لاک ڈاؤن میں عید الفطر کی نماز کیسے پڑھیں؟ مفتی امانت علی قاسمی

استاذ و مفتی دارالعلوم وقف دیوبند

لاک ڈاوٴن اور کرونا وائرس کی وجہ سے امسال عید الفطر عام سالوں سے بالکل مختلف ہوگا ، عید الفطر کی نماز اور عید کی تیاری سے متعلق ایسا کبھی سوچا بھی نہیں گیا تھا ، لیکن اسلام نے ہمیں یہ تعلیم دی ہے کہ اللہ تعالی کے حکم اور مرضی کے بغیر کوئی چیز وجود میں نہیں آتی ہے، اور اللہ تعالی جس حال میں رکھے ہمیں اس حال میں خوش رہنا چاہیے ، اس لیے کہ اس وقت کا بنیادی حکم تسلیم و رضا ہے ۔
موجودہ حالات میں کرونا وائرس کے بڑھتے اثرات اور لاک ڈاؤن کے قانون کے پیش نظر عید کی تیاری اور نماز کے مسئلہ کو حل کرنے کی ضرورت ہے ، تاکہ ہم عید کی خوشی میں شریک بھی ہوں اور قانون شکنی اور بیماری کے اثرات سے بھی بچ سکیں ۔اس لیے جیسا کہ ارباب حل و عقد کی طرف سے اپیل جاری کی گئی ہے کہ عید کو سادگی کے ساتھ منائی جائے ، اخیر رمضان میں عید کی خریداری کے لیے بازاروں میں جوازدحام ہوتا ہے یہ یقینا ملکی قوانین کے خلاف ورزی کے ساتھ بیماری سے کھیلنے کے مترادف ہوگا؛ اس لیے موجودہ حالات میں یہی بہتر ہے کہ عید کی خریداری کم سے کم کی جائے اور گھر میں موجود اچھے کپڑوں میں عید کرلی جائے نئے کپڑے کو عید کے لیے لازم نہ سمجھا جائے ۔اس لیے کہ نئے کپڑے یا موجود کپڑوں میں سے عمدہ کپڑے پہننا مستحب ہے، امسال موجود کپڑوں میں سے عمدہ پہن کر اس مستحب عمل پر عمل کیا جاسکتا ہے ۔
اسی طرح عید کے دن لوگوں میں ملنے جلنے میں احتیاط کو ملحوظ رکھا جائے ، اور جس طرح اب تک سوشل ڈسٹینسنگ کا اہتمام کیا جارہا ہے ، عید میں بھی اس کو پیش نظر رکھا جائے ، عید کی مبارک بادی میں لوگوں سے مصافحہ کرنے اور گلے ملنے سے بچا جائے ۔گھروں میں بھی بڑے پروگرام سے احتراز کیا جائے یہ اس وقت کی ضرورت ہے اس سے ہم اپنے آپ کو اور اپنے بھائیوں کو مشکلات سے بچاسکتے ہیں ۔
جہاں تک عید کی نماز کا مسئلہ ہے تو ابھی کئی دن باقی ہیں ،ممکن ہے کہ اس میں کچھ ڈھیل ہوجائے اور عید کی نماز کی کوئی بہتر سبیل پیدا ہوجائے ۔خدا کرے ایسا ہی ہوجائے ۔ تاہم اگر کوئی واضح راستہ نہیں نکلتا ہے تو اس صورت میں غور کرنے کی بات یہ ہے کہ ملک کو اس وقت تین حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے گرین زون ، اورینج زون اور ریڈ زون ۔ گرین زون اور اورینج زون میں کافی نرمی برتی جارہی ہے ، ہر قسم کی دکانیں کھل رہی ، میت میں بھی بیس لوگوں کو اور شادی کے موقع پر پچاس لوگوں کو شریک ہونے کی اجازت مل رہی ہے ، بازاروں میں بھی چہل پہل دکھائی دیتا ہے ، ایسی صورت میں مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ملکی سطح پر نہیں؛ بلکہ علاقائی سطح پر ضلع انتظامیہ اور مقامی پولیس تھانہ سے پچاس آدمی یا سو آدمی کے ایک ساتھ نماز پڑھنے کی اجازت حاصل کی جائے ، اگر اجازت مل جائے تو سو شل ڈسٹینسنگ کا خیال رکھتے ہوئے اس کا ایسا نظام مرتب کیا جائے جس میں قانون کی خلاف ورزی نہ ہو اور مسجدوں میں، اسی طرح پبلک مقامات مدرسہ، شادی خانہ اوراس طرح کے مقامات میں جتنے لوگوں کی اجازت مل جائے وہاں عید کی نماز جماعت سے پڑھی جائے۔
اگر اس طرح کی بھی اجازت نہیں ملتی ہے ، تو ایسی صورت میں جس طرح جمعہ کا نظام اب تک قائم ہے اسی طرح عید کی نماز ادا کی جائے اس لیے کہ جمعہ کی جو شرطیں ہیں وہی عید کی بھی شرطیں ، جن لوگوں پر جمعہ ہے انہی پر عید ہے ، جس طرح ایک شہر میں متعدد جگہ جمعہ کی نماز ہوسکتی ہے اسی طرح ایک شہر میں متعدد جگہ عید کی نماز ہوسکتی ہے ؛اس لیے گھروں کے اس حصے میں جہاں پر باہر سے آنے کی اجازت ہو وہاں پر عید کی نماز ادا کرلی جائے، اور اگر ضرورت سے زائد لوگ جمع ہونے کا اندیشہ ہو تو کچھ لوگوں کو بلا کر باہر سے دروازہ بند بھی کیا جاسکتا ہے اس سے اذن عام فوت نہیں ہوتا ہے ۔آپ ﷺ اور حضرات صحابہ بارش وغیرہ عذر کی وجہ سے عید گاہ کے بجائے مسجد میں عید کی نماز پڑھتے تھے ( السنن الکبری للبیہقی حدیث : ۲۶۵۷)اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عذر کی وجہ سے جگہ کو تبدیل کیا جاسکتا ہے اور ظاہر ہے کہ جب عید کی نماز مسجد میں ہوگی تو سارے لوگ ایک مسجد میں نہیں سما سکیں گے اس لیے متعدد مسجدوں اور دوسرے مقامات پر عید کی نماز پڑھنے کی ضرورت ہوگی ۔اسی طرح سنن بیہقی میں ایک حدیث ہے کہ اگرحضرت انس رضی اللہ کی عید کی نماز فوت ہوجاتی تو وہ گھر والوں کو جمع کرکے عید کی نماز پڑھاتے تھے (السنن الکبری للبیہقی حدیث نمبر:۶۲۳۷)۔ اس سے بھی گھر میں اور دوسرے مقامات پر عیدکی نماز کرنے کی گنجائش معلوم ہوتی ہے۔
وتجب صلاة العیدین علی اہل الامصار کما تجب الجمعة و ہکذا روی الحسن عن ابی حنیفة انہ یجب صلاة العید علی من تجب علیہ صلاة الجمعة۔(بدائع الصنائع ۱/۲۷۵)
واما شرائط وجوبہا وجوازہا فکل ما ہو شرط وجوب الجمعة و جوازہا فہو شرط وجوب صلاة العیدین و جوازہا من الامام و المصر و الجماعة و الوقت الا الخطبة فانہا سنہ بعد الصلاة و لو ترکہا جازت صلاة العید( بدائع الصنائع ۱/۲۷۵)
جہاں پر امام کے علاوہ تین لوگ نہ ہو وہاں عید کی نماز نہ کی جائے وہ حضرات کسی دوسری جماعت میں شریک ہونے کا نظم بنالیں اور اگر کوئی نظم نہ ہو سکے تو گھر میں دو دو رکعت کر کے چار رکعت چاشت کی نماز پڑھ لیں ، یہ نماز عید کی نماز کا بدل نہیں ہے لیکن مستحب ہے کہ جن سے عید کی نماز فوت ہوجائے وہ چاشت کی چار رکعت پڑھ لیں ۔
ان فسدت بخروج الوقت أو فاتت عن وقتہا مع الامام سقطت ، و لایقضیہا عندنا و قال الشافعی یصلیہا وحدہا کما یصلی الامام یکبر فیہا تکبیرات العید و الصحیح قولنا لأن الصلاة بہذہ الصفة ما عرفت قربة الا بفعل رسول للہ ﷺ کالجمعة ورسول للہ ﷺ ما فعلہا الا بالجماعة کالجمعة ، فلایجوز ادائہا الا بتلک الصفة و لانہا مختصة بشرائط یتعذر تحصلیہا فی القضاء فلا تقضی کالجمعة و یصلی اربعا مثل صلاة الضحی ان شاء لانہا اذا فاتت لا یمکن تدارکہا بالقضاء لفقد الشرائط فلو صلی الضحی لینال الثواب کان حسنا لکن لا یجب لعدم دلیل الوجوب ( بدائع الصنائع ۱/۲۷۹)
جن جگہوں پر جمعہ کے شرائط نہیں پائے جاتے ہیں اور وہاں پر جمعہ کی نماز نہیں ہوتی ہے اور وہاں کے لوگ عید کی نماز پڑھنے کے لیے دوسری بستی میں جاتے تھے ایسے لوگوں پر عید کی نماز واجب نہیں ہے وہ لوگ اس دن اپنے گھر میں یا مسجد میں عید کی نماز نہیں پڑھیں گے اگر چاہیں تو وہ حضرات بھی چاشت کی چارکعت پڑھ سکتے ہیں ۔
اگر گھر میں عید کی نماز ہورہی ہے تو خواتین بھی عید کی نماز میں شریک ہوسکتی ہیں ،آپ ﷺ کے زمانے میں خواتین عید کی نماز میں شریک ہوتی تھیں جس طرح جمعہ کی نماز میں خوتین شریک ہوسکتی ہیں اسی طرح عید بھی خواتین شریک ہوسکتی ہیں ۔اس لیے کہ گھر سے باہر مسجد میں نمازکے لیے خواتین کے نکلنے کی ممانعت کی وجہ فتنہ ہے یہاں پر جب نماز گھر میں ہورہی ہے تو کوئی فتنہ نہیں ہے ۔ اس لیے گھر میں اگر عید نماز ہو تو خواتین بھی اس میں شریک ہوسکتی ہیں ۔
ولان خروجہن سبب الفتنة بلا شک و الفتنة حرام و ماادی الحرام فہو حرام ۔(بدائع الصنائع ۱/۲۷۵)
اگر ایک جگہ کوئی شخص عید کی نماز پڑھاچکا ہے تو اب وہ دوسری جگہ جاکر عید کی نماز میں امامت نہیں کرسکتا ہے؛ اس لیے کہ اس کا واجب ادا ہوچکا ہے اب اگر وہ دوبارہ عید کی نماز پڑھے گا تو وہ نفل نماز ہوگی جب کہ اس کے پیچھے پڑھنے والے کی نماز واجب ہے تو یہ اقتداء المفترض خلف المتنفل کی قبیل سے ہوگا جو درست نہیں ہے۔
عید کی نماز اور جمعہ کی نماز میں بنیادی فرق یہ ہے کہ جمعہ کی نماز میں خطبہ شرط ہے عید کی نماز میں خطبہ شرط نہیں ہے ، بلکہ عید کی نماز میں خطبہ مسنون ہے ، اور جمعہ میں خطبہ نماز سے پہلے ہے اور عید میں خطبہ نماز کے بعد ہے ۔ خطبہ زبانی یاد ہوتو زبانی پڑھ سکتے ہیں اور اگر یاد نہ ہو تو دیکھ کر پڑھ سکتے ہیں ، اخیر میں عید کا مختصر خطبہ بھی لکھا جاتا ہے تاکہ جن حضرات کو خطبہ یاد نہ ہو وہ دیکھ کر خطبہ پڑھ سکتے ہیں ۔
عید کی نماز جمعہ اور عام نمازوں سے مختلف ہے لیکن اتنا مشکل نہیں ہے کہ جو لوگ جمعہ پڑھاسکتے ہیں وہ عید کی نماز نہ پڑھاسکیں ، عید کی نماز بھی عام نمازوں کی طرح ہے صرف عید میں چھ زائد تکبریں ہوتی ہیں ان کو یاد رکھنے کی ضرورت ہے۔ آگے عید کی نماز کا طریقہ لکھا جاتا ہے تاکہ گھروں میں اگر نماز ہو تو غلطی سے بچ سکیں ۔
عید کی نماز واجب ہے ، اس لیے نیت کریں کہ دو رکعت عید الفطر واجب پڑھتا ہوں چھ زائد واجب تکبیروں کے ساتھ ۔ اس کے بعد امام صاحب اللہ اکبر کہہ کر ہاتھ باندھ لیں اور مقتدی حضرات بھی ہاتھ باندھ لیں اور ثنا پڑھیں ، ثنا کے بعد امام صاحب تین تکبیر کہے ہر تکبیر میں ہاتھ کو کان کی لو تک لے جانا ہے اور چھوڑ دینا ہے ، تیسری تکبیر کے بعد ہاتھ کان تک لے جاکر باندھ لینا ہے ، اس کے بعدامام قرأت کرے ، پھر رکوع سجدہ کے بعد امام دوسری رکعت میں کھڑا ہوگا اورقرأت شروع کرے گا قرأت سے فارغ ہونے کے بعد امام چار تکبیر کہے گا ہر تکبیر کے بعد امام اور مقتدی تمام حضرات ہاتھ کو کان کی لو تک لے جائیں گے پھر چھوڑ دیں گے اور چوتھی تکبیر کے ساتھ رکوع میں چلے جائیں گے چوتھی تکبیر پر ہاتھ اٹھانا نہیں ہے؛ بلکہ ہاتھ اٹھائے بغیر سیدھے سب لوگ رکوع میں چلے جائیں گے اس کے بعد معمول کے مطابق نما ز ہوگی نماز کے بعد دعا کریں اور دعا کے بعد امام صاحب دو خطبہ دے گا ، خطبہ کے لیے ممبر کا ہونا ضروری نہیں ہے بلکہ ممبر کی جگہ کرسی کا استعمال کرسکتے ہیں۔
عید کا خطبہ سنت ہے لیکن اس کا سننا واجب ہے ، اگر امام خطبہ دیکھ کر دے سکتا ہو تو دے ورنہ دونوں خطبہ میں سورہ فاتحہ اور جو سورتیں یاد ہوں وہ پڑھ لے اس طرح خطبہ ادا ہوجائے گا ۔عید کی نماز کے لیے جاتے ہوئے آہستہ سے تکبیر تشریق پڑ ھنا مسنون ہے ،اسی طرح عید کے خطبہ میں جب امام خطبہ کے لیے کھڑا ہو پہلے نو مرتبہ اللہ اکبر پڑھے پھر خطبہ شروع کرے اسی طرح دوسرے خطبہ میں پہلے سات مرتبہ اللہ اکبر پڑھے۔اگر خطبہ نہ دی جائے تو بھی نماز ہوجائے گی۔
عید کی نماز کے بعد مصافحہ ثابت نہیں ہے بلکہ بدعت ہے موجودہ حالات میں جب کہ کرونا ہاتھ کے ذریعہ پھیل سکتا ہے زیادہ ضروری ہے کہ نماز کے بعد مصافحہ سے احتراز کیا جائے ۔
کوشش کی جائے کہ عید کی نماز کے لیے جانے سے قبل صدقة الفطر ادا کردیا جائے ؛بلکہ بہتر ہے کہ دو دن قبل ادا کردیا جائے تاکہ غرباء و مساکین بھی سکون کے ساتھ عید کی نماز کی تیاری کرسکیں۔

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*