لاک ڈاؤن میں بچوں کی نگہداشت  – مولانا شاداب تقی قاسمی

 

کرونا وائرس نے پوری دنیا میں قہربرپا کررکھا ہے،خصوصا وطن عزیز ہندوستان میں اس کا اثرکافی پھیل چکا ہے،اس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے ملک کی اکثر ریاستوں میں لاک ڈاؤن کردیا گیا ہے،تعلیمی ادارے،مارکیٹس ،پبلک ٹرانسپورٹ وغیرہ کو بند کردیاگیا ہے،تعلیمی اداروں کے بند ہونے کی وجہ سے بچے اپنے گھروں میں ہیں،ویسے تو گزشتہ سال کے لاک ڈاؤن سے لے کر موجودہ لاک ڈاؤن کے درمیان اسکولس کو اگر کھولا بھی گیا تو چند دنوں کے لئے ،لیکن حالات کو دیکھتے ہوئے اسے پھربند کردیا گیا،آن لائن نظام تعلیم کو شروع کیا گیا ،جس کے ذریعہ سے بچے گھر بیٹھے تعلیم حاصل کرتے رہیں،مگر حالات نے دوبارہ کروٹ لی ،کوویڈ کی دوسری لہر نے اپنےظالم پنجے گاڑنے شروع کردئے ،اسے دیکھتے ہوئے دوبارہ سے لاک ڈاؤن کردیا گیا،ایسے موقع پر بچوں کے مستقل گھر پر رہنے کی وجہ سے ،والدین بچوں سے سخت عاجز آچکے ہیں،بچوں کی شرارتوں کی وجہ سے ڈانٹ ڈپٹ پر بچے چڑچڑے پن کا شکار ہورہے ہیں،والدین اور بچے باہم ایک دوسرے سے متنفر ہورہے ہیں،لیکن یہ اتنا بڑا مسئلہ نہیں ہے کہ جسے حل نہ کیا جاسکتا ہو،ذیل میں چند چیزوں کی جانب توجہ دلائی جارہی ہیں،کہ جس کو بروئے کار لاکر لاک ڈائون کے اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بچوں کی بہترین انداز سے تربیت ونگہداشت کی جاسکتی ہے۔واضح رہے کہ یہ سوال آپ کے ذہن میں آسکتا ہے کہ جب سال بھر سے تعلیمی ادارے بند ہی ہیں تو عنوان میں لاک ڈائون کے ایام کو کیوں خاص کیا جارہاہے؟اس کا جواب یہ ہے کہ سال بھرسے تو تعلیمی ادارے یقینا بند ہیں لیکن والدین تو اپنی اپنی مصروفیات میں لگے ہوئیں تھے،بچوں کو دینے کے لئے ان کے پاس وقت نہیں تھا،اب چوں کہ لاک ڈاؤن ہوچکا ہے،والدین بالکل فارغ ہیں،یہ سنہرا موقع ہے اولاد کی نگہداشت کا،ان کی ظاہری وباطنی نشو و نما پر نظر رکھنے کا ،سب سے بڑ ھ کریہ کہ ان کو ایک اچھا انسان بنانے کا۔

 

ٹائم ٹیبل مقرر کریں:

لاک ڈاؤن کے موقع پر سب سے پہلا کام یہ کرنا ہے کہ اپنی اولاد کے لئے چوبیس گھنٹو ں کا ٹائم ٹیبل مقرر کریں،کس ٹائم پر سوئیں گے،کس ٹائم پر جاگیں گے،کب کھائیں گے،ہر کام کی فہرست بنائیں جو کچھ کرنا ہے،کام سے متعلقہ افعال کو بھی اس میں شامل کریں،ان سب چیزوں کا وقت متعین کریں ،اس لئے کہ کوئی بھی کام بغیر نظام بنائے ادھورا ہی رہ جاتا ہے،عام دنوں میں یہ کام تھوڑا مشکل ضرور ہے لیکن لاک ڈاؤن کے موقع پر اس پر عمل کرنا نہایت آسان ہے،ایسا کرنے کا ایک فائدہ تو یہ ہوگا کہ بچوں کی تربیت کا بہترین موقع فراہم ہوگا،دوسرا یہ کہ اس کے ذریعہ بچوں کی عادات میں تبدیلی آئیں گی،وہ ہر کام کو ایک نظام الاوقات کے تحت کرنے کے عادی بن جائیں گےاور زندگی کے ہر موڈ پر اس کو باقی رکھیں گے۔

 

اخلاقی تربیت کی فکر کریں:

اکثر والدین کو دیکھا جارہا ہےکہ وہ لاک ڈاؤن کے چلتے اولاد کی ظاہری نشو نما پر تو خوب توجہ دےرہے ہیں اوراس میں کوئی کسر باقی نہیں رکھ رہے ہیں ،لیکن اخلاقی تربیت پر بالکل توجہ نہیں دے رہیں،والدین کے لئے ضروری ہے کہ وہ ابتدا سے یہ سعی کریں کہ ان کے بچے اعلیٰ اخلاق اور قابل تعریف خصلتوں سے آراستہ ہوجائیں، ان کی تربیت اس انداز سے کریں کہ وہ تقویٰ وطہارت،نیکی وبردباری،ایثار ومحبت،حسن سلوک وحسن اخلاق جیسے عظیم اوصاف سے متصف ہوجائیںاور ہر بری خصلت جھوٹ،وعدہ خلافی،خیانت،تکبر،حسد ،غیبت،چغل خوری جیسی بیماریوں سے شروع ہی سے بچنے والے بنیں،فراغت کے ان اوقات میں اگر تھوڑی سی توجہ کےساتھ یہ کام کیا جائے تو اس کے اثرات تاعمر باقی رہیں گے۔

 

دینی تعلیم کا حلقہ لگائیں:

بچوں کے اندر دینی شعور بیدار کرنے کے لئے عصر بعد یا مغرب بعد حلقہ لگائیں،جس میں بچوں کو دینی تعلیم سے آراستہ کرنے کی فکر کریں،قرآن کریم کی چند آیتیں یاد دلادیں،یا کم از کم قرآن کے آخر کی چھوٹی چھوٹی سورتیں جو عام طور پر نماز میں پڑھی جاتی ہیں ان کو یاد کروائیں،ان میں جن آیات کا ترجمہ یا مختصر،مستند تفسیر اگر ہوسکے تو وہ بھی پڑھ کر سنادیں،ایک حدیث ہی سہی لیکن روزانہ کی بنیاد پر اس کو ذہن نشین کروائیں،اس کی تھوڑی تشریح بھی کردیںفضائل اعمال جیسی کتابوں سے،عملی رہنمائی کے طور پر روز مرہ کی مسنون دعائیں،نماز کاطریقہ،جنازہ کی نماز،دعاء قنوت وغیرہ یاد دلائیں،سیرت رسول ﷺ سے آگہی کے لئے خاص طور کر حضور ﷺ کے بچپن کےواقعات آپﷺ کی امانت داری ومعصومیت کا تذکرہ کیا جائےاور اگر ہوسکے تو سیرت کی کوئی مختصر جامع کتاب کا روزانہ ایک صفحہ یا ایک باب پڑھا جائے،اس سے انشاء اللہ بہت فائدہ ہوگا اور بچوں کی دینی تربیت بھی ہوتی رہے گی۔

 

اچھے کام پر انعام مقرر کریں:

والدین کو چاہیے کہ خصوصا ان دنوں میں بچوں کے لئے ہر اچھے کام پر انعام مقرر کریں،اس سے بچوں میں کام کرنے کا جذبہ بہت حد تک پروان چڑھے گااور ان کی کام کرنے میں پوری دلچسپی ہوگی،مثلا فجر کی نماز کے لئے اٹھنے ،پنچ وقتہ نماز وقت پرپڑھنے،کوئی نیکی کا کام کرنے پر انعام طئے کردیں اور جب متعلقہ کام انجام دے دیں تو پھر بغیر کسی ٹال مٹول کے انعام ان کو دیں ،ضروری نہیں کہ انعام ہزاروں روپیوں کا ہو،وہ تو کوئی چیز بھی ہوسکتی ہے جو والدین بخوشی دیتے ہیں،ایسا کرنے سے ایک فائدہ تو یہ ہوگا کہ بچے پوری توجہ کے ساتھ ہر وہ کام کو انجام دیں گے ،جس کا انہیں حکم دیا جارہاہے،دوسرا یہ کہ والدین سے محبت اور انسیت پیدا ہوگی،وہ والدین کو اپنا دوست سمجھیں گے۔

 

مختلف ایکٹیویٹیز:

بچوں کوخصوصا ان ایام میں مختلف ایکٹیویٹیز سے جوڑے رکھے،اس میں بنیادی طور پر بچوں کی جسمانی صحت کو ملحوظ رکھتے ہوئے،جو کام بھی کرسکتے ہیں وہ ضرور کریں،مثلا بچوں کو ان ایام میں ایکسرسائز کی عادت ڈالیں،جسمانی ورزش کرائیں،اس سے ایک توبچوں کی صحت بہتر رہے گی،ساتھ ہی بچوں کے اندر سے سستی،غفلت،کاہلی ،جیسی چیزیں دور ہوجائیں گی اور وہ دن بھر سر سبز وشاداب نظر آئیں گےنیز گھریلو کاموں میں آپ کابھرپور ساتھ بھی دیں گے۔بچوں کے لئے ایکٹیویٹی روم بنائیں یا کم از کم گھرمیں کوئی خاص جگہ متعین کریں جہاں بچوں کے لئے ذہنی نشو و نما کا سامان مہیا کریں،اس میں بچوں کی دلچسپی کی چیزیں جیسے الفا بیٹ چاٹ لگائیں،خوبصورت جگہوں کے وال پیپر دیواروں پر چسپاں کریں اور بچوں کے لئے ان کی خواہش کردہ چیزیں ضرور رکھیں،تاکہ بچوں کی جسمانی وذہنی نشوونما بہتر انداز سے ہوتی رہےاور ان کو گھرکے علاوہ کسی اور جگہ دل نہ لگے۔

 

گیمز کھلائیں:

بچوں کو ہر وہ گیم کھلا سکتے ہیں جو بچوں کی صحت کے لئے مفید ہو،خیال یہ رکھنا ہے کہ وہ گیمز مخرب اخلاق نہ ہوںاور نہ ہی شرعی اعتبارسے اس کی ممانعت ہواس کے علاوہ ہر قسم کا کھیل کھیلا جاسکتا ہے،اول مرحلہ میں بچوں کےلئے کھلونوں کا انتخاب کریں،ان میں ان کی توجہ اور دلچسپی کو ملحوظ رکھیں،مختلف کھیلوں کے پروگرام منعقد کریں،خصوصا پہیلی کھیل بچوں کی ترقی کا ایک اہم حصہ ہوتا ہے،اس سے بچوں کی ذہنی ورزش تو ہوتی ہی ہے ساتھ میں ان میں سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت پروان چڑھتی ہیں،اسی طرح کرکٹ،ہاکی،فٹ بال،نہ صرف بچوں کے لئے مفید ہیں بلکہ یہ بڑوں کے لئے بھی مفید تر ہیں،کھیل کے دوران بچے بہت کچھ سیکھتے ہیں،ایسی باتیں بآسانی ذہن میں بیٹھ جاتی ہیں جو عام حالت میں یاد کرنی بظاہر مشکل ہوتی ہیں،مختلف چیزوں کے نام،رنگوں کی پہچان،آپس میں ملتی جلتی چیزوں کے مابین فرق تک معلوم ہوجاتا ہے۔

 

موبائل فون سے دور رکھیں:

بچوں کی تربیت میں موبائیل فون غیر معمولی اثر انداز ہوتا ہے ،خصوصا بچوں کے اندر موبائل فون سے فحاشی اورعریانیت میںغیر معمولی حد تک اضافہ ہوا ہے،چوں کہ موبائل فون اگر کسی کے پاس ہے تو اس میں نیٹ کا ہونا لازم ملزوم کےدرجہ میں آچکا ہےاور انٹرنیٹ کے ذریعہ جو خرابیاں ہمارے معاشرہ میں درآئی ہیں شائد ہی کوئی اس کا منکر ہو ،یہ بات سب کے علم میں ہے کہ انٹرنیٹ کھولیں تو بے شمار فحش اور غیر موزوں چیزیں خود بخود سامنے آجاتی ہیں ،جب بچوں کے سامنے بھی ایسی چیزیں آتی ہیں تو ابتداََ وہ اسےنظر اندا زکرتے ہیں ،لیکن بار بار غلط اشتہارات ان کی نظر سے گزرنے کی وجہ سے ان میں رفتہ رفتہ تجسس پیدا ہوتا ہے اور جب وہ اس کی طرف بڑھتے ہیں تو اسی وقت سے اس خطرہ کا آغاز ہوجاتا ہے ،جس کا تصور والدین کبھی کر بھی نہیں سکتیں،نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بچے معاشرتی بے راہ روی کا شکار ہوجاتےہیںاور وقت سے پہلے ہی بڑے ہوجاتے ہیں اورایسی بہت ساری باتیں جو انہیں کم عمری میں معلوم نہیں ہونی چاہئیں اس سے آگاہ ہوجاتے ہیں بلکہ اس کے خطرناک اثرات کی لپیٹ میں آکر رہ جاتے ہیں،اس لئے والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ موبائیل فون کو بچوں کے لئے سم قاتل سمجھیں اور جہاں تک ہوسکے اس سے دور رکھنے کی کوشش کریں۔بچوں کی صلاحیتوںنکھارنے کے لئے لاک ڈائون کے ان ایام میںان کو متبادل مشاغل دیں،بچوں کو ان کی عمر کے لحاظ سے کوئی کام یا ہنر سکھائے ،جو ہر وقت کام آسکے،مثلا پینٹنگ کرنا،خوش خطی،سلائی وغیرہ کرنا سکھائیں اس سے ایک تو وہ موبائل فون اور سوشل میڈیا سے دور رہیں گے،ساتھ ہی ساتھ مشغول بھی رہیں گے۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*