لکشدیپ سے بی جے پی ایڈمنسٹریٹر کو فوری واپس طلب کرنے کا مطالبہ

حیدرآباد:صدر کل ہند مجلس تعمیر ملت جناب محمد ضیاء الدین نیّر نے مرکزی زیر انتظام علاقہ لکش دیپ میں امن و امان کی صورت حال کو بگاڑ کر اس علاقہ میں بد امنی‘ خوف و ہراس اور ناراضگی پیدا کرنے کے تعلق سے مرکزی حکومت کے اقدامات پر سخت تنقید کی ہے۔ انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ لکش دیپ کی آبادی کا 97فیصد حصہ مسلمانوں پر مشتمل ہے جنہوں نے آزادی کے وقت ہندوستان کے ساتھ رہنا پسند کیا اور 70سال سے امن چین کی زندگی بسر کررہے تھے۔ اس علاقہ میں ہمیشہ کسی رٹائرڈ آئی اے ایس آفیسر کو ایڈمنسٹریٹر بنایا جاتا تھا‘ لیکن مرکزی حکومت نے اس روایت کو توڑتے ہوئے بی جے پی کے پرافل پٹیل کو وہاں ایڈمنسٹریٹر بنا کر بھیجا ہے ‘ جس نے وہاں جاتے ہی اس علاقہ میں بے چینی اور بد امنی کی ایسی فضا پھیلا رکھی ہے جس کا کسی نے تصور بھی نہیں کیا ہوگا۔ اس شخص نے وہاں شراب کی فروخت پر سے پابندی ہٹا دی‘ بیف پر پابندی لگا دی۔ ماہی گیروں کے لنگر توڑ دیے۔ زمینوں  سے لوگوں کو بے دخل کرنا شروع کیا۔ غنڈہ ایکٹ بنایا‘ جس کے تحت کسی کو بھی بغیر مقدمہ چلائے ایک سال تک جیل میں ڈالا جاسکتا ہے۔ جس علاقہ میں جرائم کی شرح صفر ہو وہاں اس قسم کے قانون کا مقصد کیا ہے ؟جناب ضیأ الدین نیّر نے حکومت ہند سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ لکشدیپ میں حالات کو سدھارنے اور بحال کرنے کے اقدامات کرے۔ وہاں سے ایڈمنسٹریٹر کو فوری واپس طلب کیا جائے اور اس کے تمام فیصلوں اور کارروائیوں کو کاعدم قرار دیا جائے۔ اس سے حکومت کی انصاف پسندی کا اظہار ہوگا اور امن و امان کی برقراری سے اس کی نیک نیتی کا ثبوت ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی کئی ریاستوں‘ شمال مشرق‘ مغربی بنگال‘ کیرالا‘ گو او رٹمل ناڈو میں بیف پر پابندی نہیں ہے۔ لکشدیپ میں یہ پابندی لگا نے کا مقصد کیا ہے۔ اگر سیاحت کے فروغ کے لئے یہ سب کیا جارہا ہے تو معلوم ہونا چاہیے کہ بیرونی سیاحوں میں بیف بہت زیادہ مقبول ہے۔انہو ںنے کہا کہ ایک پر امن مرکزی علاقہ میں حالات کو بگاڑنے کے اقدامات سے بی جے پی کی حکمت عملی کا اظہار ہوتا ہے۔ ایک ایسے وقت جب کہ ملک کو مختلف مسائل کا سامنا ہے ‘ بی جے پی کی جانب سے لکشدیپ میں اس قسم کے اقدامات ملک و قوم کے مفاد میں نہیں ہوسکتے۔