لہجے کو تلوار بنانا مجبوری ہے ـ سلیم شوق پورنوی

لہجے کو تلوار بنانا مجبوری ہے
اب تو میرا طیش میں آنا مجبوری ہے

ہنستا ہے سب داغ دکھاکر چہرے کے
آئینے سے آنکھ چرانا مجبوری ہے

لوگ سمجھتے ہیں میں گونگا بہرا ہوں
سومیرا اب شور مچانا مجبوری ہے

میری وجہ سے تم کو مسئلے ہوتے ہیں
میرا تم سے ہاتھ چھڑانا مجبوری ہے

تم ہو میٹھا زہر میں سب کچھ جانتا ہوں
پھر بھی میرا ساتھ نبھانا مجبوری ہے

کاندھا دے گا کون مجھے رونے کے لئے
دیواروں سے سر ٹکرانا مجبوری ہے

ہم ایسے تو بوجھ ہیں اپنے بچوں پر
ہم ایسوں کا تو مرجانا مجبوری ہے

رات نے اپنا بوریا بستر باندھ لیا
تاروں کا اب چھپ جانا مجبوری ہے

میری ہنسی سے دشمن کے دل جلتے ہیں
چہرے پر مسکان سجانا مجبوری ہے

لوگوں کا اب ذوق نہیں پہلے جیسا
شوق اپنا معیار گرانا مجبوری ہے

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*