کیا رشی سنک کی طرح کوئی وزیراعظم یہاں بھی شرمندہ ہو سکتا ہے؟ -شکیل رشید

کیا آپ جانتے ہیں کہ برطانوی وزیراعظم رشی سنک کو چلتی کار میں سیٹ بیلٹ نہ باندھنے پر ایک ٹرافک اہلکار نے جرمانہ عائد کر دیا ، اور رشی سنک نے نہ صرف یہ کہ اپنی غلطی قبول کی بلکہ غلطی پر معافی بھی مانگی ! خبر کے مطابق وہ چلتی ہوئی گاڑی میں سوشل میڈیا کے لیے کوئی عکس بندی کر رہے تھے کہ پولیس اہلکار نے انھیں دیکھا اور ان پر فائن لگا دیا ۔ کیا ایسا یہاں ممکن ہے ؟ یہاں سے مراد بھارت ہے ، جو خود کو دنیا کی سب سےبڑی جمہوریت کہتا ہے ۔ جمہوریت کا مطلب ہی ہوتا ہے کہ سب ، کیا عوام اور کیا خواص ، قانون کے سامنے جوابدہ ہوں ۔ لیکن کیا اِس ملک میں یہ تصور کیا جا سکتا ہے کہ خواص بالخصوص سیاست داں اور سیاست دانوں میں بھی وہ جو برسرِ اقتدار ہوں ، قانون کی گرفت میں آ سکیں گے ۔ اگر کبھی کوئی سیاست داں قانون کی گرفت میں آتا بھی ہے ، تو اس کے لیے عوام کو سخت پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں ، اور اس کے باوجود بھی قانون کی گرفت میں آنے والا سیاست داں سلاخوں کے پیچھے بڑے مزے سے رہتا ہے ۔ اور اکثر ’ پیرول ‘ پر باہر ہی نظر آتا ہے ۔ چند مثالیں دیکھ لیں ، بی جے پی کا لیڈر کلدیپ سنگھ سینگر ، ریپ کا مجرم ہے، اس کی گرفتاری بہت دنوں تک ہو ہی نہیں سکی تھی کہ یو پی کی یوگی سرکار اسے بچاتی رہی تھی ، بعد میں جب عوامی احتجاج شدید ہوا اور میڈیا نے جارحانہ رُخ اختیار کیا تب سینگر گرفتار کیا گیا ، لیکن اسے دہلی ہائی کورٹ نے ضمانت دے دی ہے ، باوجود اس کے کہ متاثرہ کے اہلِ خانہ نے ضمانت دینے کی مخالفت کی تھی ، ان کا کہنا تھا کہ سینگر کی ضمانت پر رہائی سے ان کی جان کو خطرہ ہو سکتا ہے ۔ یہی نہیں سپریم کورٹ میں بھی سینگر کا معاملہ زیرِ سماعت ہے ، اس حالت میں ضمانت پر سوالیہ نشان لگ جاتا ہے ۔ ایک مثال مزید لے لیں ، مرکزی وزیر اجئے مشرا کے بیٹے آشیش مشرا کی ۔ آشیش مشرا نے لکھیم پور کھیری میں احتجاج کرنے والے کسانوں پر اپنی کار چڑھا دی تھی ، چار کسان مارے گیے تھے ، اس کے بعد جو تشدد پھوٹا اس میں مزید چار لوگ ہلاک ہوئے تھے ۔ آشیش مشرا کی گرفتاری آسانی سے نہیں ہو سکی تھی ، اس کے لیے بھی بڑے پیمانے پر عام لوگوں کو سڑک پر اترنا پڑا تھا ۔ اب اس کی ضمانت کی عرضی پر سماعت ہو چکی ہے اور سپریم کورٹ نے فیصلہ محفوظ کر لیا ہے ۔ سوال یہ ہے کہ کیا کوئی عام شخص ہوتا تو وہ آشیش مشرا کی طرح خوش قسمت ہوتا کہ سپریم کورٹ پہنچے اور ضمانت کی درخوست کرے ؟ اب تک اس کا معاملہ کہیں نچلی عدالت ہی میں پڑا ہوتا یا پھر اسے فاسٹ ٹریک کورٹ کے حوالے کرکے اب تک پھانسی پر چڑھایا جا چکا ہوتا ۔ مثالیں بہت ہیں ، فسادات کی مثالیں جن میں حصہ لینے والے سیاستدانوں کو کبھی بھی سزائیں نہیں دی گئی ہیں ۔ ایک بڑا ’ جرم ‘ بابری مسجد کی شہادت ہے ، اس میں اٹل بہاری واجپئی سے لے کر مرلی منوہر جوشی اور اوما بھارتی تک بڑی تعداد میں سیاست دانوں کے خلاف معاملہ درج کیا گیا مگر نہ ہی کسی کے خلاف کچھ ثابت کیا گیا اور نہ ہی کسی کو کوئی سزا ہی مل سکی ۔ نہ کسی وزیراعظم نے شرمندہ ہوکر کبھی کسی فساد پر یا کسی قصور پر یہاں معافی مانگی نہ ہی کبھی کہا کہ اس نے غلط کیا ہے ۔ بابری مسجد کا جرم تو سب نے دن کے اجالے میں کیا تھا ۔ خیر یہ توبڑے جرم ہیں ، ان میں سیاست داں بچنے کی کوشش کریں گے ہی ، لیکن چھوٹے معاملات میں بھی وہ قصور قبول نہیں کرتے معافی مانگنا تو دور کی بات ہے ۔ مہاراشٹر میں ودھان بھون کے احاطے میں چند برس قبل ایک پولیس اہلکار کو چند ممبران اسمبلی نے بری طرح سے پیٹا تھا ، اسے بعد میں معطل بھی کیا گیا ، کسی نے بھی شرمندگی کا اظہار نہیں کیا ۔ ایک ٹرافک پولیس اہلکار نے ممبئی میں ایک رکن اسمبلی کو ٹرافک قواعد کی خلاف ورزی کرنے پر روکا تھا ، اس اہلکار کی انکوائری شروع کرا دی گئی ۔ یہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کی صرف چند مثالیں ہیں ، ورنہ تو یہاں اس طرح کے اتنے واقعات ہوئے ہیں کہ کئی موٹی موٹی کتابیں بن جائیں ۔