لاک ڈاؤن میں پوری تنخواہ:سپریم کورٹ نے وزارت داخلہ کے حکم پر روک لگائی

نئی دہلی:سپریم کورٹ نے لاک ڈاؤن میں مکمل تنخواہ نہیں دے پانے والی کمپنیوں کے خلاف مقدمہ نہیں چلانے کا حکم دیا ہے۔ملک کی عدالت عظمی نے جمعہ کو پورے ملک میں انتظامیہ کو حکم دیا کہ وہ ان کے آجروں (ملازمین) کے خلاف مقدمہ نہ چلائیں، جو کووڈ 19 کی وجہ سے ملک بھر میں بند کے دوران کارکنان کو پوری تنخواہ ادا کرنے کے قابل نہیں ہیں۔ جسٹس ایل ناگیشور راؤ، سنجے کشن کول اور بی آر گوئی کی بنچ نے مرکز اور ریاستوں سے اجرت کی ادائیگی نہ کر پانے پر نجی کمپنیوں، فیکٹریوں وغیرہ کے خلاف مقدمہ نہیں چلانے کو کہا۔عدالت عظمی نے صنعتی یونٹس کی جانب سے دائر درخواستوں پر مرکز سے جواب مانگا ہے۔قابل ذکرہے کہ مرکزی وزارت داخلہ نے 29 مارچ کو ایک سرکلر کے ذریعے پرائیوٹ کمپنیوں کو ہدایت دی تھی کہ وہ ملک بھر میں بند کے دوران بھی ملازمین کو پوری ادائیگی کریں۔صنعتی کمپنیاں یہ دعوی کرتے ہوئے عدالت چلی گئیں کہ ان کے پاس ادا کرنے کا کوئی اقدام نہیں ہے، کیونکہ کام ٹھپ پڑا ہوا ہے۔درخواست گزاروں نے عدالت سے کہا کہ کوروناوائرس وبا کے پیش نظر لاگو ملک بھر لاک ڈاؤن کے دوران تنظیموں کو ان کی افرادی قوت (ورک فورس) کو ادائیگی کرنے سے مکمل طور پر چھوٹ دی جانی چاہئے۔پٹیشن ممبئی کے ایک کپڑا فرم اور 41 چھوٹے پیمانے کی تنظیموں کی جانب سے دائر کی گئی تھی۔عرضی میں وزارت داخلہ کے 29 مارچ کے حکم کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔درخواست گزاروں نے ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایکٹ، 2005 کی دفعہ 10 (2) (آئی) کی آئینی قانونی حیثیت کو چیلنج کیا ہے۔