لایموت: ایک فکر انگیز روداد زندگی ـ ڈاکٹر غطریف شہباز ندوی

 

چند ہفتوں پہلے معروف مورخ رام چندر گہا کی قدرے ضخیم تصنیف:
India after Gandhi
پڑھی،ویسے تو کتاب بڑی معلومات افزا ہے لیکن یہ دیکھ کر حیرت بھی ہوئی اور کسک بھی کہ مسلمانان ہند کے تذکرہ میں مصنف نے کتاب کے تقریبا 1200 صفحات میں چند ہی صفحات خرچ کيے وہ بھی مائناریٹی ایشو کے حوالہ سے۔ مصنف لبرل ہیں لیکن مسلمانوں کو گویا اس ملک میں ایک نان انٹیٹی مان کر چل رہے ہیں۔ ہے نا حیرت کی بات!
ابھی چند دن پہلے ڈاکٹر راشد شاز نے اپنی خود نوشت ‘لایموت’ عنایت کی۔ شاز کی نثر ایسی بلیغ، مؤثر اور رواں ہے کہ کتاب ایک بار ہاتھ میں آ جائے تو چھوٹتی نہیں چنانچہ 447 صفحے یہ خاکسار اپنی دوسری مصروفیات کے ساتھ تین دن میں پڑھ گیا۔ یہ کتاب بظاہرخود نوشت ہے لیکن یہ دراصل ایک پوری نسل کی کہانی ہے۔ یہ میری کہانی ہے ہر مسلمان نوجوان کی کہانی ہے۔ آزادی سے لے کر 1990 کے حوادث پر مشتمل اِس داستان کو پڑھتے ہوئے قدم قدم پر یہ احساس ہوتا گیا کہ مسلمان کو اس ملک میں وجود و بقا کی جنگ درپیش ہے لیکن نہ اس بے چارہ کو اس چیلنج کا احساس ہے نہ اِس کی کوئی تیاری۔
خوبصورت نثری بیانیہ قاری کو نام نہاد آزادی سے لیکر بابری مسجدکے انہدام کے حادثہ کے ذرا پہلے تک کے طلسم خانہ کی سیر کراتی ہے۔ اِس دورانیہ میں مسلمانان عالم پر کیا گزری اس کی طرف بھی اشارے ہیں مگر اصل فوکس ہندوستانی مسلمان ہیں۔ اس کتاب سے میرے ان سوالوں کا جواب بھی ملا جو گوہا کی کتاب پڑھنے سے پیدا ہوئے تھے کیا انتہا پسند ہندو ہوں، کیا لبرل سب مسلمانوں کو نہ حاشیہ پر بلکہ غیر موجود مان کر چل رہے ہیں۔ یہ نیا بیانیہ ہے، اسلامی عہد کے ہر نشان کو کھرچ دینے کی مہم ہو یا بابری مسجد کا انہدام ہو یا اردو کو دیش نکالا دینا ہو سب اسی بیانیہ کے مختلف باب ہیں جس کے لکھنے کا آغاز تقسیم ہند سے بہت پہلے ہو چکا تھا اور تقسیم کے سانحہ نے اس میں اور شدت لا دی۔
اس کتاب میں آسام کے نیلی، بہار کے بھاگلپور، یو پی کے مرادآباد اور میرٹھ کے خونیں مسلم کش فسادات (فساد کا لفظ ہلکا ہے اصل میں یہ تو مسلم نسل کشی کی خوں ریز مہمیں تھیں) کے حوالہ سے نئی مسلم نسل کے سامنے سوالات اٹھانے کی کوشش کی گئی ہے۔ یہ سوالات دستور ہند، سیکولرزم، نام نہاد سیکولر پارٹیوں، نام نہاد اور مزعومہ ملی قیادت (باریش و بے ریش) پر ہیں اور بعض تقدس مآب شخصیات پر بھی۔
اس ملک میں مسلمانوں کے ساتھ اصل میں ہوا کیا ہے۔کانگریس اور دوسری سیکولر پارٹیاں ان کے ساتھ کیا کھیل کھیل گئی ہیں۔ كتاب اِن سب چیزوں کو بڑی وضاحت سے قاری کے سامنے رکھتی ہے۔ مصنف کی امیجری کمال کی ہے اور نثر کو اِس ساحرانہ انداز میں برتا گیا ہے کہ قاری کہیں نہیں اکتاتا۔ کتاب پڑھتے ہوئے بارہا برجستہ قہقہے بھی نکلے تو بارہا شدید حزن و ملال اور تفکر نے بھی آ لیا۔
مصنف علی گڑھ کے فرزند ہیں اور انہوں نے اس سرگزشت میں اپنے زمانہ کے علی گڑھ، اپنے اساتذہ، طلبہ کی محفلوں اور گفتگووں اور ان کے احساسات کو زندہ کر دیا ہے۔ یہ محض مصنف کے ایام طلب کی داستان نہیں بلکہ ماضی کا نوحہ، حال کے احتساب کی دعوت ہے اور شاید مستقبل کے ليے کسی راہ کی نشاندھی بھی ہو جائے۔ دوسری جلد کا شدت سے انتظار ہے۔ یہ کتاب پر تبصرہ نہیں، پڑھنے کے بعد کا فوری تاثر ہے ۔مفصل تبصرہ امید ہے کہ بعد میں لکھوں گا۔