لاک ڈاؤن: دہلی میں کم سے کم رعایت دینی چاہیے:ہرش وردھن

نئی دہلی:کورونا وائرس لاک ڈاؤن کے تیسرے مرحلے کے پہلے دن قومی دارالحکومت دہلی میں چھوٹ دینے کے بعد افراتفری کی حالت دیکھنے کو ملی۔ دریں اثنا مرکزی وزیر صحت ہرش وردھن نے کہا کہ میری رائے ہے کہ دہلی حکومت کو کورونا وائرس سے نمٹنے کے لئے بہت اقدامات اور کم سے کم چھوٹ یا رعایت دینی چاہئے۔ انہوں نے زور دیا کہ یہ میری ذاتی رائے ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہلی کی صورتحال پر تبصرہ کرنا میرے لئے درست نہیں ہے کیونکہ اسے سیاسی بیان سمجھا جا سکتا ہے۔ہرش وردھن نے کہاکہ میرا یقین ہے کہ دہلی ملک کی ان ریاستوں میں سے ایک ہے، جہاں کورونا وائرس وبا سے نمٹنے کے لئے سخت اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔کم سے کم رعایت دینی چاہئے جبکہ وزارت داخلہ نے وسیع ہدایات دی ہیں۔ ہر ریاست کو کورونا وائرس کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے فیصلہ لینا چاہئے۔دہلی میں پیر سے جزوی طور پر لاک ڈاؤن کھول دیا ہے۔ تمام سرکاری دفتر کھول دئیے ہیں۔ پرائیویٹ دفترمیں صرف 33 فیصد ملازم کام کریں گے۔ ہوائی سفر اور ریل سفر بند رہیں گی۔ دہلی کے اندر اور دہلی سے باہر جانے والی بسیں نہیں چلیں گی۔ شراب، پان، گٹکھا، تمباکو بیچنے والی دکانوں کو کھولنے کی اجازت ہے بشرطیکہ وہ اسٹینڈلون ہوں۔دہلی کے کئی علاقوں میں شراب کی دکانوں کے باہر آج لمبی لائنیں دیکھی گئیں۔ جس کے بعد کئی علاقوں میں شراب کے ٹھیکے بند کرائے گئے ہیں۔ مشرقی دہلی میں تمام شراب کی دکانیں بند کرائی گئیں۔ بھیڑ کو دیکھتے ہوئے ڈپٹی کمشنر نے حکم دے کر دکانوں کو بند کرایا۔ اس کے علاوہ قرول باغ، چندر نگر، کرشنا نگر، نریلا، گیتا کالونی جیسے علاقوں میں شراب کی دکانیں بند ہیں۔ نریلا میں شراب کی لائن میں کھڑے لوگوں کو پولیس نے بھگایا۔