کیوں نہ ہم سب مل کر بارش سے تباہ ہونے والوں کے لیے کچھ کریں؟ـ شکیل رشید 

 

(ایڈیٹر روزنامہ ممبئی اردو نیوز)

یہ جماعتیں اور تنظیمیں ،جو دن رات فلاح اور امداد کے کاموں میں جٹی رہتی ہیں ،ہمارے شکریے کی محتاج تو نہیں ہیں ، لیکن باوجود اس کے، اگر ہم ان کا شکریہ ادا نہیں کرتے ،تو اسے بےحسی اور نا قدر شناسی کے سوا کوئی اور نام نہیں دیا جا سکتا ۔ اپنی جماعتوں اور اپنی تنظیموں سے ہمیں لاکھ شکایات ہوں ،ہم لاکھ ان کے عیوب تلاش کرتے پھریں، اور لاکھ ان پر الزامات عائد کریں ،اس حقیقت سے منھ نہیں موڑ سکتے کہ مصائب اور آلام کی گھڑیوں اور آفات و تباہی کے مواقع پر ،یہی جماعتیں اور تنظیمیں ،میدان میں اتر کر راحت رسانی کے کام کرتی اور دکھی دلوں پر ہمدردی کے پھائے رکھتی ہیں ۔ مثال مہاراشٹرا بالخصوص خطۂ کوکن میںبارش سے ہونے والی تباہی اور بربادی کی لے لیں ، جہاں برسات کے قہر سے ۱۳۶ سے زائد انسانی جانیں جا چکی ہیں ،لاپتہ اورزخمی ہونےوالوں کی ایک بڑی تعداد ہے ،اور تباہی و بربادی اتنے وسیع پیمانے کی ہے کہ فی الحال نقصان کا کوئی اندازہ ممکن نہیں ہے،ہر طرف پانی ہی پانی ہے ،لیکن ہماری جماعتیں اور تنظیمیں وہاں پہنچی ہیں اور امدادی کاموں میں لگ گئی ہیں ۔ جو تصاویر زیرِ آب علاقوں سے آئی ہیں ،وہ دل دہلانے والی ہیں۔بھلا جو عمارتیں دو دو منزلے تک پانی میں ڈوب گئی ہوں ،ان کے مکین کیسے محفوظ رہے ہوں گے، اور اگر محفوظ رہے بھی ہوں گے تو کس طرح کی قیامت سے گزرے ہوں گے !کیا کوئی تصور ممکن ہے؟ چند تصاویر پر نظر ڈالیں ،مہاڈ ، چپلون ، رائے گڑھ اور کوکن کے دوسرے علاقے ، مہاراشٹرا کے دوسرے اضلاع ، ساری آبادیاں جھیل بنی ہوئیں ، یوں لگتا ہے جیسے کہ دور دور تک سمندر پھیلا ہوا ہے اور درمیان میں جگہ جگہ ٹاپو ہیں ،وہ بھی زیرِ آب! ایک مسجد ،چھت تک پانی اور پانی میں سے سر اٹھائے ہوئے مسجد کا مینار ، ایک ضعیفہ کوبچاؤ کارکنان بہتے ہوئے پانی سے نکالتے ہوئے ،ساری سڑکیں اور سارے راستے بڑے بڑے تالاب بنے ہوئے ۔ اور بے بس و لاچارلوگ چھتوں یا کسی اونچی جگہ پر بیٹھے اپنی قسمتوں کو روتے ہوئے ۔ انتہائی ہولناک ،کرب ناک اور بے حد بھیانک۔ ان حالات میں بھی ہماری تنظیمیوں اور جماعتوں کے کارکنان اسی طرح، جیسے کہ فوجی اور امدادی کارکنان پہنچے ، متاثرین تک پہنچے ہیں۔ کل جب یہ خبر نظر سے گزری کہ جماعت اسلامی کی ٹیمیں ،آئیڈیل ریلیف ونگ اور یوتھ ونگ اور جمعیۃ علماء ، کے دونوں دھڑے، جمعیۃ اہل حدیث نیز مقامی اور علاقائی جماعتیں امدادی کاموں کے لیے پہنچنے لگی ہیں تو بےساختہ دل سے ان کے لیے دعائیں نکلیں ۔ آج رضا اکیڈمی نے بھی ریلیف کا اعلان کیا ہے ۔اور اس وقت متاثرین کو سب سے زیادہ ریلیف کی ہی ضرورت ہے۔ کوکن میں مسلمانوں کی ایک بہت بڑی آبادی ہے ، بہت سی مسجدیں ہیں ، مدرسے ہیں ، گھر ، مکانات ، عمارتیں اور دوکانیں ہیں جو تباہ و برباد ہو گئی ہیں ، ضرورت ہے کہ انہیں ان کے قدموں پر دوبارہ کھڑا کیا جائے، اور اس کے لیے لازمی ہے کہ ہم ،تنگی کے ان ایّام میں بھی ، اپنے مالوں میں سے مصیبت زدگان کے لیے کچھ نہ کچھ نکالیں ،جماعتوں اور تنظیموں کودیں ،اور اس نیت سے دیں کہ اس کا اجر اللہ ہی دے گا ، اس کی ہمیں تشہیر نہیں کرنا ہے۔ ایک بات مزید ، بہت بڑی تعداد میں برادارنِ وطن بھی تباہ و برباد ہوئے ہیں ، یہ ہمارے وطنی بھائی ہیں ،ان کی امداد بھی بالکل اسی طرح کی جانی چاہیے جس طرح ہم اپنے دینی بھائیوں کی امداد کرتے ہیں ۔ ہماری جماعتیں اور تنظیمیں یہ کام بھی ، بغیر کسی بھید بھاؤکے ،کرتی ہیں۔ یہ ان کے لیے اللہ رب العزت کی طرف سے ، جو صاحبِ ثروت ہیں ، جنہیں نوازا گیا ہے، بڑھ چڑھ کرپریشان حالوں اور مصیبت زدگان کی مدد کے کام کرنے کا ،ایک سنہرا موقع ملا ہے ،یقین ہے کہ وہ اس موقع کو ہاتھ سے جانے نہ دیں گے ۔آئیں ہم سب اپنی جماعتوں اور تنظیموں کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر کھڑے ہوجائیں اور بارش سے تباہ ہونے والوں کی دامے ، درمے اور قدمے مدد کریں ، یہ اپنی جماعتوں و تنضیموں کے شکریے کی ادائیگی کا سب سے بہتر طریقہ ہوگا۔