Home نقدوتبصرہ لولاک:نعت کے دانشورانہ ڈائمنشنز اور عصری مطابقت -انتخاب حمید

لولاک:نعت کے دانشورانہ ڈائمنشنز اور عصری مطابقت -انتخاب حمید

by قندیل
(سابق پروفیسر، شعبہ انگریزی، ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکرمراٹھواڑہ یونیورسٹی، اورنگ آباد) 
9422291825
    (یہ مضمون صنف نعت کی تفہیم و ترویج کے لیے ’’ دبستان نعت ‘‘کی بیش بہا خدمات کے تئیں نذرانہ تحسین ہے)
۱۔جنگل رنگوں اور نسلوں کا ،جنگل طبقوں اور فرقوں کا
    سب کے اپنے اپنے مذہب ،مذہب کی سیاست چاروں طرف
۲ ۔ طاقت کے نشہ میں چور سبھی ،مذہب کے دلالوں کی دنیا
   غربت کے چٹانوں کے نیچے حق چاہنے والوں کی دنیا
۳۔منتظر تھا شہر مکہ اک مفکر کے لئے
۴۔آسماں کی وسعتوں کو ذہن انساں کا سلام
        فکر کی پرواز کو جن سے ملی عمر دوام
        تیز تیز اٹھنے لگے آگے تجسس کے قدم
      طائر تحقیق کی امت بڑی ہونے لگی
۵۔سرمگیں آنکھوں میں مستقبل کی روشن جھلکیاں
    کالی پلکوں پرتھرکتااک تمدن شاندار
(لولاک۔چندر بھان خیال)
نعت ایک ایسی صنف سخن ہے جو زبان و بیان اور ہیئت و جمالیات کی سطح پر دیگر شعری اصناف سے صریحا ً مماثلت تو رکھتی ہے لیکن اپنی تخصیص اور اپنا اختلاف بھی واضح رکھتی ہے ۔ادراک و اظہار میں تقدس اور لفظیات میں عقیدت مندانہ و عاشقانہ شکوہ اس صنف کا تعریفی وصف ہے ۔یہ صنف سخن ان معدودے چندشعری اصناف (بشمول عربی و فارسی )میںشامل ہے جو اپنی رد تشکیل ہی نہیں ،اپنی تشکیل و تعمیر میں بھی تشکیک و ترد سے بالا تر ہے ۔اس صنف کی بیانیہ منطق ہی نہیں اس صنف کا وجود فی نفسہ ایقان و استناد پر انحصار کرتا ہے اور جس کا لفظ لفظ بے پناہ عقیدت ،خودسپردگی ،اور ازخود رفتگی سے معنون ہے ۔کیونکہ اس کا واضح و واحد مقصد ،بلا شرکت غیرے ،سرور کائنات حضرت محمد ﷺکی ذات بابرکات و اعلی صفات ہے عقیدت رسول ﷺ ہی اس کا محرک بھی ہے اور جواز بھی ۔
لولاک کا تاسیسی عنصر بھی خالص عقیدت رسول ﷺ ہی ہے مگر اس نعت کے کچھ ایسے فکری و فنی ڈائمنشز ہیں جن کی بنیاد  پر اسے نعت کی دنیا میں اپنی مثال آپ قرار دیا جا سکتا ہے ۔یہ وہ ڈائمنشنز ہیں جو اس نعت کے تلازمات کو ازلی حقیقتوں کی مانند آفاقیت سے ہمکنار رکھتے ہیں ۔سرور عالم ﷺ کی ذات پاک کے اتنے رخ، اتنے ابعاد ہیں اور اس قدر تہہ دار و طرح دار ہیں کہ ہر دور میں ان کی معنوی مطابقت کی پرتیں کھلتی رہیں گی ۔خواہ وہ حیات و موت اور کائنات کے سربستہ رازوں سے متعلق ہو ںیا انسانی معاشرتی نظام کی تنسیخ ہو یا تعمیر نو یا پھر تغیر پذیرعصری متعلقات ہوں ۔عصر جو ازل سے موجود ہے اور جو ابد تک قائم رہے گا ۔فکر نبوی سے مستفید و منور ہوتا رہے گا ۔
لولاک کا ہیئتی ،نظریاتی اور لسانی اسڑکچراور اس کے متوازی ،یا یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ اسی میں ضم و مدغم محسوساتی اسٹرکچر خاصہ Complexہے ۔چھ ابواب میں منقسم یہ طویل نظم خیر البشر ﷺ کے نظریۂ حیات کی ابتدا و منتہا پر محیط ہے جس کا ہر باب ( اپنی موضوعاتی تخصیص کے باوجود ) اپنے پیش و پس رو ابواب سے بتدریج فکر رسول ﷺ اور بیانیاتی جمالیات سے مربوط و منضبط ہے ۔مخصوص تاریخی سیاق کے باوصف اپنے تلازماتی تناظر میں لولاک عہد رواںاور اس کی معاشرت ،معیشت ،سیاست و ثقافت ہی نہیں اس ثقافت کے پروردہ انسان کی روش اور اس کے نفسیاتی اسٹرکچر کو بھی سوال زد کرتی ہے ۔
عصر حاضر اور اس کے تراشیدہ انسان کا ظاہر و باطن حرص و طمع ، خود غرضی ،اناپسندی ،غصب و استبداد اور لذت کوشی جیسی لعنتوں سے مسلسل آلودہ تر ہو تا جا رہا ہے عصر رواں کے اسی متشدد منظر نامے کے سیاق میں عالمی سطح پر بے شمار سیاسی اورثقافتی ڈسکورسیز انسانی تحقیر و تذلیل اور استحصال و استبداد کی تصدیق فراہم کرتے ہیں۔لولاک کا بیانیاتی اسٹرکچراپنے مدیحی کردار کے باوصف ،ان مخاطبات سے قابل توجہ مطابقت رکھتا ہے ۔لولاککا یہ ایک اہم ترین کنٹریبیوشن ہے ۔دانشورانہ تلازمات اس متن میں ذہانت اور مشاقی سے انگیز کئے گئے ہیں اور اس کمال فن سے کیے گئے ہیں کہ نعت کا صنفی و جمالیاتی حسن قطعی متاثر نہیں ہوتا ۔
صنف نعت یا نعتیہ شاعری کا یہ ایک مفقود ڈائمنشن ہے کہ وہ اپنے عصر رواں میںان بیشتر پہلوئوں کو مخاطب نہیں کرتی جو ایک منطقی اور دانشورانہ تجزیاتی و تدارکی مخاطبت کے متقاضی ہیں ۔نعتیہ شعری بیان میں، اپنے صنفی تقدیس کے زیر اثر، اس نوع کے بیانات غیر مشروع قرار پاتے ہیں۔لولاک کا دانش معکوس زاویہ ٔ نگاہ اپنا مستند جواز فراہم کرتا ہے کہ ایسی ابتر صورتحال میں فکر نبویؐ انسانی ترفع ،انسانی فلاح و بہبود اور انسانی نجات کی راہیں منور کرتی ہے ۔اس ضمن میں یہ خاص طور پر قابل ذکر ہے کہ لولاک  موضوعاتی وسعتوں کے امکانا ت ہی نہیں اس صنف کے انتقادی لوازمات کے تقاضوں کی جانب بھی اشارے فراہم کرتی ہے ۔آج کے سیاق میں  ہمارے نعت گو شعرا اور نعتیہ نقاد دونوں ہی کو اپنے آفاق وسیع کرنے کی شدید ضرورت ہے ۔
لولاک کا باب اول حضور ﷺ کی نظریاتی بیخ و بنیاد کی جس شعری طرز بیانیہ میں پیش سایہ افگنی کرتا ہے ،قابل ستائش ہے ۔بہتیری نعتوں میں حالات حاضرہ کی چیرہ دستی، اخلاقی تنزل کے اشارے اور متاثر کن شعر ی بیانات نظر توآتے ہیںاور فکر و دانش کے تلازمے بھی ،تاہم ان سے حضور اکرم ؐکے فکری نظامِ عصر کے ڈائمنشنز رقم نہیں ہوتے اور نہ ہی ان نعتوں میں فکری ساخت کی دلالت کے بیانیاتی عناصر واضح نظر آتے ہیں ۔عصر معکوس مسائل خواہ وہ انفرادی ہوں یا اجتماعی ،گرچہ نعت میں جگہ پاتے بھی ہیں تو التجائیہ ،استعانہ یا استغاثہ کی صورت نظر آتے ہیں ۔مثلا ً حالی کا لہجہ ملاحظہ فرمائیے گا :
اے خاصہ خاصان رسل وقت دعا ہے
امت پہ تری آکے عجب وقت پڑا ہے
یا پھر نعت کے دوسرے دو غالب روایتی ابعا دنظر آتے ہیں ۔ایک سیرت پاک ﷺو شمائل نبوی اور دوسرا نورانی و ماورائی ڈائمنشن ،حسن عسکری کا انتہائی عالمانہ مضمون ’’ محسن کاکوروی ‘‘ انہیں دو خصوصیات کی بنیاد پر حالی اور محسن کاکوروی کے نعتیہ کلام کا حیرت زا موازناتی تجزیہ کرتاہے ،حالی کو بشری یا انسانی اور محسن کاکوروی کو نوری جہات سے منسوب قرار دیا گیا ہے ۔
کئی ایسی نعتوں کی مثالیں بھی پیش کی جا سکتی ہیں جن میں دور جاہلیہ کا شعری بیانیہ موجود ہے ۔لولاککے ابتدائیہ کا اندازِ بیان اور لسانی دروبست اس کے عصری مطابقت کے معنی خیز نظریاتی (Ideological)اسٹرکچر پر دال ہے ۔دور جاہلیہ کی جو صورت گری لولاک میں کی گئی ہے وہ کسی صورت بھی عصری صورت سے مختلف نہیں ہے ،بجز اس کے کہ عصر رواں کی شیطانی قوتیں زیادہ Sophisticatedاور سائنس و ٹکنالوجی سے لیس ہوکر زیادہ فتنہ انگیز ہو گئی ہیں۔
حضرت ابراہیم ؑسے قبل یا پھر ان کے بعد یا حضور اکرم ؐ کی ولادت باسعادت سے قبل عصری روش کا بیانیہ تلازماتی معنی خیزیوں سے معمور ہے ۔نعت کی بیانیاتی strategiesپر غور فرمائیے گا ۔بیانیہ حکمت عملی کے تحت تصور و تلفیظ کا شعری تصرف اس کمال فن سے کیا گیا ہے کہ عصری فسطائیت ،جبر وجہالت ،جنسی قہر اور صنف بہتر کی مظلومیت ذہن کے اسکرین پر تانڈو کرنے لگیں گی جس بیانیہ کی صداقتوں کی تصدیق کسی روزنامےNewspaper یا انٹرنیٹ سے ہو جائے گی ۔یہ محض دور جاہلیہ ہی کا بیانیہ نہیں ہے ۔بلکہ یہ ہمارے وقت کی ایسی خوفناک حقیقتیں ہیں جو معمولات کی شکل اختیار کرتی چلی جا رہی ہیں ۔
سفلہ پروری ،ذلالتوںاور کثافتوںکے کیچڑ میں غلطاں اس مبتذل معاشرہ کی عکاسی مبتذلہ تلفیظ ہی میں اپنا تاثر قائم کر سکتی ہے ۔اس لیے عصری معمولات کو جس معمولاتی زبان میںیہاں  شعر کیا گیا ہے ، لولاک ہی کا حصہ ہے ۔یہاں قابل توجہ بیانیہ اسٹرکچر کا یہ پہلو ہے کہ دور جاہلیہ کا بیان حضوراکرم ؐکی فکر کے تعمیر نو کی نا گزیریت کے لیے منصوبہ بند پس منظر فراہم کرتا ہے :
عصر وحشی ہو کے پاگل ،اونٹنی پر تھا سوار
بستیوں میں بے خطر پھنکارتی نیزوں کی دھار
مفلس و مجبور مائوں کی کمر کو توڑتا
لڑکیوں کے جانگھ سے لپٹا زناکاروں کا خوف
تمبوؤں میں جاگتا ہر رات خونخواروںکا خوف
اور دن میںسر پہ منڈلاتا سیہ کاروں کا خوف
بھیڑیوں کی بھیڑ سا نوعمر فصلیں روندتا
جانور کی عقل والے حکمراں طبقے کا خوف
مندرجہ بالا اشعار کے عصری سیاق ہی میں اس مضمون کے صفحہ نمبر ایک پر بطور تمہیدی حوالہ جات پیش کیے گئے اشعار نمبر ایک اور دو کو ملاحظہ کیجیے گا ۔لولاککی شعریات کا انوکھاپن واضح ہونے لگے گا ۔ معمولاتی زبان کے شعری تصرف کی یہ  مثال اردو نعتیہ شاعری میں بمشکل ہی نظر آئے گی ۔ہندی الفاظ گرچہ انیسویں صدی سے ہی نعتیہ شاعری میں استعمال ہو رہے ہیں ،محسن کاکوروی کے یہاں بھی ہندی الفاظ اپنے تہذیبی اور جمالیاتی تلازمات کے ساتھ مستعمل ہیں لیکنلولاک میں ہندی الفاظ جس طرح فطری انداز میں اپنے اشارات کے ساتھ بیانیہ میں ضم ہوتے چلتے ہیں اس کی مثالیں کم ملتی ہیں ۔یہ الفاظ نظم کے ڈکشن کی روانی کو مترنم کرتے ہیں ۔( بے سفر دشاؤں کا رازداں سفر میں ہے ٭آسماں کے نیچے آسماں سفر میں ہے ) اور دوسری طرف کہیں کہیں لفظیات کی عمومیت اورکر ختگی ثقافتی تنزل اور انسانی تذلیل کے اشارے بھی فراہم کرتی ہیں ۔انسانی عظمتوں کی پائمالی کا یہی سیاق نبی کریم ؐکی دانشورانہ فکر و نظر کی روشنی میں انسانی سماج کی تشکیل نو کے جواز بھی فراہم کرتی ہے۔’’ داروکا گلاس ‘‘ نظم کے سیاقی عصر کو ہی نہیں ،عصر حاضر کو بھی آئینہ کرتا ہے ۔باب اول’’ حضور ﷺ کی پیدا ئش سے قبل ‘‘کی لفظیات کے انتخاب و اہتمام پر غور فرمائیں ۔لذتیں ،بھوک ،نشہ ،جانگھ،زنا ، تمبؤوں ،جبر ،جبڑے ،یا باب دوم ’’ ولادت ‘‘کے درج ذیل بند یا اس سے قبل ہی کے بند پر نظر فرمائیں :
نوبہ نو طریقوں سے اہتمام دلگیری
دل فریب ساعت کو چاٹ چاٹ کر چومے
جوش عیش کوشی میں ہر نفس جنوں زادی
برق بن کے ناچ اٹھی بے لگام آزادی
سانپ جیسی ہستی میں پھن اٹھا کے لہرائے
مے پرست ہونٹوں کی اس قدر بلا نوشی
آدمی کے ہاتھوں سے آدمی کی بربادی
برق بن کے ناچ اٹھی بے لگام آزادی
یہ وہ نامشروع لفظیات و اظہارات ہیں جن کی نعت جیسی صنف میں سر مو بھی گنجائش نہیں کیونکہ ’’ شوکت لفظی ‘‘ اور اظہاری تقدس نعت کی شرائط تمہیدی ہیں اور جن کی طرف سے ذرا سی بھی لا پر واہی نعت کے نورانی اور ماورائی محاسن کو متاثر ہی نہیں کرتی بلکہ نعت گو کو معتوب و ملعون قرار دیے جانے کا باعث بھی ہو سکتی ہے ۔
ابواب نمبر دو،تین اور چار گرچہ بتدریج ولادت باسعادت ،نبوت اور ہجرت کا شعری بیان ہیں تاہم متن کی بغور قرأت یہ منکشف کرتی ہے کہ ان ابواب کے ترنم خیز شعری بیانیہ کے بین السطور میں ان لفظیات کے توسط سے فکر نبوی کے دانشورانہ نظریاتی سروکار کو جس حسن کمال سے منضبط کیا گیا ہے لائق تحسین ہے ۔مثلا ً ولادت باسعادت کے نورانی لمحات کے باوصف نظم کے رواں دواں مصرعوں میں پیوست آئیڈیالوجیکل اشارات پر توقف فرمائیے گا ۔جدید اور مابعد جدید طرزہائے فکر سے فکر نبوی ؐ کے انسلاکات واضح ہونے لگیں گے ۔’’ بے لگام آزادی ‘‘ کی تکرار پر غور فرمائیے گا ۔آزادی کی گستہ عنانی کو منتج تخریب کاریوں پر نظر کیجیے گا Fear of freedom, Burden of freedomآزادی کی فراوانی ،آزادی پرقدغن یا احساس ذمہ داری سے مبرا تصور آزادی اور اس آزادی کے تحت آدمی کے ہاتھوں ،آدمی کی بربادی، جیسے جدید دور کے دانشورانہ مخاطبات ذہن میں تازہ ہونے لگیں گے۔
تنفر ،تفریق ،تعصب شر ،شر کے پجاری ،سانپ ،پھن ،وہم،دھواں ،عداوت ،یا پھر انہی بیانات میں مفلسی ،وزخم خوردہ سانسوں،اندھیرے ،یاس کے اندھیرے ،جیسی لفظیات اور عہد رواں کے تصورات کو فن کارانہ مہارت سے مدحت رسول ؐ میں انگیز کیا گیا ہے جو راست یا ناراست فکر نبوی ؐ کے مختلف ابعاد کی اہمیت و افادیت کو ثبت کرتے ہیں ۔درج ذیل اشعار پر توجہ فرمائیے گا وقت اور تاریخ کے فاصلے سمٹ آئیں گے ۔اس عصر سے اِس عصر تک تلازمات اور مطابقت کی طویل زنجیر کی کڑیاں روشن ہوتی چلی جائیں گی :
جنگل رنگوں اور نسلوں کا ،جنگل طبقوں اور فرقوں کا
  سب کے اپنے اپنے مذہب ،مذہب کی سیاست چاروں طرف
موقعوں کی پرستش میں ڈوبے ذہنوں کی غلاظت چاروں طرف
بے نور خداؤ ں کی خاطر لوگوں کی عداوت چاروں طرف
اخلاق و خلوص اور مہر ووفا سب غار میں دبکے دبکے سے
افراد کی دہشت گردی کا منھ توڑنے والا کوئی نہیں
قانون نہیں ،انصاف نہیں،دل جوڑنے والا کوئی نہیں
بڑھتے ہوئے ظلم کے دھارے کا رخ موڑنے والا کوئی نہیں
لفظ اور علامت سے جنت ،جھوٹ اور خوشامد سے آمد
طاقت کے نشہ میں چور سبھی ،مذہب کے دلالوں کی دنیا
’’ باب جہاد ‘‘ میں محسن انسانیت نبی کریم ﷺکی فکر کے ’’ فکر جہاں ‘‘ کے ڈائمنشنز دیدنی ہیں ۔یہاں کی جہاد کی شعری تعریف انسانی فلاح سے معنون عالمی دانشوروں کے نظریات سے مطابقت ہی نہیں رکھتی اور جہاد کے باب میں غلط فہمیوں پر مبنی یا منفی تعبیر اور تشہیر و توجیہات کے طریقۂ کار کا ازالہ ہی نہیں بلکہ جہاد کی صحیح تفہیم اور غلط بیانات کے تدارک کی سمت ایک عملی اقدام کی صورت بھی دیکھی جا سکتی ہے ۔جہاد معرکہ خیر و شر ہے ،حق ،انصاف ،مساوات ،آشتی اور امن وامان کے قیام و استحکام کی ایک پرخلوص کاوش ہے کیونکہ تصور جہاد میں حرص و لالچ اور غصب و غلبہ جیسے انسانی اعمال و تصورات کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے ۔جہاد سے متعلق چندر بھان خیال کے Perceptionsاور اسلامی نقطہ نظر پر ان کی نظر خاص توجہ اور تحسین کی متقاضی ہے ۔غزوات کے پیش وپس منظر سے ان کی کماحقہ واقفیت ،تاریخ جغرافیہ و ثقافتی جزئیات کا ہنر مندانہ برتاؤ،جہاد کے معاشی ،معاشرتی اور اخلاقی و ماورائی ڈائمینشن پر ان کی گہری نظر جہادکے بیان کو ایک مثبت اور تعمیر نو سے منسوب ایک مستند شعری ڈسکورس کی شکل عطا کرتے ہیں ۔مستشرقین اور عالمی سطح پر مروج منفی رویہ کے پیش نظر یہ ڈسکورس ایک خاص اہمیت رکھتا ہے ۔:
اس جنگ و جہاد کا مقصد ہے انصاف کے گیسو لہرائیں
ہر فرد کی سانسوں کو رب کے پیغام خوشی سے مہکائیں
تفریق و تنفر کی لعنت اور بار مظالم دنیا کو
اب اور نہ بانٹ کے رکھ پائے سود اور زیاں کے خانوں میں
مذکورہ ڈائمنشن کے علاوہ جہاد کے درج ذیل پہلو کا محاسبہ بھی اہم ہے کیوں کہ یہ اقتباسات فکر نبوی ؐکے بازتعمیری نظریے میں انسانی اندرون اور ماورائیت کی اہمیت بھی واضح کرتے ہیں جن پر گفتگو آگے کی گئی ہے :
تنظیم و تعاون کا جذبہ بیدار ہو سب انسانوں میں
اخلاق و وفا برکات رضا سب چھوٹے بڑے کاشانو ں میں
اس قدر اٹھے ہر سینے میں ایثار و شہادت کا طوفاں
اوراق زمیں سے مٹ جائے تخریب صفت بدعنوانی
اس جنگ و جہاد کا مقصد ہے کردار عمل کی تابانی
حکمت کی حقیقت کی شہرت ،تخلیق جہان سبحانی
محتاج کو راحت کا ساماں ،پسماندہ گروہوں کو وقعت
طاقت کے نشے میں ڈوبے سبھی سلطانوں کو عبرت حاصل ہو
اس ضمن میں کچھ اقتباسات ملاحظہ فرمائیں جن میں مسجد نبوی کاتربیتی اور تعمیری کردار اپنے باطن سے واقفیت اور خود نگری پر مباحث قائم کرتا ہے جسے ماہرین نفسیات باطن میں مخفی قوتوں کا مخزن قرار دیتے ہیں:
یہ طاقت جس نے وسعت دی تفکر کی تمازت کو
بشر کی باطنی آنچ اور روحانی حرارت کو
مسجد نبوی کا مطلب ایک ایسی درسگاہ
بخش دے جو علم کی دولت سبھی کو بے پناہ
صرف راحت ہی نہیں ،اک راستہ بھی مل سکے
مسئلوں کی بھیڑ میں گھبرائے ہراک فرد کو
لوگ سمجھیں اور سمجھائیں بشر کے درد کو
جھاڑ دیں روح و بدن سے واہموں کی گرد کو
شرک اور انکار کے نرغے میں سمٹا آدمی
اپنے باطن میں چھپے حق کی حقیقت جان لے
مذکورہ بالا اقتباسات کے علاوہ لولاک میں آئیڈیا لوجکل نوعیت کے کئی شعری مندرجات ہیں جو نعتیہ بیانیہ کے موضوعاتی اور نظریاتی وسعتوں کے باب روشن کرتے ہیں جن سے ہماری معاصر اردو نعوت کا دامن ہنوز خالی ہے ۔سرور کونین ؐ کی ذات پاک کے نظریاتی(Idealogical)ابعاد کووقت اور سرحدوں کی حد بندیوں سے پرے اور آفاقیت سے ہمکنار رکھنا اس نعت کا ایک قابل ذکر کنٹری بیوشن ہے ۔فکر نبوی ؐ دور حاضر کے عالمی نظریاتی عالمی کو نٹیکسٹ میں سرچشمہ و نور و ہدایت کا حکم رکھتی ہے ۔عہد رواں کے بیشتر مکاتب فکر اپنے عصر کے خد وخال اور اس کی کثیرالجہات شناخت پر ڈسکورسیز قائم کرتے ہیں ۔اپنے حتمی معنی میں ان ڈسکورسیز کا نصب العین انسانی فلاح و بہبود، Sane Societyیا صحت مند معاشرے کی تشخیص و تشکیل ہے ان ڈسکورسیز میں فکر نبوی ؐ کی بازگشت واضح طور پر محسوس کی جا سکتی ہے جس کی داغ بیل تقریباً ڈیڑھ ہزار سال پہلے ڈالی گئی تھی ۔
موجودہ دور کی تمام غالب تھیئر یز( نظریات )خواہ نو مارکسیت ہو،پس نو آبادیاتی نظریات ہوںcolonizationیا استعماریت اور استحصال مرکوز ڈسکورسیز ہوں ،فسطا ئیت آمیز رویے ہوں ،نسلی اور جنسی تفریقات ہوں ،فوکو کے پاور ڈسکورسیز ہوں ،سارتر کے فلسفہ وجودیت میں آزادی و ذمہ داری کے تصورات ہوں ،کر کیگارڈین اندرونی تضادات ہوں کہ اس کا Faith as a leap out of despair ہو ،انسانی رشتوں کے ابتذال پر نظریات ہوں ،نزاعی یا پھر مدافعتی نظریات ہو ں ،فکر نبوی ؐ  کے صرف یک سطری صدائے احتجاج پر نظر کیجیے گا لولاک کے ممدوح کی فکر تمام افکار کے آفاق و افلاک پر چھائی ہوئی نظر آئے گی :
سبھی محکوم و بے آواز حلقوں کو زباں دے کر
موجودہ دور کے ایک غالب نظریہ پر غور فرمائیے کا جسے مغربی دنیا میں Subaltern theoryکے نام سے موسوم کیا جاتا ہے یا عالمی ادب میں اقلیتی ادب /حاشیہ رسید ادب کے تصورات پر نظر ڈالیے گا اور نظم کے اظہارات ملاحظہ فرمائیے گا ۔’’فاتح و مفتوح کی فطرت‘‘۔۔۔’’بدل دینا ‘‘  ’’ آزاد کر نا ‘‘ ،’’ حق و انصاف ‘‘ اور ’’ مکمل انقلاب زندگی ‘‘اور ’’ آزادی دانش ‘‘کی نظم بندی اور ’’ ایک اجلے تمدن کی بشارت ‘‘ پر توجہ کیجیے گا ۔نظریاتی انسلاکات کا ایک لا متناہی سلسلہ ذہن کے پردہ ٔ سیمیں پر چلتا رہے گا۔فکر نبوی ؐ کا تاثرتیز تر ہوتا رہے گا ۔درج ذیل شعر ملاحظہ فرمائیے گا اور صرف ایک لفظ ’’ جاتیوں ‘‘  پر غور کیجیے گا،بھارت یا برصغیر میں ہی نہیں بلکہ ساؤ تھ افریقہ ،یوروپ، امریکہ اور نہ جانے کون کون سے ملکوں کے استحصالی ، سازشی اور جبر و تشدد کے سیاق واضح ہوتے چلے جائیں گے :
آدمی تو آدمی سے دور ہو سکتا نہیں
جاتیوں کے نام پر محصور ہو سکتا نہیں
فکر نبوی ؐ پندرہ سو سال پہلے اس تفریقی اور استحصالی سوچ کے دانشورانہ تدارک کے سمت اپنی کاوش درج کروا چکی تھی۔
لولاک کا ایک قابل ذکر وصف یہ بھی ہے کہ اس مدحت رسول ؐ میں بظاہر banal اور پیش پا افتادہ لفظیات کے توسط سے انسانی عفریتیت اور المناک تاریکیوں کے بالمقابل رسول کریم ؐ کی نہ صرف فکر بلکہ فکر کے حسن و جمال کاایک آفاقی تناظرخلق کیا گیا ہے ۔ بہ الفاظ دیگر یہ لفظیات آئیڈیالوجی مرکوز ہیں جنہیں نعتیہ/ بیانیہ کے اسٹر کچر میں تخلیقی منصوبہ بندی کے تحت رچا گیا ہے ۔ان لفظیات یا زبان کی کارفرمائی فن اور تفکر ہر دو سطحوں پر دیکھی اور محسوس کی جا سکتی ہے ۔فنی سطح پر یہ بیانیہ کی سلاست ،موسیقی آمیز روانی اور جمالیاتی و معنوی تاثر خیزی میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے ۔دوسری طرف ذات پاک ؐ کے آئیڈیالوجکل /نظریاتی /فکری ڈائمینشن اور اس ڈائمنشن کے اعتبار و استناد کے جواز بھی فراہم کرتی ہے ۔
انسانی عظمتوں کی( دنیاوی و اخروی ) بحالی اور فرد و معاشرہ کی تطہیر و تقدیس فکر نبوی اور اس نعت کے تاسیسی عناصر ہیں ۔فکر /نظریہ ٔ رحمۃ للعالمین ؐ کا جوہر انسان کے مکمل تحوّل ،مجموعی تبدیلی یا Total Transformation کے تصور میں پیوست ہے ۔فرد جو اکائی بھی ہے اور معاشرتی اجتماعیت کی علامت بھی ۔فرد اور معاشرہ ایک دوسرے کی تشکیل و تعمیر ہی نہیں ایک دوسرے کی تخریب میں بھی فیصلہ کن کردار کرتے ہیں ۔پاک و صاف اور صحت مند معاشرے کی تعمیر اس وقت تک ممکن نہیں جب تک افراد کی تطہیر نہ ہو ۔فرد کے اندرون میں خود ارتکازی ،مادہ پرستی ،یا لذت کوشی کے جرثومے کی ہلکی سی موجودگی بھی اس کے اپنے اور اپنے معاشرے کے تئیں اس کی دیانت داری کو کالعدم قرار دے سکتی ہے ۔سید ابو الاعلی مودودی لکھتے ہیں :
’’مادہ پرستانہ فلسفہ کے ساتھ آدمی کے اندر دیانت داری کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔‘‘ ( دروس قرآ ن ،ص:۶۱ا۔۶۲)
اسی لیے فکر نبوی میں فرد اور معاشرے کی مابعد الطبیعات کو اہم ترین مقام حاصل ہے ۔فکر نبویؐ انسان کے اندرون سے مکالمہ قائم کرتی ہے ۔اس بیان کے مختصر تصدیقی اشارے و اشعار گذشتہ صفحا ت میں پیش کیے جا چکے ہیں ۔فکر و فلسفہ کی یہی وہ نہج ہے جہاں دنیا بھر کے دانشوروں اور مکا تب فکر و فلسفہ سے فکر نبوی ؐ اپنا افتراق یا اختلاف اور امتیاز قائم کرتی ہے ۔انسانی نجات ( دنیاوی و اخروی )کی تمام راہیں انسانی اندرون ہی سے ہویدا ہوتی ہیں ۔
یہاں اس بات کا ذکر بھی ضروری محسوس ہوتا ہے کہ فلسفیوں ،مفکروں اور نظریہ سازوں کی ہفت اقلیم میں شاید ہی کوئی ایسی مثال ہو جہاں فکر اور مفکر کے درون و بیرون اور روز مرہ میں سر مو بھی فرق نہ ہو ۔نبی کریم ؐ اس امتزاج اور اس فکر و عمل کی ہم آہنگی کی لاثانی مثال ہیں۔نبوی فلسفہ ٔ حیات رابطہ کاری daily human transactionاور روز مرہ کی تقدیس اور اکرام واحترام پر یقین رکھتا ہے اور صرف اپنامعاشرہ ہی نہیں ہر اس فردو معاشرہ کے خیر کل کو اولین فریضہ سمجھتا ہے جو اس کے رابطہ میں ہو۔اس لیے جہاں تہاں اخلاقیات اور قدغن کو بھی ناگزیر قرار دیتا ہے کیونکہ انسان کے اندرون کا تعلق راست بیرون سے ہوتا ہے ۔ اس لیے یہ فلسفہ اندرونی و بیرونی اڑان پر کنٹرول بھی روا رکھتا ہے ۔یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ بے جا اندرونی اڑان بیرونی کہرام اور اخلاقی انہدام کا باعث ہو سکتی ہے تاہم بے جا آزادی کے استحقاق کے زعم میں اس نظم و ضبط کو غیر ضروری Regimentation سے تعبیر کیاجاتا ہے ۔فکر و عمل کی یہی نہج ہے جہاں آزادی کے متوالے، بالخصوص مغرب ،اسلامی طریقہ حیات سے نالاں بلکہ خوفزدہ نظر آتے ہیں ۔انسانی نفسیات کی خودروی اور پیچیدہ سری ،اس کی vulnerability اور fallibilityکے امکانات سے کماحقہ واقفیت اور شدید ترین احساس ذمہ داری کی بنیادی ضرورت پر اصرار، فکر نبوی ؐ میں روزمرہ کو ماورائیت سے ہمکنار کرتا ہے ۔روزمرہ کے اس نبوی تصور کو چندر بھان خیال نے جس خوبصورتی سے نظم کیا ہے لائق تحسین ہے ۔مذکورہ بالا اشعار تو دیکھ چکے ہیں دو ایک مثالیں اور ملاحظہ فرمائیے گا :
آپسی امداد پر اصرار کرنا چاہیے
سچ کا سب کے سامنے اظہار کرنا چاہیے
ہاں !مساوات و محبت کے بنا یہ آدمی
رب کے فیض اصل سے محروم ہے سنسار
آدمی قابض ہو سارے علم اور ادراک پر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
روزمرہ زندگی پر بھی رکھی جائے نگاہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مسجد نبوی کا مطلب ایک ایسی درس گاہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زندگی پرہیز اور صبرو ادب کا نام ہے
آدمی انسان بن جائے یہی اسلام ہے
سیرت پاکؐ اور فکر نبوی ؐ کا سرچشمہ قرآن مجید ہے ۔قرآن مجید جو کتاب ہدایت و حکمت بھی ہے اور کتاب قانون بھی ۔حضور اکرم ؐ کے تصورات اور روزمرہ اسی منّزل کتاب کی تفسیر ہے ۔ایسی تفسیر جسے ایسے علوم و ضوابط کا انسائیکلو پیڈیا  یا Compendium قرار دیا جا سکتا ہے جو آفاقی سچائیوں کی طرح ہر دور سے مطابقت رکھتے ہیں ۔
فکر نبوی کا Culmination،منتہا، خطبہ ٔ حجۃ الوداع میں نظر آتا ہے ۔اس خطبہ کو ایک لاثانی قانونی دستاویز اور انسانی حقوق اور حقوق اللہ کا چارٹر قرار دیا جا سکتا ہے اور ان تمام چارٹر س کا پیش رو بھی قرار دیا جا سکتا ہے جو حقوق انسانی کے علمبردار کہلاتے ہیں بلکہ فکر نبوی میں تو ایسے معمولات و معاملات اور اصول و ضوابط بھی شامل تھے جو آپؐ کے اپنے عہد اور اس عہد کے پیش رو مفکرین کے تصورات سے بعید تر تھے۔ اور دوسری  طرف  جدید ترین  نظریات  سے صریحا ًمطابقت رکھتے ہیں ۔نبی کریم ؐ کے جنسی (Gender)  و نسلی  (Racial)  تصورات،افتراق ،استحصال اور امتیازات پر آپ ؐ کی تاکید و تنبیہ اور آپ ؐ کی معاشرتی و معاشی تعبیرات و تعزیرات جدید تحاریک و نظریات سے مطابقت کی واضح و مستند تو جہیات ہیں۔ حجۃ الوداع کے مخاطبہ کی کڑیاں آئین مدینہ ( مدینہ چارٹر ) سے جڑی ہوئی ہیں ۔آئین مدینہ کی سیاسی اور طرزِ انتظامیہ کی اہمیت و افادیت کا اعتراف مغربی محققین اور دانشور بھی کر چکے ہیں ۔پرامن بقائے باہمی ،بین المذاہب رواداری ،اخوت و آشتی ،شخصی وقار و آزادی ،شہر و شہریت ،جان و مال اورآبرو کا تحفظ 622-624میں تشکیل کردہ ایسے اصول و ضوابط ہیں جو ہر دور میں  Good Governanceکے رہنما اصول رہیں گے تاوقتیکہ ڈیموکریسی کا تصور ہی ختم ہو جائے اورآمریت ،تانا شاہی یا فسطائیت کی حکمرانی ہو ۔نبی کریم ؐ کی آئیڈیا لوجی اور مساوات کا تصور اس عہد کی رومن اور یونانی ڈیمو کرسی کے تصورات سے بدرجہا بہتر ہے گرچہ تہذیبی ارتقا ،طرز حکومت و انتظامیہ کے ڈسکورسیز میںیونان اور روم کو بڑی اہمیت حاصل ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ ایتھینس اور روم میں elite یا ممتاز طبقہ کو فوقیت حاصل تھی اور یہ بھی امر واقعی ہے کہ غلاموں، عورتوں اور غریبوں کے لیے کوئی مقام و مرتبہ ،کوئی رعایت حاصل نہیں تھی ۔فکر نبوی ؐ نے فوقیت و برتری ،رنگ و نسل کے امتیاز ہی کی نفی کردی ۔خیر البشر ؐ کا Futuristic Visionحیران کن ہے ۔اس وژن اور لائحہ عمل کی عالم انسانیت کو آج بھی شدید ترین ضرورت ہے اورمستقبل قریب و بعید میں بھی اس کی نفی کا کوئی امکان نہیں۔آپ ؐ تمام قبیلوں کو ایک Communityایک جماعت کی حیثیت سے مخاطب فرماتے ہیں ۔چندر بھان خیال نے فکر نبوی ؐ کے اس تصور کو شعری جمالیات کے ساتھ قافیہ بند کیا ہے ۔
توفیق نعت توفیق الٰہیہ ہی سے منسوب ہے ۔چندر بھان خیال کو اس ضمن میں بلند کوشش مقدر عطا کیا گیا ہے۔ عہد طفولیت ہی میں چندر بھان خیال کو سیرت پاک ؐ کے جن پہلوؤں نے بے حد متاثر کیا ان میں نبی کریم ؐ کے فکری پہلو کو ایک خاص اہمیت حاصل ہے ۔اپنے انٹرویو میں چندر بھان خیال کہتے ہیں :
’’میں نے بچپن ہی میں ایک چھوٹا سا مضمون پڑھا تھا کہ عرب کی سرزمین پر ایک شخص ایسا پیدا ہوا
جس نے  پورے معاشرے کو بدل کر رکھ دیا ۔غریب امیر  کا امتیاز ختم کر دیا  اور  ظالم کو سبق بھی
 سکھایا اور ظلم کا خاتمہ بھی کیا اور ایسے معاشرے کی تشکیل دی جس میں سب لوگ امن کے ساتھ زندگی
گزاریں ۔‘‘
اسی بیان کا متوازی اور موازناتی حصہ دیکھئے گا جس میں چندر بھان خیال کا اپنے فکری موقف کی جانب اشارہ بھی ہے:
’’میں جس علاقہ سے وابستہ ہوں آپ جانتے ہیں وہاں پر زمین دارانہ نظام اور سرمایہ دارانہ نظام ،منوادی نظام حاوی تھا ۔کمزور طبقہ کیسے زندگی بسر کرتا تھا اس کا اندازہ آج سے پچاس سال پہلے کے حالات کا اندازہ آپ آسانی سے نہیں کرسکتے ہیں ۔میں نے دیکھا کہ چودہ سو سال پہلے ہی یہ سب کچھ ہو گیا ہے ۔محمد عربی ؐ نے ایک صف میں سب کو کھڑا کر دیا ،ایسی شخصیت بھی پیدا ہو گئی اور ہم آج بھی اسی نرک میں جی رہے ہیں ۔تویہیں سے مجھے عقیدت پیدا ہوئی ۔نبی کریم ؐ کے بارے میں جاننے کی ایک خوا ہش پیدا ہوئی ایک اشتیاق پیدا ہوا اور جیسے جیسے میری عمر بڑھتی گئی میں  آپ کے بارے میں پڑھتا رہا اور پھر یہ دن آیا کہ انھیں کا ہو کر رہ گیا ۔‘‘
خطبہء حجۃ الوداع سے متعلق بھی چندر بھان کا خیال کا بیان یہاں قابل ذکر ہے جو صد فی صد سچ ہے ۔خیال کہتے ہیں :
آج تک دنیا کی کسی انسانی حقوق کی تنظیم نے اس کے آگے کچھ نہیں کیا ۔وہ انسانی حقوق کا ایسا چارٹر ہے کہ اس کے آگے انسان آج تک کچھ نہیں سوچ پایا ۔‘‘
Modern Univarsal Declaration of the Human Rights دیکھیں یا The International Convenant of Civil Rightsیا اس سے پہلے Megna Carta دیکھیں ،فکر نبوی کا رجحان غالب نظر آئے گا ۔فکر نبوی ؐنے تمام تفریقات و ترجیحات کے تصور کو یکسر رد کر دیا تھا ۔نسلی امتیازات (Racism) اور طبقاتی تفریق کی نفی پر اتنا طاقتور بیان 632میں کہیں اور نظر نہیں آتا ۔دنیا کے ترقی یافتہ ممالک آج بھی نسلی تنازعات سے جوجھ رہے ہیں ۔خود ہمارامعاشرہ ’’ جاتی واد ‘‘ کاسٹ سسٹم کے بحران سے دو چار ہے ۔تصور نبوی ؐ کا شعری بیان ملاحظہ فرمائیں ۔
غلاموں یعنی اپنے خادموں سے پیار کرنا تم
ہمیشہ بھائی جیسے انس کا اظہار کرنا تم
کبھی احساس ان کو کمتری کا ہونے مت دینا
سلوک سخت سے اپنے نہ ان کو خوار کرناتم
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محبت کے شجر کا نیک سایہ سر بہ سر رکھنا
مری ہر بات کو تم لوگ دل سے باندھ کر رکھنا
سبھی اولاد آدم ہیں سبھی کا حق بھی یکساں ہے
کسی بھائی سے اس کا مال جبراً چھین مت لینا
کشادہ دامن دل ،صاف اور ستھری نظر رکھنا
مری ہر بات کو تم لوگ دل سے باندھ کر رکھنا
نہ گمراہی کی زد میں آکے حق سے دور ہو جانا
نہ باہم قتل و خوں کی وارداتوں میں الجھنا تم
صداقت کا اجالا ساتھ اپنے عمر بھر رکھنا
مری ہر بات کو تم لوگ دل سے با ندھ کر رکھنا
اس فکری بیانیہ کی قرأت کئی بار تشنگی کے احساس سے دو چار ہوتی ہے ۔یہ احساس یہاں بھی کہیں کہیں در آتا ہے   نبی کریم ﷺ کے کئی نکات ِ فکر تک رسائی نہیں ہو پایٔ ہے ،لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے ذات پاک ؐ نبوی اور فکر نبویؑ ایک بحر ذخار ہے ،اور اس بحر ذخار سے قلم کی نوک پر جو کچھ بھی میسر آجائے توفیق سعادت ہے ۔چندر بھان خیال کے نو ک قلم کو جو میسر آیا لاجواب ہے۔ نعتیہ تخلیق ــکے طریقہ کار میں ’’لولاک ‘‘ایک نیا باب ہے ۔ہر بند کا آخری مصرعہ ایک ٹپ کے مصرعہ یا Refrainکی طرح بیانیہ کی صداقت اور نصیحت کو دلوں پر ثبت کرتا ہے ۔ ’’مری ہر بات کو تم لوگ دل سے با ندھ کر رکھنا ‘‘ میں لہجہ کی ملاحت اوراظہار کا خلوص و اضطراب دیکھٗے ، ’’تم لوگ ‘‘ میں تخاطب کی راستی ہی نہیں ،راست پن بھی ملاحظہ فرمائیے ، انس و اپنائیت مسخر و مسحور کردیتی ہے ۔اور باندھنے کا تصرف ،سبحان اللہ !دل و دماغ کی یکجائی کا اعلی ترین اظہار ہے کہ عقل جو دماغ سے معنون ہے ،دانش و خرد اور قوت مدرکہ سے منسوب ہے اس کے ایک معنی باندھنے یا اونٹ کے پاؤں میں رسی باندھنے کے بھی ہوتے ہیں ۔اور تصوف میں یہ لفظ عالم تمیز سے متصف ہے ۔’’دل سے باندھ لینے ‘‘میں جہاں شدت احساس کو دخل ہے وہیں عقل و خرد اور تمیز و تکریم بھی اہم ہے ۔یہ مصرعہ انسلاکات اور معنوی امکانات کے کئی باب روشن کرتا ہے ۔
عورتوں کے حقوق اور مقام و مرتبہ کے اعتبار سے خطبہ حجۃ الوداع نہایت تفکر آمیز ڈسکورس ہے ۔فیمینزم اپنے تیسرے بلکہ چوتھے ارتقائی مرحلہ کے باوجود بلکہ عالمی سطح پر اپنی معراج کے باوجود، نسوانی وجود کی ان نزاکتوں تک نہیں پہنچ سکا ہے ۔جو اس خطبہ میں مذکور و مخفی ہیں۔
فیضان مصطفی جو مذہب اور قانون کے معروف و معتبر ماہر ہیں اپنی Legal Awareness web Series میںخطبہء حجۃ الوداع  میں خواتین کے حقوق اور Right to absolute Ownership کے تعلق سے جن نکات کی وضاحتیں کی ہیں ،بڑی توجہ طلب ہیں ۔آئین ہند کے آرٹیکل ۱۴ ،آرٹیکل ۱۵ ،آرٹیکل ۲۱ کے قانونیات اور بنیادی اصولوں کے تحت شہری کو جو  حقوق و آزادی حاصل ہے وہ نبی کریم ﷺکے اس خطبے کے اہم مشمولات ہیںلیکن تمام دانشورانہ اور تحقیقی نگارشات کے حوالہ جاتی نظام اعتراف و ذکر نبوی ؐ سے خالی ہیں ۔
لولاک میں عورتوں سے متعلق جو بیانات ہیں وہ اپنی مثال آپ ہیں۔عورت کو خدا اور آدمی کی سوچ کے مابین قرار دینے اور عورت کو امانت کا نصب العین قرار دینے میں حسن و عشق کی لن ترانیاں بھی ہیں ،اس کی محبوبیت پر بھی اصرار ہے اور امانت دار کا امانت کے تئیں شدید احساس ذمہ داری بھی ہے ۔لفظیات ملاحظہ فرمائیں کتنی سادہ اور سلیس ہیں اور انداز بیان کس قدر دلکش ،کس قدر معنی خیز مگر شیریں تنبیہی نطق بیان ہے :
امانت میں تمہاری ایک نصب العین ہے عورت
خدا اور آدمی کی سوچ کے مابین ہے عورت
اسے مجبور مت کرنا ،اسے محبوب رکھنا تم
تمہاری خواب گاہوں اور گھر کا چین ہے عورت
ہمیشہ پیش آنا خوش دلی اور خوش کلامی سے
حقوق اللہ نے اس کے بھی تم پر کر دئیے واجب
تم اس کی غیر پرواہی پہ سختی سے نظر رکھنا
مری ہر بات کو تم لوگ دل سے باندھ کر رکھنا
اپنے تمام تر دانشورانہ سروکار ،فکری تصورات اور عصری مطابقت کے باوصف اس نعت کا اہم ترین کارنامہ اس کا فنی وصف ہے ۔کچھ فنی اوصاف کا ذکر تو ہو ہی چکا ہے ،کچھ اور محاسن پر نظر ڈالتے ہیں ۔بیانیہ کے مختلف ابواب کا ہیئتی و عرو ضی اور صوتی اسٹرکچر سادہ ترین مگر پرکارہے ۔ لفظوں کا انتخاب و برملا استعمال ،مصرعوں کی مترنم روانی اور زود اثری ،تاریخ ،ثقافت ،معیشت و معاشرت کے معرکہ خیز لفظی و بدیعاتی تلازمات ،شعر کی زیریں اور ظاہری سطح کو مرتعش رکھتے ہیں ۔بیانیہ کی قرأ ت کے کسی نہج پر قاری لمحہ بھر کے لیے بھی اس احساس سے دوچار نہیں ہوتا کہ شعریت کی تہہ داری و تازگی کمھلا رہی ہے ۔
لولا ک میں صنف نعت کے بنیادی تقاضوںاور جمالیاتی محاسن کا ازحد خیال رکھا گیا ہے ۔اس شعری بیانیہ کا اسلوب چندر بھان خیال کی فن کارانہ دسترس کا ایک اعلی نمونہ ہے ۔ان کے طرز تلفیظ و تجسیم میں تاریخ ،جغرافیہ ،قرآ نی اشارے اور ثقافت کے تلازمات اس مشاقی سے نعتیہ متن میں انگیز کیے گئے ہیں کہ وہ موضوع کے عین مطابق معنوی امکانات قائم کرتے چلتے ہیں۔مثلاً مغموم ساعت ،پربتوں کے دوش پر بیٹھا سکون ،مضمحل لذتوں کا بھوت ،چیختے فاصلے ،سکوت نے ،پہاڑی کا دامن اور فرشتے کی پرسکون پیشانی ،نغمہ خواں درخت ،پتھر ،پتیاں ،بکریوں کی افسانہ خوانی وغیرہ طرز تجسیم کی ندرت کی کچھ مثالیں ہیں ۔
لولاک کے فنی اوصاف کی قدر شناسی کے لیے ایک مخصوص و مفصل مقالہ درکار ہے ۔نظم کی ہیئت بندوں کی ساخت ،مصرعوں کی تعداد ،قافیہ بندی ،ٹپ کے مصرعوں کا صوتی ،سیاقی اور جمالیاتی کردار ،مصاریع کے ارتباط کی غیر روایتی ترتیب ،بیانیہ کا ایجاز و اختصار اور بیانیہ کے تقاضوں کے تحت ابواب میں مختلف بحور کا تصرف چندر بھان خیال کی تخلیقی قوتوں کا کارنامہ قرار دیا جا سکتا ہے ۔مصرعوں کی تعداد کہیں تین ،چار کہیں پانچ یا چھ بھی ہیں تاہم شعری تصنیف میں کہیں کوئی تصنع نظر نہیں آتا ۔  اس نظم میں بحو رکا استعمال بھی دیدنی ہے۔ کہیںـ ’ بحر رمل سالم محذوف ،توکہیں بحر ہزج اشتر سالم ،کہیں متدارک تو کہیں بحر ہزج مثمن سالم‘ ،  شارق عدیل اور خلیل احمد مشیر صدیقی نے اس پہلو کو مخاطب کیا ہے۔ دوسرے مطالعات میں بھی کہیں کہیں اس پہلو کے حوالہ جات ملتے ہیں ۔تاہم چندر بھان خیال کی فنی دسترس کا یہ پہلو ہنوز تحقیقی ارتکازاور خرد بیں مطالعہ کا متقاضی ہے ۔ہر باب میں بحر کا انتخاب متن کے سیاقی ضرورت کے عین مطابق اپنا جمالیاتی تاثر قائم کرتا ہے ۔ہر بحر کا اپنا ایک مخصوص مزاج ،مختلف انداز ترنم اور طرز تفاعل ہوتا ہے جو شعری تکلم کی جمالیاتی منطق قائم کرتا ہے ۔لہجہ اور آہنگ کے توسط سے معنوی و جمالیاتی نیرنگیاں خلق کرتا ہے ۔
اس نظم میں حمد کا incorporation چندر بھان خیال کے کمال فن کا لائق ستائش پہلو ہے جس میں حمد و نعت کی صنفی و بیانیاتی تحدید اور تحلیل توجہ طلب ہے ۔باب ’’ ولادت ‘‘میں حمدیہ طرز اظہار و اسلوب کے توسط سے موجودات کے سریت آمیز اور فلسفیانہ خیالات و سوالات کو فکر نبوی ؐ سے مربوط کیا گیا ہے معاصر نعت میںیہ لولاک ہی کی کرشمہ سازی ہے ۔تحّیر ربوبیت کے انکشاف اور ربوبیت و عبدیت کے درمیان غیر واضح تقرب کا ایک وسیلہ ہے ۔اقبال کے یہاں ہاں ’’ نگاہ ناز‘‘ ایک حتمی استعاراتی اظہار ہے اور جوش کے یہاں مظاہر کائنات یہ فریضہ انجام دیتے ہیں ۔
ایک طرف رب العالمین ہے تو دوسری طرف رحمت اللعالمین ؐ ،تحدید اس قدر سخت ہے کہ سر مو بھی تجاوز کی گنجائش نہیں ۔اسی لیے نعت گوئی پل صراط سے گزرنے کے مترادف تصور کی جاتی ہے ۔درمیان میں شمہ برابر بھی فروگذاشت قیامت خیز ثابت ہو سکتی ہے ۔
اسی طرح سے ایک اور نقطہ ہے جس کے بیان پر مجھے سخت عار اس لیے ہے کہ وہ اس نظم کے بیان کنندہ کے عقیدہ و مذہب سے متعلق ہے لیکن ’’ محمد ؐ پر کسی کی اجارہ داری نہیں ‘‘وہ تو خیر البشر ؐ ہیں ۔عرض یہاں یہ مقصود ہے کہ چندر بھان خیال کے عقیدے میں ایشور کی تجسیم بعید ازامکان نہیں بلکہ وہ اوتار یا انسانی شکل میں بھی اس دھرتی پر جلوہ افروز ہوتا ہے لیکن’’ ہوش و دیوانگی ‘‘اور خالق و مخلوق /محبوب کے نازک ترین مرحلہ سے چندر بھان خیال جس حسن و خوبی اور جس معروضیت سے گزرے ہیں لائق تحسین ہے ۔ معروضیت کے باوصف احساس کی شدتیں اور جذبہ کی صداقتیں شدو مد کے ساتھ موجود ہیں یہ چندر بھان خیال کے نقطہ نظر کا اختصاص اور ان کے اکتساب و عقیدت کا فیض ہے ۔  ْْ
عناصر و مظاہر فطرت کو جس حسن و خوبی سے لولاک میں برتا گیا ہے توجہ طلب ہے ۔لولاک کویہ تخصیص حاصل ہے کہ فطرت کے توسط سے موجودات کے اسرار ،علم و عقیدہ ،اور ایمان وایقان ،جیسے مسائل بھی کہیں تحیر ،کہیں استفسار اور کہیں راست بیان کی شکل میں بیانیہ کو Philosophise کرتے ہیں :
رہ رہے ہیں سب  جس میں وہ مکان کس کا ہے
اور لامکانی پر سائبان کس کا ہے
کس کے حکم سے ندیاں بہہ رہی ہیں دھرتی پر
کس نے بخش دی اونچے پرتوں کو اونچائی
کس نے دی سمندر کو بے پناہ گہرائی
کس کے حکم سے موسم لے رہے ہیں انگڑائی
اپنے کثیر الجہت معنی میں مظاہر فطرت بلکہ مظاہر کائنات ،عالم انسانیت اور خالق ِ کائنات کے درمیان ایک ازلی ربط کے علائم و استعارہ کا فریضہ بھی انجام دیتے ہیں۔جوش اسی ربط کا اظہار اس طرح کر رہے ہیں :
  ہم ایسے اہل نظر کو ثبوت حق کے لیے
  رسول بھیجے نہ جاتے تو صبح کافی تھی
چندر بھان خیال دور جاہلیہ اور خدا ناشناسی کا استعاراتی ذکر بھی فطرت ہی کے توسط سے کرتے ہیں :
تتلیوں کے پر چمکتے تھے ،گلوں پر رنگ بھی
دیکھنے والے مگر بینائی سے محروم تھے
صبح صادق کے اجالوں کے معانی کچھ نہ تھے
کوئی بھی واقف نہیں تھا شام کی تحریر سے
وہ کون سے ایسے الفاظ ہیں ،وہ کون سا ایسا مکمل و معجزاتی طریقہ ٔ اظہار  ہو سکتا ہے جو سورج کی تمازت ،چاند کی برودت ، حسن فطرت کی ملاحت،  ہواؤں کے وجد، پھولوں کی مہک ،شبنم کی خنک ،باد نسیم کا سرور ،ر ،تتلیوں کے رنگ ،جھرنوں کے ترنگ ،شفق کی لالی ،نیلگوں آفاق و افلاک کی لامحدودیت ،لہجہ کی موسیقیت اور ناقابل بیان تقدس کو اپنے حیطہ ٔ اظہار میں بیک وقت سمو سکے ۔
چندر بھان خیال بخوبی واقف ہیں کہ تخیل کی بانہیں آکاش کو سمو نہیں سکیتیں۔ اور زبان و قلم کی بساط ہی کیا !     مدحت رسول ﷺ کے لئے انہوں نے کچھ مختلف طر ز ہائے اظہار تراشنے کی کوشش کی ہے ۔ایک مشاق فکشن نگار کی طرح  چندر بھان خیال نے reflective point of view کا شعری طریقہ اختیار کیا ۔کہیں وہ حق شعار بوڑھے  راہب’’بحیرہ‘ ‘ کے نقطہ  ٔ نظر سے اور ’ مظاہرِ فطرت ‘ کے وسیلے سے ذات والا صفات کا بیان کرتے ہیں تو کہیں  ’’شوہر حلیمہ‘‘ سعدیہ کے نقطہ ٔ نظر سے ،تو کہیں ’’ ام ِمعبد ــ ‘‘ کے توسط سے ۔ لیکن جب وہ اپنے نقطہ ٔ نظر سے ذکر نبی ؐ کرتے ہیں تو عالم ہی کچھ اور ہوتا ہے ۔ان کے عقیدت و عشق رسول ؐ میں بے ساختگی اور والہانہ پن ہے ۔اختصار کے پیش نظر یہ کہنا مبالغہ نہ ہوگا کہ یہ نظم عقیدت کے ٹرانس trance میں تخلیق کی گئی ہے ۔ایک وجدان سا تھا جو چندر بھان خیال پر طاری تھا ۔بس ہوکہ  آفس ، گھر ہو کہ روز مرہ ،  بس نبیؐ ہی نبیؐ۔جہاں وہ مدح نبی کریم ؐ کرتے ہیں تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ’’ سر بازار می رقصم ‘‘ کی کیفیت طاری ہے ۔اورقاری بھی اسی کیفیت میں لاشعوری طور پر شریک ہو تا چلا جاتا ہے ۔بیانیہ کی سحر انگیزی ملاحظہ فرمائیں :
سمت سمت نورانی ۔۔۔۔۔۔۔۔
جس طرف نظر جائے روشنی کی طغیانی
دشت میں ،کہستا ں میں ، شہر میں ،بیابان میں
پرسکون سی ہلچل عالمین امکاں میں
۔۔۔۔۔۔۔۔اور زمین کے اوپر
آسمان کے نیچے اک شبیہ لاثانی
جس طرف نظر جائے روشنی کی طغیانی
صاحب کتاب آیا ،لے کے پھر شہاب آیا
آگیا یقین سب کو  اہل ِ ِ ِ انقلاب آیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اورسکوت نے گایا
نور کی ولادت کا گیت ایک لافانی
جس طرف نظر جائے روشنی کی طغیانی
شش جہات نے چوما ،کائنات نے چوما
چاندجیسے چہرے کو سب صفات نے چوما
۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور حرا کی آنکھوں نے
آمنہ کے آنچل میں دیکھا عکس ربانی
جس طرف نظر جائے روشنی کی طغیانی
’سمت سمت نورانی‘ ،’اک شبیہ لاثانیـ‘ ،’عکس ربانی ‘  اور ’ روشنی کی طغیانی ‘ کی موسیقی آمیز تکرار سماع کی سی کیفیت خلق کرتی ہے۔ ’چاندجیسے چہرے کو سب صفات نے چوما‘نہایت سحر انگیز شعری اظہار ہے ۔جو ’’ آں چہ خوباں ہمہ دارند تو ؐ تنہا داری ‘‘ کے لامتناہی سلسلہ کا مخفف  ہے ۔’ہل چل‘ اور ’ہل چل ‘کا’ پر سکون ہونا ‘ایک انوکھی نوعیت کا تفکراتی پیکر ہے جو فکر ِ نو کی پذیرائی اور تعمیر نو کے اشارے فراہم کرتا ہے ۔’ عالمین ا مکاں ‘ سے بے ساختہ غالب کے ’ دشت امکاں‘ کی امیج اور شعری تخیل کی اڑان ذہن میں ایک تمثال وتجسیم کی صورت ہویدا ہونے لگتی ہے جس میں امکانات کے کئی جہان آباد ہیں جو فکر نبوی ؐ سے منسوب ہیں ۔ذات اعلیٰ  صفات کے دانشورانہ ابعاد کے توسط آپﷺ سے عقیدت   ازخود رفتگی و  سر شاری کے مراحل طے کرنے لگتی ہے ۔مدحت رسولؐ کی یہ طرزِ نو صنف نعت میں ایک نئے امکان کی نقیب ہے ۔نقیب خصوصا ً ان معنی میں کہ نعت ہنوز اپنے Defineاور Redefineکیے جانے اوراپنے موضوعاتی تنوع اور اسلوبیاتی سرو کار کے تخلیقی و انتقادی مراحل سے جوجھ رہی ہے ،اپنے صنفی و بیانیاتی استحکام کے لیے ہنوز کوشاں ہے۔اکادمی سیاست کا اپنا ایک منفی کردار ہے  ۔لولاک اسی نقطہ نظر سے ایک جستِ نو کاتصور بھی ہے ۔یہ مدح رسول ؐکی فکری و فنی ہر دو اعتبارسے نعت کے Missing Dimensionکو سنجیدگی سے مخاطب کرتی ہے ۔تخلیقی اور لسانی سطح پر وسعتوںکے باب روشن کرتی ہے اور عصر مرکوزعقیدت مندانہ ڈسکورس بھی قائم کرتی ہے ۔ نیز، اپنے نقاد کی تربیت و تہذیب ،اس کے مطالعہ کی وسعت اور عصری علوم و آگاہیوں کے انطباق کی طرف بھی توجہ مبذول کرتی ہے ۔موجودہ دور میں یہ طرز ِ فکر و تخلیق  اس لیے بھی ضروری ہے کہ مغربی مستشرقین اور مخالفین کے منفی و مخاصمانہ تناظر میں حضور اکرم ؐ کے صرف نورانی و ماورائی ہی نہیں بلکہ دانشورانہ نظام فکر اور لائحہ عمل کی ترسیل بھی کی جا سکے اورکچھ غلط فہمیوںکاازالہ بھی کیا جا سکے، خصوصاً اس استناد کے ساتھ کہ محمدؐ کے ڈیڑھ ہزار سالہ نظریات کی گونج جدید ترین نظریات میں واضح طور پر موجود ہے ۔نثری نگارشات میں یہ کاوش کبھی کبھار نظر آ جاتی ہے تاہم شعری وتخلیقی سطح پر منظم مساعی آج بھی درکار ہے۔ ’’لولاک‘‘  اس سمت ایک توجہ طلب پیش رفت بھی ہے اورنعت نگاروں اور نعتیہ نقادوں کے لیے رہنما ستارہ بھی ۔

You may also like

Leave a Comment