لاک ڈاؤن میں آن لائن تعلیم:امکانات و مسائل-کلیم الحفیظ

لاک ڈاؤن میں زندگی کے تمام شعبے متأثر ہوئے ہیں،لیکن تعلیم کا شعبہ سب سے زیادہ متأثر ہواہے اورابھی دور دور تک اسکول کھولنے کے اشارے تک نہیں مل رہے ہیں۔تعلیم سے وابستہ کروڑوں لوگ بے روزگار ہوگئے ہیں۔بچے سبق بھول رہے ہیں۔ کہتے ہیں ضرور ت ایجاد کی ماں ہے۔جب ضرورت سر پر آن پڑتی ہے تو انسان اس کو پوری کرنے کے لیے لاکھ جتن کرتا ہے۔ان حالات میں آن لائن تعلیم ہی ایک سہارا ہے جو کم سے کم ہمیں تعلیمی سرگرمیوں سے جوڑے رکھ سکتا ہے۔آن لائن ایجوکیشن کے تعلق سے اسکولوں کو یہ شکایت ہے کہ بچے اور والدین اس کی جانب سے حد درجہ لاپرواہی کا مظاہرہ کررہے ہیں۔ آن لائن ٹیچنگ اور فزیکلی ٹیچنگ میں کافی فرق ہے۔دونوں میں کچھ آسانیاں ہیں تو کچھ دشواریاں بھی ہیں۔اتنے بڑے پیمانے پر اور پرائمری سطح تک آن لائن ٹیچنگ کا تجربہ ساری دنیا میں پہلی مرتبہ ہورہا ہے۔اگرچہ وبا کے دوران تعلیم کا غیر معمولی نقصان ہوا ہے۔لیکن آن لائن ٹیچنگ کی صلاحیتوں کا پیدا ہونا۔خود ایک ایجوکیشن ہے۔گاؤں اور دیہات کے بچے بھی موبائل کے اس مفید استعمال سے آگاہ ہورہے ہیں۔لیکن اس سلسلے میں اسٹاف کی ٹریننگ کی ضرورت ہے۔آن لائن ٹیچنگ میں کس طرح کم وقت میں زیادہ پڑھانا ہے۔؟ہوم ورک کس طرح دینا ہےِ؟کس طرح چیک کرنا ہے؟حاضری کا سسٹم کیا ہے؟غیر حاضر بچے تک کس طرح پہنچنا ہے؟جس طرح سبجیکٹ ٹیچر کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے تمام بچوں کو ساتھ لے کر چلے اسی طرح اسکول انتظامیہ کی ضرورت بھی ہے کہ وہ اسٹاف کو سہولت اور وسائل فراہم کرائے۔ان کا نیٹ پیک ریچارج کرائے تاکہ مالی بوجھ اساتذہ پر نہ پڑے۔آن لائن ایجوکیشن کے لیے کئی سافٹ ویر مارکیٹ میں ہیں، انھیں خرید لیا جائے۔یہ بھی ضروری ہے کہ اسٹاف ڈیجٹل ٹیکنالوجی کا ہی استعمال کرے،یعنی اسکرین شئر کی جائے،واٹس اپ اور براڈ کاسٹ گروپ بنائے جائیں،رپورٹننگ EXCELشیٹ پر ہو،سلیبس کی منصوبہ بندی ہو۔تاکہ کم وقت میں بآسانی زیادہ کام ہوسکے۔
آن لائن ٹیچنگ کے کے لیے کئی ایپ مفت میں موجود ہیں ان میں جو آپ کو آسان لگے اس پر کام کیا جا سکتا ہے۔چھوٹے بچوں کے لیے ہر زبان میں مفت میں کھیل اور تعلیم کے ویڈیو بھی دستیاب ہیں جو تعلیم میں معاون ہوسکتی ہیں۔ آن لائن ٹیچنگ کے فوائد کی بات کی جائے تو سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ تعلیم اوربچے کا تعلق قائم رہتاہے۔ اس کے علم میں اضافہ تو اس کی محنت اور اخذ کرنے کی صلاحیت پر منحصر کرے گا لیکن اس کے موجودہ تعلیمی معیار کو قائم رکھنے میں آن لائن ایجوکیشن اہم رول ادا کرے گی۔نئے سیشن کے چارماہ گذر چکے ہیں، ملک میں کورونا کی صورت حال کو دیکھتے ہوئے ابھی دسمبر تک اسکولوں کے کھلنے کا کوئی امکان نظر نہیں آتا۔یعنی پانچ ماہ مزید بچے گھر پر ہی رہیں گے۔اس طرح پورا سیشن صفر ہوجائے گا۔حکومت بچوں اور والدین کو خوش کرنے کے لیے یہ فیصلہ لے سکتی ہے کہ تمام بچے بغیر امتحان دیے آگے کی کلاسیز میں بھیج دئیے جائیں۔ لیکن یہ خوشی ان کو تمام عمر رلائے گی۔اس لیے کہ ایک سیشن تعلیم سے دور رہ کر پانچویں جماعت کا طالب علم تیسری جماعت کے معیار پر چلا جائے گا،نئے سیشن میں اس کو ساتویں جماعت میں بیٹھنا ہوگا۔اس وقت اسے دن میں بھی تارے نظر آئیں گے۔کتابیں بوجھ لگنے لگیں گی۔تعلیم سے دل اچاٹ ہوگا اور وہ بھی ڈراپ آؤٹ کی فہرست میں شامل ہوجائے گا۔تعلیم کا یہ نقصان اتنا بڑا ہے جس کی تلافی تمام عمر ممکن نہیں۔ آن لائن ایجوکیشن اس خلا کو پورا کرے گی،معیار کو برقرار رکھے گی۔بچے کے اندر حوصلہ اور اعتماد دونوں قائم رہے گا۔ آن لائن ایجوکیشن نے فاصلے مٹا دیے ہیں۔اب ایک استاذ خواہ وہ دنیاکے کسی حصے میں بھی رہتا ہو،اور بچے کسی بھی دیہات میں رہتا ہو تعلیم لے اوردے سکتا ہے۔وقت کی پابندی سے بھی آزادی ملی ہے،جب فرصت ہو تب استفادہ کیا جاسکتا ہے۔یہ سہولت بھی فراہم ہوئی ہے کہ غیر حاضربچوں کو کلاس ریکارڈنگ بھیجی جا سکتی ہے۔بچے بھی ریکارڈ کرکے بعد میں سن سکتے ہیں آن لائن کے ذریعے کم وقت میں زیادہ تعلیم دی جاسکتی ہے۔آپ اسکول میں آٹھ پیریڈ میں جتنا پڑھاتے تھے آن لائن میں محض چار پیریڈ میں پڑھا سکتے ہیں۔میرا مشورہ ہے کہ آن لائن کلاسیز بھی اسی پروٹوکال سے چلائی جائیں جس طرح ہم آف لائن چلاتے ہیں،جنرل اسمبلی بھی ہو،کلاس روم میں داخل ہونے کے آداب کا خیال بھی رکھا جائے، اسکرین شئر کرکے ورچوئل پین سے لکھا جائے۔ تعلیمی نظام کی ایک اہم کڑی سرپرست حضرات ہیں۔ان میں بعض لوگ حالات کے تقاضوں سے بھی واقف ہیں،اسکول کی مجبوریوں اور ضرورتوں سے بھی آگاہ ہیں،وہ آن لائن کلاس کی اہمیت کو بھی سمجھتے ہیں اور بچوں کے لیے فکر مند بھی ہیں۔مگر بعض بالکل اس کے برعکس ہیں۔ ہمیں ان کی الگ الگ فہرست بناکرکاؤنسلنگ کرنا چاہئے۔با شعور والدین کے ساتھ آن لائن میٹنگ بھی کی جاسکتی ہے۔ PTMہر پندرہ روز میں ہوتو اچھا ہے،تاکہ فیڈ بیک ملتا رہے،اور سرپرستوں کا تعاون حاصل ہوتا رہے۔والدین کے نزدیک ان کے بچے ہی ان کا سب کچھ ہیں،والدین اپنے بچوں کی خاطر بڑی سے بڑی قربانیاں دیتے ہیں۔آن لائن ایجوکیشن میں اسکول کے واجبات کی ادائیگی ان کی ذمہ داری ہے۔ آن لائن ٹیچنگ میں اساتذہ اور طلبہ کا استعمال تو ہوگا لیکن اسکول کا غیر تدریسی(نان ٹیچنگ)اسٹاف جس میں کلرک،ٹرانسپورٹ،چپراسی،گارڈ وغیرہ شامل ہیں۔خالی بیٹھ گئے ہیں۔مناسب ہو گا کہ اس دوران غیر تدریسی اسٹاف میں سے جن افراد کی فزیکلی ضرورت ہے انھیں بلایا جائے۔ایک سے زیادہ لوگ ہوں تو باری باری بلایا جائے۔تاکہ اسکول کی ضرورت بھی پوری ہو اور ان کو کچھ مالی فائدہ بھی ہو۔ان حالات میں ایسے متبادل پر غور کیا جانا چاہئے جن سے اسکول اور اسٹاف دونوں خراب حالات کو اچھے سے گزار لے جائیں۔ جہاں تک مینیجمنٹ کا تعلق ہے۔ان کی خدمت میں عرض ہے کہ انتظامیہ کے افراد بھی اپنی علمی صلاحیت میں اضافہ کے لیے کوئی پروگرام بنائیں۔
ایک بستی کے جتنے اسکول ہیں بہتر ہوگا کہ ان ناگفتہ بہ حالات کامقابلہ کرنے کے لیے ان سب کی انتظامیہ مشترکہ لائحہ عمل بنائے۔اسکول کی عمارت کی دیکھ بھال معمول کے مطابق کی جائے۔تاکہ ایک لمبے وقت تک استعمال نہ کرنے کی وجہ سے بڑا نقصان نہ ہو،اسی طرح ٹرانسپورٹ کو مینٹین رکھا جائے۔وغیرہ۔ آن لائن ایجوکیشن کی مشکلات میں نیٹ ورک کا ایشو اہم ہے۔اس کا حل یہ ہے کہ مکان کے جس حصے میں اچھا نیٹ ورک ہو وہاں بیٹھ کر پڑھا جائے،یا سم بدل لیا جائے،دوسرا ایشو اسمارٹ فون کا نہ ہونا ہے۔اس کا ایک حل تو یہی ہے کہ موبائل خریدا جائے،خواہ سیکنڈ ہینڈ ہی لے لیا جائے،دوسرا حل یہ ہے کہ جس کلاس میٹ کے پاس موبائل ہو اس کے ساتھ بیٹھ کر اسٹڈی کی جائے۔ایک دشواری یہ ہے کہ مو بائل ایک ہے،اور بچے ایک سے زائد ہیں۔اس کا حل بھی کلاس میٹ کے ذریعہ یا اسکول سے ٹائم ٹیبل میں تبدیلی کرکے نکالا جا سکتا ہے۔بعض والدین نے یہ اندیشہ ظاہر کیا ہے کہ موبائل کا زیادہ استعمال بچوں کی آنکھوں کے لیے نقصان دہ ہے۔حالانکہ آج کل کے بچے بغیر کلاس کے بھی ہر وقت موبائل سے ہی چپکے رہتے ہیں،اس کا ایک حل یہ ہے کہ تعلیم کے لیے کمپیوٹر یعنی ڈیکس ٹاپ یا لیپ ٹاپ کا استعمال کیا جائے،موبائل کا استعمال مجبوری میں کیا جائے۔بعض سرپرست حضرات آن لائن ایجوکیشن میں کتابوں کی ضرورت سے انکار کرتے ہیں،یہ اس صورت میں تو صحیح ہے جب کتابیں اور سلیبس آن لائن دستیاب کرایا گیا ہو لیکن جو اسکول کتابوں سے پڑھا رہے ہیں انھیں کتابیں خریدنی ہی ہوں گی ورنہ بچے کو پریشانی ہوگی اور نقصان ہوگا۔ طلبہ اور طالبات ہمارا قیمتی اثاثہ ہیں۔ان کو تعلیمی سرگرمیوں سے جوڑے رکھنے کی تمام ممکنہ تدابیر اختیار کی جائیں۔ یہ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ ان پریشان کن حالات میں بچوں کی تعلیم کو متأثر نہ ہونے دیں۔اس لیے کہ وہ ہمارا مستقبل ہیں۔
ظلمت کا اقتدار مٹاتے ہوئے چلو
تعلیم کے چراغ جلاتے ہوئے چلو

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*