لوک سبھا اور راجیہ سبھا چینلز کے ضم ہونے کا امکان

نئی دہلی:لوک سبھا اور راجیہ سبھا ٹی وی کو اب ضم کیا جاسکتا ہے۔ ایک کمیٹی نے اس بارے میں حکومت کو مشورہ دیا ہے۔ تجویز کے مطابق الگ الگ دو چینلز کے بجائے صرف ایک ہی پارلیمنٹ ٹی وی چینل ہونا چاہئے۔یہ کمیٹی دونوں چینلز کی عملیت پر غور کرنے کے لئے تشکیل دی گئی تھی۔ کمیٹی میں کچھ ممبران اسمبلی بھی شامل تھے۔ کمیٹی کی تجویز پر تین ذیلی کمیٹی تمام پہلوؤں کا جائزہ لے رہی ہے۔ ذیلی کمیٹی کو تکنیکی، انسانی وسائل اور لوکیشن کو ہموار کرنے جیسے اہم امور شامل ہیں۔ دونوں چینلز کو ضم کرنے کی تجویز کے علاوہ کمیٹی کی رائے ہے کہ لوک سبھا اور راجیہ سبھا ٹی وی کو دونوں ایوانوں کی کارروائی کو جاری رکھنا چاہئے۔ایسا تب ہونا چاہئے جب پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کی کارروائی جاری ہو۔ اگر پارلیمنٹ نہیں چل رہا ہے تو وہاں ایک ہی پارلیمنٹ ٹی وی ہونا چاہئے۔ جس کا کام مشترکہ مواد کو بڑے پیمانے پر نشر کرنا ہو۔ اس کا ماننا ہے کہ جمہوریت اور آئینی اداروں کے کام کے بارے میں اس طرح کے پروگرام بنائے جانے چاہئیں تاکہ ناظرین کو تفصیلی معلومات حاصل ہوسکے۔ اہم بات یہ ہے کہ گزشتہ سال راجیہ سبھا کے چیئرمین وینکیا نائیڈو نے 6 رکنی کمیٹی تشکیل دی تھی۔ کمیٹی کو پارلیمانی کارروائیوں پر اضافی اخراجات کے بارے میں رائے دینا ہوگی۔ پینل کے سامنے دونوں چینلز کے انضمام کے بعد ایک نئے چینل کے لئے موزوں نام تجویز کرنے کی ذمہ داری تھی ۔ راجیہ سبھا سکریٹریٹ نے 7 نومبر کو اس سلسلے میں ایک آرڈر جاری کیا۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*