لاک ڈاؤن کے دوران کیسے رہا جائے!

لاک ڈاؤن کا فائدہ آپ کو یا معاشرے کو اسی صورت میں ہو سکتا ہے کہ بالکل تنہائی اختیار کر لیں۔ ہمارے معاشرے میں یقینا ایک مشکل امر ہے جہاں اوسط گھروں میں دو سے تین کمرے ہوتے ہیں اور گھر کے اوسط افراد سات سے آٹھ لیکن یہ اس کی نسبت کہیں بہتر کہ آپ یا آپ کے گھر کا کوئی فرد کرونا کا شکار بن جائے۔

میرا تعلق فارما سیوٹیکل انڈسٹری سے ہے، ایک ویکسین مینوفیکچرنگ پلانٹ میں کوالٹی اشورنس سپیشیلسٹ ہونے کے ناتے ہم پلانٹ کو لاک ڈاؤن کیسے کرتے ہیں گو وہ تو ممکن نہیں لیکن سٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجر کی طرز پر چند ہدایات ضرور لکھ رہا ہوں جن پر عمل پیرا ہو کر ان شاء اللہ آپ لاک ڈاؤن سے بہتر نتائج حاصل کر سکتے ہیں۔

1۔ ویسے بھی مہینے کا آخر ہے ہفتے آدھ ہفتے میں تنخواہیں ملنے والی ہیں اور تنخواہ دار طبقہ اسی وقت مہینے بھر کا راشن لے لیتا ہے اس لئے سب سے پہلے تو روز مرہ کے استعمال کی چیزیں خرید کر رکھ لیں جو کم از کم پندرہ سے بیس دن کے لئے کافی ہوں۔ جس میں خشک راشن یعنی دالیں، آٹا، چینی، گھی، نمک، سرخ مرچ، مصالحہ جات وغیرہ شامل ہیں۔ ذخیرہ اندوزی اور فضول خرچی نہ کریں کہ آئندہ آنے والے حالات کیا رخ اختیار کریں اس کا اندازہ لگانا نا ممکن ہے۔

2۔ چند سبزیاں، گوشت، مرغی، انڈے وغیرہ بھی لے کے کر محفوظ کر سکتے ہیں، تاکہ انہیں لینے کے لئے بار بار باہر نہ جانا پڑے۔ پینے کے پانی کا بھی مناسب انتظام کر لیں۔ اور عام استعمال کا پانی اگر بور سے آ رہا ہے تو اچھی بات ہے ورنہ گرم کر کے یا صابن کے ساتھ یوز کریں۔

3۔ اگر آپ کسی قسم کی ادویات لے رہے ہیں تو ان کا بھی انتظام ابھی سے کر لیں۔ اس کے علاوہ عام استعمال کی ادویات جو زخموں، بخار، درد اور فلو کی صورت میں کار امد ہوں وہ بھی لے کر رکھ لیں۔

4۔ اے ٹی ایم سے مناسب رقم نکلوا لیں، موبائل بیلنس وغیرہ کروا لیں یا پھر ضرورت کے وقت آن لائن بینکنگ کی سہولیات سے فائدہ اٹھائیں۔ بنیادی مرکز صحت، ہاسپٹلز یا کرائسسز مینیجمنٹ سیلز کے ایمرجنسی نمبرز سیو کر لیں اور ہیلتھ اتھارٹیز کے ویب پیجز کو بک مارک یا سبسکرائیب کر لیں۔

5۔ گھومنے پھرنے سیر و تفریح اور رشتہ داروں اور دوستوں سے میل ملاقات سے اجتناب کریں۔

6۔ روزانہ تازہ دودھ سبزیوں وغیرہ کی خریداری سے اجتناب کریں، خشک دودھ استعمال کریں یا پھر بغیر دودھ کی ادرک والی چائے یا سبز چائے کا استعمال کریں۔

7۔ کھانا پکانے کے لئےضروری ایندھن، اگر سوئی گیس نہیں ہے تو ایک فل سیلنڈر یا لکڑیاں یا تیل جو اتنے دنوں کے لئے کافی ہوں

8۔ گاڑی یا موٹر سائیکل میں پیٹرول وغیرہ فل کروا لیں۔

9۔ یہ سب کام اس لئے ضروری ہیں کہ بعد میں آپ کو کرنسی کا لین دین کم سے کم کرنا پڑے اگر یہ سب ممکن نہ ہو تو بھی جس حد تک آسانی سے کر سکتے ہیں اتنا کر لیں۔

10۔ کوئی اخبار والا، دودھ والا، پانی والا، کوئی مہمان کوئی ٹیوٹر یا قاری ہو تو انہیں بتا دیں کہ پندرہ دن تک آپ دستیاب نہیں ہوں گے۔

11۔ اب آپ لاک ڈاؤن کے لئے تیار ہیں۔ لاک ڈاؤن ہوتے ہی گھر میں قید ہو جائیں۔

12۔ گھر میں موجود چیزوں کا استعمال کریں اور باہر جانے سے حتی الامکان حد تک گریز کریں۔

13۔ گھر میں فرض نمازوں، سنتوں اور نوافل کا اہتمام کریں۔ گھر کے مرد حضرات پانچ وقتہ جماعت کرائیں۔

14۔ قرآن کریم کی تلاوت، مسنون اذکار اور دعاؤں کا اہتمام کریں۔

15۔ کسی بھی ضرورت کے وقت گھر سے باہر نکلنے کے لئے صرف ایک فرد کی ڈیوٹی لگائیں۔

16۔ باہر جانے والا فرد باہر کے ہر فرد سے کم از کم دو میٹر کا فاصلہ رکھے۔ اور کم سے کم بات چیت کرے۔ ہاتھ ملانے، مصافحہ کرنے اور گلے ملنے سے مکمل اجتناب کرے

17۔ اگر کچھ خریدنا ہو تو دکاندار سے مطلوبہ چیز کا کہے اور اس کے ہاتھوں سے نہ پکڑے بلکہ مناسب فاصلہ رکھتے ہوئے اپنا سامان ایک جگہ سے پکڑ کر ممکن ہو تو صرف ایک ہاتھ سے اٹھائے۔ اسی طرح پیسوں کا لین دین بجائے ہاتھوں ہاتھ کرنے کے کائونٹر کو چھوئے بغیر اس پر رکھ دے۔ صرف اتنی کرنسی یا ریزگاری رکھے کہ مطلوبہ رقم ادا کر سکے کسی قسم کا بقایا نہ لینا پڑے۔ اور اگر لینا پڑے تو اسے ہاتھ میں ہی رکھے۔ تا آنکہ گھر جا کر اسے ڈس انفیکٹ کیا جا سکے۔ کوشش کریں کہکارڈ کا استعمال نہ کریں اگر کرنا پڑے تو اسے بھی سینیٹائز یا ڈس انفیکٹ کرنے کے بعد واپس جیب میں رکھیں۔

18۔ گھر میں داخل ہو کر جوتے باہر کسی مخصوص جگہ پر اتار دیں اور گھر میں استعمال کے جوتے ایک فاصلے پر رکھے ہوں۔ استعمال شدہ جوتے ڈیٹول اور پانی کے محلول سے سپرے کر کے ڈس انفیکٹ کر کے دھوپ میں رکھ دیں اور دوبارہ باہر جانے کی صورت میں پہنیں۔

19۔ نیا لایا جانے والا سامان اگر ممکن ہو تو اسے ڈس انفیکٹ کیا جائے۔ اگر پکانے کی چیز ہو تو گرم پانی سے دھو لی جائے یا بوائل کر لی جائے۔ اگر استعمال کرنے کی چیز ہو تو اس صابن وغیرہ سے اچھی طرح دھو لیا جائے۔ یا اگر ہیئر ڈرائیر موجود ہو تو اس سے اس کو ایک بار اچھی طرح گرم ہوا لگوائیں اسی طرح باقی ملنے والی ریزگاری یا کرنسی کو بھی ڈس انفیکٹ کرے۔ اس کا ریپر یا شاپر وغیرہ گھر سے فورا تلف کر دیں۔ اور اسے پہلے موجود سامان کے ساتھ یا برتنوں کے ساتھ لگنے سے بچائیں۔

20۔ سامان لانے والا شخص گھر کے افراد سے ملے بغیر کپڑے تبدیل کرے، صابن سے اچھی طرح نہائے اور دھلے ہوئے کپڑے پہن لے۔ اگر یہ ممکن نہ ہو تو کم از کم ہاتھ منہ اچھی طرح دھو لے۔ استعمال شدہ کپڑے تین سے چار گھنٹوں کے لئے دور کہیں دھوپ میں رکھ دیں۔ بعد میں ڈٹرجنٹ سے دھو کر استعمال کریں۔

21۔ باہر جانے والا شخص اگر ڈسپوزایبل گلوز اور ماسک کا استعمال کرے تو زیادہ بہتر ہے ورنہ اپنے آپ کو ممکنہ حد تک بچائے، اپنا منہ اور ناک کپڑے یا رومال سے ڈھانپے اور ہاتھوں کا استعمال کم سے کم کرے اور کم سے کم وقت میں اپنا کام کر کے آ جائے۔ پیدل جانے کے بجائے سائیکل، موٹر سائیکل اور گاڑی کا استعمال بتدریج بہتر ہے۔

22۔ گھر میں رہنے والے افراد وقتا فوقتا صابن سے ہاتھ دھوئیں، خاص طور پر کھانا بنانے سے پہلے، بنانے کے درمیان، بنانے کے بعد، کھانے سے پہلے، کھانے کے بعد، سونے سے پہلے، اٹھنے کے بعد، واش روم جانے کے بعد، گھر کی صفائی کرنے کے بعد، کوئی چیز دھونے سے پہلے اور دھونے کے بعداور بچوں کے ڈائیپرز تبدیل کرنے کے بعد۔ اور ہر نماز کے لئے نیا وضو کریں۔

23۔ گھر کی اور اپنی صفائی ستھرائی کا خاص خیال رکھیں، روز صابن اور گرم پانی سے نہائیں اور گھر میں بننے والا کچرا فورا تلف کر دیں یا گھر سے باہر مقررہ جگہ پر رکھ دیں۔ گھر کے دروازے اور کھڑکیاں بند رکھیں۔ تاکہ باہر کی ہوا کم سے کم اندر آ سکے۔

24۔ کسی قسم کی شدید بیماری کی صورت میں متعلقہ صحت کے مراکز کے ایمرجنسی نمبرز پر رابطہ کر کے ان کی دی گئی ہدایات ہر عمل کریں۔ مریض کو کسی کمرے میں الگ رکھنے کی کوشش کریں یا بچوں سے الگ رکھیں تا وقتیکہ طبی امداد میسر نہ ہو جائے۔ چھوٹی موٹی پریشانی کے لئے طبی عملے کو تنگ نہ کریں۔ ہو سکتا ہے یہ وقت کسی اور مریض کے لئے انتہائی مشکل ہو۔

25۔ لاک ڈاؤن میں اپنے ارد گرد غریب اور نادار افراد کا خاص خیال رکھیں، صدقہ اور خیرات ویسے بھی مصیبت کو ٹالتا ہے اور اس مشکل گھڑی میں کچھ سامان اچھی طرح پیک کر کے ان کے گھر اس طرح چھوڑ آئیں کہ ان کی ضرورت موبائل پر پوچھ لیں اور طے کر لیں کہ وہ دروازہ کھولیں آپ سامان اندر رکھیں اور کم سے کم بات چیت کر کے واپس آ جائیں ـ

(ماخوذ)

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*