لو جہاد کے نام پر جاری ظلم اور قانون سازی میں کتنی حقیقت کتنا فسانہ -حلیم اطہر سہروردی

سپریم کورٹ نے شادی کے لیے تبدیلی مذہب (لوجہاد) کے خلاف اترپردیش اور اتراکھنڈ کے قوانین کی قانونی حیثیت کو چیلنج دینے والی عرضیوں کو قبول کرتے ہوئے مرکزی حکومت سمیت دونوں ریاستی حکومتوں کو نوٹس جاری کیا ہے لیکن عدالت عظمی نے اس پر اسٹے دینے سے انکار کردیا،مرکزی حکومت اور قانون بنانے والی دونوں ریاستوں کا جواب ملنے کے بعد سپریم کورٹ میں اس مقدمہ کی سماعت شروع ہوگی۔یہ بھی اطلاع ہیکہ مدھیہ پردیش ، ہریانہ اوردیگر ریاستیں بھی ایسے ہی قانون بنانے پر غور کررہی ہیں۔ لو جہاد کے خلاف قانون بناکر مسلمانوں کو پریشان کرنے کو واقعات میں دن بہ دن اضافہ ہورہا ہے،فرقہ پرست عناصر اس قانون کی آڑ میں مسلمانوں کیخلاف جھوٹے مقدمہ اور پولس میں جھوٹی شکایتیں کر رہے ہیں اور ان کا ظلم بڑھتا ہی جارہا ہے۔ملک بھر میں اقلیتوں باالخصوص مسلمانوں کے ساتھ ناانصافیاںجاری ہیں کبھی بیف کے نام پر تو کبھی لوجہاد کے نام پر ۔لوجہاد کے نام پر ہورہی کارروائیوں کا مقصد یہ بتایا جارہا ہیکہ ہندو آبادی کو اقلیت میں تبدیل کرنے اور ہندوستان کو مسلم اکثریتی ملک بنانے کے منصوبہ کے تحت مسلمان مرد ہندو عورتوں سے شادی کر رہے ہیں اس لئے مسلم مردوںکی غیر مسلم عورتوں سے شادیوںکے واقعات روکے جائیں۔بین مذہبی شادیاں نہ صرف ہمارے ملک بلکہ دنیا بھر میں کہیں بھی پسند نہیں کی جاتیں،کوئی مذہب،کوئی سماج اس کو خوشی سے قبول نہیں کرتا،لیکن پھر بھی کبھی کبھی کہیں کہیں ایسے واقعات ہو ہی جاتے ہیں لیکن یہ کسی سازش یا کسی سوچے سمجھے منصوبہ کے تحت نہیں ہوتے بلکہ یہ ایک دوسرے کی پسند اور عاشقی کا نتیجہ ہوتے ہیں اور ایسے واقعات میں ہر دو طرح کے معاملے ہوتے ہیں یعنی مسلم عورتیں غیر مسلم مردوں سے اور مسلم مرد غیر مسلم عورتوں سے شادیاں کرتے ہیں، ایسا پروپیگنڈہ کرنا کہ صرف غیر مسلم عورتوں کو ہی نشانہ بنایا جارہا ہے اور اس کو لو جہاد کا نام دینا سراسر غلط اور سازش ہے،لو جہاد کی سازش میں کتنی حقیقت ہے اور کتنا فسانہ ہے یہ دنیا جانتی ہے پھر بھی اس کے خلاف قانون بنا کر اقلیتوں باالخصوص مسلمانوں کو پریشان کیا جارہا ہے۔لو جہاد کی اصطلاح بین مذاہب شادی اوربالخصوص مسلم مردوں کی ہندوعورتوں کے ساتھ شادی کے معاملہ میں استعمال کی جا رہی ہے اور اس کو ایک زبردست تنازعہ بناکر اس کے خلاف قانون سازی کرکے مسلم مردوں کو نشانہ بنایا جارہاہے،مسلم مردوں کا ہندوعورتوں کے ساتھ شادی کرنے کے جو معاملات ہیں ان میں سے اکثر مرد یا تو دین سے دور اور دہریے ہیں جیسے فلمی اداکار اور سیاستدان وغیرہ یا پھر وہ نوجوان ہیں جو مخلوط اداروں میں ساتھ پڑھتے یا کام کرتے ہیںاور ایک دوسرے کی طرف راغب ہوجاتے ہیں،جہاں تک اسلام کی تعلیمات کا تعلق ہے اسلام نے شادی کے لئے شریک حیات کے انتخاب کی پہلی شرط ہی دینداری رکھی ہے،اسلام میں بین مذہبی شادیوں کو قطعی پسند نہیں کیا جاتا اور اگر کوئی مسلم مرد کسی دوسرے مذہب کی عورت سے شادی کرتا ہے تو اس کے لئے لازمی ہے کہ وہ پہلے اس عورت کو مسلمان بنائے اور پھر شادی کرے ورنہ وہ شادی قابل قبول نہیں، اب لو جہاد کے نام پر قانون بناکر دہشت پھیلانے کی کوشش کا جو جواز پیش کیا جارہا ہے کہ مسلم مرد ایک سازش کے تحت ہندو عورتوں کو اپنی محبت کے جال میں پھنسا کر پہلے ان سے شادی کرتے ہیں اور پھر زبردستی ان کا مذہب تبدیل کرا دیتے ہیں،اس معاملہ میں تو مسلم مرد کی شادی قبول ہی نہیں ہے جب تک کہ عورت مسلمان نہ ہوجائے ،یعنی پہلے مسلمان ہونا ہے پھر شادی کرنی ہے اگر کوئی عورت مسلمان نہیں ہونا چاہتی تو مسلم مرد اس سے شادی بھی نہیں کرے گا ، محبت کے جال میں پھنسا کر شادی کرکے پھر مسلمان بنانے کا جو الزام ہے وہ سراسر جھوٹ ہے ،یہ محض مسلمانوں کو پریشان کرنے کا ایک بہانہ ہے۔
لو جہاد کے خلاف مہم خالص سیاسی ہتھکنڈہ ہے اور اس مہم کا ایک ہی مقصد سمجھ میں آتا ہے کہ ملک میں بی جے پی حکومتوں کی ناکامیوں سے توجہہ ہٹا کر ایسے مسئلوں میں الجھا دیا جائے اور ہندو اکثریتی آبادی کو مسلمانوں کیخلاف نفرت میں مبتلا کر کے مسلمانوں کے ساتھ ان کے سماجی روابط ختم کرائیں جائیں۔ وہ یہ نہیں سمجھ پا رہے ہیں کہ کیا ایک دوسرے کے تئیں نفرت کی آگ بھڑکاکر ایک ملک میں مل کر رہا جا سکتاہے؟ کیا ملک امن اور بھائی چارہ کا گہوارہ بن سکتا ہے ،کیا دو بڑی قوموں میں نفرت پیدا کرکے ہندوستان کے سپر پاور بننے کا خوااب پورا ہوسکتا ہے۔یہ سب جانتے ہیں کہ ہندوستان میں ہندو قوم پرست اور ہندو شدت پسند جماعتیں بین مذاہب اوربالخصوص مسلم مردوں کی ہندوعورتوں کے ساتھ شادی کی سخت مخالف ہیں۔ وہ ایسی شادیوں کے لیے ‘لَو جہاد کی اصطلاح استعمال کرتی ہیں اور انہیں روکنے کے لیے بعض اوقات پرتشدد طریقے اختیار کرتی رہی ہیں۔ وہ اسے سیاسی معاملے کے طور پر بھی اٹھاتی رہی ہیں۔ ان جماعتوں کا الزام ہے کہ مسلم مرد ایک سازش کے تحت ہندو عورتوں کو اپنی محبت کے جال میں پھنسا کر ان سے شادی کرتے ہیں اور پھر زبردستی ان کا مذہب تبدیل کرا دیتے ہیں۔حکمران بی جے پی جماعت کے لیڈران دلیل دے رہے ہیں کہ مسلم نوجوانوں کی طرف سے منظم ‘لو جہاد ایک طرح سے ہندو آبادی کو اقلیت میں تبدیل کرنے اور بھارت کو مسلم اکثریتی ملک بنانے کے منصوبہ کا حصہ ہے۔ مگر دوسری طرف حیرت ہوتی ہے کہ بی جے پی کے اپنے چوٹی کے مسلمان لیڈران مرکزی وزیر مختار عباس نقوی اور پارٹی کے نائب صدر شاہ نواز حسین نے ہندو خاندانوں میں شادیاں کی ہیں۔ بی جے پی کے ایک اور قد آور لیڈر مرحوم سکندر بخت کی بیوی بھی ہندو تھیں۔ اس پورے پروپیگنڈا کے نقیب اور ہندو فرقہ پرستوں کے چہیتے ممبر پارلیمان سبرامنیم سوامی نے خود ایک پارسی خاندان میں شادی کی ہے اور ان کی بیٹی، جو ایک نامور صحافی بھی ہیں، نے ایک مسلمان کے ساتھ شادی کی ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ نئی دہلی کے نظام الدین ایسٹ علاقے میں دونوں خاندان ساتھ ایک ہی چھت کے نیچے رہائش پذیر ہیں اور سکون کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔ سینئر کشمیری رہنما فاروق عبد اللہ کی بیٹی سارہ کانگریسی لیڈر سچن پائلٹ کے ساتھ ازدواجی بندھن باندھ چکی ہیں۔دراصل ملک کی تمام حکومتیں جس حقیقت سے چشم پوشی کر رہی ہیں اور حقیقت میںقانون کا جہاں غلط استعمال ہورہا ہے وہ ہے ہندو شادی شدہ مردوں کا ایک بیوی کے ہوتے ہوئے دوسری شادی کے لیے اپنا مذہب تبدیل کر کے مسلمان ہوجانا۔کیونکہ صرف مسلمان ہی ایک سے زائد بیویاں رکھنے کے قانونی مجاز ہیں۔حقیقت میں اگر واقعی کسی کام کو کرنے کی ضرورت ہے، تو وہ یہ ہے کہ سن 1954 کے اسپشل میریج ایکٹ میں ترمیم کی جائے اور اسے سہل بنایا جائے، جس کی مدد سے بین المذہبی شادیاں رجسٹر کی جاتی ہیں۔ یہ ایکٹ شادی شدہ جوڑے کو اپنے مذہب پر عمل پیرا ہونے کی اجازت دیتا ہے۔ لیکن یہ شوہر کی جائیداد میں بیوی کو وراثت کا حق نہیں دیتا۔ دلیل ہے کہ وہ دوسرے مذہب سے تعلق رکھتی ہے۔ شاید یہ دفعہ اس لیے رکھی گئی تھی کہ لڑکیاں معاشی سہولیات کی خاطر کسی دولت مند لڑکے سے شادی نہ کریں۔بین المذہب شادی کرنے والی لڑکی کو شوہر کی وراثت میں اسی طرح کا حق ملنا چاہیے، جس طرح کسی اور خاتون کو ملتا ہے۔ یہ شق اس لیے بھی غلط ہے کہ اگر لڑکے، لڑکی نے والدین کی مرضی کے بغیر شادی کی ہو اور اگر شوہر انتقال کر جاتا ہے، تو لڑکی بے سہارا ہوکر در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہو جاتی ہے۔ قانون میں ترمیم کر کے لڑکی کو وراثت کا حق دلانے کے لیے مہم چلانے کی ضرورت ہے نہ کہ ووٹ بٹورنے کے لیے فرضی ‘لو جہاد کا ہوا کھڑا کر کے ملک کو مذہبی اور فرقہ وارانہ بنیادوں پر تقسیم کیا جائے۔
وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں جب سے بھارتیہ جنتا پارٹی اقتدار میں آئی ہے، ایک کے بعد ایک صوبے میں بین مذہبی شادیوں کو روکنے کے لیے قانون سازی کی جا رہی ہے۔ اتر پردیش اور اتر کھنڈکی حکومتوں نے جو قانون بنایا ہے اس قانون میں ایسی شقیں شامل کی گئی ہیں کہ کوئی بین مذہبی جوڑا، ازدواجی بندھن میں نہ بندھ پائے ۔ اس قانون کے مطابق شادی کے لیے دھوکہ، گمراہ، لالچ یا زبردستی مذہب تبدیل کرانے پر زیادہ سے زیادہ دس سال قید اور 25 ہزار روپے تک جرمانے کی سزا ہو سکتی ہے۔ یہ ایک غیر ضمانتی جرم ہوگا اور جو لوگ مذہب تبدیل کرنا چاہتے ہیں انہیں اس کے لیے ضلع مجسٹریٹ کو دو ماہ قبل اطلاع دینی ہو گی۔اتر پردیش سے قبل مدھیہ پردیش اور ہریانہ کی حکومتوں نے بھی ‘لوجہاد کو قابل تعزیر جرم بنانے کے لیے قانون بنانے کا اعلان کیا تھا، آسام اور کرناٹک کی حکومتوں نے بھی یہی ارادہ ظاہر کیا ہے لیکن ہندوستانی آئین میں موجود ضمانت شدہ بنیادی حقوق کی روشنی میں ایسا کوئی بھی قانون فوری طورپر کالعدم قرار دے دیا جائے گا۔”سپریم کورٹ کے سینئر وکیل پرشانت بھوشن کا کہنا تھا کہ اترپردیش حکومت کی طرف سے لایا گیا یہ قانون آئین کی بنیادی روح کے خلاف ہے۔ ہندوستانی آئین کسی بھی مذہب کے دو بالغ لڑکے لڑکی کو باہمی رضامندی سے شادی کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ مذہب یا ذات کی بنیاد پر اس پر پابندی نہیں عائد کی جاسکتی۔ اتر پردیش حکومت کا آرڈیننس ہندوستانی آئین میں ہر شخص کو دیے گئے بنیادی حقوق کی صریح خلاف ورزی ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ اگر اسے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا تو یہ مسترد ہوجائے گا۔”پرشانت بھوشن کا کہنا تھا کہ شادی کے لیے کسی طرح کالالچ دینے یا دباؤ ڈالنے یا کوئی غیر قانونی راستہ اپنانے کے سلسلے میں پہلے سے ہی قانون موجود ہے۔ ایسا کرنا قانوناً جرم ہے اور اس کے لیے دس برس تک قید کی سزا ہے۔ لہذا ایسے میں نئے آرڈیننس کی منطق سمجھ سے بالاتر ہے۔اترپردیش کے سابق اعلی پولیس افسر وکرم سنگھ کا خیال ہے، اس نئے قانون کا جواز سمجھ میں نہیں آتا ہے۔ جتنے بھی جرائم کی بات اس آرڈیننس میں کی گئی ہے ان سب کے خلاف پہلے ہی قانون موجود ہے اور سخت سزاؤں کا التزام ہے۔” سابق ڈائریکٹر جنرل پولیس کا کہنا تھا،آپ پہلے سے موجود قانون پر عمل تو کرا نہیں پارہے ہیں۔ غیر ضروری طورپر نئے قانون لا کر صرف گمراہ کر رہے ہیں۔”سابق وزیر داخلہ اور سپریم کورٹ کے وکیل پی چدمبرم نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ،”لوجہاد پر قانون لانا ملک میں ‘اکثریت کے ایجنڈے کو نافذ کرنے کی کوشش ہے۔ ہندوستانی قانون کے تحت مختلف مذاہب کے لوگوں کے درمیان شادی کی اجازت دی گئی ہے حتی کہ تمام حکومتیں بھی اس کی حوصلہ افزائی کرتی رہی ہیں۔” لو جہاد سے متعلق آرڈیننس کا مسودہ تیار کرنے میں اہم رول ادا کرنے والے لاء کمیشن کے چیئرمین ریٹائرڈ جسٹس آدیتیہ ناتھ متل نے میڈیا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں تسلیم کیا کہ لوجہاد کے متعلق ریاست کے محکمہ پولیس یا کسی دیگر محکمے کے پاس کوئی اعدادو شمار نہیں ہیں اور اس قانون کا مسودہ تیار کرنے کے لیے انہوں نے اخبارات کی خبروں پر انحصار کیا۔گزشتہ برس پارلیمان میں بھی ایک سوال کے جواب میں مودی حکومت نے کہا تھا کہ قانون میں اسطرح کی کوئی تشریح نہیں ہے اور نہ ہی حکومت یا حکومتی اداروں کے پاس لو جہاد کے واقعات کے سلسلے میں کوئی اعدادو شمار موجود ہے۔دو برس قبل سپریم کورٹ کے حکم پر قومی تفتیشی ایجنسی (این آئی اے) نے بین المذاہب شادیوں کی جانچ کی تھی۔ لیکن کسی بھی معاملے میں اسے زبردست تبدیلی مذہب اور مبینہ ‘لوجہاد کے ثبوت نہیں ملے تھے۔
دلچسپ بات یہ ہیکہ حکومت کی طرف سے اس کو روکنے کے نام پر جو وجوہات بیان کی جا رہی ہیں و ہ کسی مزاحیہ افسانے سے کم نہیں۔ بتایا جارہاہے کہ مسلمان لڑکے دیہاتوں اور قصبوں میں خود کو ہندو ظاہر کرکے ہندو لڑکیوں کو محبت کے جال میں پھنساتے ہیں۔ پھر ان لڑکیوں کے ساتھ ازدواجی بندھن میں بندھ جاتے ہیں۔ اور پھر لڑکی کا زبردستی مذہب تبدیل کرایا جاتا ہے۔اہم بات تو یہ ہے کہ حکومت کے پاس جبراً تبدیلی مذہب کی دلیل کو سہارا دینے کے لیے کوئی اعداد و شمار بھی نہیں ہیں۔ ایک سال قبل ہی وزارت داخلہ نے پارلیمنٹ کو بتایا کہ ان کے پاس اس طرح کے واقعات کی تفصیلات نہیں ہیں، مگر دوسری طرف بی جے پی کی زیر قیادت صوبائی حکومتیں اس مسئلے کو لے کر قانون سازی کر رہی ہیں۔اب یہ الزام کہ ہندو آبادی کو اقلیت میں تبدیل کرنے اور ہندوستان کو مسلم اکثریتی ملک بنانے کے منصوبہ کے تحت مسلمان مرد ہندو عورتوں سے شادی کر رہے ہیں ،اگر اعداد و شمار پر نظر ڈالیں تو اس اعتبار سے بھی یہ صحیح نہیں ہے کیونکہ ہندوستان میں جہاں 966 ملین ہندو اور صرف 172ملین مسلمان مقیم ہیں، اس طرح کی شادیوں سے خوف زدہ ہونے کی کیا ضرورت ہے؟ اگر آج ہی سے سبھی مسلمان مرد ہندو لڑکیوں کو اپنانا شروع کر دیتے ہیں، تب بھی ہندو آبادی کے تناسب کے بگڑنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ سن 2011 کی مردم شماری کے مطابق تو ہندوؤں میں صنفی تناسب کی صورتحال یہ ہے کہ ہر ایک ہزار مردوں کے مقابلے میں عورتیں 939 ہیں۔ مسلمانوں میں یہ نسبتاً بہتر یعنی 951 ہے۔حالانکہ ملک میں آزادی کے بعد سے ہی ہندوتوا کی مبینہ فرقہ پرست سیاست جاری رہی ہے۔ لیکن جب سے مرکز میں بی جے پی کی حکومت اقتدار میں آئی ہے، اقلیتوں پر مظالم بڑھ گئے ہیں۔مسلمانوں اور عیسائیوں کو خاص طور پر نشانہ بنایا جارہا ہے خواہ وہ بیف کے نام پر ہو یا اب ‘لو جہاد’ کے نام پر۔ ہندوستان میں اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے جان و مال، عزت و آبرو، تہذیب و ثقافت اور مذہب سب خطرے میں ہیں۔موجودہ حکومت اقلیتوں اور خاص کر مسلمانوں کو ان کے آئینی و مذہبی حقوق دینا نہیں چاہتی۔اقلیتیں ناانصافی کے خلاف آواز اٹھانے کی کوشش کرتی ہیں تو ان کی آواز دبا دی جاتی ہے۔آئین نے اقلیتوں کو جو مذہبی حقوق دیے ہیں وہ اس وقت انھیں مکمل طور پر حاصل نہیں ہیںجبکہ ہندوستان کو ایک سیکولر ملک قرار دیا گیا ہے اور ضمانت دی گئی ہے کہ مذہب کی بنیاد پر کسی کے ساتھ امتیازی سلوک نہیں کیا جا سکتااس کے باوجود موجودہ حکومت میں اقلیتوں باالخصوص مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جارہا ہے۔مختلف قومی اور بین الاقوامی تنظیموں اور اداروں کی جانب سے بھی ہندوستان میں اقلیتوں کو مبینہ طور پر ان کے مذہبی و آئینی حقوق سے محروم کرنے پر وقتاً فوقتاً اظہار تشویش کیا جاتا رہاہے۔

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)