لداخ میں ہند- چین جھڑپ کا ایک تجزیہ-شکیل رشید

(ایڈیٹر ممبئی اردو نیوز)
ہماری آنکھیں نم ہیں ـآنکھوں کا نم ہونا فطری بھی ہے، ایک نہیں ہمارے بیس فوجی جوان، بشمول ایک کرنل ، لداخ میں مادر وطن کی سالمیت اور خودمختاری کی حفاظت کرتے ہوئے قربان ہوگئے ۔ ہمارے جوانوں نے درانداز چینی فوج سے لڑتے لڑتے اپنی جانیں ملک پر بھینٹ کر دیں۔یہ شہادت اپنے آپ میں سرحدوں پر تعینات ہمارے جوانوں کی ہمت، بہادری اور ہر صورت میں، جانوں کے نذرانے دے کر بھی، ملک کی حفاظت کرنے کے عزم کا بین ثبوت ہے ۔ہم اپنے شہیدوں کو دل کی گہرائیوں سے خراج عقیدت پیش کرتے ہیں ۔ان کے احترام میں ہماری گردنیں جھکی ہوئی ہیں۔ سارا ملک ان کے لیے غمزدہ ہے۔۔۔۔۔لیکن اگر کوئی غمزدہ نہیں ہے تو وہ ہے گودی میڈیا۔ اور مفاد پرست سیاست داں۔
کیا لداخ میں چین کی دراندازی کی ذمہ دار بھارتی فوج ہے ؟ کیا یہ شہید فوجی جوانوں کا قصور تھا کہ چین گلوان وادی تک پہنچ گیا اور اہم بھارتی ٹھکانوں پر قابض ہو گیا؟ کیا اس سارے معاملے میں مرکز کی نریندر مودی سرکار کا کوئی قصور نہیں تھا؟ کیا ہماری سرکار نے لداخ کی سرحد پر بڑھتی کشیدگی کو فرو کرنے کے لیے اقدام کیا تھا یا آنکھیں موندے رہی تھی اور سارا معاملہ فوج کے ہاتھ میں سونپ دیا تھا؟ اگر ان سوالوں کے جواب آپ کو نہ پتہ ہوں تو گودی میڈیا ’آج تک‘ کی اینکر شویتا سنگھ نے روہت سردانہ سے جو بات چیت کی ہے اسے ضرور سن لیں۔شویتا سنگھ کا کہنا ہے کہ چین کی گھس پیٹھ کا الزام مرکزی سرکار پر نہیں لگایا جا سکتا، سرحد پر سرکار تھوڑی پٹرولنگ کرتی ہے، پٹرولنگ تو فوج کرتی ہے اور فوج کو اس کے لیے سیاسی آقاؤں سے اجازت کی ضرورت نہیں ہوتی، لہٰذا اگر چین نے بھارتی زمین پر قبضہ کیا ہے تو فوج پر سوال کھڑا ہو جاتا ہے، سوال فوج سے پوچھا جانا چاہئے جو اس وقت سو رہی تھی جب چین کی فوج بھارتی زمین میں گھسی تھی۔ شویتا سنگھ کا یہ سارا بیان جہاں ایک جانب گودی میڈیا کی بےشرمی کو عیاں کر دیتا ہے وہیں یہ بھی ظاہر کر دیتا ہے کہ قوم پرستی کا ان جیسے اندھ بھکتوں کا نعرہ کتنا کھوکھلا ہے۔
گودی میڈیا آج سرجیکل اسٹرائیک کی باتیں نہیں کرتا، دشمن کے گھر میں گھس کر سبق سکھانے کی بات بھی نہیں کرتا۔ پلوامہ میں ایک دھماکے میں بھارتی جوانوں کی شہادت کے بعد یہی گودی میڈیا دن رات مودی سرکار پر زور دے رہا تھا کہ پاکستان کو سخت سے سخت جواب دیا جائے۔ سرجیکل اسٹرائیک کے بعد یہی گودی میڈیا تھا اور یہی شویتا سنگھ تھی جو دشمن کو منھ توڑ جواب دینے کا سہرا مرکزی حکومت نہیں راست وزیراعظم نریندر مودی کے سر باندھ رہی تھی ۔لہذا اگر اُس وقت کی ساری فوجی کارروائیاں وزیراعظم مودی کی’’کامیابیاں‘‘ تھیں تو آج لداخ میں جوانوں کی شہادت کا المناک واقعہ اور چین کی دراندازی کیسے بھارتی فوج کا’’قصور‘‘ ہو گیا؟!!
یہ بھارتی فوج کی سخت ترین توہین ہے۔ اور یہ توہین گودی میڈیا نے اپنے سیاسی آقاؤں کو بچانے کے لیے کی ہے۔یہ توہین اس لیے کی گئی ہے کہ مرکزی سرکار سے ، وزیراعظم سے ، وزیر دفاع اوروزیرخارجہ سے سوالات نہ کیے جائیں ۔ فوج کی یہ توہین، بڑی ہی بے شرمی کے ساتھ اقتدار میں بیٹھے ٹولے کی چاپلوسی کا، گودی میڈیا پر جو ایک سلسلہ شروع ہے، اس کی سیاہ مثال ہے ۔ فوج کی توہین کا سیدھے سیدھے یہ مطلب نکلتا ہے کہ فوج نے اپنا فرض نہیں نبھایا۔ایک طرح سے یہ فوج پر بزدلی کا گھٹیا الزام ہے ۔ ایسا الزام وہی لگا سکتا ہے جو قوم پرست نہ ہو ۔ پر اس بار تو یہ الزام ایک ایسی اینکر نے لگایا ہے جو دن رات اپنی اور مودی سرکار کی قوم پرستی کا ڈھول پیٹتی ہے!! یہ ڈھول اب پھٹ چکا ہے۔ شویتا سنگھ کو ایک ایڈوکیٹ فاروق خان نے لیگل نوٹس بھیج دیا ہے، انہیں جواب دینا ہے ۔ویسے شویتا سنگھ ابھی بھی اپنی کہی ہوئی بات پر اڑی ہوئی ہے ۔
سارے گودی میڈیا کا حال ایسا ہی ہے، کوئی یہ نہیں چاہتا کہ حکومت سے سوال پوچھے جائیں ۔اسی نیوز چینل کی ایک اور اینکر انجنا اوم کشیپ نے تو اس بات پر ہی ایک مباحثہ کے دوران سوال کھڑا کر دیا تھا کہ اس بات کا کیا ثبوت ہے کہ چینی فوج نے لداخ میں گھس کر بھارتی زمین پر قبضہ جمایا ہے۔ حالانکہ ۱۵ اور ۱۶جون کی درمیانی شب جو دونوں فوجوں میں جھڑپ ہوئی (اسے جھڑپ کی بجائے چینی فوج کا بھارتی فوج پر منصوبہ بند حملہ کہنا زیادہ درست ہے) وہ خود اس بات کا ثبوت ہے کہ چینی فوج نے دراندازی کی اور ہمارے جوانوں نے دفاع کیا اور شہید ہو گئے ۔ دراصل یہ سب چاہتے ہی نہیں ہیں کہ برسراقتدار ٹولے سے جواب مانگا جائے۔ اب تو صورتحال یہ ہے کہ سوال پوچھنے والوں کو دیش کے غداروں کی فہرست میں شامل کر لیا جاتا ہے، سوال پوچھنے والے چاہے میڈیا کے وہ افراد ہوں جو آج بھی سوال کرنے کی ہمت رکھتے ہیں، چاہے دانشور حضرات ہوں یا حزب اختلاف ہو ۔یہ سوال اول روز سے، جب سے یہ خبر آنا شروع ہوئی تھی کہ لداخ میں چین نے کچھ شرارت کی ہے، اٹھایا جاتا رہا ہے کہ حکومت بتائے کہ وہاں کیا ہو رہا ہے، کیا چین کے فوجی بھارت کی سرحد کے اندر گھس آئے ہیں، کیا چین بھارت کی کچھ زمین پر قابض ہو گیا ہے؟؟؟ لیکن حکومت ان سوالوں کے جواب دینے کو تیار نہیں تھی۔جب کانگریسی لیڈر راہل گاندھی نے بار بار ان سوالوں کو دوہرایا تب بی جے پی کے لیڈروں بالخصوص وزیر قانون روی شنکر پرساد نے راہل گاندھی پر ہی سوال کھڑا کر دیا کہ وہ کیسے عقل سے پیدل ہیں کہ چین کے معاملہ میں ایسے سوالات پوچھ رہے ہیں! وزیراعظم مودی خاموش تھے، وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے بھی واضح طور پر کوئی بات نہیں کہی تھی ۔اور وزیر خارجہ ایس جئے شنکر کی زبان بھی بند تھی۔ سینئر فوجی افسران بے چینی اور تشویش کا اظہار کر رہے تھے ۔کرنل اجئے شکلا اورجنرل پناگ نے صاف لفظوں میں لداخ میں چین کے قابض ہونے کی بات کو سچ قرار دیا تھا اور حکومت کو مشورہ دیا تھا کہ سخت قدم اٹھانے کی ضرورت ہے ۔ جنرل پناگ لکھتے ہیں کہ مودی حکومت اور فوجی قیادت کے ہاتھوں پر جوانوں کے خون کی لالی ہے۔اجے شکلا کا کہنا ہے کہ وزیراعظم مودی نے چین کو وارننگ دی ہے کہ جوانوں کی قربانی رائیگاں نہیں جائے گی، بہتر کیا، پر کیا کوئی تیاری ہے! پنڈت جواہر لال نہرو نے بھی ۱۹۶۲میں چین کو ایسی ہی وارننگ دی تھی۔ جی ہاں ہمارے وزیراعظم نے چین کو انتباہ دے دیا ہے، اور یہ انتباہ ضروری بھی تھا ۔لیکن یہ انتباہ جوانوں کی شہادت کے بہت بعد ۱۷جون کو آیا۔ وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے شہید جوانوں کو خراج عقیدت پیش تو کیا لیکن اپنے بیان میں کہیں چین کا نام تک نہیں لیا!! وزیر خارجہ جئے شنکر نے وزیر دفاع کے بیان کو ہی ری ٹوئٹ کردیا! اور اپنے چینی ہم منصب سے فون پر بات کی تو شکایت درج کرانے کے لیے ۔چین کو سخت جواب دینے کی ضرورت ہے۔ بھارتی فوج پر حملہ انتہائی بزدلانہ اور ظالمانہ تھا، لکڑی کے ایسے موٹے ڈنڈوں کا جوانوں پر حملے کے لیے استعمال کیا گیا جن پر کیل کانٹے جڑے ہوئے تھے ۔اونچی جگہوں سے ہمارے جوانوں کو نیچے پھینکا گیا اور نقطہ انجماد سے بھی نیچے کے درجہ حرارت میں جو جھیل کے پانی میں گرے ان کی رگوں میں خون جم گیا ۔جوانوں پر بڑے بڑے پتھر لڑھکائے اور پھینکے گئے ۔یہ کیسی جنگ تھی!! یہ سوال ہے کہ ہمارے جوانوں نے ہتھیاروں کا استعمال کیوں نہیں کیا؟ شاید انہیں یہ حکم رہا ہو کہ اسلحے نہ استعمال ہوں کیونکہ اس طرح جنگ چھڑ سکتی ہے۔ جوانوں نے ہر حال میں امن کی برقرای کی کوشش کی۔ ہمارے جوان ننگے ہاتھوں لڑتے رہے، دشمن کو مارتے رہے اور شہید ہو تے رہے ۔چین کی اس گھٹیا حرکت پر صرف انتباہ!! ہم یہ نہیں چاہتے کہ انتقامی حملہ کرکے جنگ چھیڑ دی جائے لیکن ہم یہ بھی نہیں چاہتے کہ چین خود کو اس خطے کا حکمراں سمجھ کر اپنی من مانی کرتا رہے ۔چین کو کوئی ایسا سبق سکھانا ضروری ہے کہ اسے یہ احساس ہو سکے کہ وہ بھارت کے ساتھ من مانی نہیں کر سکتا ۔اگر وہ لداخ کے اندر گھس آیا ہے تو وہاں سے اسے باہر کھدیڑ کر سبق سکھایا جا سکتا ہے، اور اس کے لیے جنگ ضروری نہیں بہترین قسم کی ڈپلومیسی کی ضرورت ہے ۔پر افسوس کہ لداخ میں جو کچھ ہوا وہ ثابت کرتا ہے کہ ہمارے حکمران ڈپلومیسی کے کھیل میں ماہر نہیں ہیں۔ یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ کیا اگر وزیر اعظم مودی چین کے صدر ژی جنپنگ سے بات کرتے تو یہ نوبت نہ آتی؟ وزیراعظم مودی کی چینی سربراہ سے ملاقات اس نوعیت کی ہے جسے اگر ’دوستی‘ کہا جائے تو غلط نہیں ہو گا ۔مودی اور ژی جنپنگ کے درمیان اٹھارہ ملاقاتیں ہو چکی ہیں، پانچ بار مودی چین جا چکے ہیں۔ اور کوئی بھارتی وزیر اعظم اتنی بار چین نہیں گیا ہے ۔چینی صدر تین بار بھارت آچکے ہیں، پہلی بار ۲۰۱۴میں، پھر ۲۰۱۶میں اور ابھی ۲۰۱۹میں۔ دونوں ممالک کے درمیان مضبوط تجارتی رشتے ہیں۔ جب دونوں ہی ممالک کے درمیان ڈوکلام میں کشیدگی تھی تب بھی یہ تجارتی رشتے مستحکم تھے۔ وزیراعظم مودی نے چینی صدر سے یہ درخواست کی تھی کہ چینی کمپنیاں بھارت میں انویسٹ کریں اور چین کے صدر نے بیس ارب ڈالر لگانے کا وعدہ کیا تھا ۔لہٰذا اگر یہ کہا جائے تو سچ ہی ہوگا، کہ صرف فوج کی ہی سطح پر نہیں حکومتی سطح پر بھی لداخ میں دونوں فوجوں کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی کوشش کی جاتی، وزیراعظم، وزیر دفاع اور وزیر خارجہ ڈپلومیسی کو برتتے تو شاید آج صورتحال کشیدہ نہ ہوتی اور جھڑپ نہ ہوئی ہوتی۔جمعہ 19 جون کو وزیراعظم مودی نے اس موضوع پر کلی پارٹی میٹنگ بلائی اور اپوزیشن کو اعتماد میں لینے کا کام کیا، یہ کام پہلے ہی کرلیا جانا چاہیے تھا ۔لیکن سیاست یہاں بھی کام کرتی رہی، لالو پرساد یادو، اویسی اور کیجریوال کی سیاسی جماعتوں کو اس میٹنگ سے دور رکھا گیا ۔ویسے اس میٹنگ میں تمام پارٹیوں نے چین سے نمٹنے کے لیے مرکزی حکومت کو مکمل تعاون دینے کا اعلان کیا، یہ ایک اچھی بات ہے ۔اس میٹنگ میں وزیراعظم نے یہ کہا ہے کہ چین نہ لداخ میں گھسا تھا اور نہ ہی لداخ میں کہیں قابض ہے۔ یہ حقیقت وزیراعظم نے جو سامنے رکھی ہے یقیناً تمام ہندوستانیوں کے لیے باعث اطمینان ہے، لیکن اس نے ایک سوال کھڑا کر دیا ہے کہ اگر چین لداخ میں گھسا نہیں تھا تو بھارتی فوجی شہید کس لیے ہوئے؟ بیس جوانوں کی شہادت کے بعد ملک میں چین کے خلاف لوگوں کے جذبات ابال پر ہیں، اور یہ ایک فطری امر بھی ہے ۔چینی مصنوعات کے بائیکاٹ کی ایک مہم شروع کر دی گئی ہے، اس میں بھاجپائی اور سنگھی پیش پیش ہیں ۔عام شہری اپنے موبائل فون اور ٹی وی سیٹ سڑکوں پر لا کر پھینک رہے ہیں۔ ایک مرکزی وزیر رام داس اٹھاولے نے تو ‘چینی ’کھانوں‘ کے بائیکاٹ کا نعرہ بلند کر دیا ہے ۔لیکن اس سے چین کا کیا بگڑنے والا ہے؟ اگر ہم چین اور بھارت کے تجارتی اعداد وشمار کا جائزہ لیں تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ سارا بھارت چینی مصنوعات کا عادی بن گیا ہے بلکہ چین نے عادی بنا دیا ہے ۔ موبائل فون سے لے کر الیکٹرانک اور مشینیں اور کل پرزے تک چین سے آتے ہیں، دوائیں بنانے کے لیے ہم چین سے مال منگواتے ہیں۔ ٹیکسٹائل میں چین آگے ہے ۔چین نے بڑے پیمانے پر بھارت میں پیسہ لگا رکھا ہے ۔اولا، ٹک ٹاک، زوم، پےٹی ایم، زوموٹو، فلپ کارٹ، آٹو موبائل وغیرہ میں چین کا پیسہ لگا ہے ۔گویا یہ کہ بھارت بڑی حد تک چینی مصنوعات پر منحصر ہو گیا ہے، بھارت سرکار کا اپنا ٹک ٹاک پیج ہے ۔چین کو بھارت سے جو مال جاتا ہے اس میں بھی چینی سامان لگتا ہے ۔۱۹۱۴میں چین نے ۵۴بلین ڈالر کا مال بھارت کو فروخت کیا تھا جو آج بڑھ کر ۸۸بلین ڈالر ہو چکا ہے ۔اور بھارت کاجو مال وہاں گیا وہ ۱۶ بلین ڈالر ہے، یعنی چین کے مقابلے ہم نقصان ہی میں رہے ہیں۔اب اگر چینی مصنوعات کا بائیکاٹ کیا جاتا ہے تو یہ سوال اٹھے گا کہ یہاں کی جو کمپنیاں وہاں کی مصنوعات پر منحصر ہیں کیا وہ بند کر دی جائیں گی؟ جو مال وہاں سے آچکا ہے کیا وہ تلف کر دیا جائے گا؟ جس مال کے لیے بھارت کے تاجر رقم دے چکے ہیں اس کااور جو مال وہاں سے آنا ہے اس کا کیا ہو گا؟ جو ٹھیکے کیے گئے ہیں کیا وہ رد کردیئے جائیں گے اور عالمی سطح پر معاہدوں کو مسترد کر دیا جائے گا؟؟ بہت سارے سوال ہیں۔بائیکاٹ آسان نہیں ہے۔ اور پھر چین کی اپنی عالمی مارکیٹ ہے یہ بائیکاٹ اس پر کوئی اثر نہیں ڈالے گا ۔ہاں بھارت میں معاشی صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے بالخصوص چین کی جگہ دوسرے ممالک سے مال منگوانے کی صورت میں کہ وہ مال مہنگا ہو گا اور مہنگائی مزید بڑھے گی ۔چینی مصنوعات کے تاجر پریشان ہونگے۔ اور چینی کھانے بند کرنے پر ہوٹلوں اور ریستورانوں کا بزنس جو ویسے ہی لاک ڈاؤن نے تباہ کر دیا ہے مزید تباہ ہو جائے گا ۔چین کی معیشت کو غیر مستحکم کرنے کیلئے سنجیدہ منصوبہ بندی کرنے کے ساتھ واقعی خودکفیل ہونا ہوگا۔چلتے چلتے پھر گودی میڈیا کی بے شرمی کی بات کر لی جائے :ارنب گوسوامی ان دنوں اپنے ری پبلک ’ٹی وی ‘ پر چین کے خلاف محاذ کھولے ہوئے ہیں لیکن ان کے چینل کا اسپانسر ’ویوو‘ ہے جو چین کاہے!! ملعون امیش دیوگن کے نیوز انڈیا کا اسپانسر’ھیآر‘ بھی چین کا ہے ۔اور’آج تک‘ابھی اس کشیدگی کے دوران چینی مال ’اوپو‘ کی تشہیر کرتا نظر آ رہا تھا ۔یہ ان اندھ بھکتوں کا اصلی چہرہ ہے جو خود کو قوم پرست اور دوسروں کو قوم دشمن ثابت کرنے کے لیے دن رات گلا پھاڑتے رہتے ہیں ۔

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*