روس کے کتب خانے ـ ریحان کاظمی

روسی کتب خانوں کی تاریخ 11 ویں صدی میں روسی ریاست کے عیسائ کلیسہ کے کتابوں کے مجموعوں سے شروع ہوئی تھی-

اس زمانے میں کتابیں بہت نادر تھیں اور ان کی بہت قدر کی جاتی تھی- عموماً انہیں موناسٹریوں یعنی عیسائی خانقاہوں میں خصوصی کمروں میں محفوظ رکھا جاتا تھا- کتابوں کے لیے احترام کا رویہ روس میں آج بھی برقرار ہے- ہر روسی گھر میں بہت ساری کتابیں ہوتی ہیں- خاص طور پر شاعری کے مجموعے یا پریوں کی کہانیاں جن کو بچے نسل در نسل پڑھتے ہیں-

آج کل روس میں تقریباً ایک لاکھ تیس ہزار کتب خانے ہیں- ہر چھوٹے بڑے شہر اور ہر تعلیمی ادارے میں لائبریری ضرور ہوتی ہے- بچوں اور طلبا کے لیے الگ الگ کتب خانے موجود ہیں- پھر علم طب، انجینیرنگ، تاریخ جیسے مضامین پر خصوصی کتب خانے بھی ہيں- روس میں علمی کتب خانوں کا ایک جال بچھا ہوا ہے جس میں یونیورسٹیوں اور دوسرے اعلیٰ تعلیمی اداروں کی لائبریریاں شامل ہیں، لیکن روس میں موجود کتب خانوں کی اکثریت عام کتب خانے ہيں-

کتب خانوں میں مسلسل نئی کتابوں کا اضافہ کیا جاتا ہے- روسی قوانین کے مطابق سبھی اشاعت گھروں کو لازمی طور پر ملک کی اہم ترین کتب خانوں کو اپنی ہر نئی کتاب کی ایک ایک کاپی بھیجنی ہوتی ہے-

روس کا سب سے بڑا اور مشہور ترین کتب خانہ ماسکو کی سٹیٹ لائبریری ہے- دراصل یہ دنیا کے سب سے بڑے کتب خانوں میں سے ایک ہے- آج اس کے مجموعے میں ڈھائی سو زبانوں میں ساڑھے چار کروڑ سے زيادہ کتابیں محفوظ ہيں- ان میں اردو، ہندی، بنگالی، تمل اور سنسکرت زبانوں میں بھی لکھی کتابیں شامل ہیں- اگر اس لائبریری میں موجود تمام کتابوں کو تختوں سے نکال کر ایک قطار میں رکھا جائے تو اس قطار کی لمبائی 600 کلومیٹر ہوگی- کتابوں کی تعداد کے حوالے سے صرف واشنگٹن کی لائبریری آف کانگریس روسی سٹیٹ لائبریری سے آگے ہے- ہر روز سات ہزار سے زائد افراد ماسکو کے اس کتب خانے میں آتے ہیں-

روس کی سٹیٹ لائبریری میں مخطوطوں کا مجموعہ بیش قیمت ہے- درحقیقت وہ قدیم جواہرات کے قومی مجموعے سے زيادہ قیمتی ہے- بہت پرانے مخطوطوں کے علاوہ اس مجموعے میں عظیم روسی شاعروں اور نثرنگاروں کے قلمی نسخے بھی محفوظ ہيں جن میں الیکساندر پشکن، فیودر دستویفسکی، لیو ٹالسٹائے کا نام لینا ضروری ہے- اس کتب خانے میں لاثانی کتابوں کا خاص الگ شعبہ ہے- وہاں ایسی نادر کتابیں محفوظ ہیں جن کے دنیا میں کوئی ایک یا دو نمونے موجود ہیں- مثال کے طور پر ان میں 1487 میں ہالینڈ کے شہر اینٹورپ میں شائع شدہ عیسائی عبادتوں کے دو مجموعے اور 15 ویں صدی کے ہسپانوی ادیب سروانتس کے افسانوں کا دو جلدوں پر مشتمل مجموعہ جو کارک درخت کے پتوں پر چھپا تھا، شامل ہیں-

زمانے کے تقاضوں کے مطابق روس کے کتب خانوں کے حالات سدھارے جا رہے ہیں- ان کو کمپوٹروں سے لیس کیا جا رہا ہے جس کی بدولت قومی اور غیرملکی کسی بھی قسم کی معلومات تک رسائی حاصل کی جا سکتی ہے- کئی کتب خانوں میں انٹرنیٹ سے بھی استفادہ کئے جانے کا امکان ہے- "لیِب نیٹ” نامی کل روسی معلوماتی کمپوٹر کا جال بچھانے کے طفیل ملک کے ہر شہر کے باشندے روسی سٹیٹ لائبریری کے شاندار مجموعوں سے مستفد ہو سکتے ہیں- مستقبل میں عالمی ڈیجیٹل لائبریری کا قیام بھی خارج از امکان نہیں ہے-