کیا رونالڈو جیسا ہم میں کوئی نہیں؟ـ شکیل رشید

دنیا کے مشہور ترین فٹ بال کھلاڑی کرسٹیانو رونالڈو کو لوگ کیوں دیوانوں کی طرح چاہتے ہیں ؟ اس سوال کاکوئی ایک جواب نہیں دیا جاسکتا،اس کے کئی جواب ہو سکتے ہیں ،لیکن اس کا بنیادی جواب رونالڈو کی انسان دوستی ہے ،وہ انسانیت کو پسند کرتے ہیں اور ساری دنیا میں امن و امان دیکھنا چاہتے ہیں۔ رونالڈو کے عاشق برصغیر ہندوپاک میں بھی ہیں لیکن عام طورپر ان شائقین کی نظریں پرتگالی کھلاڑی کی عشق ومحبت کی داستانوں تک ہی محدود رہتی ہیں‘ وہ آگے نہیں دیکھتے۔ انہیں بس یہ نطر آتا ہے کہ رونالڈو کے آگے پیچھے نو خیز لڑکیاں گھومتی پھرتی رہتی ہیں‘ اور یہ دیکھ کر اکثر لوگ رونالڈو کا نام آنے پر بڑا ہی کڑواسامنھ بنالیتے ہیں۔ رونالڈو اِن دنوں اس لیے موضوع گفتگو ہیں کہ انہوں نے ہنگری کے دارالحکومت بوڈاپیسٹ میں یوروکپ فٹ بال ٹورنامنٹ میں، میدان پر اترنے سے قبل، ایک پریس کانفرنس کو خطاب کیا۔ جب وہ اخباری نمائندوں سے بات کرنے کے لیے آئے تو ان کےسامنے سافٹ ڈرنک ’کوکا کولا‘کی دوخالی بوتلیں رکھی ہوئی تھیں‘ انہوں نے کچھ دیر تو ان دونوں بوتلوں کو دیکھا پھر ‘اگوا‘ اور ’ناٹ کو کاکولا‘ کہتے ہوئے انہیں اٹھاکر ایک طرف رکھ دیا۔ پرتگالی زبان میں ’اگوا‘ کا مطلب ’پانی‘ ہوتا ہے۔ رونالڈو نے کوکاکولاکے مقابلے اپنی ترجیح پانی کو قرار دیا۔ان کا یہ عمل بظاہر تو معمولی قسم کا تھا ،مگر اس عمل کے نتیجے میں ہوا یہ کہ کوکاکولا کے شیئر کی قیمت گرگئی اور اس کمپنی کو’ چار ارب ڈالر‘ کا نقصان ہوا۔چار ارب ڈالر معمولی رقم نہیں بہت بڑی رقم ہے۔ ایک اطلاع کےمطابق سوشل میڈیا پر رونالڈو کے پچاس کروڑ فالوور ہیں‘ لہذا جب وہ بولتے یا کوئی عمل کرتے ہیں تو ان کے فالوور اسے سنتے بھی ہیں اور اس پر خود بھی عمل کرتے ہیں۔ رونالڈو نے کوکاکولا کی خالی بوتلیں کیوں ہٹائیں‘ کیا صرف اس لیے کہ وہ ’ پانی‘ پسند کرتے ہیں یا اس کے پس پشت کچھ اور مقصد تھا ؟ان سوالوں کے جواب میں رونالڈو نے تو کچھ نہیں کہا،مگر فلسطینیوں سے انہیں جو ہمدردی اور محبت ہے ،اسے دیکھتے ہوئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ ان کا یہ عمل فلسطینی کا ژمیں تھا۔ سب جانتے ہیں کہ کوکاکولا اور پیپسی کی دولت کا بڑا حصہ اسرائیل کو جاتا ہے اور فلسطینیوں کے خلاف تشدد میں استعمال ہوتا ہے۔ رونالڈو فلسطینیوں کی مدد کئی بار کر چکے ہیں،ایک بار تو وہ اپنے ’ گولڈن بوٹ‘ کو نیلام کرکے اس کی رقم فلسطین کے ایک اسکول کے قیام میں دے چکے ہیں ۔فلسطین میں امن وامان کے قیام اور اسرائیل کی جارحانہ پالیسی کے خلاف آواز بلند کرچکے ہیں۔ وہ فلسطین بھی جاچکے ہیں۔ کئی بار رونالڈو نے اسرائیلی جارحیت اور تشدد کی مذمت کھل کر کی ہے۔اکثر میں سوچتا ہوں کہ ہمارے اپنے مسلمانوں کے بھی تو کئی مشہور کھلاڑی ہیں‘ بہت سی وی وی آئی پی شخصیات ہیں! وہ بھلا کیوں رونالڈو کی طرح عملی اقدامات نہیں کرتیں؟ منھ کھول کر کچھ بھی کہہ دینے یا مذمت کرنے اور عملی قدم اٹھانے میں بڑا فرق ہے۔ ہم مسلمان آج تک کوکاکولا اور پیپسی کا بائیکاٹ تک نہیں کرسکے ہیں۔ دلچسپ واقعہ ہے!ایک ایسی محفل میں جو کوکاکولا اور پیپسی کے بائیکاٹ کیلئے تھی لوگ ان ہی دونوں سافٹ ڈرنک سے اپنی پیاس بجھارہے تھے۔ کیا کوئی ایسا معروف مسلمان نہیں جو رونالڈو کی طرح کھل کر قدم اٹھائے اور ملّت اس کے اقدام پر عمل کرے؟ شاید ہی اس سوال کا کبھی کوئی جواب کسی مسلم ملک سے مل سکے!