لوجی! اب مسلمان ’لینڈجہاد‘ کررہے ہیں! ـ شکیل شید

(ایڈیٹر ممبئی اردو نیوز)
جہاد کی ایک نئی قسم کا پتہ چلا ہے :لینڈ جہاد۔ جہاد کی اس قسم کی دریافت کا سہرا بی جے پی میں وزیراعظم نریندر مودی کے بعد نمبر دو کی پوزیشن کے قائد ، مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کے سربندھتا ہے ۔آسام اسمبلی کے انتخابات کی ایک مہم میں امیت شاہ نے کہاہے کہ مولانا بدرالدین اجمل ’لینڈ جہاد‘ کررہے ہیں ۔ اے آئی یو ڈی ایف کے سربراہ مولانا بدرالدین اجمل جیساکہ لوگ جانتے ہی ہیں اِن دنوں آسام میں بی جے پی کے نشانے پر ہیں ، بلکہ بی جے پی کی انتخابی مہم ان ہی کے اردگرد گھوم رہی ہے ۔۔۔ امیت شاہ کا ’ لینڈ جہاد‘ سے مراد یہ ہے کہ مولانا بدرالدین اجمل آسام میں زمینیں ہڑپ کر اپنے لوگوں کو بسارہے ہیں ۔۔۔ اپنے لوگوں سے مراد مسلمان ہیں۔۔ ۔ ظاہر ہے کہ اس الزام کا ایک مقصد تو آسام کے ہندوؤں میں یہ خوف پیدا کرنا ہے کہ ان کی زمینیں ان کے ہاتھوں سے نکل جائیں گی اور وہ اپنے ہی ملک میں اپنی ہی زمینوں سے بیدخل ہوجائیں گے ، اور ان کی زمینیں مولانا بدرالدین اجمل کے ہاتھ میں ہوں گی جن پر وہ بنگلہ دیشیوں کو بسائیں گے ۔ یہ قیاسی بات نہیں ہے ، آسام میں نریندر مودی اور امیت شاہ انتخابی مہم کے دوران ’غیر ملکی‘ کا شوشہ چھوڑتے چلے آرہے ہیں ۔ وہ کہہ رہے ہیں کہ کانگریس نے اس اے آئی یوڈی ایف سے چناوی سمجھوتہ کیا ہے جو سرحد پار سے لوگوں کو لاکر آسام میں بسائے گی ۔۔۔۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ مودی اشاروں اشاروں میں بنگلہ دیشیوں کا ذکر کرتے ہوئے ’غیر ملکی‘ کہنا نہیں بھولتے جبکہ آسام ومغربی بنگال کی اسمبلیوں کے انتخابات کے اس موقع پر وہ بنگلہ دیش گیے ہیں، اور وہاں جاکر یہ دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے پاکستان کے قبضے سے بنگلہ دیش کو آزاد کرانے کی لڑائی میں حصہ لیا تھا۔ یایوں کہ وہ بنگلہ دیش کی آزادی کی لڑائی میںشامل تھے۔ شامل رہے ہوں گے ، اچھی بات ہے ، لیکن سوال یہ ہیکہ جس ملک کی آزادی کی لڑائی میں وہ شامل تھے اس ملک کے شہری انہیں کیوں پسند نہیں آتے ؟ کیوں وہ ’غیر ملکیوں‘ کا ذکر بنگلہ دیشیوں کے معنیٰ میں کرتے ہیں ؟ کیوں وہ بنگلہ دیش کے مہاجر ہندوؤں کو ساتھ رکھنے کو تیار ہیں مگر مہاجر بنگلہ دیشی مسلمانوں کو نہیں ؟ یہ ایسے سوالات ہیں جن کے جواب شاید مودی نہ دے سکیں ۔ ویسے بھی وہ کہاں سوالوں کے جواب دیتے ہیں ۔خیر، بات چل رہی تھی آسام میں امیت شاہ کے بیان کی ۔ امیت شاہ ویسے بس چلے تو ہر ریاست میں یہ اعلان کرتے پھریں کہ اس ملک کے مسلمان اب ’ لینڈ جہاد‘ میں لگے ہوئے ہیں ۔ دوسرے تمام جہاد ،مثلاً لوجہاد، معاشی جہاد، تاریخی جہاد ، میڈیا جہاد، کورونا جہاد، فلم اور موسیقی جہاد، آبادی جہاد، سیدھا جہاد، الٹا جہاد وغیرہ وغیرہ ، زی نیوز کے سدھیر چودھری نے ایک لمبی فہرست جہاد کی دی تھی، اس میں ’زمین جہاد‘ بھی شامل تھا، اب قدرے پرانے ہوگئے ہیں ،اسی لیے امیت شاہ ’ لینڈ جہاد‘ لے کر آئے ہیں ۔ ویسے ’زمین جہاد‘ اور ’ لینڈ جہاد‘ تقریباً یکساں ہے ، لیکن امیت شاہ کے منھ سے ’لینڈ جہاد‘ کے الفاظ کا نکلنا اسے نئے معنی پہنا دیتا ہے ۔ سوال یہ ہیکہ بیچارہ مسلمان ، چاہے وہ مولانا بدرالدین اجمل ہی کیوں نہ ہوں ، کیا ’ لینڈ جہاد‘ کریں گے؟ یوپی سے لے کر ایم پی تک مسلمانوں کے گھروں پر تو بل ڈوز چلائے اور ان کی زمینیں ہتھیائی جارہی ہیں ۔ کریں آپ اور الزام دیں مسلمانوں کو ! لیکن کیا کیا جائے کہ ان دنوں گنگا الٹی بہہ رہی ہے ۔

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)