لکشدیپ کے لوگوں پرمودی حکومت کا ثقافتی حملہ ،کانگریس کی تنقید

نئی دہلی:کانگریس نے آج مودی سرکار پر لکشدیپ پر ثقافتی حملہ کرنے کا الزام عائد کیا۔ کانگریس کے رہنما اجے اماکن نے کہاہے کہ لکشدیپ ڈویلپمنٹ اتھارٹی ریگولیشن بنایا گیا ہے ، جس کی وہاں ضرورت نہیں ہے۔ ماہی گیروں کو وہاں دبایا جارہا ہے۔ گنڈاایکٹ وہاں لایا جارہا ہے جبکہ وہاں جرائم کی شرح بہت کم ہے۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری وینوگوپال نے صدر کوایک خط لکھ کر اس کے بارے میں شکایت کی ہے۔ کانگریس کا مطالبہ ہے کہ دونوں مسودہ ضوابط کو واپس لیا جائے اورایڈمنسٹریٹر پرفول کھڈا پٹیل کو واپس بلایا جائے۔ کانگریس کے رہنما اجے ماکن نے آج ایک پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ لکشدیپ کے صرف تیس مربع کلومیٹر کے علاقے میں بسنے والے لگ بھگ ساٹھ ہزار افرادپر ثقافتی حملہ کر رہے ہیں۔ وہاں پرفول کھوڈا پٹیل پینتیسواں انتظامی افسر ہیں اور پہلے ایسے افسر ہیں جو آئی اے ایس نہیں ہیں۔ گجرات کے وزیر داخلہ رہنے والے پٹیل جوائنٹ سکریٹری سطح کے افسر کو کیسے رپورٹ کررہے ہیں ، یہ سوچنے کی بات ہے۔ وہ اپنے سیاسی آقاؤں کے لیے کام کر رہے ہیں۔ لکشدیپ میں ضلعی اور گرام پنچایتوں کے پانچ حقوق چھین لیے گئے ہیں۔انہوں نے بتایاہے کہ لکشدیپ میں چھتیس جزیرے ہیں جن میں سے صرف دس ہی آبادہیں۔۔ اس کی ثقافت کا تحفظ کیا جانا چاہیے۔ اس شخص پر کارروائی کرتے ہیں جو آواز اٹھاتا ہے۔ جرائم کی کوئی اعلیٰ شرح نہیں ہے۔ وہ صرف اپنے سیاسی مقاصدکے لیے گونڈا ایکٹ لا رہے ہیں۔ منتظم کسی کو بھی بغیر کسی سال کی ضمانت کے جیل میں ڈال سکتا ہے۔ کسی کی بھی زمین لی جاسکتی ہے ، مکان توڑاجاسکتا ہے۔