لمحوں نے خطا کی تھی صدیوں نے سزا پائی

مولانا محمد علاءالدین ندوی
استاذدارالعلوم ندوة العلما، لکھنٶ

سب سے پہلے تو میں اپنے ملک میں پھیلے تعلیمی اداروں کے اُن باشعور اور غیرت مند طلبہ کو اور وطن کے سبھی باشندوں کو دل کی اتھاہ گہرائیوں سے مبارکباد دوں گا جو شہریت کے نئے کالے قانون کے خلاف پورے ملک میں صدائے احتجاج درج کرا رہے ہیں، اس لئے مبارکباد پیش کروں گا کہ نفرت کی دیواریں کھڑی کرنے والے اس قانون کے دور رس اثرات اور بھیانک نتائج کو انہوں نے سمجھا کہ کس چابکد ستی اور صفائی کے ساتھ قانون کا سہارا لے کر دستور کی دھجیاں اڑائی گئی ہیں اور ملک کے عوام کو بانٹنے کا کام کیا گیا ہے، وہیں مذہب کی بنیاد پر ایک کمیونٹی کو ملک کے قومی دھارے سے الگ تھلگ کرنے کی پالیسی کے مد نظر غیر آئینی، غیر جمہوری اور انسان دشمنی پر مبنی یہ بل پاس کرایا گیا ہے۔ملک کے طلبہ نے نہ صرف یہ کہ اس بل کے خطرناک منصوبوں کو سمجھا بلکہ اس کے خلاف زور دار آواز بلند کی اور سیکولر ملک کے دستور کی حفاظت کے لئے ہر جبر و تشدد کے باوجود سینہ سپر رہے اور یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ طلبہ کے اس جوش و جذبے اور ان کی بیدار مغزی اور ان کی ہمت مردانہ کو سلام کرتا ہوں اور اُن کے اس قابل فخر تاریخی اقدام جو جامعہ ملیہ اسلامیہ اور مسلم یونیورسیٹی علی گڑھ سے شروع ہوا ہے کو روشن مستقبل کا اشارہ سمجھتا ہوں۔ اے گلشن ہند کے بلبلو اور مستقبل کے معمارو! اسی عزم و پامردی کے ساتھ تم آگے بڑھتے رہو، تم دیکھو گے کہ لوگ آتے جائیں گے اور آزادی کا تمہارا یہ کارواں بڑھتا چلا جائے گا۔
شہریت ترمیمی بل کے پاس ہو جانے کے بعد سے ایک طرف باشندگان ہند کے عوام میں روز بروز بے چینی بڑھتی جا رہی ہے ، مزاحمت میں ہر دن شدت آرہی ہے، جو ایک خوش آئند اشارہ ہے کہ اس ملک کے عوام خاص طور سے طلبہ ہندوستان کو توڑنے کی ہر سازش کو ناکام بنا کر رہیں گے۔
ان حالات میں مسلم قیادت پہ سوالات کھڑے کئے جارہے ہیں، دور قریب سے یہ آواز سنائی دے رہی ہے کہ کہاں ہے مسلم قیادت؟ کیوں ان کی زبانوں پہ مہر لگ گئی ہے؟ قیادت کے حوالے سے نا زیبا الفاظ بھی زبانوں پر آرہے ہیں اور عام طور سے لوگ مایوسی کا اظہار کرتے سنے جاتے ہیں۔
میں سمجھتا ہوں کہ اگر قیادت (لیڈر شپ) ایک باشعور، باصلاحیت، مخلص اور بیدار مغز ہیئت ترکیبی کا نام ہے تو ہندوستانی مسلمانوں میں وہ قیادت موجود ہے، وہ ہرگز بانجھ نہیں ہے۔ البتہ اگر کسی فرد واحد کی آمریت، یا کسی متفق علیہ نجات دہندہ کا نام قیادت ہے تو مسلم قوم ایسی قیادت سے یقیناً محروم ہے۔ لیکن اس قسم کی سوچ ناقص علم و آگہی کا نتیجہ ہوتی ہے۔
ہندوستان میں مسلم قیادت ہے، یعنی وہ قیادت موجود ہے جو قرآن و سنت کی کسوٹی پر کھرے اترنے والے اصولوں کی روشنی میں ملت کی رہنمائی کی اہلیت رکھتی ہے۔ کیا اس اہلیت کے بغیر ہی مسلم پرسنل لاء بورڈ، جمعیۃ علمائے ہند، جماعت اسلامی ہند، جمعیۃ اہل حدیث، بریلوی مکتبۂ فکر اور اہل تشیع کی اپنی اپنی تحریکیں اپنے اپنے کاز میں سرگرم سفر ہیں۔ اصل سوال اس وقت یہ ہے کہ یہ تنظیمیں کہاں روپوش ہیں؟ یہ اپنی الگ الگ قیادتوں کے ساتھ مشترکہ ملی، قومی اور وطنی مسائل پہ مشاورت کے لئے ابھی تک یکجا کیوں نہیں ہوئیں؟ دستور اور ملک و ملت کے بچاؤ کی خاطر ان کی فکر مندی، ان کی سرگرمیاں اور ان کی فراست ایمانی کے جلوے ابھی تک کیوں نمودار نہیں ہوئے؟ اگر یہ تنظیمیں اپنی اپنی مصلحتوں کی بنا پر متحدہ پلیٹ فارم تشکیل نہیں کر سکتیں تو کم از کم مشترکہ مفادات میں مشاورت تو کر سکتی ہیں، لائحہ عمل وضع کر کے ملت کی رہنمائی تو کر سکتی ہیں، بکھرے ہوئے منتشر اجزاء کو جوڑ کر ایک متعین سمت ِسفر کی سمت رہنمائی تو کر سکتی ہیں، اگر یہ سب کر سکتی ہیں تو پھر کیوں اقدام نہیں کر رہی ہیں؟ آخر کس دن کا انتظار ہے؟
ہندوستانی مسلمانوں کو اس امر میں سخت حیرانی ہے کہ شہریت ترمیمی بل کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرنے کے لئے ملت کے جگر گوشوں اور تعلیمی اداروں کے طلبہ نے جس بیدار مغزی کا ثبوت دیا ہے اور میدانِ انقلاب میں کود پڑے ہیں امت کے قائدین ان بچوں کی ہمت افزائی کرنے، ان کے سروں پر ہاتھ رکھنے اور اور ان کی پشت پناہی کرنے کے لئے ایک ہنگامی میٹنگ تک نہیں بلاپائی۔ اگر طلاق ثلاثہ جیسے ایک جزوی مسئلے پر ملت کے ذی ہوش اکابر اور ذمہ دار حضرات بار بار میٹٹنگیں کر سکتے ہیں تو اس وقت اس بل کے سلسلے میں اس قدر سرد مہری کا مظاہرہ کیوں؟ یہ مسئلہ تو ان کے وجود و بقاء کا مسئلہ ہے۔ اگر اس وقت نہ اٹھے تو مستقبل کا مورخ ہرگز ان کو معاف نہیں کرے گا۔ طلبہ نے جس مورچے کا انتخاب کیا ہے ( اور اسی کی ہار و جیت میں دستور ہند کی حفاظت پنہاں ہے ) اس مورچے کو مسلم قیادت کی بھر پور حمایت اور پشت پناہی حاصل نہ ہوئی تو اس قیادت پہ ظلم کی تائید کرنے کا الزام عائد ہوگا جو تاریخ کے ضمیر کی آواز ہوگا۔
آزاد ہندوستان میں مسلمانوں پہ بڑے بڑے طوفان آئے، لیکن کوئی طوفان، کوئی آفت، کوئی سازش اتنی گہری، ایسی خطرناک نہیں تھی۔ جو ایکٹ لایا گیا ہے وہ مسلمانوں کے وجود کو ملیامیٹ کر ڈالنے والا ہے، اپنے باپ دادا کے ملک میں ان کی جڑ بنیاد کھود ڈالنے والا ہے۔ شہریت ایکٹ کے پردے میں ملک کے سیکولر ڈھانچے پر حملہ کر کے یہاں کے باشندوں کو مذہب کی بنیاد پر تقسیم کرنے کا منصوبہ ہے۔ اسی مذہبی تقسیم ہی کی بنیاد پر یہاں کی قومیت کو اعلی ذات کے ہندوؤں کے ساتھ جوڑا جائے گا پھر اعلی ذات کے ہندوؤں کے علاوہ یہاں کا ہر شہری دوسرے اور تیسرے درجے کا شہری ہو گا، جس کے لئے مستقبل کے ہندو راشٹریہ میں کوئی جگہ نہ ہوگی۔ اگر اس وقت مسلم قیادتیں اپنی ڈیڑھ ڈیڑھ اینٹ کی مسجدوں سے باہر نہیں آتیں، اپنی اپنی مصلحتوں کے خول سے نہیں نکلتیں، یا گھر بیٹھے ہی کم از کم اپنے جگر گوشوں کے انقلابی مزاحمت کی رہنمائی نہیں کرتیں، اگر حالات کی پکار اور وقت کے ضمیر کی آواز کو نہیں سنتیں ڪ، اگر ملک کے تانا بانا کو بکھرنے سے بچانے کی ذمہ داری نہیں اٹھاتیں۔ اگر اپنی سرد مہری کو ترک کرکے جامعہ ملیہ اسلامیہ سے جس مبارک اقدام کا آغاز ہوا ہے اُس کو نتیجہ خیز بنانے کے لئے اپنے مثبت رویوں اور ایمانی جذبے سے غذا نہیں پہنچاتیں، تو آج چند لمحوں کی غفلت صدیوں کے لئے اور شاید اپنے وطن عزیز میں ہمیشہ کے لئے امت اسلامیہ کا نام و نشان مٹا دے گی۔
اس لئے میں دست بستہ ملت کے قائدین سے درخواست کرتا ہوں کہ حقوق کی لڑائی اور دستور کی حفاظت کے جس مبارک کام کا آغاز آپ کے جگر کے ٹکڑوں اور ملک کے باضمیر عوام نے کیا ہے اسے نتیجہ خیز بنانے کے لئے اٹھئے اور اسے لمبے عرصے (Long Term) تک جاری رکھنے کے لئے، ان کی بر وقت صحیح رہنمائی فرمائیے۔ ابھی تک جو کچھ ہوا اور ہو رہا ہے وہ ایک منتشر بھیڑ ہے اسے مزید مفید، کار آمداور منصوبہ بن طریقے سے انجام تک پہنچانے کے لئے خدا را آگے آئیے کیونکہ پورا ملک آپ کو امید و بیم کی نگاہوں سے دیکھ رہا ہے۔ اگر یہ جنگ نہ جیتی گئی تو پورا ملک خانہ جنگی کا شکار ہو جائے گا، نہ بھی ہوا تو ملت کو ایسا نقصان پہنچے گا جس نہ تو تصور کیا جا سکتا ہے نہ ہی بعد میں اس کی تلافی کا کوئی امکان ہے۔ گستاخی معاف کیا جائے تو میں جرأت بیجا کا مظاہرہ کرتے ہوئے جمعیۃ علماء کے صدر محترم سے گزارش کروں گا کہ اپنی فراست ایمانی اور بصرت افروزی سے صدائے احتجاج بلند کرنے والوں کی صحیح رہنمائی فرمائیے اور اس کاز کے لئے فوری طور پر مختلف تنظیموں کے قائدین کو جمع کر کے ملک و ملت کے مفاد میں مثبت، دیرپا اور قابل حل لائحہ عمل تیار کیجئے۔ اللہ آپ سے راضی ہو۔ اس کا ارشاد ہے: یٰآیھا الذین اٰ منوا اصبروا و صابروا و رابطواو اتقوا اللہ لعلکم تفلحون(آل عمران:۲۰۰) اے لوگو! جو ایمان لائے ہو، صبر سے کام لو، باطل پرستوں کے مقابلے میں پا مردی دکھاؤ، حق کی خدمت کے لئے کمر بستہ رہو اور اللہ سے ڈرتے رہو، امید ہے کہ تم فلاح پاؤگے۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*