لکشدیپ ہندوستان کا زیور ہے،اسے تباہ کیا جارہا ہے:راہل گاندھی

نئی دہلی:کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے بدھ کے روز لکشدیپ کے مرکزی خطے میں نئے ضابطے کے مسودے پر مرکزی حکومت کو نشانہ بنایا اور الزام لگایا کہ ساگر میں واقع ہندوستان کا یہ زیور تباہ کیا جارہا ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ لکشدیپ کے لوگوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔راہل گاندھی نے ٹویٹ کیا ہے کہ ساگر میں لکشدویپ ہندوستان کا زیورہے۔ اقتدار میں بیٹھے جاہل بنیاد پرست اسے ختم کررہے ہیں۔ میں لکشدویپ کے لوگوں کے ساتھ کھڑاہوں۔کانگریس نے منگل کو اس معاملے پر مرکزی حکومت سے استدعا کی تھی کہ وہ فوری طور پر ان مسودوں کو واپس لے اور پرفل کھوڑا پٹیل کو ایڈمنسٹریٹر کے عہدے سے ہٹائے۔پارٹی کی جنرل سکریٹری پریانکا گاندھی واڈرا نے کہا تھا کہ کانگریس لکشدویپ کے لوگوں کے ساتھ کھڑی ہے اور اپنے ثقافتی ورثے کے تحفظ کے لیے لڑے گی۔کانگریس کے جنرل سکریٹری کے سی وینوگوپال نے بھی پیر کو صدر رام ناتھ کووند کو ایک خط لکھا تھا جس میں لکشدیپ کے ایڈمنسٹریٹر پرفل پٹیل کو واپس لینے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔اس کے علاوہ انہوں نے صدر سے بھی کہا ہے کہ وہ پرفل پٹیل کے دور میں لیے گئے فیصلوں کو منسوخ کریں۔اطلاعات کے مطابق مسودہ ضوابط کے تحت لکشدیپ سے شراب کے استعمال پر پابندی ختم کردی گئی ہے۔ اس کے علاوہ جانوروں کے تحفظ کا حوالہ دیتے ہوئے گائے کے گوشت سے تیار کردہ مصنوعات پر پابندی کا حکم دیا گیا ہے۔ لکشدیپ کی زیادہ تر آبادی ماہی گیروں پر منحصر ہے ، لیکن حزب اختلاف کے رہنماؤں کا الزام ہے کہ پرفل پٹیل نے کوسٹ گارڈ ایکٹ کی خلاف ورزی کی بنا پر ساحلی علاقوں میں ماہی گیروں کی جھونپڑیوں کو توڑنے کا حکم دیا ہے۔