لگےگی آگ تو آئیں گے گھر کئی زد میں- عارفہ مسعود عنبر 

 

خدایا رحم ، رب العزت ہمارے ملک عزیز پر کرم فرما ہماری لغزشوں اور کوتاہیوں کو معاف فرما کر ہم سب کو اپنی پناہ میں لے لے ۔اب ملک میں تباہی کے یہ دل خراش مناظر نہیں دیکھے جاتے ۔کرونا کی دوسری لہر نے مانند سنامی وہ قہر برپا کیا ہے کہ ہر روز اپنے عزیز و اقارب کی اموات کی خبروں نے ذہن و قلب کی کیفیت عجیب کر دی ہے۔ بے شک خدا کے حکم کے بنا ایک ذرہ بھی ادھر سے ادھر نہیں ہو سکتا "موت کا ایک دن معین ہے ” لیکن پھر بھی اس وحشت ناک ماحول میں یوں محسوس ہوتا ہے کہ معلوم نہیں کس وقت موت کا فرشتہ حیات در پر دستک دے کر اندر داخل ہو جائے اور ہمیں اپنے آغوش میں لے لے ۔تمام معاشرے پر موت کا سایہ منڈرا رہا ہے ۔ سوشل میڈیا پر بھی جس وقت نظر ڈالیں روح کو تھرا دینے والے مناظر چشم پرنم کیے بنا نہیں رہتے ۔ ملک کے حالات اتنے خراب ہو گئے ہیں کہ روز ہزاروں افراد سسک سسک کر دم توڑنے پر مجبور ہیں ۔نہ ان کی کوئ مدد کا انتظام ہے نہ کوئ پرسان حال ،اسپتالوں میں مریضوں کے لیے نہ بستر ہیں نہ ادویات، نہ آکسیجن نہ وینٹی لیٹر، آکسیجن اور وینٹی لیٹر کی شدید کمی سے نہ معلوم کتنی ہی انسانی زندگیاں تڑپنے کو مجبور ہیں ۔اسپتالوں سے باہر گلیاں بیماروں سے بھری پڑی ہیں ۔ہر ایک کو یہ انتظار ہے کہ ہمارے مریض کا نمبر کب اے گا ۔کوئ بستر خالی ہو تو ہمارے مریض کے علاج کی کوئ صورت بنے۔اہل خانہ بے بسی کے عالم میں آکسیجن کی

تلاش میں کئ کئ میل کا سفر کرنے پر مجبور ہیں۔حالات یہ ہیں کہ نہ قبرستان میں دفنانے کے لیے جگہ ہے نہ شمشان میں جلانے کے لیے لکڑیاں ہندستان لاشوں کے ڈھیر میں تبدیل ہو گیا ہے ،کہیں ماں نے اپنے جینے کا سہارا اپنا لخت جگر کھو دیا تو کہیں معصوم اطفال نے اپنے والدین کو۔ کہیں بہن بھائ کے لیے تڑپ رہی ہے تو کہیں شوہر بیوی کے لیے آ ہ! خدایا ہر طرف نفسی نفسی کا ماحول ہے کوئ کسی کا پرسان حال نہیں ۔مرکزی وزارت صحت کی جانب سے پیش کی گئی ریپورٹ کے مطابق آج بھی 4 لاکھ ایک ہزار 78 نے معاملے درج کیے گئے ہیں ۔ جب کہ ایک دن میں ریکارڈ 4ہزار 178 لوگوں کی موت ہو گئی غرض یہ کہ اس وبا نے ملک میں وہ قہر برپا کیا ہے جس کی چپیٹ سے کوئ نہیں بچ پا رہا ہے۔نہ ہندو نہ مسلمان نہ سکھ نہ عسائ۔ نہ کسی کی دولت کام آ رہی ہے نہ رسوخ نہ عہدہ نہ چاپلوسی۔یہ وبا نہ منتری کو بخش رہی ہے نہ پردھان کو ،نہ دیوان کو اور نہ ان پترکاروں کو جو بے شرمی سے ہندو مسلم کے نام پر ملک اور معاشرے کو تقسیم کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں ۔گزشتہ سال انہیں دنوں اچانک ہوئ تالا بندی کے سبب مرکز میں پھنسی تبلیغی جماعت پر جم کر سیاست ہوئ گودی میڈیا نے ان پر بے بنیاد الزامات عائد کیے ۔ یہاں تک کہ انہیں کرونا بم ، کرونا جہادی اور نہ جانے کیا ۔کیا کہا گیا۔حالانکہ بعد میں عدلیہ نے انصاف کیا اور تبلیغی با عزت ان الزامات سے بری ہو گئے ۔لیکن اس وقت ہندوستان کی دیش بھکت میڈیا نے معاشرے میں ایسا ذہر پھیلایا کہ ہندو بھائ بہنوں کے دل میں مسلمانوں کے لیے ایسی نفرت بیٹھی کہ بیچارے سبزی فروش تک سے ان کا شناختی کارڈ طلب کر کے سبزی خریدی جاتی نہیں تو انہیں مار پیٹ کر محلے سے نکال دیا جاتا۔ کاش اس وقت معاشرے کے چوتھے ستون صحافت نے اپنی زمہ داری کو ایمانداری سے نبھایا ہوتا ۔اپنے حقیقی فرائض پر غور کیا ہوتا ۔تبلیغی جماعت ، محمد سعاد سوشانت خودکشی پر گھنٹوں۔ گھنٹوں ڈیبیٹ کی بجائے اس بات کی رپورٹنگ کی ہوتی کہ کس صوبے میں کتنے اسپتالوں کی ضرورت ہے ،کس اسپتال میں کتنے بستروں کی ضرورت ہے ،اکسیجن پلانٹ ہے کہ نہیں ہے صاحب اقتدار سے سوال کیے ہوتے کہ اگر کرونا کی دوسری لہر اتی ہے تو اس سے جنگ کے لیے کیا تیاری ہے ۔ سرکار سے اسپتال طلب کیے ہوتے ۔ روزگار اور تعلیم پر گفتگو کی ہوتی تو شاید آج ملک کی یہ حالت نہ ہوتی ۔ان حالات سے لڑنے کی تیاری ہمارے پاس ہوتی تو ہم اس جنگ کو جیتنے میں کامیاب ہو سکتے تھے ۔ملک میں ہندو مسلم کا بیج بونے والے اور نفرت کی سیاست کرنے والوں کی یہ بات سمجھ میں آ جانی چاہیئے کہ آج ملک صرف مسلمانوں کی لاشوں پر نہیں کھڑا ہے بلکہ ہر مذہب ہر شعبے ، ہر پارٹی کے لوگ شامل ہیں ۔ نہ نیتا جی کی بخشش ہے نہ ایس پی صاحب کی اور نہ ڈاکٹر صاحب کی نہ اسٹوڈیو میں بیٹھے پترکار صاحب کی۔ کرونا نہ عمر دیکھ رہا نہ مزہب نہ فرقہ ۔ یہ کیا ؟ ملک کے حالت زار پر گفتگو کرتے ہوئے تخیل کی پرواز مرحوم راحت اندوری کی شاعری کی طرف کوچ کر گئ اور یوں محسوس ہوا کہ راحت صاحب سامنے کھڑے اپنے مخصوص انداز میں آنکھ سے اشارہ کر کے کہ رہے ہیں

 

لگے گی آگ تو آئیں گے گھر کئی زد میں

یہاں پہ صرف ہمارا مکان تھوڑی ہے

جو آج صاحب مسند ہیں کل نہیں ہونگے

کراےدار ہیں سب ذاتی مکان تھوڑی ہے

راحت صاحب کے یہ شعر چار مصرعوں میں ایک عہد کی عکاسی کر رہا ہے ۔ایک تاریخ کو اپنے اندر سمیٹ لیا ہے ۔ خیر یہ تو رہی صاحب مسند اور بڑے رسوخ دار لوگوں کی بات لیکن ہندوستان کی زمینی حقیقت یہ ہے کہ سیاست ہو یا میڈیا اس ملک میں چاہے جتنی نفرت پھیلانے کی کوشش کر لیں لیکن محبت ایکتا اور بھائ چارا یہاں کی مٹی میں پیوست ہے ۔ آج مصیبت کی اس گھڑی میں ہندو مسلم سکھ عیسائی سب ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہیں۔ سوشل میڈیا کی ایک خبر کے مطابق ٹوٹل ٹی وی کے ایک پتر کار کی کورونا سے موت ہوئ نتیجہ یہ ہوا کہ نہ صرف باہر کے لوگ بلکہ ان کے اہل خانہ نے بھی ان سے کنارا کر لیا اور لاش کا کریاکرم کرنے والا کوئی نصیب نہیں تھا تب رضوان احمد یعنی پچھلےسال کی میڈیا کی مانیں تو کرونا جہادی آگے آے اور اپنی لاش گاڑی میں لے جاکر ان کا کریا کرم کرایا۔لکھنو ؤ کی ہی سید زرین صاحبہ جنہوں نے اس وباء میں اپنے والد کو کھو دیا اس کے باوجود دن رات لوگوں کی خدمت میں لگی ہیں بنا تفریق مذہب و ملت کسی کے لیے آکسیجن تو کسی کے لیے دوائیاں، محیہ کرا رہی ہیں۔ مساجد کو مریضوں کے لیے کھول دیا گیا ہے مندروں سے آکسیجن سپلائ کے انتظامات کی کوششیں جاری ہیں۔سکھ بھائ بھی خدمتِ خلق میں کسی سے پیچھے نہیں ہیں۔ ہمارے خیال سے کم از کم اب تو اس دوغلی سیاست اور بے شرم صحافت کو حقیقت سمجھ کر اس کی ترجمانی کرنی چاہیے ۔اور اپنے فرائض ایمانداری سے نبھانے چاہیئے ۔ ہمیں اللہ کریم کی رحمت پر یقین ہے ان شاء جلد ہی ہم سب مل کر اس وباء کو شکست دیکر کرونا کی جنگ میں فتح حاصل کریں گے۔۔۔۔