لاک ڈاؤں اور حکومت کی عاقبت نااندیشی

 

عبدالقادر (ریسرچ سکالر دہلی یونیورسٹی)  

مصلحت اور دور اندیشی انفرادیت اور اجتماعیت کے لیے آنکھ اور کان ہیں۔ان سے اچھا برا کام لیا جاتا ہے۔اور دونوں ایک دوسرے کے لیے ممد و معاون ہیں ۔ لیکن ان کے فائدے اس حالت میں ملتے ہیں جب نیک نیتی سے ان پر عمل کیا جائے ۔ لیکن جب یہ کسی نا اہل کے ہاتھ میں آلہ فساد بن جائیں تو ان سے بہت سے ہوتے ہیں جن کی بھرپائی صدیوں میں بھی نہیں ہوپاتی۔ تاریخ میں اس کے بہت سے پہلو مذکور ہیں۔یہ بات صحیح ہے کہ جب سنگھاسن پر ان پڑھ گنوار بے وقوف بیٹھ جاے تو اس کے فیصلے پبلک کی خوشی کا سبب نہیں بنتے بلکہ عوام کی مسرتوں کے قاتل ہوتے ہیں اور اس دور میں عوام بھک مری کی لا فانی اذیتوں اور حول ناک درد وکرب میں مبتلا ہو جاتے ہیں

ماضی میں جب بادشاہ وقت نے عوام کی مسرتوں کو اپنے جنون کی بھینٹ چڑھا یا تو اس وقت اشرافیہ،علما اور خواص نے اپنی ذمے داری بخوبی ادا کی۔کلیلہ دمنہ میں ایک واقعہ مذکور ہے کہ ہندوستان میں ایک وقت ایسا بھی آیا کہ بادشاہ وقت نے عوام وخواص کی آواز پر کان دھرنے بند کر دئے علما و خواص کی گردن زنی ہونے لگی تو بھی یہ طبقہ خاموش تماشائی نہیں بنا بلکہ اس نے جانوروں کے ذریعے بادشاہ کو صحیح راہ دکھانے کے لیے ہزار جتن کیے لیکن آج کے ہندوستان کے حالات نہایت کرب ناک ہیں عوام کا خون چوس کر اشرافیہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے عوام کی جانوں کو بے دریغ استعمال کیا جارہا ہے۔اور یہ سب جمہوری عہدے پر بیٹھے افراد کر رہے ہیں جن کو عوام نے اپنی فلاح و بہبود گی کے لیے منتخب کیا اب وہ عوامی خزانے، عزت و آبرو لوٹ کر عوام کو اپنے کردار سے یہ بتا رہے ہیں کہ جب وہ انتخاب میں ووٹ ڈالٹے ہوے ہوش وحواس سے کام نہیں لیں گے تو ان کی آشائش،ضرورتوں اور عزتوں پر اسی طرح ڈاکہ ڈالاجاتا رہے گا اور ان کے مسائل کے ساتھ یہی سرد مہری برتی جائگی

مودی حکومت جب سے اپنے دوسرے پیرئڈ میں آئی ہے اس نے عوام کے ساتھ جانوروں جیسا سلوک کیا ہے اور خاص کر مسلم دشمنی اس کے خمیر میں ہے مسلمانوں کی معاشی حالت تو پہلے بھی اتنی اچھی نہیں تھی لیکن اس کم بخت حکومت کو وہ بھی برداشت نہیں ہوئی اور اس نے باقاعدہ طوراس کےلئے میڈیا کا سہارا لے کے اپنی موقف کا اظہار کرانا شروع کر دیا اب دن بھر ٹیوی پر آپریشن پر آپریشن کیے جانے لگے اور مسلمانوں کی چھوی کو اس قدر زیادہ نقصان پہنچا یا کہ اس سے پہلے تاریخ ہند میں کبھی اس کی مثال نہیں ملتی اور اس مسالے سے حکومت نے اپنی ناکامی ٹھیکرہ بھی مسلمانوں کے سر پر تھوپ دیا ضروری مسائل جن کا سیدھا عوام سے تعلق تھا ان شوز سے بالکل گدھے کے سینگ کی طرح غائب ہوگئے رویش کمار کو یہ کہنا پڑا کہ اب آپ لوگ اپنے گھروں کے ٹیوی بند کرکے رکھ دینے چاہییں ان جملوں میں درد والم کا جو بحر نا پیدا کنار پوشیدہ ہے اس کا اندازہ لگانا کوئی مشکل بات نہیں ہے ۔

ایجوکیشن مھنگی ہوگی تاکہ عوام علم حاصل نہ کرسکے اور خوردہ بازار میں اشیا عوامی دسترس سے باہر نکلنے لگیں اور دیکھتے ہی دیکھتے انڈیا بھک مری والے ممالک کی صفوں کی زینت بن گیا حکمران طبقے کو اس کی کوئی فکر نہیں کیونکہ اس سے ان کا کوئی لینا دینا نہیں ہے ان کے بچے تمام آسائشوں کے ساتھ انگلستان میں زیر تعلیم ہیں ان کو آپ کے بچوں سے کوئی لینا دینا نہیں ہے چاہے وہ بھوکے پیاسے مرجائیں دل کی تسلی اس بات میں تھی کہ مودی گورنمینٹ اس کے لیے کوئی پلان بنا کر عوام کو راحت دینے کی سعی کرتی لیکن اس کو این پی آر،این آر سی فرصت نہیں ملی ہمارے ہوم منسٹر نے اپنی خدائی کا دعویٰ کیا کہ اس ہندوستان میں مسلمانوں کے لیے کسی بھی قیمت پر کوئی جگہ نہیں مسلمانوں نے اپنے وجود کو بچانے کے لئے دھرنے پردرشن کیے لیکن گورنمینٹ نے ان کی ایک نہ سنی ۔ لیکن حکومت میں بیٹھے افراد یہ بھول گیے کہ اللہ کی لاٹھی بے آواز ہوتی ہے ،ہوا بھی ایسا ہی اب معاملہ حکمرانوں سے نکل کر احکم الحاکمین کی بارگاہ میں پہنچ گیا مظلوموں کی آ ہیں سنیں گئیں اور دنیا بھر میں ہورہے ظلم کو قدرت نے بند کردیا دیکھتے ہی دیکھتے دنیا ایک عالم گیر وبا کی چپیٹ میں آگئی اب حاکم ومحکوم ظالم و مظلوم سب کو وقت سے پہلے اپنی موت نظر آنے لگی اور اپنی ظالمانہ پولیسیوں سے مسلمانوں کو مٹانے والے خود روپوش ہوگئے اور ان کے ساتھ ان کے ناپاک منصوبےاین، پی، آر اور این، آرسی سب بھاڑ میں چلے گئے ۔

کرونا وائرس ہندوستان میں کس نے پھیلایا اس کے لیے میڈیا نے مسلمانوں کو ذمہ دار ٹھہرایا حالانکہ یہ ہندو مسلم مسئلہ نہیں تھا بلکہ یہ تو قدرت کا ایک تماچہ ہے سائنس اور ٹیکنالوجی نے اپنی برق رفتار ترقی سے آنکھوں کو چندھیا دیا ،چھوٹی بڑی اشیا سے انسانی وجود کو مسرت بخش دی اورانسانی فکر کو اس بات کا قائل کر لیا کہ انسان اب ان اسباب وعوامل کی وجہ سے کسی بھی قسم کےدر پیش خطرات سے بہ خوبی نپٹ سکتا ہے مادی ترقی کے زعم میں مذہب اور خدا کی پکڑ ڈھیلی پڑ گئی ،مادی ترقی ہی انسانی وجود کا واحد مقصد بن گئیں انسان اپنے پرائے،حلت وحرمت سب کو بھول بیٹھا اچھائی برائی کاتمیز نہیں رہا حق مارنا دھوکہ دہی غریبوں کے درد آلام کو ناسمجھنا یہ سب چیزیں اپنے عروج تھیں تو ایسی صورت میں عذاب الہٰی کا آنا یقیناً مصلحت ربانی ہے اس نے انسان کو دوبارہ کئی فلسفوں سے از سرے نو متعارف کرایا ہے انسان کو پھر اس بات کا احساس دلایا ہے کہ چاہے وہ مادی ترقی کتنی ہی کرلے وہ اپنے رب اور اس کے احسانات کا ہمیشہ محتاج ہے اہل دانش کے لیے اس میں کارخانہ قدرت کی بھلائیاں پوشیدہ ہیں۔

کرونا وائرس سے بچنے کے لیے حکومت نے لوک ڈاؤن لگا یا حکومت بڑی حد تک اس بیماری پرقابو پانے میں کامیاب ہو گئی لیکن اس سے وہی ہوا جس کا خدشہ تھا حکومت نے غریب عوام کے لیے جو اسکیمیں چلائیں وہ اونٹ کے منھ میں زیرہ ثابت ہوئی اب عوام نے لوک ڈاؤن کا پالن کرنا شروع کیا تو پورے ہندوستان میں ایسی درد ناک تصویریں ابھرنے لگیں جس سے کلیجہ چھلنی ہوجاتا ہے لوگ اپنے گھروں میں قید بھوکے پیاسے مررہے ہیں مزدوروں کی نا ختم ہونے والی پریشانی ان کے سثروں پر موت کی طرح منڈلا رہی ہے بہت سے لوگوں کی گھروں میں لاشیں مل رہی ہیں عوام مزدور بے بسی اور ناامیدی کے نا ختم ہونے والے حالات سے دوچار ہیں ان کو اپنے آگے موت اور پیچھے کھائی صاف دکھائی دے رہی ہے انہوں نے پھر بھی ہار نہیں مانی اور بھوکے پیاسے اپنے گھروں کو واپس جانے میں ہی بھلائی سمجھی لیکن ان کو کیا پتا تھا کہ راستے میں موت ان کے استقبال کے لئے ہار لیے کھڑی ہے ادھر حکومت نے ان کی کوئی بھی مدد نہیں کی راستے میں ان پر پولیس نے جو ظلم کیے وہ ایسی خوں چکاں داستان ہے کہ جس دل میں یہ خیال ایک اعتماد کے ساتھ جاگزیں ہوجاتا ہے کہ ان پولیس والوں سے انگریزی پولیس اچھی تھی جن کے اندر انسانیت موجود تھی۔

ملک کے صوبوں میں کرونا وائرس کی روز بروز بڑھتی صورت حال پریشان کن ہے مہاراشٹر کرونا وائرس کے معاملے میں سب آگے ہے اب تک کل کیس چودہ ہزار پانچ سو اکتالیس پاے گئے ہیں پانچ سو تراسی ہلاکتیں ہوئیں ہیں پندرہ سو سڑسٹھ نئے کیس درج کئے گئے ہیں گجرات پانچ ہزار آٹھ سو چار کیسز کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے اور تین سو انیس ہلاکتیں ہوئیں ہیں تین سوچھیتر نئے کیس درج کئے گئے ہیں اب بات کرتے ہیں ملک کی راجدھانی دہلی کی اس کی حالت بھی بڑی خراب ہے چار ہزار آٹھ سو اٹھانوےکیس ملے ہیں انھتر ہلاکتیں ہوئیں ہیں اور تین سو اڑنچاس نئے کیس درج کئے گئے۔ تمل ناڈو میں پینتیس سو پچاس کیس ملے اور اکتیس ہلاکتیں ہوئیں ،پانچ سو ستائیس نیے کیس درج کیے گئے ہیں راجستھان میں انتیس سو اٹھانوےکیس ملے ستتر ہلاکتیں ہوئیں ایک سو پچھتر نیے کیس درج ہوے مدھیہ پردیش میں انتیس سو بیالیس کیس پاے گئےایک سو پینسٹھ ہلاکتیں ہوئیں ایک سو پانچ نیے کیس ملے اتر پردیش میں ستائیس سو چھیاسٹھ کیس پوزیٹو ہیں پچاس ہلاکتیں ہوئیں اور ایک سو پانچ نیے کیس پاے گئے آندھراپردیش میں سولہ سو پچاس کیس درج ہوئے تیتس ہلاکتیں ہوئیں اور سڑسٹھ نئے کیس آیے مغربی بنگال بارہ سو انسٹھ کیس درج ہوے ایک سو تیتس ہلاکتیں ہوئیں اور دوسو پچھتر نئے کیس درج ہوئے پنجاب میں بارہ سوبتتیس کیس درج کئے گئےتیئیس ہلاکتیں ہوئیں اور ایک سو تیتس نیے کیس درج ہوئے

اکیس مارچ تک پورے ملک میں کل کیس دوسو اٹھاون درج کئے گئے ایکٹو کیس دوسو اکتیس تھے تیئیس ٹھیک ہوئے اور چار ہلاکتیں ہوئیں اب آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ کہ کس قدر تیزی سے کرونا وائرس پھیلا ہے ۔ حکومت نے غریب عوام کے ساتھ اس پورے معاملے میں دھوکے سے ہی کام لیا ہے غریبوں سے کرایے کے نام جو لوٹ کھسوٹ کی گئی ہے وہ بھی بڑی تکلیف دہ ہے عوام سے پیسے وصول کیے اور کارپوریٹ گھرانے کو لون معاف کر کے لوک ڈاؤن کی سوغات دی گئی ہے افسوس ہے ہے اس حکومتی رویے پر کئر فنڈ کا سارا پیسا اپنی جیب میں رکھ لیا عوام آج دانے دانے کو محتاج ہوگئ ۔غریبوں پر اس حکومت نے دوھری چوٹ لگائی ہے کاروبار جاتا رہا مال و دولت کھانے پینے میں خرچ ہوگئ اب سوائے موت کے ان کو کچھ نظر نہیں آرہا ہے۔ حکومت کی کوئی بھی پالیسی مصلحت کی آئینہ دار نظر نہیں آتی ہر لحاظ سے حکومت فیل نظر آرہی ہے اب عوام کا اللہ ہی حافظ ہے ایسے وقت میں حکومت کا شراب نوشی کے اڈوں کو اجازت دینا انسان اور سسکتی انسانیت کو زندہ درگور کرنے کی آخری کوشش ہےـ

کیا شراب نوشی کے اڈوں پر قطاروں میں کھڑے لوگوں کے لئے شوسل ڈسٹینسنگ کا رول نافذنہیں ہوتا یا پھر شراب نوشوں کے پاس کرونا وائرس نہیں آتا ہے یا صرف مندر و مسجد میں عبادت کرنے ہی سے کرونا وائرس پھیلتا ہے یہ دو رخی تاریخ میں یاد کی جائے گی ـ

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)