کیا یہی ہے نیو انڈیا جس کا خواب دکھایا گیا -ڈاکٹر مظفر حسین غزالی

ملک میں جس طرح کے واقعات رونما ہو رہے ہیں، ان سے فطری طور پر خیال پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہی نیو انڈیا ہے ۔ جس کی پردھان سیوک نے زور شور سے تشہیر کی تھی ۔ سب کا ساتھ سب کا وکاس کے ساتھ سب کے وشواس کو جوڑ کر نعرہ دیا تھا "دیش بدل رہا ہے آگے بڑھ رہا ہے”۔ ہریانہ کے پٹودی، اترپردیش کے کانپور، مدھیہ پردیش کے اندور، دہلی کے اتم نگر، دوارکا اور جنتر منتر پر ہندو شدت پسند عناصر کے ذریعہ مسلمانوں کے خلاف نفرت آمیز، سماج کو توڑنے والے نعروں اور تشدد نے صاف کر دیا ہے کہ واقعی ملک بدل رہا ہے ۔ اس بدلاؤ سے بہتوں کو انعام کی امید ہے ۔ مگر ایک بڑا طبقہ اپنی قدیم روایات اور رشتوں کا دھاگہ کمزور ہونے سے غم زدہ ہے ۔ پہلے جب کوئی کسی خاص مذہب یا کمیونٹی کو نشانہ بناتا تھا تو اکثریت اس کی مخالفت کے لئے سامنے آ جاتی تھی ۔ لیکن اب معاملہ الٹا ہے، حکومت کی سرپرستی میں نفرت کے جن بیجوں کو منصوبہ کے تحت ایک صدی سے محفوظ رکھا گیا ہے ۔ ان کی جڑیں اب سماج میں گہرائی تک اتر چکی ہیں ۔

سماجی نفرت کے لئے کسی ایک عنصر کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا ۔ کئی مراحل سے گزر کر اس نے سماج میں اپنی جگہ بنائی ہے ۔ پہلے پہل انگریزوں نے بانٹو اور راج کرو کی پالیسی کے تحت اس منصوبہ پر عمل کیا ۔ انہوں نے ملک کی تاریخ کو ہندو مسلم کے زاویہ سے لکھوایا ۔ ایسے نکات کو ابھارا جو ہندو مسلم کے درمیان اختلاف و نفرت کا سبب بن سکتے تھے ۔ بعد میں ہندو مہاسبھا اور آر ایس ایس نے اپنے ایجنڈے میں انہیں شامل کیا اور انگریزوں کے ذریعہ لکھی گئی غلط تاریخ کو بنیاد بنا کر نفرت و تقسیم کی مہم چلائی ۔ انہوں نے ملک کی تقسیم کو مذہب کے ساتھ جوڑ کر سادہ لوح ہندو سماج کو یہ بتایا کہ مسلمان تو اپنا حصہ لے چکے اب وہ یہاں کیوں ہیں؟ جبکہ تقسیم دو سیاسی جماعتوں کانگریس اور مسلم لیگ کے درمیان ہوئی تھی ۔ کانگریس نے ہندوستان کا انگریزوں کے ذریعہ دیا گیا نام انڈیا رہنے دیا اور اس کے ساتھ بھارت جوڑ دیا ۔ مسلم لیگ نے اپنے حصہ کو پاکستان کا نام دیا ۔ پاکستان کو مسلم ملک کہا گیا تو ہندو دائیں بازو کی جماعتوں اور افراد نے بھارت کو ہندو ملک بنانے کا مطالبہ کیا ۔ ٹو نیشن تھیوری انہیں لوگوں کے ذہن کی اپج تھی ۔ گول والکر نے تو اپنی کتاب "پنچ آف تھاٹس” میں مسلمان، عیسائی اور کمیونسٹوں کو ملک کا دشمن ہی قرار دے دیا تھا ۔ ستر سال تک آر ایس ایس نے اسی سوچ کے ساتھ کام کیا ۔ کے سدرشن جب سر سنگھ چالک بنے تو انہوں نے کتاب سے اس باب کو نکلوا دیا ۔ مگر تب تک گنگا جمنا میں کتنا پانی بہہ چکا تھا ۔
گاندھی، نہرو نے بھارت کو سیکولر ملک بنایا ۔ اس کے آئین میں سبھی کے حقوق کو یقینی بنانے کی کوشش کی گئی ہے ۔ تقسیم سے قبل ریفرنڈم (رائے شماری) کرائی گئی تھی کہ کون انڈیا میں رہنا چاہتا ہے اور کون پاکستان جانا چاہتا ہے ۔ اس میں مسلمانوں کی بڑی تعداد نے بھارت کو چنا تھا ۔ اس لحاظ سے یہ کہنا کہ مسلمان اپنا حصہ لے چکے تاریخی طور پر غلط ہے ۔ جب تک ملک میں یونیٹی ان ڈائیورسٹی میں یقین رکھنے والوں کی تعداد زیادہ رہی تب تک ہندو مہاسبھا، آر ایس ایس اور دائیں بازو کی سوچ رکھنے والے اپنے مقاصد میں کامیاب نہیں ہوئے ۔ مگر انہوں نے اپنا کام جاری رکھا، آر ایس ایس اپنی شاکھاؤں اور شیشو مندر (اسکولوں) کے ذریعہ سماج میں اپنے نظریات کی توسیع واشاعت کرتی رہی اور کر رہی ہے ۔ جبکہ ہندو مہاسبھا، وشو ہندو پریشد نے اپنی سرگرمیوں سے عوام کی حمایت حاصل کی یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے ۔ ہندوستانی سماج میں دلتوں سے چھوا چھوت، نفرت تو پہلے سے موجود تھی لیکن ہندو اکثریت وادی سوچ کے پھیلاؤ نے مسلمانوں کے خلاف بھی عصبیت اور نفرت میں شدت پیدا کر دی ۔

بھارت نے بظاہر سیکولرزم کو اپنایا اور سب کے حقوق کی بات کی لیکن عملی طور ہندوؤں کی بالادستی قائم رہی ۔ سیاسی جماعتوں نے اقتدار میں بنے رہنے کے لئے اکثریت وادی سوچ کو فروغ دیا ۔ مذہب کی بنیاد پر فیصلے لئے گئے، 1950 میں آئین کی دفعہ 341 کے تحت دلتوں کو جو سہولیات حاصل ہیں صدارتی حکم کے ذریعہ ویسے ہی کام کرنے والے انتہائی پسماندہ عیسائی اور مسلمان کو محروم کر دیا گیا ۔ تقسیم کے وقت ہوئے انسان کش فسادات کو روکنے میں بھی حکومت نے دلچسپی نہیں دکھائی ۔ اس کے لئے خود گاندھی جی کو میدان میں اترنا پڑا تھا ۔ فرقہ واریت، نفرت اور متشدد سوچ نے گاندھی جی کو بھی نہیں بخشا ۔ مسلمانوں کو ہمیشہ غیر محفوظ ہونے کا احساس دلایا گیا ۔ انہیں ملک کی تقسیم کے لئے ذمہ دار بتا کر چڑھایا گیا ۔ پولیس، انتظامیہ سے مسلمانوں کو دور رکھنے کی کوشش کی گئی ۔ اترپردیش حکومت نے تو باقاعدہ سرکلر جاری کر پولیس میں مسلمانوں کی بھرتی پر روک لگا دی تھی ۔ جب ملائم سنگھ کی حکومت آئی تو اس نے یہ پابندی ہٹائی لیکن اب بھی پولیس فورسز میں مسلمانوں کی تعداد بہت کم ہے ۔
پٹودی، دوارکا، جنتر منتر کا معاملہ ہو یا اتم نگر، کانپور، اندور مدھیہ پردیش اور دہلی فسادات کا تشدد یہ سب سیاسی جماعتوں کی سرپرستی میں ووٹ کی خاطر مضبوط کی گئی فرقہ واریت کا نتیجہ ہے ۔ ان واقعات میں پولیس کے کردار پر بھی انگلی اٹھی ہے ۔ یہ یاد رکھنا چاہئے کہ پولیس بھی اسی سماج کا حصہ ہے جو نفرت، مذہبی تعصب، نسلی امتیاز کا شکار ہے ۔ جہاں عدلیہ بھی مذہب یا حکومت کا رخ دیکھ کر فیصلہ سناتی ہے ۔ جب حکومت فرقہ وارانہ نفرت پھیلانے، سماج کو بانٹنے والے نعرے لگانے اور نسلی تشدد کی حمایت کرنے والوں کو انعام دے ۔ انہیں پارٹی کا ریاستی صدر، کابینہ وزیر، پارٹی کا ترجمان، کسی ادارے یا کمیٹی کا چیرمین بنا دیا جائے یا اس طرح کے معاملات میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی نہ کرنے والے افسران کو ترقی دے دی جائے تو کوئی کیوں کر سماج دشمن عناصر کے خلاف کاروائی کرے گا ۔ اس کا نتیجہ ہے کہ پولیس آنگن واڑی کارکنوں، بے روزگار نوجوانوں اور مستقل کئے جانے کی مانگ کرنے والے سرکاری ملازمین پر لاٹھی بھانجتی ہے ۔ نفرت کے خلاف امن کی بات کرنے، اپنے حق کی مانگ کرنے والے کسان اور حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کرنے والے سول سوسائٹی کے مظاہرین کو کھدیڑا جاتا ۔ ان کے خلاف مقدمات قائم کرکے جیلوں میں ڈالا جاتا ہے ۔ سی اے اے قانون جو ملک کے آئین کے خلاف ہے اس پر احتجاج درج کرانے والوں پر ملک سے غداری کا مقدمہ درج ہوتا ہے لیکن احتجاج کرنے والوں پر گولی چلانے والے، ان کو کرنٹ لگنے کی بات کرنے والے یا پھر غداروں کو گولی مارو ۔۔۔۔۔۔۔۔ کا نعرہ لگانے والے کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوتی ۔
اس سے مسلمان یا دلتوں کو نشانہ بنانے والے عناصر کا حوصلہ بلند ہوتا ہے ۔ ان کے اندر یہ یقین بھی پیدا ہوتا ہے کہ وہ کچھ بھی کریں ان کے خلاف کوئی سنگین معاملہ درج نہیں ہوگا ۔ بلکہ انہیں انعام کی امید ہوتی ہے ۔ یہ انعام پارٹی کا ٹکٹ ہو سکتا ہے ۔ کسی سرکاری ادارے میں تقرری ہو سکتی ہے ۔ کسی کا انعام یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس نے کسی مسلمان کو تکلیف پہنچائی ۔ جس کے بارے میں اسے بتایا گیا ہے کہ وہ اس کا دشمن ہے اور اس کی وجہ سے ملک میں سارے مسائل ہیں وغیرہ ۔ اس ہمت اور انعام کی امید نے ہی پولیس کی اجازت کے بغیر بڑی تعداد میں فرقہ پرستوں کو جنتر منتر تک پہنچا دیا ۔ یہ ملک جوڑنے کے نام پر جمع ہوئے تھے لیکن وہاں مسلمانوں کو کاٹنے جیسے بھڑکاؤ ملک توڑنے والے نعرے لگائے گئے ۔ وہ بھی پولیس کی موجودگی میں، اس کا چہرہ بھلے ہی اشونی اپادھیائے بنے یا دہلی فساد کا سیاسی چہرہ کپل مشرا لیکن اس کے پیچھے سیاسی مشینری کام کرتی ہے ۔ جو ان کے لئے اکثریت وادی بھیڑ کی حمایت جٹاتی ہے مگر وہ نظر نہیں آتی ۔ سابق پولیس آفیسر وبھوتی نرائن رائے اور راکیش آستھانا جی کا کہنا ہے کہ اگر ضلع پولیس سپرنٹنڈنٹ چاہ لے تو کسی طبقہ کو نشانہ بنانا یا اس کے خلاف نعرے لگانا تو دور کوئی پرندہ بھی پر نہیں مار سکتا ۔
اطمینان کی بات یہ ہے کہ بدترین حالات میں بھی بہت سے لوگ ایسے ہیں جو سماجی نا انصافی کے خلاف آگے آ کر آواز اٹھاتے ہیں ۔ پٹودی، اتم نگر، دوارکا اور جنتر منتر کے واقعات کی میڈیا سے لے کر سڑک تک ہم وطنوں نے مخالفت کی ہے ۔ انہیں کی وجہ سے ملک کا اتحاد اور جمہوریت باقی ہے ۔ فرقہ پرست تو عوام کو شیر کی سواری کرانے پر آمادہ ہیں بغیر یہ سوچے کہ شیر کی سواری کرنا جتنا آسان نظر آتا ہے اترنا اتنا ہی مشکل ہے ۔ اگر عوام اس بات کو نہیں سمجھیں گے تو آگے اور مشکل حالات کا سامنا کرنا پڑے گا ۔ مہنگائی، بے روزگاری، غریبی، بھوک، ڈر، ناخواندگی اور صحت کی خرابی پورے سماج کو نگل جائے گی ۔ کورونا کی وبا آنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہے ۔ کہا جاتا ہے کہ مصیبت اور خوشی میں ہی اچھے برے کی پہچان ہوتی ہے ۔