لوک سبھا میں بی ایس پی ممبرپارلیمنٹ نے اترپردیش کو چار حصوں میں تقسیم کرنے کا مطالبہ اٹھایا

نئی دہلی:لوک سبھا میں منگل کو بہوجن سماج پارٹی کے رکن نے اترپردیش کو چار حصوں میں تقسیم کرنے کے مطالبے کو اٹھاتے ہوئے کہا کہ اس سے نہ صرف خوشحالی آئے گی بلکہ دلتوں اور پسماندہ افراد کو بھی وزیر اعلی بننے کا موقع ملے گا۔ وقفۂ صفر کے دوران اس مضمون کو اٹھاتے ہوئے ملوک سنگھ ناگر نے کہا کہ 2012 کے اسمبلی انتخابات سے قبل اس وقت کی وزیر اعلی مایاوتی نے اتر پردیش کو چار حصوں میں تقسیم کرنے کے لئے مرکزی حکومت کو ایک قرار دادپیش کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت کو اس سمت میں توجہ دینی چاہئے۔ ناگر نے کہا کہ ریاست کو تقسیم کرنے سے دلتوں اور اکالیوں کے لئے بہت سے راستے کھلیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے لوگوں میں خوشحالی آئے گی اور ہائی کورٹس جیسی دیگر سہولیات بھی میسر ہوں گی۔ 2012 کے اسمبلی انتخابات سے عین قبل، بی ایس پی کی سربراہ اور وزیر اعلی مایاوتی نے اترپردیش کو چار ریاستوں پورانچل، بندیل کھنڈ، مغربی پردیش اور اودھ پردیش میں تقسیم کرنے کی تجویز پاس کی تھی اور اسے مرکز کو بھیج دیا تھا۔ تاہم ریاست میں کچھ مہینوں بعد ایس پی کی حکومت کے قیام کے بعد اس معاملے کو سرد بستے میں ڈال دیا گیا۔