لوگ کورونا سے ختم ہورہے ہیں یا دہشت سے ؟ ـ ام ہشام

جان بچانے کو اسپتالوں کا رخ کرتے ہیں اور وہاں عملہ کی لا پرواہی سے I.C.U میں بستر پر پڑے پڑے ہی آگ کا شکار ہوکر خاک ہوجاتے ہیں۔
اللہ رحم!دوسری بیماریوں کی طرح کورونا بھی موجود ہے، والد محترم گذشتہ سال اس کا شکار ہوچکے ہیں ۔
ایک نیک دل مسلم ڈاکٹر نے میرے چھوٹے بھائی کو مشورہ دیا کہ والد کو اسپتال میں ایڈمٹ کرنے کا مشورہ میں نہیں دیتا ، آپ والد کو لے جائیں گھر میں ہی کورنٹائن کریں اور میری ہدایات کے مطابق دوا اور غذا کا اہتمام کرتے رہیے۔ الحمدللہ ہم سب نے مل کر والد کی بہت دل جوئی کی۔
خطرناک مرحلہ ، اب اور تب کا معاملہ لیکن گزرگیا طاق راتوں سے مرض نے شدت پکڑی اور عید کے پندرہ دن بعد کچھ طبیعت بحال ہوئی۔طاق راتوں کے ساتھ ہمارے دن بھی بڑےپریشان کن گزرے چاندرات اور عید کے روز والد کے مرض نے شدت پکڑ لی ۔گزرتے وقت کے ساتھ محسوس ہوتا شاید اب انہیں دیکھنا بھی نصیب نہ ہو۔شہر میں ملٹری اتاری گئی تھی ، راستوں پر پہرے تھے۔پھر کسی طرح عید کے دوسرے روز فجر بعد ابا کے گھر پہنچے ۔
یہ سب بتانے کا مقصد یہ ہے کہ آج شاید ہم میں سے ہر ایک اس حال سے گزرا یا گزررہا ہے ۔ہر کسی نے اس وبا کی ہولناکی کم یا زیادہ دیکھ رکھی ہے۔
اس وقت مینٹل ہیلتھ کی افادیت اور زیادہ بڑھ جاتی ہے جب سوشل میڈیا قبرستان بن چکا ہو ، جہاں یہ خبریں مل رہی ہوں کہ بیٹے کی موت کی خبر سن کر ماں بھی چل بسیں۔ شوہر کی جدائی کا صدمہ بیوی نہ سہہ سکی اور رفیق موت وحیات کا مصداق بن گئی ۔سوچئے کہ نہ ماں کورونا پازیٹیو تھی ، نہ زوجین اس مرض کا شکار تھے۔شوہر کی بیماری دیکھ کر بیوی نے بھی بستر پکڑلیا۔
سارے کورونا کا شکار تھے ؟
نہیں ہر گز نہیں! عام قدرتی وفات کے لئے بھی لوگ کورونا کا ٹیگ لگا رہے ہیں جو سراسر بے وقوفانہ اور قابل مذمت عمل ہے۔یہ بابرکت ایام کس لیے ہیں ؟ یہ روز وشب ہمارے ایمان کی آزمائش لئے نازل ہورہے ہیں
خدارا اتنے دنیا دار نہ ہوجائیے !کہ تقدیر کے خیر وشر اور قضاء وقدر سے یکسر بے اعتبار ہوجائیے ۔ اپنے ایمان کی حفاظت کریں، افواہوں سے خبردار رہیں ۔ہرگز ان خبروں میں اشتراک نہ کریں جن سے انسانی آبادی بے چین ہو اٹھے ، خوف وہراسانی میں عقل سے ہاتھ دھو بیٹھے۔سمجھ داری کے ساتھ دعا اور علاج کا اہتمام کریں ۔قیام دنیا کے اول روز سے اللہ اب تک اپنی مخلوق کو بلا تفریق پانی پلاتا چلا آرہا ہے آج تک ایسا ہوا کہ دنیا سے پانی عنقا ہوگیا؟ اسی پہلے دن سے نبادات ، جمادات ، انسان ، حیوان ، چرند ، پرند ، سانس لیتے چلے آرہے ہیں ۔لیکن آج تک آکسیجن ختم ہونے کی ریسرچ نہیں آئی ۔اللہ دیتا ہے اور تاقیامت دیتا رہے گا ۔افواہوں پر دھیان نہ دیں۔بس اسی مالک کل وکائنات پر بھروسہ رکھیں اپنا اور اپنوں کا پورا خیال رکھیں ۔
یہ وقت وفیات کی خبریں گروپ در گروپ شئیر کرنے کا نہیں ہے، خوف کو مات دے کر حوصلہ بڑھانے کا ہے ۔آپ نے اگر ایک بیمار انسان کو حوصلہ دے دیا اور اس کی حالت میں افاقہ ہوگیا تو سمجھئے آپ نے اس کے پورے کنبہ کو محرومی سے بچالیا۔
اللہ سے اپنا ٹوٹا ہوا تعلق مضبوط کرنے کا اس سے بہتر کوئی اور موسم نہیں کہ یہ شہر مواساة ہے شہر مواخاة ہے یہ شہر قرآن و دعا ہے۔
اس ماہ کے ہر صبح وشام بندوں کو جہنم سے آزادی دیتا ہے تو کیا وہ ہمیں اس وبا سے مامون نہیں کرسکتا؟
ربنا ظلمنا انفسنا وان لم تغفرلنا لنکونن من الخاسرین