لاک ڈاؤن میں تعلیم: مسائل و مشکلات اور حل ـ جنید احمد قاسمی

(قسط اول)
گزشتہ ڈیڑھ دو سالوں سے بچوں کی تعلیم و تربیت کا سلسلہ رک گیا ہے۔ طلبہ عزیز کے ساتھ علماء و حفاظ بھی گھر بیٹھ گئے یا اپنا راستہ ہی بدل لیا۔ مدارس کا مستقبل کیا ہے؟ قریب کے دنوں میں مدارس کھلیں گے یا نہیں؟ کوئی واضح منظر سامنے نہیں ہے۔ اگر لاک ڈاؤن کا یہی تسلسل رہا،تو مسلم بچے سب کے سب جاہل ہوجائیں گے۔ اور چند برسوں بعد ایک ایسی نسل تیار ہو گی جسے علم سے کوئی واسطہ نہیں رہےگا- حکومت کے احکامات کا پاس رکھتےہوئےہمیں خیر امت ہونے کی حیثیت سے کیا کرنا چاہیے؟ کیوں کہ اسلام میں دین کی بنیادی تعلیم روزہ نماز کی طرح فرض عین ہے۔ جس طرح دیگر فرائض سے ہم پہلو تہی نہیں کر سکتے کسی نہ کسی شکل میں ان کی ادائگی کرنی ہوگی – اسی طرح دین کی بنیادی تعلیم کا سلسلہ بھی کسی نہ کسی صورت میں جاری رکھنا ہوگا-
اب تک تعلیم و تدریس کے چار ذرائع کسی نہ کسی شکل میں کام میں لائے جا تے رہے ہیں۔
تعلیم کے ذرائع:
1- مدرسہ
2- مکتب
3- گھر گھر تعلیم
4- آن لائن تعلیم
مدرسہ: حکومتی امتناعی احکامات کے بموجب مدارس نہیں کھولے جا سکتے- البتہ مدارس میں پڑھنے والے طلبہ تھوڑی تھوڑی تعداد میں اپنے تعلیمی سلسلے کو مقامی صاحب فن علماء کرام سے پڑھ کر جاری رکھ سکتے ہیں۔ اور ترقی بھی پا سکتے ہیں۔
مکتب:
مدارس کی طرح مکاتب بھی کھلے عام نہیں چلائے جا سکتے- ہاں البتہ بھیڑ کی بہ جائے محلے کے محدود بچوں کو لے کر اس سلسلے کو جاری رکھا جا سکتا ہے۔
گھر گھر تعلیم:
اس تیسرے فارمولے پر بہ آسانى عمل کیا جا سکتا ہے۔ یہ طریقہ سب سے آسان معلوم ہوتا ہے۔ یعنی: احتیاطی تدابير کے ساتھ ٹیوشن کا سلسلہ جاری رکھا جا ئے۔
آن لائن تعلیم:
درج بالا سہولیات کی عدم دستیابی کے وقت موبائل کے مفاسد سے گریز کرتے ہوئے تعلیمی سلسلے کو جاری رکھا جا سکتا ہے۔
مسائل و مشکلات اور حل:
مذکورہ شکلوں میں سے کسی شکل میں بھی تعلیمی سلسلے کو جاری رکھا جائے تو سب سے بڑا مسئلہ فیس یا تنخواہ کا ہوگا۔
۱- موجودہ حالات کے پس منظر میں اچھا موقع ہے کہ: گھر گھر دینی تعلیم و تدریس کا عمومی ماحول بنانے کی مسلمانوں کو دعوت دی جائے ۔اور زمینی سطح پر کوشش بھی کی جاۓ- ہندوستان بھر اور خاص طور سے بہار کے مسلمانوں میں دینی تعلیم کی طرف سے جو بے رغبتی پیدا ہوئی اور پیدا ہو رہی ہےکوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ـ اس کی سب سے بنیادی وجہ دین کی اہمیت ,دینی تعلیم کے شخصیت سازی میں اہم کردار سے ناواقفیت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ: ایک انگلش میڈیم پرائمری اسکول میں ماہانہ کئی ہزار روپے والدین دینے کو تیار رہتے ہیں۔ لیکن دینی تعلیم کی بات آتی ہے تو چند سو بھی بہ مشکل نکل پاتے ہیں۔ کیوں کہ ادھر دنیا نہیں ملنے والی- جلسے جلوس, خوشی کی تقریبات اور تعمیرات وغیره کے لیے لاکھوں روپے ہماری قوم خرچ کر سکتی ہے۔ لیکن دینی تعلیم اور اساتذہ کی تنخواہ کی بات آتی ہے۔ تو پریشانی ہونے لگتی ہے۔ سچائی یہ ہے کہ: اگر فیس لے کر کوئی بندہ علم دین سکھاتا ہے تو وقت پر ان کی فیس ادا کرنے میں بڑی کوتاہیوں سے کام لیا جاتا ہے۔ بلکہ بعض لوگوں کا زور اس درجہ چلتا ہے کہ بے چارے معلم کی فیس دو دو تین تین مہینہ تاخیر سے مل پاتی ہے۔ اگر بچہ بالفرض بیمار ہوجائے یا ناغہ کر دے تو اس مہینہ کی مدت کی فیس نہ دینا ہی ان کے نزدیک حق ہے۔
جب اسکول کھلے ہوتے تھے تب کی بات یہ ہے کہ برابر وقت سے چاہے قرض لینا پڑ جائے پیشگی سہ ماہی شش ماہی فیس ادا کرنے کا اہتمام ہوتا تھا۔ حالانکہ اسکول کی فیس کسی بھی مکتب اور مدرسہ سے کئی گنی زیادہ ہوتی تھی ۔ تاہم مکتب یا ٹیوشن کی فیس پر کوئی توجہ نہیں-
کھلی آنکھوں تجربہ و مشاہدہ ہے –
میرے خیال سے اس کی وجہ یہ ہے کہ: ہم نے دینی بنیادی تعلیم کی اہمیت کے تعلق سے مسلمانوں میں کم محنت کی ہے ۔ اللہ پاک کے فیصلے علم دین کی قدر کے مطابق اترتے ہیں۔ موجودہ صورت حال میں نہیں لگتاکہ : فیس پر دینی تعلیم کا علاقائی نظام چلے گا- اس لیے بڑی تنظیمیں اور متمول مسلمان تنخواہ کی ذمہ داری لیں- ایک ایک استاذ کم از پانچ ت آٹھ گھنٹے اپنا وقت دیں-
۲-دوسری بات یہ ہے کہ: مروجہ مدارس کا وجود جب سے ہوا ہے۔مسلمانوں کے کاندھوں کا بوجھ ہلکا ہو گیا- اب تو دھیرے دھیرے گھر اور محلے کی مسجد میں صباحی و مسائی مکتب کا معمول بھی ختم ہو تا جا رہا ہے; بلکہ ختم ہو چکا ہے۔ اس آسانی کا نتیجہ یہ ہوا کہ : دینی تعلیم کی بنیادی استعداد زیرو پر آگئی -یا انحطاط کا شکار ہو گئی – تاریخ کا مطالعہ کرنے والے جانتے ہیں کہ جب گھر اور محلہ وار دینی تعلیم کا انتظام تھا تو کس قدر محلوں اور گھروں میں رونق تھی – اخلاق وکردار کے پودں کو کس خوش اسلوبی کے ساتھ سنوارا جاتا تھا- اور اس کی برکت سے گھر کے افراد معلم ہو کر خود کو بھی کتنا سنوارتے اور اپنے اخلاق و اطوار کو بناتے تھے۔ کیوں کہ عموما اپنے نونہالوں کی تعلیم وتربیت خود کے ذمہ ہوتی تھی یا کم از کم نگرانی اپنے ذمہ ہوتی تھی ـ اپنے آئینے میں خود کو پہچاننے اور جاننے کی توفیق ہوتی تھی ـ الذین یعرفونہ کما یعرفون ابنائہم میں بنوت و ابوت کے تعلق پر اگر غور کیا جائے تو سمجھ میں آتا ہے کہ : ماں باپ کو اولاد کے لیے اپنا کتنا زیادہ سے زیادہ وقت صرف کرنا چاہیے ـ موجودہ وقت میں ماں باپ اپنےبچوں کو کتنا وقت دے پاتے ہیں؟ یہ خود ایک بڑا سوال ہے ۔ جس کی وجہ سے خون جگر سے اولاد کے دل و دماغ پر جو مثبت اثرات مرتب کئے جاتے تھے۔ اس میں کمی آگئی – نتیجہ یہ ہوا کہ مسلم بچے اپنے ماں باپ کو پہچاننے اور ان کے حقوق ادا کرنے میں بہت پیچھے رہ گئے ـ
مدارس میں پڑھنے والے عموما وہی بچے کامیاب ہوئے جن کے گھر کا ماحول دینی تعلیم کے تئیں سازگار رہا- گھر کے دیگر ممبران کے اندر دینی تعلیم کی تڑپ رہی- ورنہ بہت سارے طلبہ کو دیکھا سال بھر مدرسے میں رہے ; لیکن جب گھر آئے تو ماحول نہ پاکر تعلیم سے ہی بدک گئے۔۔
اس تفصيل کا مقصد یہ بتانا ہے کہ: اصل تعلیم گھر کی ہوتی ہے۔ افسوس ہے کہ مسلمان گھر کی ماحول سازی سے غافل ہو گئے- تعلیم وتربیت کے تعلق سے گھر کا دینی ماحول بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ موجودہ صورت حال میں اچھا موقع ہے کہ: جب تک مدارس نہ کھلیں گھر اور محلوں میں تعلیم کا نظام قائم کرنے کی مسلمانوں کو دعوت دی جائے ۔ اگر ایسا کر لیا گیا تو ان شاء اللہ جیسے بھی حالات آئیں گے۔ تعلیم جاری رہ سکتی ہے۔ اور افراد سازی کا جو رونا رویا جاتا ہے۔ اس میں بہتری آئے گی-
آن لائن تعلیم:
جہاں محلہ وار یا بستی بستی تعلیم کا انتظام نہ ہو سکے وہاں کے سوجھ بوجھ والے بچے آن لائن تعلیم حاصل کریں- اس شرط کے ساتھ کہ تربیت کی نیت سے اپنے علاقے کے (اللہ کا خوف رکھنے والے)نیک لوگوں کے ساتھ وقت گزاریں گے- موبائل میں موجود(تعلیم سے متعلق) اچھی باتوں سے ہی سروکار رکھیں گے۔ اس بات سے اتفاق نہیں کیا جا سکتا کہ آن لائن تعلیم سے فائدہ نہیں ہوتا –
البتہ طلبہ کے لایعنی چیزوں میں مشغول ہونے کے خطرات زیادہ رہتے ہیں۔ اگر گھر کے ذمہ دار نگرانی رکھیں تو بہتر نتائج سامنے آئیں گے۔
محلہ وار اور گھر گھر تعلیم کی ترویج کی کوششوں کے ساتھ آن لائن تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا جائے-