لوگ آسان سمجھتے ہیں مسلماں ہونا ـ احمدجاوید

 

یہ سلطان المشائخ خواجہ نظام الدینؒ کی ایک مجلس ہے۔ آپؒ ایک ہندو نوجوان ہردیو سے مخاطب ہیں۔ آپ کی آنکھوںمیں آنسو ہیں اور آپ اس سے فرما رہے ہیں’نہیں بیٹا! اتنی جلدی نہیں، یہ آسان بات نہیں، دل کا سودا ہے۔خوب سوچ سمجھ لو‘ اور وہ اپنی آنکھوں میں آنسو بھر کر مچل رہا ہے کہ بندہ نواز اسے اپنے غلاموں میں داخل کر لیں، وہ کلمہ توحید پڑھ کر حلقہ بگوش اسلام ہونا چاہتا ہے۔ چند ماہ بعد وہ پھر آپ کی بارگاہ میں سرنگوں بیٹھا ہے، اس کے دائیں بائیں ایک ادھیڑ عمرمرد اورایک عورت موجودہے ۔ یہ اس کے والدین ہیں۔یہ ان کو اس سفارش کے ساتھ آپ ؒکی خدمت میں لایا ہے کہ آپ اسے اپنے دین میں داخل کرلیں۔بالآخر آپ اسے کلمہ توحید پڑھاتے ہیں، اس کا نام احمد ایاز تجویز کرتے ہیں اور فرماتے ہیں ’ ایاز سلطان محمود کا غلام تھا جس کی اپنے آقا سے محبت اور وفاداری مشہور ہے۔تم اب رسول خدا احمد مجتبیٰ ﷺ کے غلام ہو‘۔ مجلس میں باریاب ہرشخص کی آنکھیں ساون بھادوں ہورہی ہیں۔ ہردیو اور اس کے والدین گرچہ اپنی قسمت پر نازاں اور ہمیشہ سے زیادہ خوش ہیں،پھربھی وہ زاروقطار رورہے ہیں۔
یہ تیرہویں صدی عیسوی کا ہندوستان تھا۔دہلی کے تخت پر سلطان جلال الدین خلجی متمکن تھا۔ اس کے بھتیجے اورمالوہ کے والی علاء الدین خلجی نے اسی سال جنوبی ہند کی ریاست تلنگانہ پر فوج کشی کی تھی اور دیو گری کے مرہٹہ راجہ رام دیو ٹھاکرنے اسے چھ سو من سونا، سات من موتی، دو من ہیرے اور یاقوت، ایک ہزار من چاندی اور چار ہزار تھان ریشمی کپڑے اور کثیر تعداد میں ہاتھی گھوڑے دے کر اس سے صلح کی تھی۔ دیو گری سے علاءالدین کی واپسی کے بعد راجہ نےخلجی سلطنت کی طاقت کا اندازہ لگانے اوردہلی کے حالات معلوم کرنے کے لیے اپنے چند جاسوس بھیجے تھے جن میں اس کا بھتیجا ہردیوبھی شامل تھا۔ راجہ نے اسے یہاں بھیجنے سے قبل فارسی اورترکی زبانوں کی تعلیم دلائی تھی، وہ سنسکرت اور دکنی زبانوں ، ویاکرن اور شاستروں کا عالم تھا۔ دہلی آیا تو سلطان المشائخ کی خانقاہ میں اس کی آمدو رفت شروع ہوگئی۔ ایک ایسے دولت مند،خوشحال، تعلیم یافتہ ،عالم فاضل اور طاقت و اقتدار سے مالامال شخص کو کس نے مجبور کیاکہ وہ ان سب چیزوں کو لات مار کر ایک بوریانشیں فقیر کی غلامی اختیار کر لے۔ راجا رام دیو ٹھاکر نے اپنے اس بھتیجے کے حلقہ بگوش اسلام ہوجانے پرجو کچھ کیا ہوگایا اس کی جو حالت ہوئی ہوگی اس کا صرف تصور کیا جاسکتا ہے۔

جمعہ کو سوشل میڈیا پررمن کمارنام کا ایک نوجوان جب ڈاکٹر محمد عمر گوتم سے اپنی ملاقات اور حلقہ بگوش اسلام ہونے کی سرگزشت سنا رہا تھا تو میری آنکھوں میں کوئی سات سو سال پہلے اسی دہلی میں رونماہوئی ، تاریخ کے اوراق میں محفوظ یہ سرگزشت اپنی تمامتر جزئیات کے ساتھ تازہ ہوگئی جوآسانی سے لوگوں کی سمجھ میں نہیں آتی، ان کی سمجھ میں تو بالکل ہی نہیں آتی جن کے دلوں پر نفرت و عداوت کے پردے پڑے ہیںکہ وہ کون سی طاقت، کیا جادو اور کیسی آگ ہے جو لوگوں کو اپنے گھر، خاندان، سماج ، دین دھرم ، رسوم و رواج، عقائد وروایات ، کھان پان ، معاشرت اورجانے کیا کیا ترک کرکے اسلام میں داخل ہوجانے پر مجبور اور ایسا بےچین کرتی ہےکہ وہ کسی مشکل اورکسی خوف کو خاطر میں نہیں لاتے۔ محمد عمر گوتم کو گرفتار کرکے ہراساں اور تحقیقات کرنے والے افسروں کو جیسے جیسے ڈاکٹر گوتم کا سچ اور ان سے تحریک پاکر اسلام لانے والے نوجوانوں کی سرگزشتہائے گوناگوں کا علم ہوگا، ان پر یاتوان کا غصہ اور تیزہوگا یا پھر وہ اپنا سرنوچیںگے۔میں سمجھتا ہوں کہ جب تک خود ان کے اپنے دلوں میں نفرت و عدات کی کائی کٹ نہیں جاتی ، ان کی سمجھ میں نہیں آئےگی کہ ڈاکٹر گوتم کیا ہیں ،وہ کس کے لیے کام کرتے ہیں، ان کے پاس کہاں کہاں سے مدد پہنچتی ہے، ان کے پاس اتنے وسائل کہاں سے آتے ہیں کہ وہ ڈاکٹروں انجینئروں اور بڑے بڑے دولت مند خاندانوں کے لڑکے لڑکیوں کو مسلمان بناتے ہیں۔

رمن ایک خوشحال خاندان کا چشم و چراغ ہے، اعلیٰ تعلیم یافتہ ہے ،اسلام لانےسے پہلے وہ کسی مسلمان کے رابطے میں بھی نہیں تھا، چونکہ اسے یہ سوالات بےچین کرتے تھے کہ اس دنیا کی حقیقت کیاہے، انسان کے پیدا ہونے کا مقصد کیاہے، مرنے کے بعد کیا ہوگا،کیاصرف کھانا پینا عیش کرنا اور مرجانا ہی زندگی کا سچ ہے؟ اس لیے اس نے کتابیں پڑھنا شروع کیں،غوروفکرکیا،مباحثے کیے، ہرمذہب کی کتابیں پڑھیں، جدیدوقدیم فلسفے پڑھے، مشرق و مغرب کے مفکرین کا مطالعہ کیا اور اس نتیجے پر پہنچا کہ اس کے سوالوں کا تشفی بخش جواب صرف اسلام کے دامن میں ہے، اسلام ہی راہ نجات ہےلیکن اسے یہ معلوم نہیں تھا کہ اسلام میں داخل ہونے کا طریقہ کیا ہے۔ انٹرنیٹ کی مدد سے اسلامک دعوہ سینٹر (آئی ڈی سی) تک اس کی رسائی ہوئی جہاں وہ ڈاکٹر محمد عمر گوتم سے ملاجو خودکوئی تیس بتیس سال پہلے اسی طرح اسلام لائے تھےاور اب ان لوگوں کی مدد کرتے تھے جو اسلام لانا چاہتے ہیں یا اسلام لاچکے اور مشکلات میں گھرےبےیارومددگار ہیں۔خلاف توقع ڈاکٹرگوتم نے اسے کسی جلدی سے کام لینے کے بجائے خوب سوچ سمجھ کراور ٹھہرکر اسلام لانے کامشورہ دیا، معلوم کرنے کی کوشش کی کہ اس کے اسلام لانے کے پیچھے کوئی لالچ، کوئی مجبوری یا اسی قسم کا کوئی اور محرک تو نہیں ہے اور اسے واپس بھیج دیالیکن یہ وہ آگ نہیں تھی جو ٹھنڈی ہوجاتی، شرک کی گندگی سے نکلنے کی تڑپ اسے پھر ان کے پاس لائی اور ایک بارپھر انہوں نے ایسا ہی کیا۔ کچھ اورمدت کے بعد تیسری باروہ اپنے سینے میں مزید تڑپ کے ساتھ آیا ، پھر انہوں نے رمن کی اسلام میںداخل ہونےمیں مدد کی۔ بہار کے ڈاکٹر سجیت کمار کے قبول اسلام کی کہانی بھی اس سے بہت زیادہ مختلف نہیں ہے، وہ ایک عرصہ تک ڈاکٹر گوتم کے ساتھ رہے ہیں، اس وقت بنگلور میں ہیں، مڈیکل سائنس میں پوسٹ گریجویٹ کررہے ہیں۔وہ بھی کسی مسلمان کے سکھانے پڑھانے سے اسلام لانے والوں میں نہیں ہیں، سائنس کے طالب علم تھے، مشہور ترک سائنسدان و مصنف ڈاکٹرہارون یحییٰ کی کتابوں کے مطالعہ سے ان پر حق روشن ہوا۔ناگپور کا وپل وجے ورگیہ اور اس کا ساتھی کاشف بھی ایسے ہی نوجوان ہیں جو رسول کریم ﷺ کی شان میں غازی آباد کے نرسنگھانند سرسوسوتی کی گستاخیوں سے بےچین ہوکر اس کو سمجھا نے کے لیے اس کے مٹھ پرپہنچ گئے تھے، ان کا درد یہ تھا کہ وہ اپنے ایک نادان بھائی کو سمجھائے کہ وہ تاریکی سے نہیں نکلتا ہے تو نہ نکلے مگر سورج پر تو نہ تھوکے جس سے اس کا چہرہ خود ہی گندہ ہوتا ہے لیکن بدنام زمانہ نرسنگھانندنے اپنے ہمدردوں کے ساتھ جو کیا، اس کی توقع کسی انسان سے نہیں کی جاسکتی تھی۔ اس کی رپورٹ پر ان دونوں کی گرفتاری سے شروع ہونے والا قضیہ ڈاکٹر گوتم اوران کے ساتھی مولانا قاضی جہانگیر کی گرفتاری پر منتج ہوا۔خود ڈاکٹر گوتم کی کہانی ان سب کی سرگزشت سے زیادہ حیران کن ہے۔ وہ ۱۹۶۴ء میں اترپردیش کے فتح پورضلع میں ایک معزز راجپوت خاندان میں پیدا ہوئے،دھن راج سنگھ گوتم کے چھ بیٹوں میں وہ چوتھے ہیں ۔ نینی تال سے ایگریکلچر میں بی ایس سی اور ایم ایس سی کیا۔ انجینئرنگ کالج کے دنوںمیں وہ حادثے کاشکار ہوگئے تھے، ان کے پیروں میں شدید چوٹ آئی تھی اور ان کو لمبے عرصے تک اسپتال میں رہنا پڑا تھا۔اس دوران ان کے ایک مسلم ساتھی نے جو ہاسٹل میں ان کا پڑوسی تھا،ان کی بےلوث مدد کی تھی۔ ہاسٹل کے اس پڑوسی کے اخلاق اور پڑوسی کے حقوق کے متعلق اسلام کی تعلیمات سے متأثر ہوکر انہوں نے اسلام کا مطالعہ شروع کیا اور جس وقت انہوں نے اپنے اسلام لانے کا اعلان کیا، یونیورسٹی کے سات غیر مسلم طلبہ ان کے ساتھ اسلام لے آئے۔ آج ان کے ساتھ جو کچھ ہورہا ہے، پہلی بار نہیں ہوا ہے۔ اس وقت بھی ان پر حملے ہوئے، ہنگامے کیے گئے، طمنچے دکھائے گئےاور قاتلانہ حملے تک کیالیکن ان کے پائے استقامت میں لغزش آنی تھی نہ آئی۔یاد آتا ہے کہ چند سال پیشتر مسلم یونیورسٹی کے طلبہ کے ایک جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر گوتم کہہ رہے ہیں کہ جو خدا انسان کو ایمان کی دولت دیتا ہےوہی اسے استقامت بھی عطا کرتاہے۔ (انقلاب، اتوار۲۷؍ جون۲۰۲۱ء)

۲

آپ اسلام کی تاریخ کے ابتدائی ایام کو یادکریں۔ پیغمبر اسلام ﷺ کی دعوت کو جن نوجوانوں نے قبول کیا تھا، ان پر مکہ کے سرداروںکا غیظ وغضب اللہ کی پناہ، کیا ان پر ان کے مظالم کا کوئی ٹھکانہ تھا لیکن کیاوہ ان کے دلوں سے اسلام کو نکال پائے۔آج تو خیر سے دنیا بہت بڑی، بہت کھلی اورنسبتاًبڑی محفوظ ہے ۔ہم آج کمزوروں پران مظالم کا تصور بھی نہیں کرسکتے جو اس دور میں ان پر کیے جاتے تھے۔ آپ نے عمار،صہیب، بلال اورمقدادکا نام ضرور سنا ہوگا۔مکہ کےجن لوگوں نے سب سے پہلے اسلام قبول کیا،یہ ان میں شامل تھے۔ جن مسلمانوں کا مکہ میں اپنا قبیلہ اور مضبوط خاندان تھا، ان کو ان کے خاندانوں نے گھروں میں قید کر کے اذیتیں دیں تاکہ وہ اسلام سے پھر جائیں لیکن جن کے ساتھ ایسا نہیں تھااور جوکمزور یا غلام تھے، ان کے ساتھ ناقابل تصور تشدد سے کام لیا گیا۔

رسول کریم ﷺ کی دعوت پرابھی بہ مشکل ۳۳؍افراد مسلمان ہوئے تھے کہ ایک دن دارارقم میں صہیب بن سنان کے ساتھ عماربن یاسر نے کلمہ توحید پڑھ لیااور پھر اپنے اسلام کو چھپایا بھی نہیں۔ عبداللہ بن مسعود کابیان ہے کہ’’ جنھوں نے اپنے اسلام لانے کوسب سے پہلے ظاہر کیا، وہ سات ہیں،خود رسولﷺ،ابوبکرصدیق، عماربن یاسر، اس کی ماں سمیہ، صہیب، بلال اور مقداد (رضوان اللہ علیھم )‘‘۔ قریش کے سرداروں نے سنا کہ یاسر، اس کا بھائی اور ان کے ماں باپ مسلمان ہوگئے ہیں تو ان کے تن بدن میں آگ لگ گئی کہ ان نیچ لوگوں کی یہ جرأت کیسے ہوئی ۔ عمار کے والدیاسر یمن سے آکر یہاں بسے تھے۔ سمیہ ابوحذیفہ بن مغیرہ کی باندی تھی۔ اہل قریش ان کو دہکتے ہوئے انگارے پر لٹادیتے، لوہے کی زرہ پہناکرآگ برساتی گرمی کی دھوپ میں کھڑا رکھتے، کئی کئی دن کھانا پانی نہیں دیتے۔ ان کا کوئی قبیلہ بھی نہیں تھا جو ان کی حیوانیت سے ان کو بچاتا۔ ابوجہل نے عمار کی ماںکو ان کی آنکھوں کے سامنےتڑپاتڑپا کر قتل کیا، بلال اور مقداد کے ساتھ بھی ان ظالموں نے تشدد کی کوئی انتہا باقی نہ چھوڑی لیکن اسلام وہ نشہ نہیں ہے جسے ترشی اتار دیتی ۔دنیا جانتی ہے کہ یہی مظلوم ایک دن عرب و عجم کےفاتح بن گئے اوران پر ظلم ڈھانے والوں کا غرور ٹوٹ کر ایسا خاک میں ملاکہ اس کا کچھ اتاپتا نہیں ملتاتھا۔ بہ مشکل تیس سال بعد عمار کوفہ کے حاکم تھے، عراق جیسااہم صوبہ ان کے زیرنگیں تھا اور امیرالمومنین عمرفاروق نے جن کے رعب و جلال کا ڈنکا مشرق و مغرب میں بجتاتھا،اہل کوفہ کے نام ان کی تقرری کے مکتوب میں لکھا تھا’ میں یاسر کے بیٹے عمار کو تم پر امیر مقرر کرتا ہوںاور ابن مسعود کو معلم و وزیر۔ ابن مسعود بیت المال کے نگران بھی ہوںگے۔یہ دونوں محمدﷺ کے ساتھیوں میں نجیب ترلوگ اور اہل بدر میں سے ہیں۔ تم ان کی سننا اور اطاعت کرنا اور دونوں کی اقتدا کرنا‘۔یہ وہ لوگ تھے کہ جب حکومت و دولت ان کے قدموں میں آگئی، تب بھی اسلام کی شریعت نے ان کو مغرور ہونے نہیں دیا، انصاف کی جدوجہد ہرحال میں جاری رکھی، خلافت راشدہ کے آخری دور میں جب اسلام کو بغاوتوں کا سامنا تھا، عمار نے۹۳سال کی عمر میں بھی امیرالمومنین حضرت علی المرتضی کے ساتھ اسی جاں نثاری سے کام لیا جس کا ثبوت انہوں نے رسول کریم ﷺ کے ساتھ پیش کیاتھا ۔ بےشک جوخدا انسان کو ایمان کی دولت دیتا ہے، وہی اسے استقامت بھی عطا کرتا ہے۔

اسلام عرب کے صحراؤں کو عبور کرکے مصر، شام اور ایران کو فتح کرتا ہوا ہندوستان میں داخل ہوا تو انگنت نسلوں، قبیلوں اورچھوٹی بڑی قومیتوں کو اپنے دامن میں سمیٹ لینے والےسیلاب کے لیے یہ ایک نیا اور بالکل مختلف تجربہ تھا۔دنیا کی مظلوم و مقہورترین اقوام یہاں رہتی تھیںلیکن وہ سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سے عاری تھیں،جانوروں سے بھی بدتر زندگی جینے پرراضی اور اسی کو اپنا دھرم سمجھنے والوں کی کثرت تھی۔ یہی تجربہ اس خطہ کی تاریخ و جغرافیہ، مذہب و ثقافت اور سیاسی و سماجی زندگی کی باریکیوں کےباضابطہ علمی مطالعہ کامحرک ثابت ہوا اوراس کی ابتدا جس شخص نےکی، وہ ابوریحان محمدبن احمد البیرونی (973-1049ء) تھا۔ ہندوذہن کو سمجھنے اور ہندو مسلمانوںمیں دوری کی جڑیں تلاش کرنے کی یہ کوشش صحیح معنوں میں ہندوستان کی دریافت تھی جس نے دنیا پر اس خطہ ارض کے بہت سے بنددروازے کھولے اورخود اس پر دنیا کے کئی در وا کئے۔البیرونی جوکئی زبانوں کا ماہر اور ریاضی داں تھا، کیمیا اور طبعیات (Chemistry and Physics)میں رسوخ رکھتا تھا، ہیئت (Astrology) اور نجوم (Astronomy) کاماہرتھا، ہندوستان کی دریافت میں کیوں نکلا ،اس کامطالعہ بےشک دلچسپی سے خالی نہیں لیکن اس سے بھی زیادہ دلچسپ واقعہ یہ ہے کہ صدیوں بعد انیسویں صدی میں مغربی مستشرق میکس مولرکو بھی یہاں اس ملک کے قدیم علمی اثاثےکی تلاش میں ان ہی دقتوں کا سامنا کرناپڑا، اب یہاں کے خاص لوگ عام لوگوں سے علوم و فنون کو چھپاتےتھے، ان کو اپناغلام بناکر رکھنا چاہتے تھے اور ذہنوں پر جمی ہوئی برف آج اس اکیسویں صدی میں بھی بہت کم ہی پگھلی ہے۔تعصب،تنگ نظری اورنفرت و عداوت نے ذہنوں پر پہرے ڈال رکھے ہیں اور معاملہ یک طرفہ نہیں ہے۔البیرونی نے لکھا ہےکہ ’ ہندؤں کی خود پسندی اوربیرونی چیزوں کی تحقیر کرنے کی عادت ان رکاوٹوں میں سے ایک سب سے بڑی رکاوٹ ہے جوان کوسچ کا سامنا کرنے نہیں دیتی۔وہ جب ہندوذہن کی بات کرتا ہے تو اس کی مراد برہمنوں، راجپوتوں اور ہندو سماج کے سربرآوردہ طبقےسے ہوتی ہے۔وہ لکھتا ہے کہ یہ کچھ ایسے اسباب ہیں جن کو بیان کرنا گویاہندؤں کی ہجو کرنا ہےلیکن یہ ان کے قومی کردار کی وہ خصوصیات ہیں جن میںوہ جکڑے ہوئے ہیں اور یہ ان کی ایسی جہالت ہے جس کا کوئی علاج نہیں ۔ان کا عقیدہ ہے کہ ان کے ملک کے علاوہ روئے زمین پر کوئی ملک نہیں ہے، نہ ان کی قوم کے علاوہ کوئی قوم ہے۔نہ کہیں ان کے بادشاہوں جیسے بادشاہ ہیں۔نہ ان کا سا مذہب ہے اور نہ ان جیسا علم و فن۔اس خام خیالی نے ان کو ہٹ دھرمی اور حماقت میں مبتلا کررکھا ہے۔ابوریحان بیرونی کا دعویٰ ہے کہ’’ عیسائیت کے ظہور سے پہلےیونانی کفار کے بھی یہی عقائد وافکار تھے جو ہندوؤں کے ہیں۔ ان کے طبقہ علما کا طریقہ فکربھی ہندو پنڈتوں جیسا تھا اور یونانی عوام ہندو عوام کی طرح بت پرستانہ عقائد رکھتے تھےلیکن یونانیوں میں کچھ ایسے حکما پیدا ہوئے جنھوں نے اپنی کوششوں سے حقیقت کو عوامی خرافات سے پاک کیا ۔ اس سلسلے میں سقراط کا نام قابل ذکر ہے جس نے اپنی قوم کے عوام کی مخالفت کی اور حق پر قائم رہنے کی پاداش میں جان دے دی۔ لیکن (بدقسمتی سے)ہندوؤں میں اس درجہ کے حکما و مصلحین پیدا نہیں ہوئےجو علوم کی اصلاح و تکمیل کے خواہاں اور اہل ہوتے‘‘۔وہ اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ ہندوؤں کے علوم و فنوں، عقائد اور روایات میں منطقی ربط ڈھونڈنا حماقت ہے۔ان کی فکر ، علوم اور عقائد و نظریات کا کوئی حصہ ایسا نہیں ہے جو توہمات و خرافات کی آمیزش سے پاک ہو۔آپ اپنے گردو پیش کا جائزہ لیں توپائیں گے کہ ایک ہزار سال پہلے البیرونی نے ہندو سماج کی جو تصویر پیش کی تھی،آج تک اس میں زیادہ فرق نہیں آیا،وہ کل کی طرح آج بھی ہراس چیز سے نفرت کرتے ہیں جو مسلمانوں سے منسوب ہے لیکن میںسمجھتا ہوں کہ یہ اس کے مقتدر طبقے کی خود غرضی ہے ورنہ اسی سماج نے ہردور میں شیام پرتاپ گوتم جیسے نوجوانوں کوجنم دیا جن پر حق روشن ہوا اور جو اپنے وقت کے عمار ثابت و بلال اور صہیب و مقداد ہوئے۔ شیام پرتاپ گوتم کا محمد عمر بن جانا اتنا آسان نہیں ہوتا،ہردیو ٹھاکور کا احمد ایاز ہوجانا یا ناگاگن ّ کا خان جہاں ملک مقبول خاں ہوناکوئی کھیل تماشہ نہیں،ہزارہا بندھنیںکٹتی ہیں تب جاکر کوئی شیام پرتاپ محمد عمر بنتا ہےاورپھر اسے اپنے بھائیوں کو تاریکی سے نکالنے کی تڑپ کبھی چین سے بیٹھنے نہیں دیتی۔محمد عمر گوتم اچھے خاصے ایگریکلچر سائنسداں تھا۔ ایگریکلچرل انجینئرنگ میں پوسٹ گریجویٹ کیا تھا۔چاہتے تو افسری کرتے، ٹکنوکریٹ بنتےیالکچرر پروفیسر ہوجاتے اور سکون کی زندگی گزارتے لیکن اس کے بجائے اسلام کا گہرا مطالعہ کیا، جامعہ ملیہ اسلامیہ سے اسلامیات میں ماسٹرز کیا، تحقیق کی اور دین کی دعوت کو اپنا مستقل مشغلہ بنالیا۔پچھلے ۳۸برسوں سے وہ اپنی اس تڑپ کے ساتھ ملک و بیرون ملک سرگرداں ہیں کہ ’دیکھا ہے جو کچھ میں نے‘ خداوند عالم ’ اوروں کو بھی دکھلادے‘۔

ڈاکٹر محمد عمر گوتم کی گرفتاری کے بعد نومسلم نوجوانوں کی جتنی بڑی تعداد نکل نکل کر سامنے آرہی اور اپنے اوپر حق کے روشن ہونے کی کہانیاں سنا رہی ہے ، وہ اس ماجرا کے دونوں فریقوں کے لیے درس عبرت ہے، پشتینی مسلمانوں کو بھی اس سے سبق لینا اور اپنے اعمال کا جائزہ لیناچاہیے کہ وہ کہاں ہیں اور ان لوگوں کو بھی اپنے گریبانوں میں منھ ڈالنا چاہیے کہ وہ کیا کررہے ہیں، کس اندھیرے میں جی رہے ہیں یا کس فریب میں ہیں جن کو ڈاکٹر گوتم، ڈاکٹر سجیت کمار اور رمن جیسے نوجوانوں پر غصہ آتا ہےکہ انہوں نے اپنے باپ داداکے دھرم کو کیوں چھوڑ دیا ۔