لاک ڈاؤن سے پیداشدہ بحران میں جمعیۃعلماء ہندکی انسانی خدمات-اے آزادقاسمی

چین کے معاشی ہب ’ووہان‘ میں پہلی بارشناخت میں آنے والاوائرس’کووڈ19‘پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے۔ اس عالمی وبا سے دنیا کا کوئی ملک اب اچھوتانہیں رہ گیاہے۔ یہ الگ بات ہے کہ اس کے پھیلنے کی رفتارکہیں کم ہے توکہیں حدسے زیادہ۔ ابھی تک تین لاکھ سے زیادہ جانیں تلف ہوچکی ہیں اور ہر نئی صبح اس مہلک وائرس کی جڑیں دنیا بھرمیں مضبوط سے مضبوط تر ہونے کااحساس دلارہی ہیں جوباعث تشویش ہے۔ وہ ممالک جنہیں اپنی جدیدٹکنالوجی اور سائنسی ایجادات پر اپنے وجودسے کہیں زیادہ بھروسہ اور اعتماد تھا وہ بھی اب اس مہلک جرثومہ کے آگے پست اوربے بس ہوچکے ہیں۔ تمام ترانسانی تدابیر اوراپنی بساط سے زیادہ کوشش کے باوجود یہ کوروناکی ہلاکت خیزی کم ہونے کی بجائے بڑھ رہی ہے اورپوری قوت کا احساس کرارہی ہے۔
یہ بات تاریخی طورپر مستند ہے کہ انسان نے جب بھی اپنی طاقت اور اناکاشکارہوا، زمین پر فطری وجود کے ساتھ چھیڑچھاڑکرنے کی کوشش کی تو قدرت کی طرف سے ایسی ہی ناگہانی آفت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ ہم اس حقیقت کو قبول کرنے میں ٹال مٹول سے کام لیں۔ ضروری ہے کہ ہم اپنی روش سے پیچھے ہٹیں اور اس خوبصورت کائنات میں فطرت کے ساتھ جینے اور چلنے کی سعی کریں۔ زمین کے کسی بھی حصہ میں بودوباش اختیارکرنے والوں کے ساتھ صرف انسانیت کی بنیادپر یکساں سلوک کامظاہرہ کریں،مساوات اورراواری کانمونہ پیش کریں۔قرآ ن پاک کی آیت کریمہ کا مفہوم ہے کہ ’جس نے کسی انسان کو قتل کیا گویا اس نے پوری انسانیت کو قتل کیا اورجس نے ایک انسان کی جان بچائی گویا اس نے پوری انسانیت کی جان بچائی‘۔رب قدیرکی طرف سے اتنے صاف اور واضح حکم کے بعد بھی اگرہم مخلوق خداکے ساتھ زیادتی کرتے ہیں تو اس کی پکڑکیلئے ہمیں تیاررہنا چاہئے!۔
اس عالمی وباسے ہماراملک بھی اچھوتانہیں ہے۔ کچھ دن پہلے تک اس بات سے انکارکیا جارہا تھا کہ کسی طرح کی میڈیکل ایمرجنسی نہیں ہے،مگر اب ہم کوروناکی تباہی کادرد جھیلتے ہوئے عالمی رینکنگ میں نویں نمبرپر آگئے ہیں جو ہمارے لئے لمحہ فکریہ ہے۔ اس وبا پرقابوپانے اور اس کی زدسے عام شہریوں کو بچانے کیلئے تقریبادوماہ قبل لاک ڈاؤن کا نفاذ عمل میں لایا گیا تھا، جومرحلہ وار شکل میں اپنی ناکامیوں کے اظہارکے ساتھ خاتمہ کی جانب گامزن ہے۔لاک ڈاؤن کی کامیابی کیلئے بہت سی ایسی بھی تدبیریں متعارف کرائی گئی تھیں جن کا اس وباسے کوئی سروکارنہیں تھا مگر غیر منظم لاک ڈاؤن کے نفاذکا’تجربہ‘کورونا کے زور کوکمزورنہ کرسکا اور مرکز بمقابلہ ریاست کی رشہ کشی کے درمیان منظم پلاننگ نہ ہونے کی وجہ سے دوسرے’سنگین مسائل‘بھی کھڑے ہوگئے۔ اس درمیان سب سے زیادہ اگر کوئی طبقہ متاثرہوا تو وہ ہے مزدور۔ محنت کش لوگ جن کی دن ورات کی محنت اور خون پیسہ بہانے کی وجہ سے ہمارے میٹروں شہرکی رونقیں دوبالاہیں،لاک ڈاؤن کی سب سے زیادہ ضرب اُن پر ہی پڑی۔اس کے علاوہ طالب علم اوراسکالر جو حصول علم اور ریسرچ کیلئے دوسری جگہوں پر مقیم تھے، انہیں بھی لاک ڈاؤن کی شدیدمار جھیلناپڑی۔ مدت لاک ڈاؤن میں ضرورت مندوں اور بے حال لوگوں کیلئے کوئی مؤثر اورپختہ منصوبہ بندی کانہ ہونا ان لوگوں کی پریشانی کومزید بڑھانے کی ایک بڑی وجہ ثابت ہوئی۔ ان میں سے ہرایک کی اپنی الگ پریشانیاں تھیں کوئی دووقت کی روٹی کیلئے پریشان تھاتو کوئی روم کرایہ کیلئے، کوئی مالی طورپردشواری نہ جھیلنے کے باوجود ہوٹلوں پر منحصرہونے کی وجہ سے پیٹ کی آگ بجھانے کی خاطردو روٹی کیلئے،غرضیکہ مسائل کی ایک لمبی فہرست سامنے آگئی،جو بغیر کسی پختہ پلاننگ کے ملک کو لاک ڈاؤن میں جھونکنے کی وجہ سے پیدا ہوئی۔
ادھر کچھ دنوں سے اپنے گھروں کو واپس جانے کیلئے بے قرار لوگوں کی بے بسی پر ترس کھاتے ہوئے حکومت کے ذریعہ چندسو ریل گاڑیاں اور بسوں کا انتظام دیکھنے کومل رہا ہے لیکن اس کی کاغذی خانہ پری اس قدرگنجلک اور غیر واضح ہے جو ان لوگوں کی سمجھ سے دورہے، اوپر سے مستزادیہ کہ شدت کی دھوپ میں پورے پورے دن ایک سینٹرسے دوسرے سینٹرتک مارے مارے پھرنے پر کہیں جاکر ہفتوں بعد بس یا ریل کی بوگی میں ایک عدد سیٹ کا حصول ممکن ہوپاتاہے۔ریل گاڑی یابس میں سیٹ کے حصول کے بعد بھی یہ اطمینان نہیں ہوپاتاہے کہ یہ پریشان حال لوگ صحیح سلامت اپنے وطن تک پہنچ پائیں گے یانہیں۔ادھر ان ریل گاڑیوں اوربسوں کے پٹریوں پردوڑنے اور سڑکوں پر چلنے کی بھی اپنی ایک الگ کہانی ہے۔ این ڈی ٹی وی کے پرائم ٹائم اور’دیس کی بات‘میں جو ’سچی کہانیاں‘سنائی اور بتائی گئیں اور مفلوک الحال لوگوں کی جوتصاویراورکلپ دکھائی گئیں، وہ ہوش اڑانے والی ہے۔ جب سے یہ شرم مک اسپیشل گاڑیاں چلی ہیں تب سے اب تک بہت سی ٹرینیں اپنی مطلوبہ جگہ پہنچنے کہ بچائے کہیں اورپہنچ گئیں۔جن ٹرینوں کو چوبیس سے اڑتالیس گھنٹے میں متعینہ اسٹیشن پر پہنچنا تھیں، وہ بہتربہتر گھنٹے اور اسی اسی گھنٹے میں پہنچی رہی ہیں۔ ان ٹرینوں میں عام ضروریات کی چیزیں مثلا پانی، کھانا اورروشنی کی صورت حال اس قدر ناگفتہ بہ ہے کہ مسافرمارے بھوک اور پیاس سے آپس میں ہی الجھ رہے ہیں اور کہیں کہیں تو بھوک وپیاس کی شدت اور دھوپ کی تمازت سے کئی مسافر اپنی جان کی بازی بھی بیچ راستے ہی میں ہار جارہے ہیں۔مجاز کایہ شعراس کی بہترین عکاس ہے۔
ان کی کہیں زمین نہ ان کا کہیں مکاں
پھرتے ہیں یونہی شام وسحر زیر آسماں

ایسے نازک صورت حالات میں ان ضرورت مندوں اور بے یارومددگارلوگوں کے درمیان ریلیف کا کام کرنا اور ان کی دادرسی کرنا یقینا بہت ہی اہم اور نیک عمل ہے۔ مخلوق خدا کی خدمت کرنا، ان کے کام آنا، ان کے مصائب وپریشانی کو دور کرنا، ان کے دکھ درد کو سننااور حتی المقدورپریشانیوں کو دورکرنے کی کوشش کرنا، ان کے ساتھ ہمدردی و غم خواری کامظاہرہ کرنا شریعت مطہرہ میں اس پر بہت زور دیاگیا ہے۔نبی کریم ﷺ نے فرمایا:تم زمین پر والوں پر رحم کرو،آسمان والا تم پر رحم فرمائے گا۔ بعض مواقع میں تودین میں انسانی خدمت اور رفاہ عامہ کے عمل کو حقوق اللہ پر فوقیت حاصل ہے۔اسلام میں احترام انسانیت اور مخلوق خداکے ساتھ ہمدردی اور غم خواری کی بڑی اہمیت ہے۔ہم اپنی ناعاقبت اندیشی اور دین سے دوری کی وجہ سے اسلام کے اس قدروسیع اورجامع تصورسے انجان ہیں۔
غرض کہ اسلام میں حقوق العبادکی ایک طویل فہرست ہے اور ہر ایک اپنی الگ اہمیت کی حامل ہے۔ ہمسایوں کے حقوق کے سلسلہ میں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہمیشہ حضرت جبرئیل علیہ السلام ہم کو نصیحت کرتے رہے ہمسائیوں کے ساتھ حسن سلوکی یہاں تک کہ میں سمجھاکہ وہ ہمسایہ کو وارث بنادیں گے“یہ اور اس طرح کی بے شمار احادیث ہیں جس میں نبی پاک ﷺ نے اپنے ہمسائیوں اور دیگر مصیبت زدگان کے ساتھ ہمدردی اور حسن سلوک کی تعلیم دی ہے۔ یہاں تک کہ ہمارے ساتھ پھرنے والے جانوروں تک کے حقوق ہم پر متعین کئے گئے ہیں اور یہ سب اس لئے ہے کہ ایک دوسرے کے حقوق کی ادائیگی پر ہی معاشرہ کا حسن صحت اور رواداری قائم رہتاہے۔ حدیث پاک میں ہے کہ ساری مخلوق اللہ کا کنبہ ہے۔ اس لئے اللہ رب العزت کے نزدیک مخلوق میں سب سے زیادہ محبوب اورپسندیدہ وہ شخص ہے جو اس کے کنبہ یعنی اللہ کے مخلوق کے ساتھ رواداری اور حسن سلوک کا معاملہ کرتاہے۔ کیونکہ انسان علم مدنیت کی روسے مدنی الطبع واقع ہواہے جو انسانی معاشرہ اورمعاشرتی امور سے کٹ کر نہیں رہ سکتا۔
اسلام کی اسی زریں تعلیمات کو آگے بڑھانے اور احترام انسانیت کو عملی شکل میں پیش کرنے کیلئے ملک کی قدیم، فعال ومتحرک جماعت جمعیۃعلماء ہند کسی بھی ناگہانی آفت کے موقع پربلاتأمل انسانی قدروں کی تحفظ کیلئے بلاخوف و خطرمیدان عمل میں آجاتی ہے۔ جمعیۃعلماء ہند کی یہ رفاہی خدمات بلالحاظ مذہب ہراس دکھی انسانوں کیلئے ہوتی ہے جو کسی نہ کسی طور پر کسی آفت یاپریشانی سے متاثرہواہو۔ادھر چند دنوں سے اخبارات میں جمعیۃعلماء ہند اور اس کی صوبائی یونٹوں کی رفاہی کاموں کو پڑھنے کا موقع ملاجوقابل قدربھی ہے اورقابل ستائش بھی گو کہ جمعیۃ ایک خالص دینی جماعت ہے لیکن اس کے دائر کار میں تعلیمی، معاشی اور معاشرتی امور ہمیشہ سے ترجیحی طورپر شامل رہے ہیں جو ملک و ملت کے مفاد میں ہو۔ اس کیلئے جمعیۃ علما ہند کی قیادت نہ صرف ہمیشہ آواز اٹھاتی رہی ہے بلکہ اس کیلئے عملی طور پر جد وجہد بھی کرتی رہی ہے اور تسلسل کے ساتھ کررہی ہے۔اسی کا نتیجہ ہے کہ یہ جماعت خاموشی کے ساتھ ملک وملت کی تعمیر میں پوری سرگرمی کے ساتھ اپنا کردارنبھا رہی ہے۔ اس تنظیم کی صوبائی اکائیوں نے ملک میں نافذلاک ڈاؤن میں جس طرح رات ودن روزے کی حالت میں خدمت خلق کو عبادت سمجھ کر انجام دیا وہ ہم سب کیلئے قابل رشک ہی نہیں بلکہ لائق تقلید بھی ہے۔ جماعت کے بے لوث خادم اور مخلص قائد مولانا سیدا رشدمدنی نے اپنی پیرانہ سالی اورمختلف امراض کے باوجود جب سے اس جماعت کی باگ ڈورکو سنبھالی ہے، تب سے جمعیۃ علماء کی کارکردگی پہلے سے کہیں زیادہ متحرک اورمضبوط شکل میں سامنے آرہی ہے۔ ابھی چند دن پہلے مدارس دینیہ اورغریب مزدور،ناداراور بے بس لوگوں کی مددکیلئے ان کا یہ اشتہارکہ ”اس دفعہ رمضان المبارک میں جمعیۃکسی طرح کا چندہ نہیں لے گی، ایک مثالی اورتاریخ ساز فیصلہ ہے جو ملک میں پھیلی دیگر ملی تنظیموں کے لیے بھی قابل تقلید ہے۔مولانا محترم کے اس جرأت مندانہ بیان کوبھی تاریخ میں صدیوں تک یادرکھاجائے گا کہ”بے سہارالوگوں کی مددکرنے والوں نے اپنی شناخت کپڑوں سے کرادی ہے“یہ تاریخی جملہ نے لوگوں کو حضرت شیخ الاسلام ؒ کی مقدمہ کراچی میں انگریزحاکم کے سامنے دیئے ہوئے اس بیان کی یادتازہ کردی ہے کہ ”اسی لئے تو میں دیوبندسے اپنا کفن ساتھ لے کر آیا ہوں“۔ حضرت شیخ الاسلام کے اس حقیقی جانشین کی جرأت وبیباکی پر اظہارتشکرکرتے ہیں اورہدیہ سلام پیش کرتے ہیں کلیم عاجز صاحب کے اس شعرکے ساتھ:
کوئی بزم ہوکوئی انجمن یہ شعاراپنا قدیم ہے
جہاں روشنی کی کمی ملی وہیں ایک چراغ جلادیا

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)