لاک ڈاؤن اور سڑکوں پرمزدوروں کی اموات-ڈاکٹر مشتاق احمد

(پرنسل، سی ایم کالج، دربھنگہ)

کورونا نے پورے انسانی معاشرے کو تباہ وبرباد کردیا ہے۔ دنیا کا کوئی ایسا حصہ نہیں بچاہے جہاں کورونا وائرس نے اپنا اثر نہیں چھوڑا ہو۔ اب جب کہ یہ بات سامنے آچکی ہے کہ کورونا سے امروز فردا میں نجات ملنے کو نہیں ہے۔ کیوں کہ ساری دنیا اس لا علاج مرض کی دوا تشخیص کرنے میں اب تک ناکام ہے۔ عالمی طبی آرگنائزیشن یعنی ڈبلو ایچ او نے گذشتہ کل واضح کردیا ہے کہ اب دنیا کو کورونا کے ساتھ ہی جینا ہوگا اور جس طرح ایچ آئی وی اور ایڈس کی دوا اب تک کارگر ثابت نہیں ہو رہی ہے اسی طرح کورونا سے بھی مقابلہ کرنا ہوگا۔ اس لئے پوری دنیا میں آہستہ آہستہ معطل زندگی حرکت میں آرہی ہے۔ اپنے ملک ہندوستان میں بھی حکومت نے چند شرائط کے ساتھ لاک ڈاؤن میں کچھ رعایت دینے کی بات کہی ہے۔ ایک دو دنوں میں چوتھے مرحلے کے لاک ڈاؤن کی مدت کا اعلان ہوچکا ہے کہ ۱۳/ مئی تک توسیع کردی گئی ہے اور اس کے بعد سب کچھ واضح ہوگیا ہے کہ آخر ملک میں کب تک اور کن شرائط کے ساتھ کہاں لاک ڈاؤن جاری رہے گا۔لاک ڈاؤن کی وجہ سے ملک کس قدر اثر انداز ہوا ہے اس سے ہم سب واقف ہیں کہ اس کورونا نے ملک کی معیشت کی کمر ہی توڑ دی ہے۔ دیگر شعبہئ حیات کے لئے بھی مشکلیں پیدا ہوئی ہیں اور جس پر قابو پانابہت آسان نہیں ہے۔اس لئے حکومت نے کئی طرح کے خصوصی مراعات کا اعلان تو ضرور کیا ہے لیکن سچائی یہ ہے کہ یہ خصوصی پیکج ہمارے مسائل کے حل نہیں ہیں۔ البتہ تھوڑی سی راحت ضرور ملے گی۔بالخصوص اس لاک ڈاؤن ملک کے سات کروڑ سے زائد یومیہ مزدور کی زندگی بد حال ہوگئی ہے۔ ڈیڑھ ماہ سے زائد کا عرصہ گذر چکا لیکن شہر در شہر سے رواں دواں ان کا قافلہ رکا نہیں ہے۔اب حکومت کی طرف سے خصوصی ٹرینیں بھی چلائی جا رہی ہیں اور کئی ریاستی حکومتوں نے بسوں کا انتظام بھی کیا ہے۔ باوجود اس کے سڑکوں پر ہجوم در ہجوم مزدوروں کا قافلہ چل رہاہے۔ لیکن افسوسناک بات یہ ہے کہ اس لاک ڈاؤن کے عرصے میں جب سڑکوں پر گاڑیوں کا چلنا برائے نام ہے اس کے باوجود ویران سڑکوں پر مزدوروں کی اجتماعی موت ہو رہی ہے۔ روز سڑک حادثے ہو رہے ہیں اور مزدوروں کی اس حادثے میں جاں بحق ہونے کی خبریں آرہی ہیں۔مرنے والوں کی تصویروں کودیکھ کر کلیجہ منہ کو آنے لگتا ہے۔لیکن ان مزدوروں کو کچل کر گذرنے والوں کو ترس نہیں آتا۔ جس دن سے لاک ڈاؤن کا آغاز ہو اہے اسی دن سے سڑک حادثے میں مرنے والوں کی خبریں آرہی ہیں اگرچہ قومی میڈیا میں ان مزدوروں کی موت کی خبروں کو جگہ کم ہی مل رہی ہے مگر آج کے اطلاعاتی انقلاب نے سوشل میڈیا کو جو فروغ دیا ہے اس کی وجہ سے مزدوروں پر ہو رہے مظالم کی خبریں دب نہیں پا رہی ہیں۔ حال ہی میں لکھنؤ شہر میں ایک ساتھ دو لوگوں کے کچل کر مرنے کی خبر آئی تھی۔ ظاہر ہے کہ اس لاک ڈاؤن کے عرصے میں ٹریفک کم ہے اور حفاظتی دستوں کی نگرانی بھی ہے۔ اس کے باوجود لکھنؤ جیسے حساس شہر میں کوئی تیز رفتار گاڑی ایک سائیکل پر سوار میاں بیوی دونوں کو کچل کر نکل جاتی ہے اور اس کا سراغ تک نہیں لگتا۔ واضح ہو کہ لکھنؤ شہرمیں یومیہ مزدوری کرنے والا ایک مزدور اپنی سائیکل پر اپنی بیوی اور دو بچوں کو لے کر مدھیہ پردیش کے لئے نکلا تھا کہ وہ گذشتہ کئی دنوں سے بھوک کا شکار تھااور لاک ڈاؤ ن کی وجہ سے اسے کام ملنے کی امید بھی نہیں تھی۔ اپنی جھونپڑی سے محض دو چار کلو میٹر دور شہر میں ہی وہ حادثے کا شکار ہوگیا۔ اس کے دونوں بچے تو بچ گئے مگر خود وہ دونوں موت کی آغوش میں چلے گئے۔ ریل حادثے میں مزدوروں کی جو موت ہوئی اس سے تو پورا ملک واقف ہے۔گذشتہ کل مظفرنگر میں ایک ساتھ چھ مزدوروں کو ایک تیز رفتار ٹرک نے کچل دیا اور سب کی جائے حادثہ پر ہی موت ہوگئی۔یہ سب مزدور بہار کے رہنے والے تھے اور پاؤں پیدل اپنے گھروں کو نکلے تھے۔ اسی طرح کچھ دن پہلے بلند شہر کے پاس بھی د و مزدوروں کو کچلے جانے کی خبر عام ہوئی تھی۔اس سے پہلے مہاراشٹر کی سڑکوں پر بھی کئی مزدوروں کی سڑک حادثے میں موت ہو چکی ہے۔گذشتہ کل اتر پردیش کے انّاؤمیں ایک تھری وہیلر پرسوار میاں بیوی دونوں کو ٹرک نے کچل دیا اور ایک چھوٹا بچہ خوش قسمتی سے بچ گیا ہے۔ واضح ہو کہ ایک مزدور جو ہریانہ میں ٹمپو چلا رہا تھا وہ لاک ڈاؤن کی مجبوری کی وجہ سے اپنی ٹمپو سے ہی اپنے گھر دربھنگہ بہار کو چل پڑا تھا لیکن انّاؤ میں ایک تیز رفتار ٹرک نے انہیں موت کی نیند سلا دیا اور اس طرح کے واقعات پل پل رونما ہو رہے ہیں۔
غرضیکہ ایک طرف مزدوروں پر کورونا وائرس کی وجہ سے پیدا ہونے والے مسائل کے پہاڑ ٹوٹ پڑے ہیں کہ انہیں دو وقت کی روٹی ملنا بھی محال ہوگیا ہے اوروہ ملک کے مختلف شہروں سے ہزاردو ہزار کیلومیٹر پیدل نکل پڑے ہیں۔ ان کے پاؤں کے چھالوں کو دیکھ کر بڑا سے بڑا سنگ دل بھی اشکبار ہو جاتا ہے۔ معصوم بچوں کے پاؤں کے آبلوں کو دیکھا نہیں جاتا اور بد حال عورتوں کی تصویر خون کے آنسو رلانے لگتی ہے۔ ایسے حالات میں بھی ہماری ویران سڑکوں پر اس طرح سے مزدوروں کو کچلنے اور انہیں موت کی نیند سلانے کا قیامت خیز عمل جاری ہے۔اس پر سنجیدگی سے سوچنے کی ضرورت ہے کہ آخر اس لاک ڈاؤن میں تیز رفتار گاڑیوں پر نکیل کیوں نہیں کسا جا رہاہے۔ ایک طرف کورونا کے خوف نے ان کی زندگی کو اذیت ناک بنا دیا ہے تو دوسری طرف ہماری بے حسی نے ان کی موت کا سامان پیدا کردیا ہے۔آخر بس، ٹرک یا دوسری گاڑیاں چلانے والے ان مزدوروں کے قافلوں کو کیوں نہیں دیکھ پاتے۔ جب یہ بات عام ہو چکی ہے کہ ملک کے مختلف حصوں سے مزدور پاؤ ں پیدل اپنے گھروں کو جا رہے ہیں تو ان کے ساتھ ہمدردانہ رویہ اپنایا جانا چاہئے نہ کہ ظالمانہ۔ یہ خبر راحت کی ضرور ہے کہ جہاں کہیں سے بھی یہ مزدور گذر رہے ہیں آس پاس علاقے کے لوگ باگ ان کی مدد کررہے ہیں، ان کی بھوک پیاس مٹانے کی کوشش کر رہے ہیں اور بلا تفریق مذہب وملّت ایسا کر رہے ہیں۔ اگرچہ اس وباء کے دور میں بھی ناپا ک سیاست جاری ہے مگر عوام الناس نے اس سیاست کو ناکام کیا ہے کہ سڑکوں پر چل رہے مزدوروں کو پانی پلانے والوں میں وہ چہرے بھی ہیں جس چہرے کو نشانہ بنایا جاتارہاہے۔ ایک طرف قدرتی آفات ہیں تو دوسری طرف مزدوروں کے لئے سرکاری قانون بھی ستم ڈھانے والے بن رہے ہیں۔ واضح ہو کہ اترپردیش، مدھیہ پردیش، گجرات کے بعد بہار میں بھی مزدوروں کے لئے یومیہ کام کے اوقات بارہ گھنٹے کئے جانے کے قانون بنائے گئے ہیں۔ اگرچہ بہار حکومت نے اپنے نوٹیفکیشن میں یہ واضح کیا ہے کہ انہیں زیادہ کام کے بدلے معاوضے بھی دئے جائیں گے۔ ریاستی حکومتوں کی دلیلیں ہیں کہ باہرکی کمپنیوں کی آمد کو یقینی بنانے کے لئے ایسا کیا جا رہا ہے لیکن سچائی یہ ہے کہ اس قانون سے مزدوروں کی صحت پر مضر اثرات رونما ہوں گے۔
مختصر یہ کہ اس کورونا کی وبا نے یوں تو ہر طبقے کی زندگی کو اثر انداز کیا ہے لیکن سب سے زیادہ مزدور طبقے کی زندگی متاثر ہوئی ہے کہ ان کے پاؤں کے نیچے کی زمین بھی کھسک گئی ہے اور اس کے سرسے آسمان کو بھی تنگ کیا جا رہاہے۔ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ یہی مزدور طبقہ معمارِ وطن ہے کہ ان کے خون پسینے سے ہی شہر آباد ہواہے اور جن سڑکوں پر تیز رفتار گاڑیاں انہیں روند رہی ہیں وہ سڑک بھی ان ہی کے ہاتھوں کی دین ہے۔مگر اس مشکل گھڑی میں ہم ان مزدوروں کے ساتھ جو غیر انسانی رویہ اپنا رہے ہیں وہ جگ ظاہر ہے۔ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ کورونا کے بعد کی دنیا کی تعمیرِ نو میں ان ہی مزدوروں کا کلیدی کردار ہوگا کہ ان کے بغیر ملک کی سمت ورفتار طے نہیں ہو سکتی۔اس لئے مزدوروں کے مسائل پر سنجیدگی سے غوروفکر کرنے کی ضرورت ہے اور انسانی تقاضوں کو پورا کرنا بھی فرض ہے۔

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)