لاک ڈاؤن میں زندگی کی انوکھی عید-نازش ہما قاسمی

کورونا کی مہاماری سے پیدا شدہ لاک ڈاؤن اتنا طویل ہوا کہ امسال مسلمانوں کا مقدس مہینہ رمضان بھی اس کی زد میں آگیا ایک طرف جہاں اللہ کے بندے مسجدوں میں اجتماعی عبادت کرنے سے قاصر رہے وہیں دوسری طرف نماز دوگانہ کے لیے بھی انہیں عیدگاہ یا مسجدوں کے دروازے بند ملے۔ کسی نے بھی نہیں سوچا ہوگا کہ زندگی میں ایک وقت ایسا آئے گا جب مسجدوں کے دروازے بند ہوجائیں گے اور نماز و روزہ اور عید کی نماز گھروں میں پڑھنی پڑے گی؛ لیکن مشیت خداوندی کو یہی منظور تھا؛ اس لیے ہم بھی خدا کی مشیت پر راضی ہیں؛ کیوں کہ اس کی منشا پر راضی ہونا ہی شان عبدیت ہے۔ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ اس بار کیا عید منائیں گے اور کیوں منائیں؟ جب دنیا کی رونقیں ہی ماند پڑ گئی، جب بازار بند ہے، جب کپڑے ہی نہیں سلے تو کیا پہن کر منائیں ان لوگوں کے لیے تو واقعی افسوس کی بات ہے کہ وہ کیسے منائیں گے؛ لیکن جو لوگ روزہ اللہ کے لیے رکھتے تھے، جو عبادت اللہ کے لیے کرتے تھے جو اعمال صالحہ خود کو اور اپنے اہل خانہ کو جہنم کی آگ سے بچانے کے لیے کرتے تھے وہ یقیناً اس دن خوشی منائیں گے؛ کیوں کہ حدیث قدسی ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ ’’روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا اجر دوں گا‘‘ یقیناً مسلمانوں کی اکثریت نے روزہ خدا کے لیے رکھا ہوگا تو انہیں خوش خبری ہے کہ آج یکم شوال المکرم عیدالفطر کا دن ہے اور اس دن اللہ روزے کا اجر دے گا۔ اللہ کا اجر کیسا ہوگا یہ آپ اس کی شان یکتائی سے اندازہ لگا سکتے ہیں ممکن ہو کہ اللہ کے نیک بندوں نے اس لاک ڈاؤن کا بھر پور فائدہ اُٹھایا ہو، آہ سحر گاہی سے خدا کو منالیا ہو اور اپنے روزوں سے خدا کو راضی کرلیا ہو ان کے افعال صالحہ اور اعمال حسنہ کی بدولت امت مسلمہ سے یہ پریشانی دور کردے جس کی لپیٹ میں پوری انسانیت ہے۔ ہمیں خدا پر بھروسہ رکھنے کو کہا گیا ہے اور مسلمانوں کو خدا پر ہی بھروسہ رکھناچاہیے۔ ان شاء اللہ جلد از جلد یہ دن ختم ہوجائے گا۔ اور وہی پرانی رونقیں لوٹ آئیں گی؛ مسلمان مسجدوں میں پہلے سے زیادہ کی تعداد میں نظر آئیں گے۔ بلکہ میرا حسن ظن تو یہی ہے کہ پوری دنیا کے مسلمان اسلام میں پورے کے پورے داخل ہوجائیں گے ان کے اعمال سے افعال سے کردار سے اسلام جھلکے گا غیر مسلم ان باکردار مسلمانوں کو دیکھ کر اسلام کے بارے میں پڑھیں گے اور خدا پر ایمان لے آئیں گے ان شاء ا للہ۔ لیکن خدشہ یہ بھی ہے کہ مسلم قوم میں کچھ لوگ بنی اسرائیل کی روش پر گامزن ہیں انہیں جب مسلم تنظیموں اور علما کی طرف سے یہ کہا گیا کہ لاک ڈاؤن کی پاسداری کرتے ہوئے مسجدوں میں نہ جائیں تو انہوں نے فوراً قبول کرلیا؛ لیکن جب ان سے یہ کہا گیا کہ بازاروں میں عید کی خریداری نہ کریں، پرانے کپڑوں میں ہی عید کی نماز پڑھیں، پڑوسیوں کا خیال رکھیں، مدارس کی امداد کریں تو یہ قوم اپیلوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے جوق در جوق بازاروں کی رونقوں میں اضافے کا سبب بن گئی۔ مسلم علاقوں میں بھیڑ و اژدہام دیکھ کر افسوس ہوا اور فرقہ پرستوں کا فرقہ پرستی پھیلانے کا موقع بھی مل گیا۔ اگر مسلمان باز آجاتے، نئے کپڑے نہیں پہنتے تو کیا عید نہیں ہوسکتی تھی؟ بالکل ہوسکتی تھی لیکن ان عقل کے اندھوں کو کون سمجھائے، پیسوں کی ریل پیل نے آنکھیں موند دی ہیں اللہ انہیں ہدایت دے، غریب پرور بنائے، مسکینوں کی خبر گیری کرنے والا، پڑوسیوں کے حقوق ادا کرنے والا اور دیگر اسلامی کردار کا امین بنائے تاکہ فرقہ پرستو ں کو فرقہ پرستی کا موقع نہ ملے۔ اسلام اور مسلمانوں کی بدنامی نہ ہو۔ اللہ ہمیں عید سعید کی حقیقی خوشیوں سے نوازے اور حقیقی خوشی بازاروں کی رونقوں میں اضافہ کرنا نہیں، پارکوں اور ساحل سمندر جاکر اہل خانہ کے ساتھ اس مبارک دن میں مٹر گشتی کرنے سے نہیں ملنے والا۔ یہ ذاتی خوشی ہے، حقیقی خوشی اللہ کے بندوں کے ساتھ حسن سلوک، غریبوں کی دادرسی، مجبوروں کا تعاون، بیواؤں، یتیموں اور مسکینوں کی امداد اور ان کے چہروں پر مسکراہٹ لانے کے سبب میں پنہاں ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اسلام پر مکمل طور پر عمل کرنے کی توفیق دے اور حقیقی خوشی سے نوازے۔ آمین۔ اس عید پر عہد کریں کہ ان شاء اللہ ہمیشہ اسلامی اصول پر کار بند رہتے ہوئے دین اسلام کے حقیقی سپاہی رہیں گے، کبھی نماز، روزہ، مسجد، وغیرہ سے منہ نہیں موڑیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے پورے عالم اسلام کو ایسے حالات سے شاید اس لیے دوچار کیا ہو کہ ہم اندازہ لگالیں کہ کشمیر میں طویل لاک ڈاؤن، شٹر ڈاؤن اور گولیوں کی تڑتڑاہٹ میں لوگ کیسے خوشی مناتے تھے، شام کے جنگ زدہ ماحول اور غزہ پٹی میں بموں کے دھماکے میں کیسے عید مناتے تھے، برما میں ساحل سمندر پر اپنے عزیز و اقارب کی غرقابی کا نظارہ دیکھ کر کیسے عید مناتے تھے؟ اللہ نے اس بار ہمیں ان کے احساسات، ان کے دکھ درد سمجھنے کے لیے یہ دن دکھائے ہیں تاکہ ہم پوری دنیا کے مسلمان ایک جسم کے مانند ہوکر اسلام کی بقا کے لیے اُٹھ کھڑے ہوں اور ظالموں کے ہاتھوں کو روکنے والے بنیں، خدا کی اس سرزمین پر جہاں سرمایہ دارانہ نظام کے باعث ہر طرف ظلم وجور کا بازار گرم ہے وہاں عدل وانصاف کی حکومت قائم کرکے انسانیت کو دکھی ماحول سے نجات دیں۔ آمین

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)