لاک ڈاؤن مکمل طورپرناکام،کیسزبڑھ رہے ہیں توپابندیاں ہٹائی جارہی ہیں:راہل گاندھی

نئی دہلی:کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے ویڈیوپریس کانفرنس کر کے مودی حکومت کے وائرس اور لاک ڈاؤن کو لے کر اٹھائے گئے اقدامات پرتنقیدکی ہے۔ساتھ ہی چین ،لداخ اورنیپال کے مسئلے پربھی سوال اٹھاکرجواب مانگاہے۔ انہوں نے کہاہے کہ بھارت ہی ایک ایسا ملک ہے جہاں پرمریضوں کی تعداد بڑھ رہی ہے لیکن لاک ڈاؤن ختم کیاجا رہاہے۔ راہل گاندھی نے کہاہے کہ لاک ڈاؤن کا مقصد مکمل طورپرفیل ہوگیاہے۔ صدر راہل گاندھی نے آج ملک میں وائرس کے بڑھتے معاملات کولے کر آج مرکز کی نریندر مودی حکومت کونشانہ بنایاہے۔ راہل گاندھی نے پریس کانفرنس کر کے کہا ہے کہ لاک ڈاؤن سارے میں مرحلے فیل رہے ہیں۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے پہلے 21 دنوں کا لاک ڈاؤن کیا، لیکن اس کوبڑھاکرڈھائی ماہ تک کیاگیااورجب کیسزبڑھ رہے ہیں تویہ ہٹایاجارہاہے۔بھارت اس وقت ناکام لاک ڈاؤن کے نتائج کا سامنا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہاہے کہ حکومت بتائے کہ انفیکشن کو روکنے اور لاک ڈاؤن ہٹانے کے لیے کیا حکمت عملی ہے۔ راہل گاندھی نے کہاہے کہ انہوں نے فروری میں ہی بتا دیا تھا کہ ایک بڑا بحران آنے والا ہے اور آج پھر کہہ رہا ہوں کہ حکومت نے ابھی تک قدم نہیں اٹھائے تو بڑا اقتصادی بحران آنے والاہے۔ راہل گاندھی نے کہاہے کہ میرا اب بھی ماننا ہے کہ اگر مالی مددنہیں دی گئی توجو نقصان اب تک ہوا ہے، اس سے زیادہ ہونے کاامکان ہے۔ میری درخواست ہے کہ مالی مدد کرنے کی ضرورت ہے۔ ایک قومی لیڈرکے طور پر یہ کہنا احمقانہ ہے، لیکن لوگ بے روزگار ہو جائیں گے اور اس وجہ سے ہم اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ غریبوں کو پیسے کی ضرورت ہے۔ اگرایسانہیں کیاگیاتویہ مہلک ہوگا۔کانگریس لیڈر نے کہاہے کہ بھارت ایک بہت سنگین بے روزگاری مسئلہ کا سامنا کر رہا ہے اور یہ کچھ وقت کے لیے نہیں ہے ۔ میک ان انڈیا اور دیگر اقدامات نے متوقع نتائج نہیں دیئے ہیں۔ ابھی وائرس نے بے روزگاری کے مسئلے کو کئی گنا بڑھا دیاہے۔راہل گاندھی نے کہا کہ وزیر اعظم مودی جی کا اقتصادی پیکیج جی ڈی پی کا 10 فیصد نہیں صرف 1 فیصدہے۔ انہوں نے ملک کے مزدوروں کے پاس اس وقت پیسے کی کمی ہے۔ انھیں کیش دینے کی ضرورت ہے۔ لیکن حکومت ایسانہیں کر رہی ہے۔ کانگریس نے ایسے لوگوں کو جو انکم ٹیکس نہیں دیتے ہیں ان کو 7500 روپے مہینے دینے کامطالبہ کیاہے لیکن اس بات پربھی غور نہیں کیا جا رہا ہے۔ راہل گاندھی نے کہاہے کہ حکومت میں جو پالیسی سازہیں ان سے ان کی بالواسطہ طور پر بات ہوئی تو ان کا کہنا ہے کہ اگر حکومت کیش دیتی ہے توبھارت کی درجہ بندی گھٹ جائے گی۔ لہٰذاحکومت ایسانہیں کررہی ہے۔راہل گاندھی نے کہاہے کہ بھارت کی درجہ بندی بیرون ملک میں طے نہیں ہوتی ہے۔ اس کی طاقت ملک کے اندرہے۔ ملک کے اندرسب کو مضبوط کرناہے۔اس کے علاوہ لداخ،چین اورنیپال کے مسئلے پرانھوں نے واضح جواب مانگاہے اورکہاہے کہ معاملے میں شفافیت نہیں ہے۔معاملے کوصاف طورپربتاناچاہیے۔