کیا زیادہ علم سے انسان ملحد ہوجاتا ہے؟

 

حفصہ عبدالغفار 

بعض لوگ زیادہ علم اور زیادہ عمل کو نفسیاتی مسائل اور الحاد کی وجہ کہتے ہیں۔ اور اسی بنیاد پر دین کو گہرائی میں سمجھنے سے منع بھی کرتے ہیں۔ اسی طرح بعض ملحدین اور ان کے مداحوں کا دعوی بھی ان کی بلند ذہنی سطح ہوتی ہے۔ آگہی کے مسائل کا تذکرہ شاعری میں بھی ہوتا ہے اور فلسفے میں بھی اور تمام سمجھدار انسان ان مسائل کو مانتے ہیں مگر یہ کہنا کہ زیادہ دین سیکھنے اور عمل کرنے سے الحاد کی جانب چلے جائیں گے ایک فضول ترین بات ہے۔

 

بعض الجھنیں انسان کے لئے بہت فطری ہیں، کہ ہر انسان ذرا سا خود پر غور کرے تو ان میں جا سکتا ہے۔ اب کچھ ان الجھنوں میں الجھتے ہی خدا کے انکار کے جذبے سے ہیں تو اللہ بھی ان کو مزید گمراہی میں ڈال دیتا ہے۔ اور بہت سے مومن بھی اپنے ذہن کے مضبوط ہونے کی وجہ سے ان مسائل کا اکثر سامنا کرتے رہتے ہیں تو وہ یہ جانتے ہیں کہ ہماری آزمائش اس میں ہے۔ احمد جاوید صاحب کہتے ہیں کہ انسان میں اقرار اور انکار کی مستقل بنیادیں اور ایکسپریشنز موجود ہیں، آدمی اس سبجیکٹو یا پاسبل اقرار اور انکار کے درمیان پینڈولم کی مانند ہوتا ہے۔ تو جن کو اپنی گہرائی تک رسائی ہوتی ہے وہ اقرار کو بھی ایکسپیرئنس کرتے ہیں اور انکار کے ساتھ بھی یہی مسئلہ ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انسان کے اندر ڈیفالٹ ہی یہ عبارتیں جمع ہیں۔

 

اب علم کا اس انکار سے تعلق کیسے ہو سکتا ہے؟ اگر دینی علم کی بات کریں تو اس میں یہ سب بہت واضح ہے کہ اخلاص اور خشیت کے جذبے سے علم حاصل کیا جائے۔ احمد جاوید صاحب یہ بھی کہتے ہیں کہ عالم کا تقوی اس کی علم سے زیادہ ہونا چاہیے۔

إنما يخشى الله من عباده العلماء، لیکن کوئی بد بخت ہی ہوگا جس کا کوئی بڑا گناہ اسے علم و عمل کے باوجود گمراہی اور برے خاتمہ کہ جانب لے جائے۔ ورنہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ہوں یا امام بخاری یا امام ابن تیمیہ اور سلف کے ہزاروں علما، کونسی گہرائی کم تھی ان میں یا کیا عمل کم تھا یا کیا وجہ تھی کہ ان کو تو الحاد نہیں لاحق ہوا؟اور آج کے ہزاروں علماء،جنہوں نے درست بنیادوں پر علماکی صحبت میں رہتے ہوئے علم حاصل کیا ہو اور ان میں سے کوئی ملحد ہو گیا ہو؟ البتہ جامعات میں دین کو ڈگریوں کی صورت سیکھنے والوں کی بات الگ ہے کہ ہر جامعہ میں علما تو موجود نہیں ہیں۔ رہے دنیاوی تعلیم والے ملحدین، تو ان سے ایک ہی سوال ہے کہ آپ نے انکار کے دلائل پڑھے، انکار کی زبان آپ کو آتی ہے، انکار کی دسیوں کتابیں اور انکار پورا ماحول آپ کے پاس ہے۔ تو آپ نے انکار کو ایکسپریئنس کر لیا، اب اس میں کونسی بڑی بات ہے؟ کبھی ایمان کی زبان سیکھیں، کبھی قرآن کو بھی اتنے ہی بیلیف کے ساتھ پڑھ لیں، کبھی عربی سیکھیں، قرآن یاد کریں اور راتوں کو اس کے ساتھ قیام کریں، کبھی ایمان کے ایکسپیرئنس سے بھی گزریں۔ پھر تو آپ کا فیصلہ کوئی معنی بھی رکھے گا۔ یک طرفہ کھیل، علم کا نہیں جانبداری کا ثبوت ہے۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*