہے، اسے ہر حال میں روکا جائے گا ۔ کرناٹک کے وزیر سیاحت سی ٹی روی نے قانون سازی کی بات کرتے ہوئے یو پی، ایم پی اور ہریانہ ان تین ریاستوں کا ذکر کیا کہ جس طرز پر وہاں لو جہاد کے خلاف قانون بنانے کی تیاری ہے اسی طرز پر کرناٹک میں بھی قانون بنے گا ۔ مدھیہ پردیش میں سرکار نے اس تعلق سے ایک بِل ڈرافٹ کرلیا ہے جس کی رو سے شادی کے لیے جبراً مذہب کی تبدیلی پر دس سال کی سزائے قید ہو گی ۔ ایم پی کے وزیر داخلہ نروتم مشرا کے مطابق آئندہ 28 دسمبر کو ریاستی اسمبلی میں دھرم سوتنترا (مذہبی آزادی) بِل 2020ء ٹیبل کر دیا جائے گا ۔ ایم پی کے وزیراعلیٰ شیوراج چوہان نے ایسے قانون کی ضرورت پر زور دیا ہے ۔ ہریانہ میں لوجہاد قانون بنانے کے لیے وزیر اعلیٰ منوہر لال کھٹّر نے ایک تین رکنی کمیٹی کا قیام کر دیا ہے ۔ ہریانہ کی بھگوا سرکار کا کہنا ہے کہ سخت ترین قانون ضروری ہے تاکہ لوجہاد پر روک لگا کر نکیتا تومر جیسے واقعات پر روک لگائی جا سکے ۔ نکیتا تومر 21 سال کی ایک لڑکی تھی جسے 27 اکتوبر کو توصیف اور ریحان نام کے دو مسلم نوجوانوں نے بلبھ گڑھ میں اس کے کالج کے باہر گولی مار کر قتل کر دیا گیا تھا ۔ توصیف نے ایک اطلاع کے مطابق پولیس میں اپنے جرم کا اعتراف کر لیا ہے، اور کہا ہے کہ اس نے نکیتا سے شادی کے لیے اور مسلمان بننے کو کہا تھا لیکن اس نے انکار کر دیا تھا، اور کسی اور سے اس کی شادی ہونے والی تھی اس لیے اس نے اسے قتل کر دیا ۔ حالانکہ اس معاملے کو لوجہاد کا نام دیا جا رہا ہے لیکن یہ اپنی نوعیت سے سیدھے حسد اور محبت میں ناکام ہونے پر انتہائی قدم اٹھانے کا معاملہ لگ رہا ہے ۔ بہرحال ہریانہ سرکار اس ایک معاملے کو سامنے رکھ کر قانون سازی کی تیاری کر رہی ہے ۔ آسام میں تو سینئر وزیر ہمانتا بِسوا سرما نے یہ کہہ کر کہ اگر 2021ء میں بی جے پی کو پھر اقتدار پر لایا جاتا ہے تو وہ لوجہاد پر قانون بنائے گی، یہ پوری طرح سے عیاں کردیا ہے کہ لوجہاد کا یہ ہنگامہ صرف اور صرف سیاسی ہے ۔
اور یہ معاملہ ہے بھی سیاسی ۔ الہ آباد ہائی کورٹ کے سابقہ فیصلے کے بعد جب یوگی نے قانون سازی کی بات کی تو بی جے پی کی حکومت والی دیگر ریاستوں نے بھی لوجہاد کو سیاسی طور پر بھنانے پر دھیان مرکوز کیا ۔ ویسے لوجہاد کا معاملہ آر ایس ایس کی جھولی میں ہمیشہ رہا ہے، بلکہ یہ اس کے ایجنڈہ میں شامل ہے ۔ فرقہ وارانہ فسادات ہمیشہ بی جے پی کو انتخابی فائدہ پہنچاتے رہے ہیں چاہے وہ لو جہاد کے نام پر ہی کیوں نہ ہوں ۔ مظفر نگر کے 2013ء کے فسادات کے دوران بھی لو جہاد کا ہوّا چھوڑا گیا تھا، اور بعد میں امیت شاہ نے، جو اس وقت ہو پی الیکشن کے انچارج تھے کارکنان کو گھر گھر بھیج کر لو جہاد کے خلاف پروپیگنڈا کیا تھا ۔ جھوٹ کل بھی پھیلایا گیا تھا اور آج بھی پھیلایا جا رہا ہے کہ مدارس میں خوبصورت نوجوانوں کو باقاعدہ ہندو لڑکیوں کو محبت کے جال میں پھنسانے کی تربیت دی جاتی ہے اور اس کے لیے باقاعدہ مسلم ملکوں سے فنڈ آتا ہے، مقصد ہندو لڑکیوں کو مسلم بنانا ہے ۔ اس پروپیگنڈہ سے کئی اہداف پر نشانہ لگانا مقصود ہے ۔ ایک تو یہ کہ ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان ماں، بہن اور بیٹی کی عزت کی حفاظت کے نام پر زبردست دراڑ ڈال دی جائے، ایسی دراڑ کہ تشدد ہو جائے، اور سیاسی مطلب بر آئے ۔ اس کا ایک مقصد مدارس اور مدارس کے طلباء و اساتذہ کی گھناؤنی تصویر پیش کرنا ہے ۔ ظاہر ہے کہ اس سے نفرت بڑھے گی اور لنچنگ کے واقعات بھی بڑھیں گے ۔ بیرونی فنڈ کی بات کر کے مسلمانوں کے تمام بیرونی روابط پر روک کی راہ ہموار کرنا ہے ۔ اس کا ایک مقصد یہ بتانا بھی ہے کہ مسلمان اپنی آبادی بڑھانے کے لیے ہندو لڑکیوں سے شادیاں کر رہے ہیں، اور ان سے بچے پیدا کر کے ماوؤں کو تنہا چھوڑ رہے ہیں، یعنی ان پرظلم کر رہے ہیں ۔ بنیادی مقصد تو نفرت پھیلانا ہی ہے ۔ سنگھ پریوار بالخصوص وشو ہندو پریشد اس پروپیگنڈہ میں آگے آگے ہے ۔ مثالیں دے کر ذہن سازی کی جاتی ہے کہ شاہ رخ خان کو دیکھ لیں ہندو خاتون گوری سے شادی کی ہے، عامر خان نے کرن راؤ سے شادی کی ہے وغیرہ وغیرہ لیکن خود زعفرانی پریوار کی ایسی شادیوں پر خاموشی اختیار کی جاتی ہے ۔ شہنواز حسین اور رینو کی یا مختار عباس نقوی اور سیما کی شادی کو لو جہاد نہیں کہا جاتا ۔ جہاں تک لوجہاد پر قوانین کا سوال ہے تو خطرہ یہی ہے، بلکہ یقین ہے کہ اس طرح کے قوانین کا استعمال مسلمانوں کے خلاف ہی کیا جائے گا ۔ جیلوں کو مسلمانوں سے بھرنے کی راہ ہے یہ ۔ یوگی کی کابینہ نے جو آرڈیننس منظور کیا ہے اس کی رو سے دس سال تک کی سزا اور 50 ہزار روپے تک کا جرمانہ ہو سکتا ہے ۔ دہلی یونیورسٹی کے پروفیسر اپوروانند نے پورٹل دی وائر اردو میں لو جہاد کو فحش پروپیگنڈہ کہا ہے ۔ اور یہ فحش پروپیگنڈہ ہے بھی ۔ یہ عورتوں بالخصوص ہندو عورتوں کو بہت ہی بے ڈھنگے انداز میں لوگوں کے سامنے پیش کرنا ہے، ایک استعمال کی چیز کے مانند ۔ یہ ہندو عورتوں کی آزادی پر پہرہ لگانا بھی ہے ۔ اور یہ ملک کے آئین نے جو سب کی برابری کا تصور دیا ہے اس میں مداخلت بھی ہے ۔ جس طرح سی اے اے آئین مخالف ہے کہ لوگوں کے حقوق چھینتا ہے اسی طرح لوجہاد آرڈیننس، اور مختلف ریاستوں میں لوجہاد کے مجوزہ بِل بھی، عوام سے ان کے حقوق چھننے کی ایک غیر جمہوری اور غیر آئینی کوشش ہیں، اور کچھ نہیں ۔