کیا سعودی عرب کے اسکولی نصاب میں رامائن اور مہابھارت پڑھائی جائیں گی؟ ـ مکرم نیاز

آج کل اردو/انگریزی/ہندی میڈیا میں اس خبر کا بڑا زور و شور ہے۔مگر معاف کیجیے کہ سنجیدہ اور تحقیقاتی نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو یہ محض ایک افواہ ہے، جس کا کوئی ثبوت، اس خبر کا پروپگنڈہ کرنے والے دینے سے قاصر ہیں۔
سعودی عرب (اور اس کی بادشاہی حکومت) سے سدا کا بیر رکھنے والا اردو داں طبقہ تو سوشل میڈیا پر اپنے ذہنی تعصب کی غلاظت بکھیرنے میں آگے آگے ہے۔
ایک مخصوص مذہبی طبقہ کی، سوشل میڈیا پر مشہور شخصیت نے تو کمال ہی کر دیا۔ پہلے تو اس غیرمصدقہ خبر کا لنک دے کر، ایم۔بی۔ایس کو طنز کا نشانہ بناتے ہوئے لکھا:
"یہ انسان رمضان کی خصوصی دعاؤں کا مستحق ہے۔”
جب صاحب عالم پر اعتراض کیا گیا کہ یہ خبر کوئی مصدقہ نہیں۔ تو آپ جناب نے اگلی پوسٹ میں لکھا:
"چند حضرات کو ہماری گزشتہ پوسٹ غلط لگی، لیکن وہ اس کو غلط ثابت نہیں کر پائے، کاش کہ وہ غلط ثابت کر دیں۔”
سبحان اللہ!
آپ بلاتحقیق ایک غلط خبر خود لگائیں اور پڑھنے والے کو کہیں کہ: "اگر یہ سچ نہیں تو آؤ اور اسے غلط ثابت کرو۔”
کیا اتنے بڑے علامہ فہامہ کو اس قرآنی آیت (الحجرات:6) کا علم نہیں اور کیا اتنی معمولی سی بات پتا نہیں کہ ثبوت فراہم کرنا دعویٰ کرنے والے کا فرض ہے، خبر پر یقین نہ کرنے والے کا نہیں!
اب اس سے بڑا المیہ اور کیا ہوگا کہ ایسے علامہ کو پچیس ہزار سے زائد محبان فالو کرتے ہیں اور ان کی متذکرہ پوسٹ کو 200 کے قریب افراد نے شئر کیا، اس پر 500 کے قریب کمنٹ ہوئے اور تقریباً 600 افراد نے اس پر ری-ایکشن اسمائلی دی۔
ہم نہایت ادب و احترام کے ساتھ درخواست کرتے ہیں کہ:
اگر آپ اس خبر کو سچ مانتے ہیں تو ازراہ کرم اس کا ثبوت خود سعودی عرب کے سرکاری یا غیرسرکاری میڈیا کی "عربی زبان کی خبر” سے دیجیے۔ اگر یہ ممکن نہیں تو پھر ایرانی/ترکی/یمنی یا مصری میڈیا کی عربی/انگریزی خبر کے لنک سے دیجیے۔
اس سے ہٹ کر کوئی بھی اطلاع ٹھوس یا حتمی نہیں مانی جائے گی، چاہے وہ انڈیا کے کسی مشہور و مقبول انگریزی اخبار یا ویب پورٹل کی ہی کیوں نہ ہو۔ محض ایک سعودی خاتون (نوف المروعی) کے ٹوئٹ (ٹوئٹ کا لنک نیچے کمنٹ میں) کی بنیاد پر کاتا اور لے دوڑی والا رجحان اپنانا گھٹیا اور قابلِ مذمت رویہ ہے۔
برسبیل تذکرہ اگر کسی کو مملکتِ سعودی عرب میں مذہبی تعلیم کے متذکرہ اصلاحی اقدامات (ویژن:2030) کے متعلق حقائق جاننے میں دلچسپی ہے تو سعودی عرب کی ایک مصدقہ و معتبر ویب سائٹ ‘کنگ فیصل سنٹر فار ریسرچ اینڈ اسلامک اسٹڈیز’ کے لنک (نیچے دیا گیا ہے) سے ویژن:2030 کی خصوصی رپورٹ کی پی۔ڈی۔ایف فائل کو ڈاؤن لوڈ کر کے پڑھ سکتا ہے۔
آخر میں ہمارے ایک عزیز دوست اور سعودی عرب میں برسرکار معتبر صحافی اور ممتاز خطاط غوث ارسلان کا ایک تبصرہ بھی ملاحظہ فرمائیں:
ایک بات نا قابل فہم ہے کہ سعودی عرب کی تعلیمی پالیسی سے میڈیا بالخصوص اردو والوں کو اتنا عشق کیوں ہے؟
کیا کسی نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ مسلم ممالک بالخصوص عرب کا نصاب تعلیم کیا ہے؟ ویژن 2030 اس ملک کا اپنا مسئلہ ہے اس میں دلچسپی لینے کی زیادہ ضرورت نہیں ہے۔ ہم کو اپنے ملک کے تعلیمی نظام پر غور کرنا چاہیے۔ تاریخ کو مسخ کیا جا رہا ہے، نئی تاریخ رقم کی جا رہی ہے۔
بہ حیثیت مسلمان حرمین شریفین، حج و عمرہ اور متعلقہ مذہبی امور سے ہمیں دلچسپی ہونا چاہیے باقی وہ جانیں اور ان کا کام۔ جہاں تک خبر کا تعلق ہے اس کا ماخذ یوگا انسٹرکٹر کا ٹوئٹ ہے۔ نہ تو کوئی بیان کسی خبر رساں ایجنسی سے آیا ہے یا اخبار میں شائع ہوا ہے یا سعودی عرب کی وزارت تعلیم نے جاری کیا ہے۔ زرد صحافت کا دور دورہ ہے۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*