لکھیم پور کھیری سانحہ:بی جے پی کو اقتدار سے باہر کیا جاسکتا ہے اگر … شکیل رشید

(ایڈیٹر ممبئی اردو نیوز)
تو ہندوستان ایک ’ جمہوریت‘ ہے !
امریکہ کے ایک دانشور صدر ابراہم لنکن ’ جمہوریت‘ کا تعارف کراتے ہوئے کہہ گئے ہیں ’’عوام کی حکومت ، عوام کے ذریعے ، عوام پر‘‘۔۔۔اگر، لنکن کے قول کی روشنی میں ’ ہندوستانی جمہوریت‘ کا جائزہ لیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ یہاں’ جمہوریت‘ کے معنیٰ الٹ دیئے گئے ہیں :’’آمروں کی حکومت ، آمروں کے ذریعے ، عوام پر‘‘۔ لکھیم پور کھیری میں جو ہوا ، اور وہاں جو کچھ ہورہا ہے ، کیا اس کی روشنی میں ہندوستان کو ایک جمہوری ملک کہا جاسکتا ہے ؟ اس سے قبل گورکھپور میں جس طرح ایک نوجوان تاجر منیش گپتا کو پیٹ پیٹ کر ، پولس نے جان سے ماردیا تھا، کیا اس کا جمہوری ملک میں تصور کیا جاسکتا ہے ؟ دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ منیش گپتا کا ملزم داروغہ فرار ہے۔ یہاںمیں آسام کی بات نہیں کروں گا ، جہاں کئی حیوانوں نے مل کر ایک کمسن بچے کو گولیوں سے بھون دیا اور ایک نوجوان کو روند ڈالا تھا ۔۔۔میں ملک بھر میں ماب لنچنگ اور ’ لوجہاد‘ کے نام پر بے رحمی سے پیٹ پیٹ کر نوجوانوں کی جانیں لینے والی وارداتوں کا بھی ذکر نہیں کروں گا ۔ ماب لنچنگ اور ’ لوجہاد‘ کے معاملات کا تعلق تو اس ملک کی دبی کچلی اور پسی ہوئی مسلم اقلیت سے ہے ، بھلا ان کے معاملات پر توجہ دینے کی کسی کو کوئی ضرورت ہے ! یہ تو لوگوں نے دیکھا ہی ہےکہ لکھیم پور کھیری میں احتجاجی کسانوں پر مرکزی وزیر مملکت برائے امورِ داخلہ اجئے مشرا کے صاحبزادے اشیش مشرا کی گاڑی کے چڑھنےاور آٹھ لوگوں کے مرنے کے بعد کانگریس حرکت میں آگئی ہے ۔ پرینکا گاندھی اور راہل گاندھی نے یوپی کے آمریوگی آدتیہ ناتھ کی سرکار پر ہلّا بول دیا ہے ، سماج وادی پارٹی کے نوجوان قائد اکھلیش یادو نے اپنے ترکش کے سارے تیر یوگی کے خلاف استعمال کرنا شروع کردیے ہیں ، یہ سب لکھیم پور کھیری تک پہنچنے اور مہلوکین کے غمزدہ گھر والوں سے ملنے کے لیے آگ کا دریا پارکرنے کے لیے بھی تیار رہے ہیں۔اور آگ کا دریا پار کرکے راہل اور پرینکا گاندھی لکھیم پور پہنچے بھی ہیں۔ ہم ان کی جرأت اور ہمت کا خیر مقدم کرتے ہیں کہ یہ وقت کا تقاضہ ہے ، لیکن جیسا کہ اوپر لکھا جاچکا ہے ، ساری اپوزیشن نے آسام پہنچ کر ۳۲ سالہ معین الحق اور ۱۲ سالہ فرید شیخ کے غمزدہ اہلِ خانہ سے ملنے کی کوئی کوشش نہیں کی تھی۔ تو یہ اپوزیشن جو ہے ، کانگریس ، سماج وادی پارٹی اور این سی پی وغیرہ ، یہ بھی مذہب اور ذات پات دیکھ کر ہی سرگرم ہوتی ہے ۔
بات کہاں سے کہاں جا پہنچی ، ذکر تھا ملک کی جمہوریت اور لکھیم پور کھیری کی انتہائی قابلِ مذمت واردات کا ۔آج جب یہ سطریں لکھی جارہی ہیں مرکزی وزیر مملکت برائے امور داخلہ اجئے مشرا ٹینی کا بیٹا اشیش مشرا ، جس پر یہ الزام ہے کہ اس نے احتجاجی کسانوں پر دانستہ اپنی کارچڑھائی اور چار کسانوں کو کچل دیا ، پھر اس کے نتیجے میں بھڑکنے والے غصے میں مزید چار لوگ مارے گئے ، یعنی آٹھ افراد کی جانیں گئیں ، لکھیم پور کھیری پہنچا ہے اور پولس نے اس سے بیان لیا ہے ۔ اسے جمعرات کو حاضری کے لیے یوگی کی پولس نے نوٹس دیا تھا ، جمعہ کو اسے حاضر ہونا تھا، پولس تین گھنٹےتک اس کا انتظار کرتی رہی وہ حاضر نہیں ہوا ،تو شب میں اس کے مکان کے دروازے پر ایک نوٹس پھر لگادیا گیا ،سنیچر کے روز وہ حاضر ہوا ۔ یہ حاضری بھی پورے ’سرکاری اعزاز‘ کے ساتھ تھی، اسے پولس اسٹیشن کے عقبی دروازے سے اندر لے جایا گیا تاکہ وہاں موجود اخباری نمائندے اس کی تصویر نہ لے سکیں ۔ یہی نہیں جمعہ کی شب اجئے مشرا ، یعنی اشیش مشرا کے باپ ، وزیراعلیٰ یوگی سے جاکر ملے تھے ۔۔۔ اور سنیچر کو وہ بذاتِ خود لکھیم پور کھیری میں بی جے پی کے دفتر میں ، جو پولس اسٹیشن سے محض دوکلو میٹر کے فاصلے پر ہے ، موجود تھے ۔اب اندازہ لگالیں کہ ملک کے نائب وزیر داخلہ کے بیٹے سے پوچھ گچھ کی جارہی ہے اور نائب وزیرداخلہ ، پولس اسٹیشن میں نہ سہی ، پوچھ گچھ کی جگہ سے کچھ ہی فاصلے پر موجود ہیں ، تو کیا پوچھ گچھ اور تفتیش ’غیر جانبدارانہ‘ ہوسکتی ہے ؟ کیا یہ ممکن ہے کہ پولس کے اعلیٰ افسران نائب وزیر داخلہ کے بیٹے سے ، اُس انداز میں ، جس انداز میں کسی عام آدمی سے تفتیش کی جاتی ہے ، تفتیش کریں؟ اور یوگی تو پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ ’’بغیر کسی ثبوت کے کسی کو بھی گرفتار نہیں کیا جائے گا ‘‘۔ تو یوں سمجھ لیں کہ ’ سیاّں بھئے کوتوال توڈر کاہے کا‘ مثل، اشیش مشرا پر پوری طرح سے صادق آتی ہے ۔ اور پھر ایک نہیں ’سیاّں‘ تو دو ، دو ہیں ۔۔۔ باپ جو نائب وزیرداخلہ ہے اور آدتیہ ناتھ یوگی جو وزیراعلیٰ ہیں ۔۔۔ملک کی سب سے بڑی عدالت ’ سپریم کورٹ ‘ نے لکھیم پور کھیری معاملہ میں یوگی سرکار اور پولس کی رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے اور یوگی سرکار کو باتیں نہیں کارروائی کرنے کا حکم دیا ہے ۔ شاید یہ جو پولس اسٹیشن کا ڈرامہ ہے اسی حکم کے تحت ہے ۔ویسے سپریم کورٹ کی ڈانٹ کے بعد یوگی کو مارے شرم کے استعفیٰ دے دینا چاہیے تھا لیکن ’ شرم ان کو مگر نہیں آتی‘ ۔تو یہ ہے ہندوستان کی وہ جمہوریت جسے دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہا اور مانا جاتا ہے ۔اور ہمارے وزیر اعظم نریندر مودی جی بھی جب امریکہ اور برطانیہ یا دوسرے ملکوں کا سفر کرتے ہیں یا اقوام متحدہ وغیرہ میں دنیا بھر کے قائدین سے خطاب کرتے ہیں تو چھاتی ٹھونک ٹھونک کر گروسے کہتے ہیں کہ وہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے سربراہ ہیں ۔ یہ سمجھ لیں کہ ’ جمہوریت‘ کی ملک کے لیے ایک برانڈ کی سی حیثیت ہے ۔ خیر، آئیں لکھیم پور کھیری کی طرف لوٹیں ۔۳؍ اکتوبر کو اشیش مشرا کی گاڑی احتجاجی کسانوں پر چڑھی تھی ، اس سے قبل اجئے مشرا ٹینی نے ، جو اتفاق سے یوپی کے ’ باہوبلی‘بھی ہیں، ان کے خلاف درجنوں معاملات درج ہیں ، ایک مجمع میں تقریر کرتے ہوئے احتجاجی کسانوں کو ’’ٹھیک کرنے ‘‘ کی دھمکی دی تھی۔ اشیش مشرا پر بھی کسانوں کو دھمکانے کا الزام ہے ۔ سچ کہا جائے تو پوری کی پوری بی جے پی ہی کسانوں کو دھمکانے کی قصوروار ہے ۔کسانوں کے مطالبات نہ ہی تو ’ناجائز‘ تھے اور نہ ہی ’غیر جمہوری‘ لیکن ملک پر راج کرنے والوں کے لیے، چاہے وہ وزیراعظم نریندر مودی ہو ں یا مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ یا کہ بی جے پی کے صد رجے پی نڈا، اور یوپی وہریانہ کے وزرائے اعلیٰ یوگی وکھٹّر ، کوئی بھی کسانوں کے مطالبات کو کہ جو تین زرعی قوانین بنائے گئے ہیں ، جن کے نتیجے میں کسانوں کی خوشحالی تو چھن ہی جائے گی ملک کے عام شہری بھی پریشانی میں پھنس جائیں گے ، واپس لیا جائے ، واپس لینے کو تیار نہیں ہے ۔ زرعی قوانین کو ہر حال میں لاگو کرنے یا باالفاظ دیگر تھوپنے کو بی جے پی سرکار نے اپنی انا کا مسئلہ بنالیا ہے ۔ ملک بھر کے کسان احتجاج کررہے ہیں ، سال بھر دھرنے کو ہورہے ہیں اور حالات دن بدن بگڑتے جارہے ہیں بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ ملک ایک ایسے ’ ٹکراؤ‘ کی سمت بڑھ رہا ہے جس کے نتائج بھیانک ہوسکتے ہیں ، تو غلط نہیں ہوگا ، مگر سرکار آنکھیں بند کیے ہوئے ہے۔اشیش مشرا کی گرفتاری اور فراہمیٔ انصاف کے مطالبات منظور نہ کیے جانے کی صورت میں کسانوں نے اور ان کی تنظیم ’’سمیکت کسان مورچہ‘‘ ( ایس کے ایم) نے ۱۲؍ اکتوبر کو ’’شہید کسان یاترا‘‘ نکالنے کا اعلان کیا ہے ، اس سے قبل ۱۱؍ اکتوبر کو ’’بھارت بند‘‘ کا اعلان ہے ۔ مہاراشٹر کی مہاوکاس اگھاڑی کی سرکار نےبھی ’ بند‘ کا اعلان کررکھا ہے ۔کانگریس کا رخ سخت ہورہا ہے ، کانگریس کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی اور ان کے بھائی راہل گاندھی نے یوگی سرکار پر حملے تیز کردیے ہیں ۔یوگی کی سرکار ہے کہ آنکھ اور کان بند کیے ہوئے ہے ۔ یوگی کے بڑےہبڑے اشتہارات چھپ رہے ہیں کہ یوپی میں امن ہے ، یوپی نے ترقی کے سارے ریکارڈ توڑ ڈالے ہیں، لیکن سچ یہی ہے کہ یوپی میں زبردست ڈر اور خوف کا ماحول ہے۔ یوگی چند فرقوں اور چند طبقات کو خوف کی نفسیات میں مبتلا کرکے سیاسی فائدہ اٹھانے کے لیے کمربستہ ہیں ۔ اور اگر کسانوں کی تحریک میں شدت آئی تو اندیشہ ہے کہ یوپی میں فرقہ وارانہ منافرت کو مزید بھڑکانے کے لیے فسادات کروادیے جائیں ۔ الیکشن کے موقع پر فسادات کی سیاست نے ہمیشہ بی جے پی کو فائدہ پہنچایا ہے ۔ بہت ہی چوکنا رہنے کی ضرورت ہے۔مگر احتجاج اور دھرنا جاری رکھتے ہوئے کہ یہ اب پہلے کے مقابلے کہیں زیادہ ضروری ہے ۔ غیر بی جے پی سیاسی پارٹیوں کے لیے یہ متحد ہوکر بی جے پی کو اقتدار سے باہر کرنے کا ایک سنہرا موقع حاصل ہوا ہے ۔ کانگریس کو اس موقع پر اپنی انا کو بھول جانا ہوگا ، اب یہ کہہ کر یہ سب سے قدیم پارٹی ہے اس لیے اس کا حق سب سے زیادہ ہے ،کام نہیں چلنے والا ۔اگر یوپی کو بی جے پی ’ مکت ‘ دیکھنا ہے تو کسانوں کے ساتھ تمام ہی کچلے اور دبے پسے ہوؤں کا ساتھ لینا اور انہیں ساتھ دینا ہوگا ۔۔۔مسلمانوں کا بھی ۔۔۔اب مسلمانوں کو نظرانداز کرنے کا مطلب تابوت میں آخری کیل ٹھونکنا ہوگا ۔تو یہ اپوزیشن کے لیے ’ کرو یا مرو‘ کی گھڑی ہے ۔رہی بی جے پی تو اگر ایک ایسے موقع پر جبکہ اس کے اور یوگی کے خلاف لوگوں میں غصے کی لہر ہے ، وہ اسمبلی الیکشن جیت جاتی ہے ، تو وہ ، وہ سب کام کرے گی ، کہ ملک میں بچی کھچی’جمہوریت‘ کا جنازہ بھی نکل جائے گا ۔

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)