کیا وسیم رضوی کی خباثت کا جواب نہ دیاجائے؟ ـ شکیل رشید

(ایڈیٹر ممبئی اردو نیوز)
وسیم رضوی کی ’جہالت ‘ پر کیا لکھا جائے !
جھوٹوں کے جھوٹ ، متعصبوں کے تعصب اور نورِ حق سے محروم افراد کے جھوٹ ، تعصب اور اندھیرے کو چاہے جس قدر عیاں کیا جائے ، وہ ’حق‘ کا دامن کبھی تھام نہیں سکیں گے ، کیونکہ ان کی شدید ترین نافرمانیوں اور انسانیت دشمنیوں کے نتیجے میں اللہ رب العزت نے انہیں اس طرح سے بہرا ، اندھا اور گونگا بنادیا ہے کہ کان رکھتے ہوئے وہ ’حق‘ نہیں سن سکتے ، آنکھیں رکھتے ہوئے ’سچ‘ انہیں نظر نہیں آتا ، اور زبانیں رکھتے ہوئے وہ ’جھوٹ‘ ہی بولتے ہیں ۔ وسیم رضوی ایسے ہی جاہلوں میں سے ایک ہے، لہٰذا وسیم رضوی ہماری تحریر کا بنیادی موضوع نہیں ہے ، ہاں اس کے حوالے سے چند باتیں عرض کرنی ہیں۔
وسیم رضوی نے ۲۶آیات کو قرآنِ پاک سے حذف کرنے کی جو عرضی سپریم کورٹ میں داخل کی ہے ، یقین ہے کہ وہ عرضی گزار کے منھ پر پھینک ماری جائے گی ۔ پی آئی ایل میں جن باتوں پر زور دیا گیا ہے ان میں سے ایک یہ ہے کہ قرآنِ پاک میں چند آیات ایسی ڈال دی گئی ہیں جو تشدد پر زور دیتی ہیں ، اور اسلام چونکہ امن کا مذہب ہے اس لیے اس کی مذہبی کتاب میں بیک وقت تشدد کابھی ذکر ہو اور امن کا بھی ، یہ سمجھ میں آنے والی بات نہیں ہے۔ وسیم رضوی کی عرضی پر اگر غور کیا جائے تو چند باتیں جو سمجھ میں آتی ہیں وہ درج ذیل ہیں :
قرآنِ پاک تحریف سے پاک نہیں ہے ( نعوذ باللہ)
قرآنِ پاک میں تحریف صحابہ کرام ؓ نے کی ہے اس لیے انہیں امانت دار نہیں سمجھا جاسکتا۔
قرآنِ پاک تشدد پر اکساتا ہے
قرآنِ پاک کے تشدد کے درس کے نتیجے میں اسلام کو بزور طاقت پھیلایا گیا ہے ۔
قرآنِ پاک کی تعلیم چونکہ مدارس میں دی جاتی ہے اس لیے مدارس کے طلبا میں کٹّر پن آتا ہے ۔
مدارس سے اسی لیے آتنک وادی نکلتے ہیں ۔
یہ آتنک وادی ، مدارس کے یہ فارغین ملک کی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں ۔
مطلب یہ کہ مدارس کو بھی بند کیا جائے ۔
قرآنِ پاک چونکہ تشدد کا درس دیتا ہے اس لیے اس سے فرقہ پرستی پروان چڑھ سکتی ہے۔
اور فرقہ پرستی پروان چڑھی تو ملک غیر محفوظ ہوسکتاہے ۔
گویا یہ کہ ایک جاہلانہ پی آئی ایل کے ذریعے ،یہ ملک کے سارے مسلمانوں اور ملک کے دیگر شہریوں کو ایک دوسرے کے مدّ مقابلِ کھڑا کرنے کی ایک شرمناک کوشش ہے ۔ یہ مسلکی تنازعے کو گرم کرنے کی بھی کوشش ہے ۔ یہ کہا جاسکتا ہے کہ وسیم رضوی یہ چاہتا ہے کہ ملک کے مسلمان، ہندو ، دیگر قومیں اور شیعہ وسُنّی ایک دوسرے کے مدّ مقابل آکھڑے ہوں ۔
وسیم رضوی کے ماضی میں ہمیں جھانکنے کی ضرورت نہیں ہے ، اس ملک میں ایسے مسلمانوں کی ، اور وہ ہر مسلک میں مل جائیں گے ، کوئی کمی نہیں ہے جو سکّوں کی جھنکار پر ہرطرح کا سودا کرنے کے لیے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں ۔ اگر رضوی آر ایس ایس کی تان پر ناچتا ہے توآر ایس ایس کے ایک پرچارک اندریش کما رنے سُنّی ’علماء کرام‘ کی بھی ایسی ہی ایک ٹولی بنارکھی ہے ۔ جب دین ومذہب پر حملے کے اس طرح کے معاملات سامنے آتے ہیں تو عام طور سے دوطرح کے ردّعمل سامنے آتے ہیں ، علماء کرام اور دانشوران عظام کا ایک گروپ یہ کہتا ہے کہ ایسے واقعات یا ایسی باتوں کو یکسر’نظرانداز‘ کردیا جائے ۔ دوسرا گروپ، اس میں بھی علماء کرام اور دانشوران عظام ہی شامل ہیں ، یہ کہتا ہے کہ نہیں ایسی باتوں کو یکسر ’نظر انداز‘نہیں کیا جانا چاہیے۔ کوئی متفقہ رائے عام مسلمانوں کے سامنے نہیں آتی ، اور عام مسلمان اسی طرح سے پش وپیش میں مبتلا ہوجاتا ہے جیسے کہ الیکشن کے دنوں میں علماء کرام اور دانشوران کے متضاد ’پیغامات‘ سن کر پڑتا ہے ۔ کوئی کانگریس کو جتوا رہا ہے ، تو کوئی کہہ رہا ہے کہ اب اُسے آزمایا جائے جسے پہلے نہیں آزمایا ہے ، تو کوئی یہ کہتا نظر آتا ہے کہ چھپے دشمن سے کھلا دشمن زیادہ بہتر ہے ۔ یہ ، جو سیاسی معاملے میں متضاد رائیں ، پیغامات اور نصیحتیں دی جاتی رہی ہیں ان ہی کا نتیجہ ہے آج ہم پر ایک ظالم حکمراں مسلط کردیاگیا ہے ۔ علماء کرام اور دانشوران کی ایک رائے نہ پہلے بن سکی اور نہ آج بنتی نظر آرہی ہے ،مغربی بنگال کے ریاستی اسمبلی الیکشن کے منظر نامے پر نظر ڈالیں تو ساری حقیقت واضح ہوکر سامنے آجائے گی ۔
کوئی ایک رائے تو بننی ہی چاہیے۔ کسی طرح کا اتفاقِ رائے تو ضروری ہے ۔ یہ سچ ہے کہ رضوی کی یہ خباثت ایک ایسے موقع پر آئی ہے جب ملک ایک دوراہے پر کھڑا ہوا ہے ، کسان پوری طاقت کے ساتھ فاسشت مودی حکومت کے خلاف کھڑے ہوئے ہیں ، مغربی بنگال میں ممتابنرجی وہیل چیئرپر بیٹھ کر ظالموں کو للکاررہی ہیں اور بیروزگاری ، سرکاری بے حسی ، انگریزوں کے مقابلے دولت کی کہیں زیادہ لوٹ پاٹ ، ملک کو کنگال کرنے کی سمت قدم اور چند دولت مندوں کے ہاتھوں ملک کو فروخت کرنے کا سچ جیسے معاملے عام لوگوں میں بحث کا موضوع بن گئے ہیں ، اور ایڑی چوٹی کا زور لگاکر، میڈیا کو خرید کر اور حق بولنے والوں کی بڑی تعداد کو سلاخوں کے پیچھے ڈھکیل کر بھی مودی سرکار اپنے خلاف بڑھی ہوئی بے چینی اور بیزاری کو دبا نہیں سکی ہے ۔ رضوی کی یہ کمینگی شاید لوگوں کا دھیان بھٹکادے۔ ایسا کہا جارہا ہے۔ تو کیا پھر اس طرح کے معاملات ہوں ، قرآن ِ پاک پر حملے کیے جائیں ، حضرت محمدﷺ کی پاک ذات کو نشانہ بنایا جائے اوراسلامی شعائر پر پابندی کے لیے عدالتوں کے دروازے کھٹکھٹائے جائیں ، مدارس پر پابندیاں بڑھائی جائیں ، طلباء کو اغوا کیا جاتا اور مارا پیٹابلکہ قتل کیا جاتا رہے، اے ایم یو اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے اقلیتی کردار کو چھیننے کی ہر ممکنہ کوشش کی جائے ، اسکولی بچوں پر گیتا کا پاٹھ اور وندے ماترم کا پڑھنا جبراً تھوپا جائے ، یوگا کو تہذیب کا ایک لازمی جزوبنادیا جائے اور صرف اس لئے یہ سب ’نظر انداز‘ کیا جائے کہ کہیں لوگوں کی توجہ ان ’حقیقی قومی موضوعات‘سے جو سامنے آئے ہیں ہٹ نہ جائے ؟ میرے خیال میں یہ بھی درست نہیں ہے ، کیونکہ ’ نظرانداز‘ کیے جانے کے نتائج ہمارے سامنے ہیں ۔ صرف ایک بابری مسجد ہی اور صرف طلاقِ ثلاثہ کی شرعی اجازت ہی نہیں، مسلمانوں سے بہت کچھ چھن چکا ہے،بالخصوص اسلامی تہذیب ۔ اب کوشش ہیکہ مسلمانوں سے ان کی دوقیمتی متاع چھین لی جائیں ’ حبِ قرآن ‘ اور ’حبِ رسولﷺ اور قرآن پاک کی محبت سے دل خالی ہوئے کہ سارا ایمان گیا اور اللہ کے آخری رسول حضرت محمدﷺ کی توہین پر ہم خاموش رہے تو ہم کہاں مسلمان رہ گئے ؟ کوئی نہ کوئی راہ تو نکالنی ہی پڑے گی ۔ ایک درمیان کی راہ ۔ کوئی ایسی راہ کہ سانپ بھی مرجائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے ۔ اس کی ایک ہی راہ ہے ، علماء کرام اور دانشورانِ عظام ایسے معاملات میں عوام تک یہ پیغام پہنچائیں کہ اس مسئلے کا حل ہم قانونی سطح پر تلاش کررہے ہیں لہٰذا کوئی سڑک پر نہ اُترے ، کوئی احتجاج نہ کرے ، کوئی مظاہرہ نہ کرے ، کم از کم اس وقت تک جب تک کہ انہیں ایسا کرنے کے لئے نہ کہا جائے ۔۔۔ یہ پیغام دیا جائے کہ سوشل میڈیا پر عام مسلمان اور خواص بھی کوئی ایسی بات نہ کریں جو معاملے کو بگاڑ دے ، مثلاً یہ کہ ’جوابی اقدام‘ کی بات ، یامسلکی انتشار کی بات۔ یہ واضح پیغام جائے کہ علماء کرام اور دانشورانِ عظام اس طرح کے معاملات کو برادرانِ وطن اور دیگر مسالک کے علماء وقائدین کے ساتھ مل کر حل کرنے کی سعی کریں گے اور پوری طاقت کے ساتھ قانونی لڑائی لڑی جائے۔ وسیم رضوی کی جہالت کے خلاف ایسا ہی ہوتا نظر آرہا ہے۔ شیعہ مسلک کے جیّد علماء نےجن میں مولانا ظہیر عباس رضوی شامل ہیں ، قرآنِ پاک کی تحریف کے عقیدے سے انکار کرکے سُنّی علماء کرام کے ساتھ پورے تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے ۔ کل ہند مسلم پرسنل لاء بورڈ کے جنرل سکریٹری مولانا ولی رحمانی کا بہت ہی مناسب بیان سامنے آیا ہے ، ایسا بیان جو عام مسلمانوں کو حوصلہ بخشتا ہے۔ رضا اکیڈمی کے سربراہ الحاج محمد سعید نوری نے سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے ۔ علمائے دیوبند نے وسیم رضوی کی جہالت کا جواب صاف اور واضح دلیلوں سے دیا ہے۔ حضرت مولانا خلیل الرحمٰن سجاد نعمانی نے اس معاملے کے ایک اہم پہلو پر بہت ہی مناسب مشورہ دیا ہے ۔
دریدہ دہن وسیم رضوی کا دعویٰ ہے کہ اس نے اسلامی اداروں کے سامنے ۲۶ سورتیں بھیج کر اعتراضات رکھے تھے اور ان سے جواب طلب کیا تھا لیکن کسی نے جواب نہیں دیا۔ ہم اوپر ہی لکھ آئے ہیں کہ جھوٹے ہمیشہ جھوٹ ہی بولتے ہیں ، رضوی کو تقریباً ہرادارے نے جواب دیا ہے ۔ ہمارے پاس ’ جامعہ اسلامیہ اشاعت العلوم‘ اکل کوا، کے صدر حضرت مولانا غلام محمد وستانوی کا انگریزی زبان میں بھیجا ہوا جواب موجود ہے ، حضرت مولانا نے جواب میں تحریر فرمایا ہے کہ ’’سچ یہی ہے کہ قرآنِ پاک کُل انسانیت کے لیے آخری قانون الہٰی ہے ، جسے اللہ رب العزت نے نازل کیا اور قادرِ مطلق ،اللہ علیم وخبیر ہی اس کا محافظ ہے ۔ اللہ رب العزت نے اپنی ہمیشہ باقی رہنے والی کتاب میں خود کہا ہے کہ ’’میں نے ہی اسے اتارا اور میں ہی اس کی حفاظت کروں گا ۔‘‘ مولانا وستانوی نے صاف لفظوں میں لکھا ہے کہ قرآنِ پاک میں نہ کسی نے تبدیلی کی نہ کوئی کرسکتا ہے ، لہٰذا اس سے باز رہا جائے ورنہ اللہ رب العزت خود ہی اس کی حفاظت کرلے گا ۔۔۔ ایسے ہی جواب رضوی کو دوسرے اداروں سے بھی یقیناً ملے ہوں گے مگر جس کا ہر عمل جھوٹ کی بنیاد پر ہو اس کی زبان سے سچ نکل ہی نہیں سکتا ۔اللہ رب الکریم ہم سب میں قرآنِ پاک سے محبت کے جذبے کو خوب خوب پروان چڑھائے اور رضوی جیسے شرپسند چاہے جسقدر کوشش کریں قرآنِ پاک سے ہماری محبت ختم نہ ہوسکے ، آمین۔