لاؤڈ اسپیکر پر اذان ’ہنگامہ کیوں ہے برپا‘ ! ـ شکیل رشید 

 

(ایڈیٹر ممبئی اردونیوز) 

آج ہی سوشل میڈیا پر کسی کی تحریر دیکھی، حضرت مولانا علی میاں ندویؒ کی ایک پیشین گوئی کا ذکر تھا کہ ہندوستان میں اذان بند ہوسکتی ہے۔ کیا واقعی یہ پیشین گوئی یا یہ بیان سچ ثابت ہوتا نظرنہیں آرہا ہے؟ یوپی میں نہ جانے کتنی مساجد ہیں جہاں اذانیں نہیں دی جارہی ہیں۔ کئی جگہ صرف اس وجہ سے کہ کسی نے شکایت کی کہ صبح کی نیند اچاٹ ہوجاتی ہے یا نیند میں خلل پڑتا ہے۔یہی نہیں فتنہ پرور اور ہر متعصب منہ اٹھاکر اذان پر نکتہ چینی کرتا اور لا ئوڈ اسپیکروں سے ہونے والی اذانوں کو رکوانے کےلیے جان کی بازی لگادینے کے دعوے کرتا نظر آتا ہے۔ ایسے میں کیاکیاجائے؟ اس سوال پر غور اس لیے ضروری ہے کہ اذان کے بعد نماز کا نمبر آتا ہے اور آج کورونا کے اس دور میں ویسے بھی مساجد میں نمازو ںپر پابندی ہے۔ لوگ گھروں کے اندر نماز پڑھ رہے ہیں، کل کو ممکن ہے کہ شرپسند یہ کہہ دیں کہ جب گھروں میںنماز ہوجاتی ہے تو پھر کیا ضرورت ہے مساجد کی! لہذا اس مسئلے پر غورت بہت ضروری ہوگیا ہے۔ علمائے کرام کی الگ الگ آراء آرہی ہیں، کچھ کا کہنا ہے کہ اگر شہر میںایک بڑی مسجد ہے تو وہاں لاڈ اسپیکر پر اذانیں دے دی جائیں دوسری مسجدوں میں لائوڈ اسپیکروں کا استعمال نہ کیاجائے، کچھ علمائے کرام ہیں جو سرے سے ہی لاڈ اسپیکروں پر اذان کو روک دینے کی بات کررہے ہیں۔ اور ایسے بھی علمائے کرام ہیں جن کاکہنا ہے کہ اذان کسی بھی صورت میں بند نہ کی جائے۔ کسی کی بھی نیت پر ہم شک کا اظہار نہیں کرسکتے لیکن یہ سوال بہرحال جواب طلب ہے کہ کیا لاڈ اسپیکروں سے اذان کا نہ دینا مسئلے کا حل ہے؟ ظاہر ہے کہ یہ حل نہیں ہے کیوں کہ شرپسند اور متعصب افراد ’حل‘ چاہتے ہی نہیں ہیں، وہ تو ’شر‘ پر اتارو ہیں، ان کی نیت میں فتور ہے ؎

بگڑتی ہے جس وقت ظالم کی نیت

نہیں کام آتی دلیل اور حجت

یہ چاہتے ہیں کہ مسئلہ حل نہ ہو۔ رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں سارے ملک میں بالخصوص یوپی، ہریانہ اور ایم پی میں لاڈ اسپیکروں سے اذانوں پر کشیدگی پھیلنے کا خطرہ ہے۔ ٹکرائو کی صورت پیدا ہوسکتی ہے، لیکن فی الحال ’ٹکرائو‘ سے بچنا ضروری ہے۔ اس سلسلے میں مرکزی اور ریاستی حکومتوں کی ہاں میں ہاں ملانے سے بہتر ہے کہ مسلمانوں کے اعلیٰ مذہبی، سماجی اور سیاسی قائدین وفود کی شکل میں ان کے سامنے جائیں اور سیدھے سیدھے یہ بات کریں کہ اس ملک میں جب سے مسلمان ہیں مساجد سے اذانیں دی جاتی رہی ہیں اوراب بھی دی جائیں گی، ہاں آواز کم زیادہ کی جاسکتی ہے، لیکن اذانوں کو مکمل بند نہیں کیاجاسکتاہے۔ اب صاف صاف بات کرنے کا وقت آگیا ہے۔ علمائے کرام کو چاہئے کہ وہ اذان اور نماز کے تعلق سے کوئی بیان دیتے ہوئے ایسی بات نہ کہیں جس سے مسلمانوں میں مایوسی پھیلے او رانہیں لگے کہ اس ملک میں وہ ’پرائے‘ ہوگئے ہیں اگر کوئی بیان دینا ہوتو متفقہ صلاح ومشورہ کے بعد ہی بیان دیں۔ یاد رہے کہ مسلمان اس ملک کے ہیں، یہ ملک مسلمانوں کا ہے، آئین نے انہیں مذہبی آزادی دی ہے، اسے کوئی چھین نہیں سکتا۔