کیا یہ عذابِ الٰہی ہمارے اعمال کا نتیجہ ہے ؟ ـ مسعود جاوید

گناہ اور جرم دو طرح کے ہوتے ہیں۔ ایک وہ جس میں بندہ گناہ کا مرتکب تو ہوتا ہے لیکن اسے گناہ کا احساس رہتا ہے کہ وہ ایسا کر تو رہا ہے مگر وہ غلط ہے۔ دوسرا وہ جس میں بندہ اللہ، ریاست ، سماج یا کنبہ کے بنائے ہوئے طور طریقوں اور رسم ورواج سے بغاوت کرتا ہے زبان حال یا زبان قال سے للکارتا ہے کہ ہم تو ایسا کریں گے تمہیں جو کرنا ہے کر لو۔دنیاوی قوانین کی نظر میں بھی ایک جرم وہ ہے جس سے نقصان کسی فرد کو ہوتا ہے لیکن ایک جرم وہ ہوتا ہے جس کا اثر معاشرہ پر بھی پڑتا ہے ایسی صورت حال میں اس جرم کو سنگین جرم قرار دیا جاتا ہے اور مقدمہ بھی دوہرا ہوتا ہے جرم بنام فرد اور جرم بنام ریاست۔
آزادی کے نام پر کہیں نہ کہیں کچھ ایسا ہوا ہے کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے اپنی جلالی صفت کا ایک چھوٹا سا نمونہ کورونا کی شکل میں اس دنیا میں بھیج دیا ہے۔ اس لئے کہ حلال حرام اور جائز نا جائز کا تعلق اہل ایمان سے ہے غیر مسلموں سے شراب نوشی اور زنا کاری کا مواخذہ اس لئے نہیں ہوگا کہ وہ مومن نہیں ہیں اور جب مومن نہیں تو شریعت کا نفاذ سے بھی مستثنی ہیں۔
سعودی عرب سے اگر حرمین شریفین کو الگ کر دیں جو ناممکن ہے اس لئے کہ اسی سرزمین پر واقع ہیں اس لئے گرچہ حرمین شریفین کی متعین سرحدیں ہیں پھر بھی مسلمانان عالم کی عقیدت مندی ہے کہ سعودی عرب کا نام آتے ہی ایک مقدس ملک کا تصور ذہنوں میں ابھرتا ہے۔ متحدہ عرب امارات، بحرین، کویت، قطر ،عمان ، اردن شام اور لبنان میں شراب و شباب پر کسی قسم کی پابندی نہیں ہے اس لیے ان ممالک میں ہونے والی بے راہ روی اور اسلامی عادات و تقالید سے انحراف کرتے ہوئے امریکہ اور یورپ کے ہم پلہ بننے کی دوڑ پر کسی مسلمان کو افسوس اور تعجب نہیں ہوتا مگر سعودی عرب میں اگر کازینو ، کنسرٹ، دنیا کی مشہور اداکارائیں اور گلوکارائیں آکر پروگرام کریں سینما گھروں میں اخلاق سوز فلمیں دیکھاۓ جائیں تفریحی مقامات و تقریبات میں رقص و سرور کی محفلوں کا انعقاد ہو اور ان سب بے اعتدالیوں کو فرد کی آزادی کا نام دیا جائے تو قانونی طور پر جواز کی ملمع سازی تو ہوگی تاہم مسلمانوں کے تقدیسی جذبات کو بہر صورت ٹھیس پہنچے گا۔ ۔ پچھلے چند سالوں کے دوران سعودی حکومت کے بعض ارباب حل و عقد مملکت کو مغربی تہذیب کے مساوی فرد کی آزادی اور سیکولرازم نافذ کرنے میں لگے ہوئے ہیں مگر انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ مغربی تہذیب میں جہاں فرد کی آزادی اور سیکولرازم ہے وہیں اولین شرط جمہوریت اور جمہوری نظام حکومت ہے۔
ذاتی زندگی میں انفرادی طور پر عموماً رات کے اندھیرے میں یا دن میں چھپتے چھپاتے نہ جانے ہم کتنے گناہ کے مرتکب ہوتے ہیں جن پر اللہ ستار العیوب پردہ ڈال دیتا ہے اور اسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ اپنے گناہوں کا دوسروں کے سامنے ذکر کر کے انہیں گواہ مت بناؤ ۔ مگر گناہ پر اصرار اور عوامی سطح پر اسے حق سمجھنے کا اعلان اللہ کے غیض و غضب کو للکارنے کے مترادف ہے۔
پاکستان میں میرا جسم میری مرضی۔
بے شک آپ کا جسم ہے اور اس پر آپ کی مرضی چلے گی آپ چاہیں تو اخلاقی بے راہ روی اختیار کریں شریعت اور سماجی مسل٘مات کے خلاف جنسی تعلق قائم کریں ، شادی کے بعد بھی اپنے فیگر مینٹین رکھنے کے لئے مانع حمل گولیاں یا کوپر ٹی، کراۓ کی کوکھ، یا آپریشن کرا کے افزائش نسل کی راہ مسدود کریں۔ لیو ان ریلیشن میں زندگی گزاریں، جنسی جذبات انگیختہ کرنے والے لباس اور میک اپ کر کے نکلیں see through, skin tight اور نیم عریاں بلکہ آدھے سے بھی کم کپڑے پہن کر بازار، مال، پارک میں گھومیں اور اپنی طرف جنس مخالف میں ہیجان پیدا کریں اور جب آپ کی پر کشش اداؤں پر کوئی سرپھرا لڑکا یا آدمی کی آنکھیں آپ کی طرف متوجہ ہو تو آپ کہیں ” نظر نہیں نظریہ” بدلو۔ ہم لڑکیاں کوئی سیکس آبجیکٹ نہیں ہیں”۔
اس میں شک نہیں کہ اللہ نے مردوں کو غضوا ابصاركم یعنی اپنی نگاہوں کو نیچے رکھنے کا حکم دیا ہے۔ لیکن جو لڑکیاں اور آنٹیاں اپنے جسم کی نمائش کو اپنا حق سمجھتی ہیں وہ مردوں کے نیم عریاں لباس پر معترض کیوں ہوتی ہیں! کسی مرد کے مال اور پبلک مقامات پر ہاف پینٹ یا لوور پہن کر جانے کو معیوب قرار دیا جاتا ہے اور آنٹیاں دیکھتے ہی ایسی سرگوشی میں کہ آواز دوسرے مردوں تک پہنچے کہتی ہیں ، چیپ، ان کلچرڈ ، لوور کلاس بریڈ وغیرہ وغیرہ ! کیوں؟ مردوں کے جسم پر مردوں کی مرضی نہیں چلے گی !
یہ عجیب اتفاق ہے کہ جس قدر میرا جسم میری مرضی کا پریڈ اسلامی جمہوریہ پاکستان کی سڑکوں پر دیکھنے کو ملا وہ آزاد خیال سیکولر ہندوستان میں نہیں دیکھا گیا۔
دوسری طرف عورتوں کو ہوس بھری نگاہوں سے دیکھنا ان کے ساتھ جنسی زیادتی کرنا یا زنا کرنا مرد برتر سماج کے تحت عیب نہیں سمجھا جاتا یہ سراسر غیر اسلامی روش ہے اور زمیندارانہ نظام کی دین ہے۔اسلام میں زنا زنا ہے خواہ عورت کی مرضی اس میں شامل ہو یا زبردستی کیا گیا ہو۔
اسلامی جمہوریہ پاکستان کے وزیر داخلہ پارلیمنٹ (سینیٹ) میں قرآن کریم کی ایک چھوٹی سورت صحیح نہیں پڑھ سکتے ہیں باوجودیکہ وہ اعلی تعلیم یافتہ ملک و بیرون ملک کی دانش گاہوں سے ڈگری یافتہ ہیں۔وہاں نصاب تعلیم میں دینیات شامل کرنے پر بحث چھڑی ہوئی ہے اور کہا جا رہا ہے کہ یہ سیکولر ملک کے دستور کے فلاں بند کی خلاف ورزی ہوگی۔اس سے یہی تاثر لیا جا سکتا ہے کہ دنیا میں اسلامی جمہوریہ کے نام سے معنون یہ ملک اسلام سے کس قدر دور ہے۔ آزادی کے ٧٣ سال بعد بھی یہ طے نہیں ہو پایا کہ اس ملک کی شناخت کیا ہوگی۔ اسلامی جمہوریہ یا مغربی دنیا کی طرح ایک سیکولر دین سے آزاد ملک ـ اس کے مقابل ترکی کے صدر اردگان ہیں تجوید کے ساتھ مختلف تقریبات میں قرآن مجید کی تلاوت کرتے ہیں۔ہم ہندوستانی اور پاکستانی مسلمانوں سے یہ تو مطلوب نہیں ہے کہ ہم سب حافظ و قاری بن جائیں لیکن اتنی تو مسلمانیت ہو کہ ہم قرآن درست پڑھ سکیں۔ پاکستان کے وزراء اور اعلی تعلیم یافتہ طبقہ اور دانشوروں کی باتوں سے یہی تاثر ملتا ہے کہ وہاں اشرافیہ طبقہ یا تو ایسے اسکولوں میں تعلیم حاصل کرتے ہیں جہاں دینیات کی کتاب نصاب میں شامل نہیں یا ان کے بچے امریکہ اور یورپ میں تعلیم حاصل کرتے ہیں جو دین اسلام کی بنیادی معلومات اور درست قرآن کریم کی تلاوت سے بھی محروم ہوتے ہیں ۔
ہندوستان میں زیادہ تر مسلم بستیوں اور کالونیوں میں منشیات کے عادی لوگ ملتے ہیں۔ نئی نسل کا ایک بڑا طبقہ اسلام سے کوسوں دور ہے ۔ اخلاق و کردار اور معاملات میں خیر امت کہی جانے والی ملت اسلامیہ سب سے نچلے پائیدان پر ہے۔
یہ وہ چند باتیں ہیں جس سے مجھے لگتا ہے کہ اللہ کو للکارا گیا ہے اور اللہ نے یہ عذاب اسی کی سزا کے طور پر ہم لوگوں پر بھیجا ہے جس کا اب تک یقینی علاج بھی دریافت کرنا مشکل ہو رہا ہے۔
یہ رمضان المبارک ایمان اور احتساب کے ساتھ روزے رکھنے کا مہینہ ہے۔ فرد سے معاشرہ تشکیل پاتا ہے۔ ہم سب خود احتسابی کریں ہم سب اپنے اور اپنے گھر والوں کی صحیح دینی تربیت کریں ۔ياأيهاالذين آمنوا قوا أنفسكم و اهليكم نارا… خود کو اور اپنے گھر والوں کو خیر امت کا فرد بنائیں۔ اللہ ناراض ہے اسے منانے کی کوشش کریں۔ اتنی مسلمانیت تو ہو کہ اللہ کا باغی نہ کھلائیں۔ کوئی ایک مسلم ملک تو ہو جسے ہم اسلامی معاشرت اور ماڈرن نظم و نسق تعلیم و معیشت کا حامل کہہ کر فخر کر سکیں!